غزل: اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں ٭ نصر اللہ خان عزیزؔ

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 18, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,458
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اشاروں ہی اشاروں میں وہ کچھ فرما ہی جاتے ہیں
    ہمارے اضطرابِ شوق کو بھڑکا ہی جاتے ہیں

    بہت سے مدعی بزمِ محبت سے نکل آئے
    تمنا جن کی ناپختہ ہو وہ گھبرا ہی جاتے ہیں

    معاذ اللہ مجبوری محبت کی بھی کیا شے ہے
    بھلاتا ہوں ہزار ان کو مگر یاد آ ہی جاتے ہیں

    دلِ مضطر نے رازِ عشق نادانی سے کہہ ڈالا
    فریبِ دوست اکثر دوستی میں کھا ہی جاتے ہیں

    محبت آپ مقصودِ محبت ہے دلِ ناداں
    جو اِن گلیوں میں چلتے ہیں وہ اُن کو پا ہی جاتے ہیں

    خدا محفوظ رکھے ہمرہوں کو خود پسندی سے
    یہ وہ فتنے ہیں جو انسان کو بہکا ہی جاتے ہیں

    عزیزؔ اپنے حجابِ نَو بہ نَو پر ناز ہے ان کو
    مگر دامِ تصور میں وہ اکثر آ ہی جاتے ہیں

    ٭٭٭
    ملک نصر اللہ خان عزیزؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر