غزل: اب جو ممکن ہی نہیں وصل کا امکاں جاناں

محمّد احسن سمیع :راحل: نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 25, 2020

  1. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بہت شکریہ مکرمی شکیل صاحب۔ آپ کی ذرہ نوازی ہے فقط۔ جزاک اللہ۔
     
  2. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,717
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ ۔ بہت خوب راحل بھائی ۔ فراز کی پراپرٹی میں گھس کر خوب اٹکھیلیاں کی ہیں آپ نے ۔ :)
    مطلع نے جناح کیپ ٹوپی پہنی ہوئی ہے اسے اتار دیجئے۔ یا تو کہیئے کہ وصل ممکن نہیں یا یوں کہیئے کہ وصل کا امکان نہیں ۔ "وصل کا امکان ممکن نہیں" درست زبان نہیں ہے ۔
    تیسرے شعر میں شتر گربہ ہے ۔ اسے بھی دیکھ لیجئے۔
    مژگاں کو آپ نے مذکر باندھ دیا ۔ یہ مونث ہے ۔
    سنگھار او نگراں کے بارے میں تو بات ہوچکی ۔

    حیف اور کذب بیانی والا شعر پڑھ کر مزا نہیں آیا ۔ منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا۔ محبوب خواہ کتنا ہی وعدہ فراموش اور بے وفا ہو یہ تلخ و ترش رویہ اور لہجہ تو غزل کی روایات ( اورعشق کی روایات) کے خلاف ہے ۔ :):):) راحل بھائی ، شاعری میں اسلوب بھی شاعرانہ چاہئے ۔کوئی سیدھا سیدھا دشنام پر تھوڑی اترا جاتا ہے ۔ :):):) محبوب ہے وعدے بھول گیا ہوگا یا کوئی مجبوری رہی ہوگی ۔ معاف کردیں ، ثواب کا کام ہے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    جزاک اللہ ظہیرؔ بھائی، آپ کا تبصرہ چشم کشا اور معلومات افزاء ہے۔

    دعاگو،
    راحلؔ
     

اس صفحے کی تشہیر