غزل: اب جو ممکن ہی نہیں وصل کا امکاں جاناں

محترم راحل صاحب !
جانا چاہوں بھی تو یہ راہ مری روکتے ہیں
تیرا لہجہ، تری آنکھیں، ترے مژگاں جاناں
ویسے تو ہرشعر بیت الغزل ہے مگر میرے نزدیک اِس شعر کی کیا بات ہے ،واہ واہ وا!
بہت شکریہ مکرمی شکیل صاحب۔ آپ کی ذرہ نوازی ہے فقط۔ جزاک اللہ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ ۔ بہت خوب راحل بھائی ۔ فراز کی پراپرٹی میں گھس کر خوب اٹکھیلیاں کی ہیں آپ نے ۔ :)
مطلع نے جناح کیپ ٹوپی پہنی ہوئی ہے اسے اتار دیجئے۔ یا تو کہیئے کہ وصل ممکن نہیں یا یوں کہیئے کہ وصل کا امکان نہیں ۔ "وصل کا امکان ممکن نہیں" درست زبان نہیں ہے ۔
تیسرے شعر میں شتر گربہ ہے ۔ اسے بھی دیکھ لیجئے۔
مژگاں کو آپ نے مذکر باندھ دیا ۔ یہ مونث ہے ۔
سنگھار او نگراں کے بارے میں تو بات ہوچکی ۔

حیف اور کذب بیانی والا شعر پڑھ کر مزا نہیں آیا ۔ منہ کا ذائقہ خراب ہوگیا۔ محبوب خواہ کتنا ہی وعدہ فراموش اور بے وفا ہو یہ تلخ و ترش رویہ اور لہجہ تو غزل کی روایات ( اورعشق کی روایات) کے خلاف ہے ۔ :):):) راحل بھائی ، شاعری میں اسلوب بھی شاعرانہ چاہئے ۔کوئی سیدھا سیدھا دشنام پر تھوڑی اترا جاتا ہے ۔ :):):) محبوب ہے وعدے بھول گیا ہوگا یا کوئی مجبوری رہی ہوگی ۔ معاف کردیں ، ثواب کا کام ہے ۔
 
Top