غزلیات برائے تبصرہ

عمران سرگانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 4, 2019

  1. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہجر کی شب میں محبت کو بڑھاتے رہیئے
    دُور رہ کر بھی تعلق کو نبھاتے رہیئے

    نا خدا دیکھے تو کشتی میں بٹھا لے شاید
    اس جزیرے پہ کھڑے ہاتھ ہلاتے رہیئے

    میں نے مانا تیرگی مٹ تو نہیں پائے گی
    اپنے حصے کی یہ شمع تو جلاتے رہیئے

    تم اگر ہاتھ سے طاقت نہیں رکھتے یارو
    ظلم جو دیکھو تو آواز اٹھاتے رہیئے

    جو بھی سوچا تھا وہی ملتا ضروری تو نہیں
    اپنی آنکھوں میں نئے خواب سجاتے رہئے

    دل میں درد لئے چہرے پہ تبسم لے کر
    یہ مناسب تو نہیں غم کو چھپاتے رہیئے

    کیوں لگائی ہے تُو نے عشق کی آتش زاہد
    اب لگی آگ کو اشکوں سے بجھاتے رہیئے

    از قلم ۔۔ ایڈووکیٹ آغا زاہد
     
  2. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    غزل (نافرمان بچے کی باتیں)

    اپنے بچے کو نہ یوں آپ رلاتے رہیے
    یہ ہے نعمت اسے اب سر پہ اٹھاتے رہیے

    سو گیا ہے وہ ترستے ہوئے لوری کو ابھی
    اب نہ جاگے گا وہ پر پھر بھی سناتے رہیے

    سن کے لوری کی وہ آواز ہی کروٹ پھیرے
    اپنے بچے کو محبت سے سلاتے رہیے

    حق ہے ماں باپ کا بچے کو ہنسائے رکھنا
    روٹھ جائے تو اسے آپ مناتے رہیے

    عیش و عشرت جو سکھائ ہے مجھے آج تو پھر
    روکئے مت جو ہے دولت وہ لٹاتے رہئے

    مجھے پالا مجھے پوسا مرا دکھ درد سہا
    یہ سنا کر نہ اب احسان جتاتے رہیے

    دور ہوتے ہی میں نے جان لیا درد ان کا
    جن سے کہتا تھا مجھے آپ مناتے رہیے

    میں ہوں بیکار ابھی مجھ پہ ہو لعنت اے بدر
    میں جو کہتا تھا مجھے سر پہ چڑھاتے رہیے

    شاعر ی :بدر جمیل بدر
     
  3. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مکمل کلام

    شاہِ کونین کے نغمات سناتے رہئیے
    رحمت و نور کی بارش میں نہاتے رہیے

    شمعِ الفت دلِ مضطر میں جلاتے رہیے
    تیرگی رنج و مصائب کی مٹاتے رہیے

    دے رب بخش قیامت میں کہ غفار ہے وہ
    آپ بس اشکِ ندامت ہی بہاتے رہیے

    گر رضا آپ کو ہے فخرِ رسل کی درکار
    اپنے سینے سے یتیموں کو لگاتے رہیے

    آپ گر چاہیں نہ ہوں عیب ہمارے ظاہر
    عیب اوروں کے بہر حال چھپاتے رہیے

    جو کہے سیدِ. کونین کو اپنے جیسا
    ایسے گستاخ کو آئینہ دکھاتے رہیے

    کر کے مفتاح عمل اسوۂِ شاہِ دیں پر
    بزمِ ہستی کا ہراک گوشہ سجاتے رہیے

    مفتاح الحسن مفتاح چشتی
     
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    غزل (فرمانبردار بچے کی باتیں)

    اپنے ماں باپ کو یوں سر پہ بٹھاتے رہیے
    یہ ہیں انمول انہیں آپ ہنساتے رہیے

    ماں کے پیروں تلے جنت ہےا گر چاہو تو
    اپنے ماں باپ کے پیروں کو دباتے رہیے

    ہے نہیں ان کو ضرورت کسی سونے کی ابھی
    اپنا پر نور سا چہرہ ہی دکھاتے رہیے

    گل و خوشبو کی طرح ہیں ارے ماں باپ بھی تو
    انہیں تم دل کی کتابوں میں سجاتے رہیے

    انہیں آرام دو تم ان کا ہے آرام کا وقت
    ان کی خدمت میں ہی تم جان لٹاتے رہیے

    تم بڑے ہو ہی کہاں ان کے لئے بچے ہو
    ان کے بالوں کو بھی ہاتھوں سے سجاتے رہیے

    ہم جو بچے تھے ہمیں سر پہ اٹھائے رکھا
    چاہیے ہم انہیں اب سرپہ اٹھاتے رہیے

    جو ہیں ماں باپ تو دنیا مری آباد ہے بدر
    میں تو کہتا ہوں انہیں دل سے لگاتے رہیے

    شاعر ی :بدر جمیل بدر
     
  5. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کاوش 2

    اپنےالفاظ کو پرنور بناتے رہیے
    نعت دنیا کو محمد ص کی سناتے رہیے

    وحشتِ نفس سے مل جائے گا چھٹکارا ہمیں
    ذکر سرکار کا سنیے یا سناتے رہیے

    ذکر کرتے رہیں ہم اپنےہی آقا کا سدا
    نعت احمد کی زمانے کو سناتے رہیے

    یہی تو بابِ الہی ہے زمانے والو
    آپکے در پہ ہی بس سر کو جھکاتے رہیے

    گر مٹانا ہے زمانے سے یہ ظلمت کا قہر
    دیپ پھر انکی محبت کا جلاتے رہیے

    یہ ضروری ہے خدا سے بھی تو ہونی ہے لقا
    کچھ قدم جانبے منزل بھی بڑھاتے رہیے

    چھوڑ دو بغض و حسد نفرتیں یہ کینہ مکر
    بات کرنی ہے یہ حق بات سناتے رہئے

    کرکے احمد کے ص گھرانےسے وفائیں ہردم
    اپنے جو دام ہیں جنت کو بناتے رہئے

    یہ ضروری ہے خدا سے بھی تو ہونی ہے لقا
    کچھ قدم جانبے منزل بھی بڑھاتے رہیے

    اندھی تقلید زمانے کو ہی لے ڈوبی ہے
    جال ابلیس کے ہیں اس سے بچاتے رہیے

    بولنا اوڑھنا اب سوچنا بھی کفر نہ ہو
    اپنی نسلوں کو مسلمان بناتے رہیے

    نسل مسلک یہ تفرق سے تغافل کرکے
    جو حقیقی ہے وہ اسلام سکھاتے رہیے

    اپنے بچوں کو سکھادیجیے آدابِ حق
    غیر مسلم کی سیاست سے بچاتے رہیے
     
  6. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کاوش

    اس کی چوکھٹ پہ سدا دُھونی رُماتےرہیے
    ایک ہی سُر سے حسیں تال مِلاتے رہیے

    اس سے بڑھ کے نہیں دنیا میں سعادت کوئی
    در پہ یزداں کے ہی سر اپنا جُھکاتے رہیے

    عظمتَِ انساں کا ہے راز اسی میں مُضمِر
    ساری دنیا میں حسیں پُھول کِھلاتے رہیے

    اک عجب دورِ جہالت ہے زمانے بھر میں
    اپنے حصے کا کوئی دیپ جلاتے رہیے

    کتنی پیاری ہے مِرے پیارے نبی ص کی سُنت
    دُشمنوں کو بھی گلے بڑھ کے لگاتے رہیے

    سیج کانٹوں کی اسے کہتی ہے دنیا ساری
    زیست کا بار بھی ہنس ہنس کے اُٹھاتے رہیے

    اپنے اخلاص و مروت سے جہاں کو جیتو
    اس حسیں دنیا کو خوشیوں سے سجاتے رہیے

    ختم ہو جائے گی دنیا سے جہالت اک دن
    رب کی توحید زمانے کو بتاتے رہیے

    زندگی وقف کرو راہِ ہُدیٰ میں ساری
    نفسِ اَمارہ کی آتش کو بُجھاتے رہیے

    اس میں انساں کی چُھپی ایک ہے اعلیٰ ظرفی
    دُشمنِ جاں کو سر آنکھوں پہ بٹھاتے رہیے

    ساری دنیا ہے گِھری کرب و بلا میں اعظم
    اپنی باتوں سے زمانے کو ہنساتے رہیے

    اعظم نوید ۔۔۔۔۔۔
     
  7. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میری کاوش

    اشک اس طرح نہ آنکھوں سے بہاتے رہیئے
    عزم سے مشکلیں آسان بناتے رہیئے

    رتجگے یوں مری پلکوں پہ سجاتے رہیئے
    خواب آنکھوں میں محبت کے جگاتے رہیئے

    سادگی سے بھی کبھی گفتگو ہو سکتی ہے
    طنز کے تیر نہ ہر وقت چلاتے رہیئے

    ہم نے مانا کہ خوشی اپنے مقدر میں نہیں
    عرض اتنی ہے کہ دل یوں نہ دکھاتے رہیئے

    کم نگاہی سے تو حالات بگڑ جائیں گے
    گیت احساس کے جذبوں کو سناتے رہیئے

    آپ کے دھیان میں ہر کام بگڑ جاتا ہے
    یاد تنہائ کے لمحات میں آتے رہیئے

    آنکھ بند کرنے سے مشکل نہیں ٹلتی 'مینا'
    گردشِ وقت سے نظروں کو ملاتے رہیئے

    ڈاکٹر مینا نقوی
     
  8. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    خود کو ویران جزیروں میں چھپاتے رہیے
    عشق عزاب ہے یہ ہم کو بتاتے رہیے

    زخم ناسور نہ بن جائیں بدن میں تیرے
    درد کم ہو گا مرہم بھی لگاتے رہیے

    روشنی ہو گی کسی روز غم ہستی میں
    امید کی شمع شب او روز جلاتے رہیے

    کوئ آئے گا نہ دفنانے کسی میت کو
    اپنے کاندھوں پہ یہی بوجھ اٹھاتے رہیے

    دل بہل جائے گا رونے سے ترا آج اختر
    بند آنکھوں سے اشکوں کو بہاتے رہیے
    نفیسہ اختر
     
  9. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    آپ للہ مرے ناز اٹھاتے رہیے
    میں جو رووں تو مجھے آکے ہنساتے رہیے

    اور کچھ بھی مجھے درکار نہیں اس کے سوا
    آپ بس مجھ پہ محبت کو لٹاتے رہیے

    آپ کیجے نہ کبھی اپنی محبت میں کمی
    اور تا عمر وفا ساتھ نبھاتے رہیے

    چلتے چلتے نہ کبھی پاوں مرے زخمی ہوں
    میری راہوں سے سدا خار اٹھاتے رہیے

    بھول جاوں میں جسے سن کے سبھی اپنے غم
    پیار کا گیت کوئی ایسا سناتے رہیے

    اک اداسی سدا رہتی بے مرے آنگن میں
    آئیے آکے ذرا اس کو ہٹاتے رہیے

    اک یہی راہ سکوں کی ہے محبت میں سدا
    " دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیے "

    جب کبھی بیچ بھنور میں ہو غزل کی کشتی
    ڈوب جانے سے اسے آکے بچاتے رہیے

    بشری ناہید غزل
     
  10. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    روٹھ جائے کوئی گر اس کو مناتے رہٸے
    دل کی دنیا میں خوشی اور بساتے رہٸے

    صرف سر تال کا ملنا ہی ضروری تو نہیں
    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہٸے

    بیت جا ٸے گی شبِ ہجر خیالوں میں یونہی
    بس تصور میں سلیقے سے بلاتے رہٸے

    ایسی خاموشی بھی اچھی نہیں اس محفل میں
    اپنے لب نعتِ محمدﷺ میں ہلاتے رہئے

    یہ ضروری تو نہیں خواب کی تعبیر ملے
    اپنے خوابوں کو محبت سے سجاتے رہٸے

    نفرتیں پھیل گئیں اس کا مداوا تو کریں
    جام الفت کے سدا سب کو پلاتے رہٸے

    اپنی آواز کو برجیس اٹھائیں جگ میں
    جو بھی غفلت میں ہیں ان سب کو جگاتے رہٸے

    برجیس فاطمہ
     
  11. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کاوش
    محبوب کے نام کا گٹار بجاتےرہیے
    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیے

    محبوب کو رات بھر جگاتے رہیے
    محبوب کی خاطرشبِ وصل سجاتےرہیے

    شب و روز ، اخیر وسَحَر ، گلی و نگر
    محبوب کے نام کی تسبیح گنگناتےرہیے

    رکھ کر بزمِ محبوب لوگ بُلاتے رہیے
    یوں محبوب کےنام کی محفل مناتےرہیے

    کر کےترکِ تعلق دنیا سے نومّی
    محبوب کے نام کے قصے سناتے رہیے
    شہزاد علی نومّی
     
  12. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام

    جھوٹا افسانہ سہی کچھ توسناتے رہئے
    بات جو سچ ہے اسے منہ پہ بتاتے رہئے

    تیر نظروں سے ہر اک وقت چلاتے رہئے
    دل ہو دیوانہ تو دیوانہ بناتے رہئے

    یونہی چلتے ہوئے ہو جائیں نہ پاؤں گھائل
    خود ہی پلکوں سے پڑےخار ہٹاتے رہئے

    خوف طوفان کا یوں دل سے نکالیں اپنے
    شمع اب بادِ مخالف میں جلاتے رہئے

    عمر بھر آپ کے ھو کر ہی رہیں گے لیکن
    ہم حسینوں کے جو سدا ناز اٹھاتے رہئے

    دل اگر ملتا نہیں ہے تو نہ ملنے پائے
    کم سے کم ہاتھ تو سب سے ہی ملاتے رہئے

    آندھیاں لاکھ بنیں آپ کی دشمن پھر بھی
    ریت پر گھر تو نیا روز بناتے رہئے

    اشک آنکھوں میں نگار آ نہیں سکتے ہوں اگر
    یہ تبسم ہی پسِ پردہ چھپاتے رہئے

    ڈاکٹر نگار سلطانہ
     
  13. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام

    آگ نفرت کی محبت سے بجھا تے رہئے
    خرمن بغض و عداوت کو جلا تے رہیے

    بزم دنیا کو محبت سے سجا تے رہیے
    پھول الفت کے سدا یوں ہی کھلا تے رہیے

    تلخ جرعہ ہی پڑے گرچہ غموں کا پینا
    جام خوشیو ں کا زمانے کو پلا تے رہئے

    خوشبو ئے گل کی طرح ہم تو پہنچ جا ئیں گے
    خار راہوں میں مرے کتنے بچھا تے رہئے

    کھل اٹھیں گے رخ پز مردہ بھی پھولوں کی طرح
    غم کو شبنم سے تبسم کی نہا تے رہئے

    فتح ونصرت ہی قدم چومے گی آگے آکر
    خوف نا کامی کو بس دور بھگا تے رہئے

    غیر تو غیر ہیں ملکر کے بچھڑ جاتے ہیں
    رشتے اپنوں سے پرانے بھی نبھا تے رہئے

    شاخ پر گل کی سدا خار اگے رہتے ہیں
    اپنے دامن کو الجھنے سے بچا تے رہئے

    فیضان احمد أعظمی
     
  14. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام

    -دیپ الفت کے ہواؤں میں جلاتے رہیے
    درد اپنوں کا اسی طور بٹاتے رہیے

    -اپنی آ ہوں کے ترنّم کو بچاتے رہیے
    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیے

    -ٹوٹ جائے نہ کہیں جسم سے رشتہ جاں کا
    سازِ ہستی کو یونہی اپنے بجاتے رہیے

    -چار سو پھیلی ہے اک آتشِ نفرت دیکھو
    اپنا دامن انہی شعلوں سے بچاتے رہیے

    -بے وفا دنیا میں ہیں ہم ہی وفاؤں کے اَمیں
    ساری دنیا کو یہ پیغام سناتے رہیے

    -دین کودنیا پہ ہر دم ہی مقدم رکھ کر
    گلشنِ دیں کو اسی طرح بچاتے رہیے

    -تان آ ہوں کی تو سارنگئی دل سے اُبھری
    پیار کی دھن بھی اسی لَے پہ بجاتے رہیے

    ساجدہ شاہد
     
  15. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام

    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیے
    دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے

    زخم دل کے سبھی حصوں کو چھپاتے رہیے
    زندگی کو سدا ہنس کر ہی نبھاتےرہیے

    غم سے پر ہےترے حالات مگر پھر بھی
    اپنے گفتارسے لوگوں کو ہنساتے رہیے

    سوچکے لوگ ہیں غافل ہے یہ زمانے سے
    اپنے افکار سے یوں روز جگاتے رہیے

    رب کی نعمت کا یوں اظہار بیاں ہو کیسے
    اپنی دولت یوں غریبوں کو لٹاتے رہیے

    رہ گئ یاد وفا بس مرے ساتھ تیری
    ان ہی یادوں میں فقط شمع جلاتے رہیے

    عشق میں ہےنکھریں اور ادائیں بھی وسیم
    اب یہ نکھریں سدا ہنس کر ہی اٹھاتے رہیے

    وسیم تیمی بن نورالعین سلفی ھرلاکھی مدھوبنی بہار
     
  16. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    رزق محنت کا لٹیروں کو لٹاتے رہیئے
    ظالموں کی یوں ہی اوقات بڑھاتے رہیئے

    سر پہ مجبوروں کے بم پھینکئے فاتح بنیئے
    امن کے نام پہ شھروں کو جلاتے رہیئے

    آپ کے واسطے ہم تو ہیں غذا ئے مرغوب
    پیجیئے خون ۔ جگر جان کو کھاتے رہیئے

    آپ کا ساتھ تو تقدیر میں لکھا ہی نہیں
    عرض اتنی ہے کہ دل سازی کو آتے رہیئے

    آپ رکھ پائیں تو رکھ لیجے مری ماں کا خیال
    عمر بھر پھر مجھے انگلی پہ نچاتے رہیئے

    اُس بلندی پہ رسائی تو نہیں ہے اپنی
    آپ عنقا ہیں تو خوابوں میں لبھاتے رہیئے

    ساز تو ساز ہیں بجنا تو مقدر ہے میاں
    چوٹ کھا کھا کے نئے گیت سناتے رہیئے
    ساز دہلوی
     
  17. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیئے
    دل جو کہتا ہے وہ ہر گز نہ دباتے رہئیے

    کیسے محبوب نہ مانے گا ذرا سوچیں تو
    اس ستمگر کو مسلسل ہی مناتے رہیئے

    زندگی ملتی ہے اک بار ہی انسانوں کو
    اس کو نفرت میں تو مت یار بتاتے رہیئے

    دیکھیں ایسا نہ کریں کچھ بھی تو ہو سکتا ہے
    غیر کو ہم سے نہ ہر روز ملاتے رہیئے

    ہم کو معلوم ہے وعدہ نہیں پورا ہو گا
    جھوٹی قسمیں ہی تو مت یار اٹھاتے رہیئے

    نور ممکن ہو تو دنیا میں غریبوں کے لئیے
    جذبے ہمدردی کے اس دل میں جگاتے رہیئے
    نور احمد محمود
     
  18. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کاوش

    اپنے حصے کا کوئی دیپ جلاتے رہیے
    روشنی سارے جہاں میں ہی پھلاتے رہیے

    آپ کی بات کوئی مانے یا کے نہ مانے
    آپ کا فرض ہے جو آپ نبھاتے رہیے

    ایک نہ ایک دن بن جائے گا گلدستہ بھ
    پھول گلشن میں نیا روز لگاتے رہیے

    دین اسلام کی جو حد ہے اسی میں رہ کر
    خوشیاں چاہے صبح شام مناتے رہیے

    حق پہ ہوتے ہیں جو ناکام نہیں ہوتے وہ
    اپنی نسلوں کو بھی یہ بات بتاتے رہیے

    فاصلے رشتوں کے نہ بیچ کئی بڑھ جائیں
    گا بگاہ اپنوں سے بھی ہاتھ ملاتے رہیے

    رنج و غم دل سے مٹا دے گی محبت اک دن
    گیت الفت کے قدیم سب کو سناتے رہیے
    عبدالقدیم تبوک
     
  19. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا کلام

    مل ہی جائے گی وفا، دام لگاتے رہیے
    اس دلِ سوختہ بازار کو لاتے رہیے

    کسی پتھر صفت سے ہاتھ ملاتے رہیے
    ضبط یونہی ذرا مضبوط بناتے رہیے

    تیری تشنہ لبی دریا کو بہت بھاتی ہے
    شدتِ پیاس ذرا اور بڑھاتے رہیے

    برق سے کہہ دیا ہے کہ تکلف نا ہو ذرا
    حسبِ خواہش مرا گھر آپ جلاتے رہیے

    جو غزل ایسی تھی جس میں تھیں ادائیں تیری
    کیا کہا بزم میں بے روک سناتے رہیے

    قیصر عزیز قیس
     
  20. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یکجا غزل
    رب کے در پے سدا سر کو جھکا تے رہیے
    کر کے توبہ یوں گناہوں کو مٹاتے رہیے

    سیکھا ہم نے ہے ضیافت بھی نبی سے کرنا
    آئے دشمن کی ضیافت بھی نبھاتے رہیے

    ماں جو روٹھے تو قیامت سی لگے ہیں گھر میں
    ماں کی الفت کو سدا دل میں بساتے رہیے

    آگ نفرت کی لگی ہیں یہاں ہر دل میں
    دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیے

    بے وفا دنیا سے امید وفا کیا رکھنا
    دل جلوں کو بھی یہ پیغام سناتے رہیے

    دل کے آگن میں جگہ لینا بہت مشکل ہے
    دل کے رشتے کو سدا ہنس کے نبھاتے رہیے

    سخت لہجوں کا چھبن دل میں ہے چبھتی اختر
    ایسے لہجوں سے مجھ کو نہ جلاتے رہیے
    تمیم اختر ہرلاکھی
     

اس صفحے کی تشہیر