عورت اور مرد کسی صورت برابر نہیں ،ترک صدر

عورت اور مرد کسی صورت برابر نہیں ،ترک صدر
کالم نگار | طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک)
26 نومبر 2014 0 Print
ترک صدر رجب طیب اردگان کا یہ بیان تمام خبروں پر غالب رہا۔ کہاں اتا ترک اور کہاں موجودہ ترکی صدر کے خیالات ! ترک صدر نے کہا کہ ’’عورت اور مرد کسی صورت برابر نہیں‘ ‘اس بیان سے ترک صدر دقیانوسی سوچ کا حامل شخص معلوم ہو گا مگر جب مکمل خطاب سنا تو معلوم ہوا کہ ’’مامتا‘‘ کے پیچھے چھپی عورت کے مقام کو اجاگر کرنا مقصود تھا۔

استنبول میں خواتین کے لئے انصاف کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران ترک صدر نے ترکی میں نسوانیت کے حامی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہ بات حقوق نسواں کا نعرہ لگانے والوں کو نہیں سمجھا سکتے کیوں کہ وہ مامتاکے نظریے کو تسلیم نہیں کرتے ۔

ترکی کے صدر نے کہاکہ مرد اور خواتین کے درمیان حیاتیاتی فرق کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اپنی زندگی میں دونوں ایک ہی طرح کے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا ہمارے مذہب اسلام نے معاشرے میں خواتین کے لئے ایک پوزیشن واضح کر دی ہے ،اس کا تعلق مامتا سے ہے ،کچھ لوگ یہ بات سمجھ سکتے ہیں اور کچھ لوگ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں ،آپ یہ بات حقوق نسواں کا نعرہ لگانے والوں کو نہیں سمجھا سکتے کیوں کہ وہ مامتا کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔

ترک صدر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں اپنی والدہ کے پائوں چومتا تھا ،مجھے ان میں سے جنت کی خوشبو آتی تھی ،وہ مجھے خاموشی سے دیکھتی تھیں اور کبھی کبھی رو پڑتی تھیں ۔ماں کی مامتا بالکل مختلف شے ہے ۔

مردوں اور خواتین کے ساتھ با لکل ایک سا برتائو کیا ہی نہیں جا سکتا،ایسا کرنا انسانی فطرت کے خلاف ہو گا۔ انہوں نے کہا ’خواتین کا کردار،عادتیں،اور جسمانی ساخت مختلف ہوتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ آپ ایک ایسی ماں کو جس نے اپنے بچے کو دودھ پلایا ہو ،کسی مرد کے برابر کھڑا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ خواتین کو ہر کام کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے ،جو مرد کر سکتے ہیں،جیسا کہ کمیونسٹ نظام والی حکومتوں میں دیکھنے میں آتا تھا۔آپ خواتین کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہر جا کر زمین کھودنا شروع کر دیں ،یہ ان کی نازک فطرت کے منافی ہے‘‘۔

ترک صدر نے اپنے خطاب میں صنف نازک کے مقام مامتا کو بڑے حساس انداز میں بیان کیا ہے۔انہوں نے خواتین کا وہ روپ اجاگر کرنے کی کوشش کی جو خواتین کا حقیقی اثاثہ ہے۔ عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کا مقام عام عورتوں سے محترم تصور کیا جاتا ہے۔حقوق نسواں میں مرد جب عورت کو اپنے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کی حمایت کرتاہے تو اکثر اوقات یہ مرد عورت کے مقام مامتا کو نظر انداز کر دیتاہے ۔ عورت کا حقیقی روپ مامتا کی صورت میں نمودار ہوتا ہے بلکہ عورت مکمل ہی ماں بننے کے بعد ہوتی ہے۔

مغربی دنیا میں مرد نے اپنی ذمہ داریاں عورت پر ڈال کر عورت کو برابری کے اعزاز سے نواز دیا ، سردیوں میں بھی عورت کو آدھا لباس پہناکر آزادی نسواں کی نوید دیتا ہے جبکہ خودگرمیوں میں بھی بدن ڈھانپ کر رکھتا ہے۔حقوق نسواں اور کبھی آزادی نسواں کے نام پر عورت کو باہر اور اندر کے تمام کام سونپ دیتا ہے ۔یہاں عورتیں گھاس بھی کاٹتی ہیں ،برفباری میں گھر کے سامنے سے برف ہٹاتی ہیں،ہر مشکل اور تھکا دینے والا کام کرتی نظر آتی ہیں ، یہ آزادی اسے اس قدر ڈھیٹ ہڈی بنا دیتی ہے کہ مرد کے بغیر گزارا کرنااسے مشکل نہیں لگتا لہذا طلاق لیتے وقت مغربی عورت کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ’’ہائے میرا کیا بنے گا‘‘۔ کیوں کہ جب سے پیدا ہوئی اس نے اپنی ماں کو بھی مردوں کی طرح کام کرتے دیکھا۔ مغرب میں بچے شادی کے بغیر بھی پیدا ہو جاتے ہیں لہذا یہاں شادی کا مقصد بچے نہیں بلکہ دو چاہنے والے ایک ساتھ زندگی گزارنے کی آرزو میں شادی کر لیتے ہیں ، آرزو بدگمانیوں کی نذر ہو جائے تو راستے الگ کر لیتے ہیں جبکہ ان کی زندگی کی روٹین متاثر نہیں ہو تی ۔

بچے پیدا کرنا،ان کی پرورش کرنا، گھر داری سنبھالنے کے علاوہ باہر کی ذمہ داریاں بھی عورت پر ڈال دینا،مامتا کے ساتھ زیادتی ہے۔مرد حقوق نسواں کی آڑ میں عورت پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے لیکن حیرت ان عورتوں پر ہوتی ہے جو مردکی موجودگی میں باہر کی ذمہ داریاں بھی خود پر لاد لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ آزاد ہو گئی ہیں ، مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی ہیں۔ایک مکمل بیوی اور ماں کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد عورت کے پاس اتنی ہمت اور وقت نہیں ہوتاکہ وہ ’’شانہ بشانہ‘‘ کا شوق پورا کر سکے۔

مغرب کی عورت اپنے معاشرتی حالات کے ہاتھوں مجبور ہے مگر ایک مسلمان عورت اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لئے گھر سے باہر وقت گزارنا زیادہ پسند کرنے لگی ہے۔مامتاکے فرائض میں ڈنڈی مار رہی ہیں۔گھر اور باہر کی زندگی میں توازن برقرار نہ رکھا جا سکے تو ایک دن یہی مرد اسے ذلیل کرکے گھر سے نکال دیتا ہے۔ صدر ترک کا یہ کہنا کہ عورت اور مرد کسی صورت برابر نہیں سے مراد کام اور ذمہ داریوں کی نوعیت میں تفریق کو واضح کرنا ہے۔ مردوں کی توجہ اس جانب مبذول کرانا مقصود ہے کہ عورت ماں بھی ہوسکتی ہے لہذاعورت کے مقام مامتا کو فار گرانٹڈ مت لیا جائے۔
 

عثمان

محفلین
کیا فرد کا ذمہ داریاں اٹھانا اور اپنی زندگی میں انتخاب کا حق رکھنا غلامی کے مترادف ہے ؟
 

arifkarim

معطل
یہ تو عام دقیانوسی سوچ ہے
سوچ سوچ ہوتی ہے۔ اس پر دقیانوسی، آزادانہ، لبرل، فاشٹ، مذہبی جیسے لیبل لگانا ہمارا اپنا کارنامہ ہے۔ مغرب میں رہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں کی ہر سوچ کو ترقی پسند اور اسکے مخالف ہر سوچ کو دقیانوسی قرار دیکر رد کردیا جائے۔ جہاں حقوق نسواں کی شان میں بلند و باند قصیدے مغرب میں تحریر کیئے گئے وہیں اسکی مخالفت میں آئے دن اخبارات و رسائل بھرے ہوئے ملتے ہیں جہاں مغربی خواتین اپنے کام کے بوجھ اور بچوں کی پرورش کا رونا روتی رہتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہاں امریکہ میں کیا صورت حال ہے البتہ یہاں اسکینڈینیون ممالک میں عموماً بچے کی پیدائش سے لیکر 3 سال تک ماؤں کو کام نہ کرنے کی اجازت ہے کہ کام سے زیادہ بچے کی اولین ذمہ داری ماں کی ہے نہ کہ باپ کی۔ اس عرصہ میں ماں اور بچے کے تمام تر اخراجات ریاست اور بچے کے باپ کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
 

عثمان

محفلین
ترک صدر کے اس بیان میں غلامی کا ذکر کہاں سے آگیا؟
بین السطور واضح ہے۔ مثلاً یہی فقرہ پڑھ لیجیے۔
لیکن حیرت ان عورتوں پر ہوتی ہے جو مردکی موجودگی میں باہر کی ذمہ داریاں بھی خود پر لاد لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ آزاد ہو گئی ہیں ، مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی ہیں۔
 

arifkarim

معطل
بین السطور واضح ہے۔ مثلاً یہی فقرہ پڑھ لیجیے۔
اگر کسی شادی شدہ جوڑے کی اولاد نہیں ہے اور وہ دونوں کام کرنا چاہتے ہیں تو اسمیں عیب والی کیا بات ہے۔ ہاں البتہ اولاد ہو جانے کے بعد چند سالوں تک ماں کو بہت سارا وقت بچے کی پرورش اور اسکی نگہداشت پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ریاست اور مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کو چلائے نہ کہ بیوی کی۔ بعض حقوق نسواں والے یہ چاہتے ہیں کہ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے کسی ڈے کیئر یا نرسری میں چھوڑ کر ماں کام پر چلی جائے جو کہ کسی بھی طور سے مناسب نہیں۔ خود سائنسی ریسرچ ان غیر فطری اقدام کو جھٹلاتی ہے۔
 

زیک

مسافر
سوچ سوچ ہوتی ہے۔ اس پر دقیانوسی، آزادانہ، لبرل، فاشٹ، مذہبی جیسے لیبل لگانا ہمارا اپنا کارنامہ ہے۔ مغرب میں رہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں کی ہر سوچ کو ترقی پسند اور اسکے مخالف ہر سوچ کو دقیانوسی قرار دیکر رد کردیا جائے۔ جہاں حقوق نسواں کی شان میں بلند و باند قصیدے مغرب میں تحریر کیئے گئے وہیں اسکی مخالفت میں آئے دن اخبارات و رسائل بھرے ہوئے ملتے ہیں جہاں مغربی خواتین اپنے کام کے بوجھ اور بچوں کی پرورش کا رونا روتی رہتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہاں امریکہ میں کیا صورت حال ہے البتہ یہاں اسکینڈینیون ممالک میں عموماً بچے کی پیدائش سے لیکر 3 سال تک ماؤں کو کام نہ کرنے کی اجازت ہے کہ کام سے زیادہ بچے کی اولین ذمہ داری ماں کی ہے نہ کہ باپ کی۔ اس عرصہ میں ماں اور بچے کے تمام تر اخراجات ریاست اور بچے کے باپ کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
http://www.theguardian.com/money/shortcuts/2013/nov/29/parental-leave-rights-around-world
 

عثمان

محفلین
جہاں حقوق نسواں کی شان میں بلند و باند قصیدے مغرب میں تحریر کیئے گئے وہیں اسکی مخالفت میں آئے دن اخبارات و رسائل بھرے ہوئے ملتے ہیں جہاں مغربی خواتین اپنے کام کے بوجھ اور بچوں کی پرورش کا رونا روتی رہتی ہیں۔
مغربی خواتین اپنی معاشرتی حثیت میں مسلم ممالک میں بسنے والی خواتین سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے۔
مجھے نہیں معلوم وہاں امریکہ میں کیا صورت حال ہے البتہ یہاں اسکینڈینیون ممالک میں عموماً بچے کی پیدائش سے لیکر 3 سال تک ماؤں کو کام نہ کرنے کی اجازت ہے کہ کام سے زیادہ بچے کی اولین ذمہ داری ماں کی ہے نہ کہ باپ کی۔ اس عرصہ میں ماں اور بچے کے تمام تر اخراجات ریاست اور بچے کے باپ کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو مرد کو بھی بچے کی پیدائش کے بعد نو ماہ تک چھٹی ملتی ہے۔ یہاں بچہ پالنے کی ذمہ داری والدین پر۔ اور بچے کے حقوق کا تحفظ دینے کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔
 

زیک

مسافر
اگر کسی شادی شدہ جوڑے کی اولاد نہیں ہے اور وہ دونوں کام کرنا چاہتے ہیں تو اسمیں عیب والی کیا بات ہے۔ ہاں البتہ اولاد ہو جانے کے بعد چند سالوں تک ماں کو بہت سارا وقت بچے کی پرورش اور اسکی نگہداشت پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ریاست اور مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کو چلائے نہ کہ بیوی کی۔ بعض حقوق نسواں والے یہ چاہتے ہیں کہ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے کسی ڈے کیئر یا نرسری میں چھوڑ کر ماں کام پر چلی جائے جو کہ کسی بھی طور سے مناسب نہیں۔ خود سائنسی ریسرچ ان غیر فطری اقدام کو جھٹلاتی ہے۔
سکینڈینیویا میں باپ کو بھی اولاد کے لئے چھٹی لینے کا حق حاصل ہے۔ بچے پالنا صرف ماں کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے
 

عثمان

محفلین
اگر کسی شادی شدہ جوڑے کی اولاد نہیں ہے اور وہ دونوں کام کرنا چاہتے ہیں تو اسمیں عیب والی کیا بات ہے۔
یہ سوال تو میرا آپ سے ہے۔ کہ چاہے کسی جوڑے کی اولاد ہے یا نہیں۔ بلکہ کسی فرد کی اولاد ہے یا نہیں۔اور وہ فرد ذمہ داریاں اٹھانا ، ملازمت کرنا اور کیریر بنانا چاہتا/چاہتی ہے تو اس میں عیب والی کیا بات ہے ؟
 

arifkarim

معطل
ہمارے ہاں تو مرد کو بھی بچے کی پیدائش کے بعد نو ماہ تک چھٹی ملتی ہے۔ یہاں بچہ پالنے کی ذمہ داری والدین پر۔ اور بچے کے حقوق کا تحفظ دینے کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔
مرد کی چھٹی ضروری نہیں کہ اسنے نہ تو بچے کو دودھ پلانا ہوتا ہے اور نہ ہی اتنے چھوٹے بچے کیساتھ وہ مامتا جیسا تعلق جوڑ سکتا ہے۔ حقوق نسواں والے مغربی اس بنیادی نکتہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مرد اور عورت صنف کے مابین حیاتیاتی فرق ہے اور جیسے مرد بچہ پیدا نہیں کر سکتا ہے ویسے ہی وہ اسکی بہت چھوٹی عمر میں پرورش نہیں کر سکتا جیسا کہ قدرتی طور پر دیگر حیوانات کی طرح ماں کرتی ہے۔

سکینڈینیویا میں باپ کو بھی اولاد کے لئے چھٹی لینے کا حق حاصل ہے۔ بچے پالنا صرف ماں کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے
تو پھر بچے پیدا کرنے اور انکو قدرتی دودھ پلانے کی ذمہ داری بھی مرد کی ہونی چاہئے۔ اسکے لیئے جب امریکہ کی کوئی اعلیٰ درسگاہ سائنسی نسخہ دریافت کر لے تو مطلع کر دیجئے گا :)

یہ سوال تو میرا آپ سے ہے۔ کہ چاہے کسی جوڑے کی اولاد ہے یا نہیں۔ بلکہ کسی فرد کی اولاد ہے یا نہیں۔اور وہ فرد ذمہ داریاں اٹھانا ، ملازمت کرنا اور کیریر بنانا چاہتا/چاہتی ہے تو اس میں عیب والی کیا بات ہے ؟
جیسے مرد اور عورت کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے بالکل ویسے ہی شیرخوار بچے کے حقوق کی ضمانت دینا حکومت وقت کا کام ہے۔ کیا بچے کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے بچپن ہی سے ماں کی مامتا، اسکی قربت صبح شام حاصل ہو، کجا اسکے کہ ماں اسے کسی نرسری میں ایرے غیرے کے ہاں چھوڑ کر خود کام پر چلی جائے؟ ہاں جب بچہ بڑا ہو جائے اور اسکا رشتہ ماں کیساتھ مضبوط ہو چکا ہو تو پھر بیشک کنڈر گارڈن میں داخل کرانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔
 

arifkarim

معطل
واو اتنے غلط! "ممتا" جیسا تعلق بھی جوڑا اور بچے کو دودھ بھی پلایا ہے۔
ہر انسان کا اپنا فعل ہے وہ جیسے چاہے اپنے بچوں کی پرورش کرے۔ میرے کہنا مطلب صرف یہ تھا کہ صرف حقوق نسواں کا ہی ہر وقت پرچار کرنا ضروری نہیں کہ حقوق بچگان بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ یہاں مغرب میں بہت چھوٹی عمر یعنی 3 سال سے بھی کم عمر کے بچوں کو تقریباً روزانہ ڈے کئیر یا نرسری بھجوا دیا جاتا ہے کیونکہ والدین انکو اپنے ساتھ کام پر تو لیجا نہیں سکتے۔ کام سے چھٹی بھی بمع تنخواہ زیادہ سے زیادہ سال تک مل سکتی ہے۔ یوں بچے کی ابتدائی پرورش اور نشونما میں خلل پڑ سکتا ہے۔ خیر جیسا کہا کہ یہ والدین کا اپنا فیصلہ ہے۔ گو کہ بعض سائنسی ریسرچرز نے اسکے مضر اثرات سے آگاہ کر چکے ہیں:
http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/1532012/Day-nursery-may-harm-under-3s-say-child-experts.html
 

زیک

مسافر
ہر انسان کا اپنا فعل ہے وہ جیسے چاہے اپنے بچوں کی پرورش کرے۔ میرے کہنا مطلب صرف یہ تھا کہ صرف حقوق نسواں کا ہی ہر وقت پرچار کرنا ضروری نہیں کہ حقوق بچگان بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ یہاں مغرب میں بہت چھوٹی عمر یعنی 3 سال سے بھی کم عمر کے بچوں کو تقریباً روزانہ ڈے کئیر یا نرسری بھجوا دیا جاتا ہے کیونکہ والدین انکو اپنے ساتھ کام پر تو لیجا نہیں سکتے۔ کام سے چھٹی بھی بمع تنخواہ زیادہ سے زیادہ سال تک مل سکتی ہے۔ یوں بچے کی ابتدائی پرورش اور نشونما میں خلل پڑ سکتا ہے۔ خیر جیسا کہا کہ یہ والدین کا اپنا فیصلہ ہے۔ گو کہ بعض سائنسی ریسرچرز نے اسکے مضر اثرات سے آگاہ کر چکے ہیں:
http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/1532012/Day-nursery-may-harm-under-3s-say-child-experts.html
یہ سب باپ بھی کر سکتا ہے اور ماں بھی۔ یہی حقوق نسواں کی بنیاد ہے
 

حسینی

محفلین
"مرد وعورت کسی صورت برابر نہیں"
یہ انتہائی مجمل جملہ ہے۔۔۔ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔۔۔ کہ کس حواسے سے برابر نہیں۔
اسلام اور قرآن کی منطق پر اگر ہم غور کریں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ۔۔۔۔
مرد اور عورت نظام تکوین میں کچھ مشترکات رکھتے ہیں اور کچھ تفاوت۔ یہی چیز آگے جا کر حقوق میں اشتراک اور تفاوت کا سبب بنتی ہے۔

مشترکات تکوینی زن ومرد:

· مبدا آفرینش دونوں کی اک ہے : خلقکم من نفس واحدہ

· ہدف آفرینش دونوں کا اک ہے: وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون

· ماہیت انسانی دونوں کی اک ہے : مادی=آب ونطفہ ، معنوی=ونفخت فیہ من روحی

· استعداد میں دونوں اک ہیں:

- کرامت انسانی: ولقد کرمنا بنی آدم، ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم

- شناخت کے اوزار: جعلنا لکم السمع والبصر والافئدۃ

- وجدان اخلاقی: الھمھا فجورھا وتقواھا

- امانت الہی: انا عرضنا الامانۃ علی ۔۔۔

- تمام مخلوقات کی تسخیر: خلق لکم ما فی الارض جمیعا
پس ان تمام حوالوں سے مرد وعورت میں کوئی فرق نہیں۔ قرآن نے کوئی فرق نہیں کیا۔۔۔
البتہ کچھ حوالوں سے دونوں میں فرق نمایاں ہیں۔
تکوینی فرق بین مرد وزن:

· جسم: آلات تناسلی ، قدرت بدنی، ساختار مغز وہارمون، دودھ پلانے کا اہتمام

· راونی ونفسیاتی: اس حوالے سے عورت میں یہ چیزیں نمایاں ہیں: تبرج وخود نمائی کی طرف میلان، دوستی کی طرف میلان، محبوب واقع ہونے کی خواہش، عقل ہیجانی، زیادہ حساس، عاطفہ کا عقل پر غلبہ وغیرہ۔
ان اختلافات پر بہت زیادہ حقوقی اختلافات متفرع ہیں۔
پس اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ہونی چاہیے۔۔۔ صرف یہ کہنا کہ مردوزن برابر نہیں۔۔ زیادتی ہوگی۔
 

عثمان

محفلین
مرد کی چھٹی ضروری نہیں کہ اسنے نہ تو بچے کو دودھ پلانا ہوتا ہے اور نہ ہی اتنے چھوٹے بچے کیساتھ وہ مامتا جیسا تعلق جوڑ سکتا ہے۔ حقوق نسواں والے مغربی اس بنیادی نکتہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مرد اور عورت صنف کے مابین حیاتیاتی فرق ہے اور جیسے مرد بچہ پیدا نہیں کر سکتا ہے ویسے ہی وہ اسکی بہت چھوٹی عمر میں پرورش نہیں کر سکتا جیسا کہ قدرتی طور پر دیگر حیوانات کی طرح ماں کرتی ہے۔


تو پھر بچے پیدا کرنے اور انکو قدرتی دودھ پلانے کی ذمہ داری بھی مرد کی ہونی چاہئے۔ اسکے لیئے جب امریکہ کی کوئی اعلیٰ درسگاہ سائنسی نسخہ دریافت کر لے تو مطلع کر دیجئے گا :)


جیسے مرد اور عورت کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے بالکل ویسے ہی شیرخوار بچے کے حقوق کی ضمانت دینا حکومت وقت کا کام ہے۔ کیا بچے کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے بچپن ہی سے ماں کی مامتا، اسکی قربت صبح شام حاصل ہو، کجا اسکے کہ ماں اسے کسی نرسری میں ایرے غیرے کے ہاں چھوڑ کر خود کام پر چلی جائے؟ ہاں جب بچہ بڑا ہو جائے اور اسکا رشتہ ماں کیساتھ مضبوط ہو چکا ہو تو پھر بیشک کنڈر گارڈن میں داخل کرانے میں کوئی مسئلہ نہیں۔
گویا آپ کا تمام مسئلہ شیرخوار بچے کو دودھ پلانے کا ہے۔ اس سے آگے آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔ واضح رہے کالم نگار کو مسئلہ عورت کی کل زندگی میں خودمختاری سے ہے۔
ویسے اگر ناروے میں ماں کو تین سال تک وظیفہ سمیت چھٹی ملتی ہے تو وہاں تو آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
 

arifkarim

معطل
گویا آپ کا تمام مسئلہ شیرخوار بچے کو دودھ پلانے کا ہے۔ اس سے آگے آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔
جی بالکل۔ اسکے علاوہ بھی کچھ متنازع کیسز اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کو نرسری کے حوالے کرنے سے متعلق آئے تھے جہاں والدین نے احتجاج کیا تھا کہ وہاں انکے بچوں کی درست دیکھ بھال اور نشونما نہیں ہوتی۔ یاد رہے کہ مجھے پری اسکولنگ یا کنڈر گارڈننگ میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ تین-چار سال سے کم عمر بچوں کو، جو بول تک نہیں سکتے، نرسری کے حوالے کرنے پر سخت اعتراض ہے۔ اور میرا ماننا ہے کہ یہ حقوق نسواں کی آڑ میں شیرخوار بچے کا بنیادی حق یعنی اپنی سگی ماں کی ممتا چھیننے کے مترادف ہے۔ کہ بچہ سارا سارا دن نرسری میں اپنی ماں کا انتظار کرتا رہے اور جب تھک ہار کر شام کو سو جائے تو تب جا کر رات کے کسی پہر ماں کا دیدار اسے کچھ لمحے کیلئے نصیب ہو۔ اور اگلے دن صبح صبح پھر وہی علیحدگی۔

ویسے اگر ناروے میں ماں کو تین سال تک وظیفہ سمیت چھٹی ملتی ہے تو وہاں تو آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
چھٹی قریباً ایک سال بمع تنخواہ اور دو سال وضیفہ اولاد بغیر تنخواہ کے یہاں مل جاتا ہے ماؤں کیلئے۔ اسکے علاوہ بچوں کے اخراجات کیلئے 18 سال تک دیگر وظیفے مقرر ہیں۔
 
آخری تدوین:
Top