عمل کا پیغام اور اقبال کی شاعری

سیما علی

لائبریرین
9 نومبر کو ’یومِ اقبال‘
حکیم الامت ،مفکرپاکستان،عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش۔


اقبال کی شاعری نوجوانوں سے بنیادی طور پر جدوجہد اور سعی و عملِ پیہم کا مطالبہ کرتی ہے۔
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

دراصل علامہ اقبال کا دور نظریاتی اور سیاسی ہیجان کا زمانہ تھا ، ملت اسلامیہ زبوں حالی کا شکار تھی اور اقبال اس کے حالات کے بارے میں فکر مند تھے ۔ ایسے حالات میں انہوں نے حکیم الامت بن کر اسکے شاندار ماضی اور اسلاف کے کارنامے یاد دلائے اور مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ واپس لانے کیلئے جدوجہد کی تلقین کی ۔
یو ں تو یہ خیال انکی پوری شاعری میں نمایاں ہے لیکن شکوہ ، جواب شکوہ اور خطاب بہ جوانان اسلام بہترین ترجمان ہیں ، جواب شکوہ کے چند اشعار:


تھے تو آباءوہ تمھارے ہی، مگرتم کیا ہو ؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا
اور خطاب بہ جوانان اسلام میں اسی خیال کو اشعار میں پیش کیا ہے :

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان سے ہم کو دے مارا
تجھے آباءسے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سیارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سے ، وہ صحراءنشین کیا تھے
جہاں گیرو جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا
اقبال نے ہمیشہ قوم کو عالی ہمتی اور جہد مسلسل کی تلقین کی انکے الفاظ ہیں :

یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیر کن فکان زندگی

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ مردوںکی شمشیریں

علامہ اقبال کتنے آسان الفاظ اور دلکش انداز میں کامیابی کے راز بتاتے ہیں :
آتجھ کو بتاتاہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، اور طاﺅس و رباب آخر

اقبال آنے والے کل کی بہتری اور کامیابی کیلئے آج محنت کو لازمی قرار دیتے ہیں:

وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا
جو خود افروز و جگر سوز نہیں ہے

وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ ءفردا
جس قوم کی تقدیر میں افروز نہیں ہے

حکیم الامت علامہ اقبال نے ان تصورات کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ، ا ن میں خودی، شاہین ، مرد مومن اور ملت شامل ہیں ، ان تصورات کا ہمیشہ استعمال کیا ۔ علامہ اقبال ایک ایسے انسان تھے جو با ہمت ، عالی فکر، اور نفس کا عرفان رکھنے والا مر د مومن تھے :
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی

زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بند ے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟

خودی تصور انسان کو اپنے اندر بے پناہ تعمیراتی صلاحیتوں کا ادراک دیتی ہے اور جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتاہے تو وہ اپنے رب کو بھی پہچان لیتا ہے ۔ پھر یہ مرد خود آگاہ مرد مومن کا رتبہ پا لیتاہے ، اس کی عظمت کے بارے میں اقبال کہتے ہیں :

یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قران
اقبال کا مرد مومن اپنے معاشرے ، قوم اور ملت کے ساتھ پیوستہ اور وابستہ رہتاہے اور ایک اہم فرد کی حیثیت سے ملت کی بھلائی و خوشحالی کے حصول کے لئے ہمہ تن مصروف رہتا ہے ، علامہ فرد کے معاشرے اور ملت سے تعلق کے بارے میں فرماتے ہیں :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید باہر رکھ

مختصریہ کہ اقبال کی شاعری کا بنیادی پیغام ہمت و عمل کا ہے ، علامہ کے نزدیک زندگی کا تصور کچھ یوں ہے ؛
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاودان پیہم دوان ، پر دم جوان ہے زندگی

زندگانی کے کے حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گران ہے زندگی۔

پختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگی
ہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
اگر ہم الفاظ میں اقبال کے کلام کا بنیادی پیغام بیان کرنا چاہیں تو وہ ہے ”جہد مسلسل “ اور اگر ایک لفظ میں کہنا چاہیں تو وہ ہے ”عمل ‘ ‘ ۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے ناری ہے
 
آخری تدوین:
Top