عمران اور شوکت خانم ہسپتال

زرقا مفتی

محفلین
عمران خان کو ابتدائی طبی امداد کے لئے فضل کارڈیک ہسپتال لے جایا گیا تھا ۔ جو دل کے امراض کا ایک نجی ہسپتال ہے یہاں ضروری مرہم پٹی کی گئی خون کو روکنے کے لئے
شوکت خانم لیبارٹری کی تشخیصی سہولیات کا لاہور اور پاکستان میں کم ہی کوئی مقابل ہے ۔اور اس کا بڑا یونٹ ہسپتال میں ہی کام کرتا ہے ۔ ان بہترین تشخیصی سہولیات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر شوکت خانم میں رکھا گیا۔
کینسر کے مریضوں کو تو اپنے مسیحا کے وہاں علاج پر خوشی ہوئی ۔ ہسپتال جا کر دیکھتے تو معلوم ہوتا۔
جنہیں اس پر اعتراض ہے وہ ملک میں مزید ہسپتال بنوائیں۔
 
تعجب ہے کہ جب ہم لوگ بے حسی پر آتے ہیں تو دنیا کے مانے ہوئے بے اصول، کرپٹ، نااہل اور نکمے لوگوں کو کئی کئی سال کیلئے اپنی پشت پر سوار کرلیتے ہیں حال مست فقیر بن کر زمانے گذار دیتے ہیں لیکن جب ہمیں اصول پسندی یاد آتی ہے تو یکلخت چھاچھ کو بھی پھونک پھونک پر پینے لگتے ہیں، اور پرفیکشنسٹ بن کرفقط دوسروں کی آنکھ میں تنکے تلاش کرنے لگ پڑتے ہیں۔ عجیب لوگ ہیں ہم بھی۔ :)
 

ساجد

محفلین
ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ تو شائد ہر ہسپتال میں ہوتا ہے؟ ایمرجنسی کیسز کو تو کہیں پر بھی مہینوں انتظار نہیں کرایا جاتا۔ آوٹ پیشنٹ کی بات الگ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہسپتال کے پاس ریسورسز محدود ہیں اور اس کی آمدنی بھی محدود ہے۔
ستم ہے سرکار :)
ایک طرف تو آپ کینسر کے علاج کے لئے بھی ہسپتال کے ذرائع محدود ہونے کے معترف ہیں اور دوسری طرف دستیاب ذرائع کے غلط استعمال کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
 

ساجد

محفلین
اصل میں ساجد بھائی کو اور کوئی موضوع نہیں مل رہا تھا عمران کو جھاڑنے کے لیے ،
بھائی تھوڑی دھیرج رکھیئے مستقبل قریب میں عمران خان کو لتاڑنے کے لیے بڑا مواد میسر آنے والا ہے کیونکہ کے پی کے میں انکی حکومت بننےو الی ہے اور مرکز میں انکا ایک زمہ دار اپوزیشن کا رول سامنے آنا والا ہے سو ایسے میں آپکو اس قسم کے سطحی اعتراضات کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بڑا سولڈ مواد میسر آئے گا دل کا بخار رکھنے کے لیے مگر فقط دھیرج درکار ہے ۔۔والسلام
:laugh:
گو کہ سیاست اور حکومت کا مستقبل اس دھاگے کا موضوع نہیں ہے لیکن بات آپ کی درست ہے کہ ابھی مستقبل قریب میں بہت ٹھوس مواد ملے گا ان سیاستدانوں کی کہہ مکرنیوں پر سر پیٹنے کے لئے۔ تب اراکین کی برداشت کا بھی امتحان ہو گا یا پھر شاید ان کی سیاسی تربیت کی نئی کلاس شروع ہو جائے گی اردو محفل پر :)
 

زرقا مفتی

محفلین
پاکستان کا درد رکھنے والوں نے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کے علاج کے شعبے کیوں نہیں قائم کئے۔
غریب عوام کا اتنا درد رکھتے ہیں مگر محکمہ صحت کا بجٹ تو جنگلہ بس پر لگا دیا جاتا ہے
تب اصول پسندی کسی کو یاد نہیں رہتی۔ جب ہم غلط ترجیحات کا رونا روتے ہیں ٹیکس کے پیسے کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ بے جا تنقید ہوتی ہے ۔
اپنی ساری عمر کی کمائی اسپتال پر لگانے والا وہاں علاج کے لئے جائے اور علاج کا خرچ بھی اپنی جیب سے ادا کرتا ہے تو اصول پسندی پر حرف آتا ہے۔
 

ساجد

محفلین
میرے یا آپ کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے؟ دنیا میں ایسا ہی چلتا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے وہی علاج معالجے کے چونچلے برداشت کر سکتا ہے۔ ورنہ ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ روز ہی مرتے ہیں۔ افریقہ میں تو ملیریا سے لاکھوں لوگ سال میں مرتے ہیں جب کہ ہمارے اور آپ کے لئے ملیریا جیسی بیماری کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔
یا تو آپ مکمل سوشلسٹ بن جائیں تو پھر ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔ لیکن جہاں پر دکانداری، تجارت اور اس طرح کی چیزوں کو برداشت کرتے ہیں تو امیر غریب کا فرق بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
لیکن یہاںبات تو اس شخصیت کی ہو رہی ہے جو انصاف کے علمبردار ہیں ۔ افریقہ پر بات کبھی پھر ہو گی۔ فی الحال تو اپنی بگڑی کی خبر لیں تو کافی ہو گا :)
 
کہاں کا انصاف کونسی تحریک
سب برگرز کو چونچلے ہیں۔
دیکھ لینا کبھی کسی غریب کو یہ اپنا مشیر تک نہ رکھیں گے۔:(
 

ساجد

محفلین
شوکت خانم میں کینسر کے علاوہ کئی شعبے ہیں۔ "نیورولوجی" کا شعبہ بھی ہے۔
میرے خیال میں عمران کے ساتھ نیورولوجی کا ہی مسئلہ تھا۔
اچھا ہے عمران نے جانچ بھی لیا ہوگا کہ اسپتال کا یہ شعبہ کیسا کام کر رہا ہے۔ اگر اس میں بہتری کی ضرورت محسوس کرے گا تو اس میں خاطر خواہ تبدیلی لائے گا۔
پنجاب میں نیورولوجی کا سب سے بہتر اور بڑا ہسپتال میرے ہمسائے میں لاہور جنرل ہسپتال لاہور ہے شوکت خانم کینسر ہسپتال نہیں :)
 

ساجد

محفلین
ساجد بھائی کیوں دل کے چھالے پھوڑتے ہو،
ابھی چٹکیاں بجاتے کتنے جواب آ گئے اور آئیں گے لیکن سب اپنے اپنے نقطہءِ نظر سے۔ اور جواب دینے والے یا تو کوشش کریں گے کہ ان کے جواب سے عمران خان کا عمل درست ثابت ہو جائے اور مخالف کوشش کریں گے کہ ان کی دلیلوں سے کسی طرح عمران خان کی ایک خامی اجاگر ہو جائے۔
اصل مدعا بیچ میں ہی لٹکا رہے گا اور اس لیول تک کوئی پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ سوال کسی کی خامی یا خوبی اجاگر کرنے کے لیے نہیں بلکہ دل کی تشفی کے لیے بھی پوچھے جاتے ہیں۔
ہاہاہاہاہا
عمران خان کی خامیاں اجاگر کرنے کی تو میں خود بھی یہاں اجازت نہیں دے سکتا امجد بھائی۔ لیکن ایک سیدھے اور صاف معاملے پر ایں و آں کی تکرار سے آپ کی طرح میں خود بھی کافی محظوظ ہو رہا ہوں۔:)
 
یہ تو ہی بات ہوئی کہ۔۔۔
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے۔
کہیں جگہ نہ ملی میرے آشیانے کو
اور بقول میاں محمد بخش۔۔۔
پاسے پاسے عمر گذاری ، جھلے بھار ہزاراں
مالی باغ نئیں ویکھن دیندا، آئیاں جد بہاراں
 

عسکری

معطل
اب عسکری نقطہ نظر بھی سن لیں یہ سٹیٹ اور سابقہ گورمنٹس کی ناکامی بھی ہے کہ پاکستان مین ہیلتھ سیکٹر کی یہ حالت ہے ۔ ورنہ زخمی ہو جل جائے یا جسم کا کوئی حصہ کھو بیٹھے فوجی کو سی ایم ایچ میں ہی لایا جاتا ہے اور وہ وہاں کی ہیلتھ کئیر سے مطمعن ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے دوسرے شعبوں کی طرح اس کا بھی ستیاناس مار دیا گیا ہے ورنہ یہ دن نا دیکھنے پڑتے ۔
 
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا عمران خان کی جان عام انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ تو دیانتداری سے میرا جواب یہ ہے کہ جی ہاں اس وقت عمران کی جان عام انسان سے زیادہ قیمتی ہے۔ اور جو ہوا درست ہوا:)
 
اب عسکری نقطہ نظر بھی سن لیں یہ سٹیٹ اور سابقہ گورمنٹس کی ناکامی بھی ہے کہ پاکستان مین ہیلتھ سیکٹر کی یہ حالت ہے ۔ ورنہ زخمی ہو جل جائے یا جسم کا کوئی حصہ کھو بیٹھے فوجی کو سی ایم ایچ میں ہی لایا جاتا ہے اور وہ وہاں کی ہیلتھ کئیر سے مطمعن ہوتے ہیں ۔ پاکستان کے دوسرے شعبوں کی طرح اس کا بھی ستیاناس مار دیا گیا ہے ورنہ یہ دن نا دیکھنے پڑتے ۔
رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی۔
 
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا عمران خان کی جان عام انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ تو دیانتداری سے میرا جواب یہ ہے کہ جی ہاں اس وقت عمران کی جان عام انسان سے زیادہ قیمتی ہے۔ اور جو ہوا درست ہوا:)
اس کا جواب میری امی سے یا اپنی والدہ سے پوچھیں ذرا، میں بھی عام ہوں آپ بھی عام ہیں۔
 
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا عمران خان کی جان عام انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ تو دیانتداری سے میرا جواب یہ ہے کہ جی ہاں اس وقت عمران کی جان عام انسان سے زیادہ قیمتی ہے۔ اور جو ہوا درست ہوا:)

سب انسانوں کی جانیں ایک برابر ہیں۔ سب ایک جیسی قیمتی ہیں۔
 
ویسے جہاں لوگ ہسپتال کے ہسپتال ہڑپ کرجاتے ہیں وہاں عمران کا اس ہسپتال کو اپنا سمجھ کر استعمال کرنا قابل معافی ہے۔ کیا کرتا بے چارہ مصیبت ان پڑی تھی۔ جنگ اور مصیبت میں ہر چیز جائز لگتی ہے
 

آبی ٹوکول

محفلین
ہاہاہاہاہا
عمران خان کی خامیاں اجاگر کرنے کی تو میں خود بھی یہاں اجازت نہیں دے سکتا امجد بھائی۔ لیکن ایک سیدھے اور صاف معاملے پر ایں و آں کی تکرار سے آپ کی طرح میں خود بھی کافی محظوظ ہو رہا ہوں۔:)
سرکار اے گلان چنگیاں نئی تُسی آپنیاں دل لگیں واسطے ساڈے لیڈر دیاں ٹیچکراں کردے او تے نالے ساڈے چیزے لیندے اوہ ساجد پائی آئی ہیٹ یو
 

رکشے والا

محفلین
ساجد صاحب ٹھیک یہی سوال میرے ذہن میں بھی آیا تھا۔ غالب امکان یہ ھے کہ شوکت خانم میں داخلے کا فیصلہ عمران کی طرف سے اس ہسپتال کے معیارپر یقین کا علامتی اظہار تھا۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
بے چارے عمران کی محبت میں اندھے لوگ بیچاروں کا بس نہیں چل رہا کہ عمران کے خلاف کہنے کو کچھ ملے سہی ہاہاہاہاہا اوہ پاپیو می کی ترس پیا اشنا اے تُساں لوکاں نی کسمپرسی تے ۔آہو:p
 
Top