علامہ دہشتناک : صفہ 12-13 : تیسرا صفحہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سیدہ شگفتہ

لائبریرین



vcxd2t.jpg



 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم


یہ صفحہ مقابلے کے کھیل سے متعلق ہے ۔ مقابلے میں شرکت کے لیے اس پوسٹ کو دیکھیں ۔

اگر آپ اس کھیل میں شرکت کرنا چاہیں تو اپنا انفرادی نام / اپنی ٹیم کی نشاندہی یہاں درج کیجیے۔

انفرادی شرکت کی صورت میں درج ذیل مراحل میں سے صرف کسی ایک کا انتخاب آپ کو کرنا ہے۔


صفحہ تحریر / ٹائپ کرنا

صفحہ کی پہلی پروف ریڈنگ
صفحہ کی دوسری پروف ریڈنگ
صفحہ کی تیسری/ آخری پروف ریڈنگ


شکریہ
 

مغزل

محفلین
اس صفحہ پر میری پوسٹ نمبر 76 ہے ۔۔


م۔م۔مغل نے کہا:


”دوسری بات ! کچا مکان تباہ ہوگیا ، حویلی فنا ہوگئی ، لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچالیا تھا ، لہذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہناچاہئے۔ “
”علامہ دہشت !“ ایک پرجوش جوان نے ہانک لگائی ۔
”زندہ باد“متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ”جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے ۔جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہوجاؤ گے۔جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔“
وہ خاموش ہوکر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی طرف انگلی اٹھا کر بولا ۔ ” کیا تمہیں اس میں شبہ ہے ۔!“
” نن ۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔ لیکن ۔۔۔؟ “
” میں نے تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا ۔!“
”میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے ؟۔“
”میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔“ علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ” وہی گھسی پٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بدحالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!“
” جج ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ !“
” غلط ہے ! یہ صرف جذبہ انتقام کی کارفرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتاہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کردیا ۔“
” یہ معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!“
” یہ مصلحت کوشی ان چندافراد کی ہوس ہے جو وسائل حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجر م وہی ہیں۔ لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آرہی ہے۔۔۔۔!“
” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔؟“
” دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے ۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آرہی ہے۔“
” میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!“
” لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شکوک و شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔“ لڑکی کچھ نہ بولی ۔علامہ اسے گھورتا رہا ۔
” میں دراصل ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!“
” بس ۔۔۔۔! “ علامہ بات کاٹ کر بولا۔”تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!“
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی ۔ اور وہ کہتا رہا۔” تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!“
”شش شاید۔۔۔مم۔۔۔میں ۔“
”بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہوگیا تھا۔“
کوئی کچھ نہ بولا ۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہوگئی تھی۔علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑرکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔
”واپسی۔۔۔!“ دفعتا ً اس نے کہا اوروہ ایک بارپھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا ۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے ۔اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
”پیٹر۔!“ علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا ۔
”یس سر۔۔!“ پیٹر بولااور دوڑبرابر جاری رہی۔
”یاسمین کے خیالات سنے تم نے۔!“
”یس سر۔!“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین


اس صفحہ پر کام کرنے والی ٹیم :


صفحہ ٹائپ / تحریر : م ۔ م۔ مغل

پہلی پروف ریڈنگ : سارہ ؟

دوسری پروف ریڈنگ : ماوراء ؟

آخری پروف ریڈنگ : حجاب ؟
 

مغزل

محفلین
میرے حصے میں تیسرا صفحہ ہی آیا تھا۔۔۔
(میرے خیال میں یہ کھیل کم چیستاں زیادہ ہے )
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
چونکہ ابھی آغاز ہی ہے اس وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے ۔ بہر حال میں نے آپ کی پوسٹ میں اوپر آپ کا تحریر کیا ہوا متن شامل کر دیا ہے ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
طریق کار کے بارے میں ایک پوسٹ کی تھی یہاں پر ۔ اس لحاظ سے آپ بقیہ تمام صفحات میں اپنے تمام ٹیم اراکین کی مدد کر سکتے ہیں پروف ریڈنگ میں جتنے بھی صفحات آپ کی ٹیم منتخب کرے گی۔ آپ صرف اس صفحہ کی پروف ریڈنگ نہیں کریں گے استثنآً جو صفحہ خود آپ نے تحریریعنی ٹائپ کیا ہوگا
 

ماوراء

محفلین
پہلی پروف ریڈنگ :: ماوراء



”دوسری بات۔! کچا مکان تباہ ہوگیا ۔۔۔ حویلی فنا ہوگئی ، لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچالیا تھا۔ لہذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہناچاہئے۔ “
”علامہ دہشت !“ ایک پرجوش جوان نے ہانک لگائی ۔
”زندہ باد“متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ”جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے ۔جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہوجاؤ گے۔جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔“
وہ خاموش ہوکر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی طرف انگلی اٹھا کر بولا ۔ ” کیا تمہیں اس میں شبہہ ہے ۔!“
” نن ۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔ لیکن ۔۔۔؟ “
” میں نے یہ “لیکن“ تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا ۔!“
”میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے ؟۔“
”میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔“ علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ” وہی گھسی پٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بدحالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!“
” جج ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ !“
” غلط ہے ! یہ صرف جذبہ انتقام کی کارفرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتاہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کردیا ۔“
”معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!“
” یہ مصلحت کوشی ان چندافراد کی ہوس ہے جو وسائل حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجر م وہی ہیں۔ لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آرہی ہے۔۔۔۔!“
” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔؟“
” دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے ۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آرہی ہے۔“
” میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!“
” لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔“ لڑکی کچھ نہ بولی ۔علامہ اسے گھورتا رہا ۔
” میں دراصل ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!“
” بس ۔۔۔۔! “ علامہ بات کاٹ کر بولا۔”تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!“
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی ۔ اور وہ کہتا رہا۔” تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!“
”شش شاید۔۔۔مم۔۔۔میں ۔“
”بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہوگیا تھا۔“
کوئی کچھ نہ بولا ۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہوگئی تھی۔علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑ رکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔“
”واپسی۔۔۔!“ دفعتا ً اس نے کہا اوروہ ایک بار پھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا ۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے ۔اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
”پیٹر۔!“ علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا ۔
”یس سر۔۔!“ پیٹر بولااور دوڑ برابر جاری رہی۔
”یاسمین کے خیالات سنے تم نے۔!“
”یس سر۔!“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
جویریہ ، آپ ایمیل باکس دیکھ لیں ، میں احتیاطاً جی میل اور ہاٹ میل دونوں پر آپ کو مکمل فائل بھیج دی ہے ۔ اگر م ۔ ۔م ۔ مغل بھائی نے بھی بھیج دیا ہے تو امید ہے مسئلہ حل ہو چکا ہو گا ۔
 

جیہ

لائبریرین
پہلی پروف ریڈنگ :: ماوراء



”دوسری بات۔! کچا مکان تباہ ہوگیا ۔۔۔ حویلی فنا ہوگئی ، لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچالیا تھا۔ لہذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہناچاہئے۔ “
”علامہ دہشت !“ ایک پرجوش جوان نے ہانک لگائی ۔
”زندہ باد“متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ”جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے ۔جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہوجاؤ گے۔جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔“
وہ خاموش ہوکر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی طرف انگلی اٹھا کر بولا ۔ ” کیا تمہیں اس میں شبہہ ہے ۔!“
” نن ۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔ لیکن ۔۔۔؟ “
” میں نے یہ “لیکن“ تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا ۔!“
”میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے ؟۔“
”میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔“ علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ” وہی گھسی پٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بدحالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!“
” جج ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ !“
” غلط ہے ! یہ صرف جذبہ انتقام کی کارفرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتاہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کردیا ۔“
”معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!“
” یہ مصلحت کوشی ان چندافراد کی ہوس ہے جو وسائل حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجر م وہی ہیں۔ لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آرہی ہے۔۔۔۔!“
” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔؟“
” دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے ۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آرہی ہے۔“
” میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!“
” لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔“ لڑکی کچھ نہ بولی ۔علامہ اسے گھورتا رہا ۔
” میں دراصل ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!“
” بس ۔۔۔۔! “ علامہ بات کاٹ کر بولا۔”تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!“
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی ۔ اور وہ کہتا رہا۔” تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!“
”شش شاید۔۔۔مم۔۔۔میں ۔“
”بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہوگیا تھا۔“
کوئی کچھ نہ بولا ۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہوگئی تھی۔علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑ رکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔“
”واپسی۔۔۔!“ دفعتا ً اس نے کہا اوروہ ایک بار پھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا ۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے ۔اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
”پیٹر۔!“ علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا ۔
”یس سر۔۔!“ پیٹر بولااور دوڑ برابر جاری رہی۔
”یاسمین کے خیالات سنے تم نے۔!“
”یس سر۔!“
پہلی پروف ریڈنگ :: ماوراء
بارِ دوم: جویریہ مسعود


”دوسری بات۔! کچا مکان تباہ ہوگیا ۔۔۔ حویلی فنا ہوگئی لیکن وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے حویلی والوں کو عدالت میں پیش ہونے سے بچا لیا تھا۔ لہٰذا اس ذہین بچے کو بھی ہمیشہ زندہ رہناچاہئے۔ “
”علامہ دہشت !“ ایک پر جوش جوان نے ہانک لگائی ۔
”زندہ باد“متفقہ نعرہ تھا۔
علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ”جرائم کی پردہ پوشی کرنے والے قانون کے محافظ اس وقت سے موجود ہیں جب قانون نے جنم لیا تھا اور اب جب تک قانون موجود ہے وہ بھی زندہ رہیں گے۔ لہٰذا انہیں بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ جس دن یہ بھی ختم ہوئے تم بھی ختم ہوجاؤ گے۔ جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ قانون کے محافظوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔“
وہ خاموش ہوکر ان کی شکلیں دیکھنے لگا تھا۔
دفعتاً ایک لڑکی کی طرف انگلی اٹھا کر بولا ۔ ” کیا تمہیں اس میں شبہ ہے ۔!“
” نن ۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔ لیکن ۔۔۔؟ “
” میں نے یہ “لیکن“ تمہارے چہرے پر پڑھ لیا تھا ۔!“
”میری دانست میں جرائم کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔“
”میں سمجھ گیا تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔“ علامہ دہشت نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔ ” وہی گھسی پھٹی بات کہ کسی قسم کی اقتصادی بد حالی جرائم کو جنم دیتی ہے۔!“
” جج ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ !“
” غلط ہے ! یہ صرف جذبۂ انتقام کی کار فرمائی ہے۔ اگر کوئی ایک روٹی چراتاہے تو یہ معاشرے کی اس مصلحت کوشی کے خلاف انتقامی کاروائی ہے جس نے اسے بھوکا رہنے پر مجبور کر دیا ۔“
”معاشرے کی مصلحت کوشی سمجھ نہیں آئی جناب۔!“
” یہ مصلحت کوشی ان چندافراد کی ہوس ہے جو وسائلِ حیات کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اصل مجر م وہی ہیں لیکن صدیوں سے ان کی ذہانت ا ن کے اس بنیادی جرم کی پردہ پوشی کرتی آ رہی ہے۔۔۔۔!“
” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟“
” دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے رکھنے کے لیے ۔ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے۔ ان کی ذہانت ان کے اس بنیادی جرم کو صدیوں سے خدا کا قانون قرار دیتی چلی آ رہی ہے۔“
” میں سمجھ گئی جناب۔۔۔۔!“
” لیکن مطمئن نہیں ہوئیں۔ میں تمہاری آنکھوں میں اب بھی شبہات کی جھلکیاں دیکھ رہا ہوں۔“ لڑکی کچھ نہ بولی۔ علامہ اسے گھورتا رہا ۔
” میں دراصل ۔۔۔ یہ کہنا چاہتی تھی جناب کہ مذہب۔!“
” بس ۔۔۔۔! “ علامہ بات کاٹ کر بولا۔”تم پر میری محنت ضائع ہوئی ہے۔!“
لڑکی سختی سے ہونٹ بھینچ کر رہ گئی اور وہ کہتا رہا۔” تمہاری ذہانت مشتبہ ہے۔۔۔۔!“
”شش شاید۔۔۔ مم۔۔۔ میں ۔“
”بات آگے نہ بڑھاؤ۔ اس مسئلے پر کئی بار روشنی ڈال چکا ہوں اور تم سب بھی سن لو کہ حویلی والے بڑے مذہبی لوگ تھے۔۔۔۔ اور کچے مکان کا وہ فرد بھی بڑا مذہبی تھا جو اپنے متعلقین سمیت جل کر بھسم ہوگیا تھا۔“
کوئی کچھ نہ بولا ۔ وہ لڑکی بھی خاموش ہوگئی تھی۔ علامہ نے اس طرح ہونٹ سکوڑ رکھے تھے جیسے کوئی کڑوی کسیلی چیز حلق سے اتار گیا ہو۔
”واپسی۔۔۔!“ دفعتاً اس نے کہا اوروہ ایک بار پھر قطار میں دوڑتے نظر آئے لیکن ترتیب پہلی سی نہیں تھی۔ علامہ سب سے پیچھے تھا۔۔۔۔ اور پھر وہ ایک نوجوان سمیت دوسروں سے بہت دور رہ گیا ۔ اس نے اپنے آگے والے نوجوان کو پہلے ہی ہدایت کردی تھی کہ وہ اپنی رفتار معمول سے کم رکھے۔ اب وہ دونوں برابر سے دوڑ رہے تھے اور دوسروں سے بہت پیچھے تھے۔
”پیٹر۔!“ علامہ نے نوجوان کا نام لے کر مخاطب کیا ۔
”یس سر۔۔!“ پیٹر بولااور دوڑ برابر جاری رہی۔
”یاسمین کے خیالات سنے تم نے؟"
”یس سر۔!“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم

آخری پروف ریڈنگ اعجاز اختر انکل کر رہے ہیں ۔ تمام صفحات کی آخری پروف ریڈنگ کے لیے اعجاز اختر انکل نے آفر کی ہے ۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top