الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
سید عاطف علی
عظیم
---------
عشق کرنے پہ ہی عاشق کو سزا دی جائے
ترکِ الفت جو کرے اس کو دعا دی جائے
-----------
عشق کرتا ہے زمانے میں مسائل پیدا
یہ بری چیز ہے دنیا سے مٹا دی جائے
-----------
پیار کرتے ہیں تو ہوتے ہیں جواں بھی کاہل
یہ ہے افیون جوانوں سے چُھڑا دی جائے
-----------
وقت برباد جو کرتے ہیں محبّت کر کے
ان پہ تعزیر جہاں بھر میں لگا دی جائے
-----------
روگ الفت کا لگانا ہے حماقت کرنا
سب کے ذہنوں میں یہی بات بٹھا دی جائے
-----------
راہِ الفت پہ چلے پھر بھی جو دنیا بھر میں
اس کو اس جرمِ محبّت کی سزا دی جائے
--------
جو کرے پیار کی غلطی تو سزا کی خاطر
اس کی تصویر درختوں پہ لگا دی جائے
---------
جو لکھی بات ہے ارشد نے غلط ہے ساری
بات پڑھتے ہی یہ پانی میں بہا دی جائے
---------
------------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
یہ تو مسلسل غزل ہے ارشد بھائی
مقطع کے علاوہ اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، ہاں، کیا درختوں پر تصویر لگانا سزا ہوتی ہے؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، وی آئی پی حضرات کے استقبال میں درختوں، بجلی کے کھمبوں پر تصویریں تو دیکھی جاتی ہیں!
مقطع میں، ایک تو لکھے ہوئے کوپا نی میں بہانا عجیب لگتا ہے، گرامر کی رو سے "جو لکھا ہے" کے ساتھ "بہا دیا جائے" ہونا چاہیے، یا "جو لکھی ہے" درست ہو گا
 
Top