عربی زبان و ادب سے متعلق سوالات

سید عاطف علی

لائبریرین
محمود درویش انقلابی میلان رکھنے والے معروف فلسطینی شاعر تھے۔ اور عرب شاعری تک نہ فی الحال اپنی نہ رسائی ہے ، نہ استطاعت نہ اس کے شعری مزاج سے بقدرفہم آشنائی ۔بہر حال ان کلمات میں کچھ اپنی معلومات کے مطابق عرض کرتا ہوں۔
۱) اذا کے بعد 'ما' کا یہاں کیا مطلب اور کیا دستوری وظیفہ ہے؟
ما یہاں "موصولہ " کے معنی میں مستعمل لگ رہا ہے ۔جیسے حج کے بارے میں آل عمران میں ہے ۔ من استطاع الیہ سبیلا ۔۔۔ یہاں "من" موصولہ ہے۔ یہی تضمینی مشابہ انداز مضمون کا ہو سکتا ہے۔
۲) استطعنا کا مادۂ مفرد کیا ہے؟
استطعنا کا مادہ ۔ط و ع ۔ہے۔باب استفعال سے یہ شکل بنتی ہے۔ محمد اسامہ سَرسَری بھائی شاید درست بتا سکیں ۔
۳) الیہا سبیلا کا مطلب کیا '(زندگی) کی طرف راستہ' ہو گا؟
الیہا سبیلا کے یہی معنی ہیں
۴) سبیلا حالتِ نصب میں کیوں ہے؟
سبیلا۔ غالباًمفعول مطلق ہو سکتا ہے ۔ جو فعل کے نوعیت( شدت یا کسی خصوصیت وغیرہ )کے لیے ہو تا ہےاور۔یہ منصوب ہی استعمال ہوتا ہے۔
واللہ اعلم
 
محمد شعیب صاحب ۔ کچھ اس کی تعریف اور وضآحت ہو جائے تو مزید بہتر نہ ہو ؟
ما الزائدة : حرف زائد مبني على السكون لا محل له من الإعراب ، ولا عمل له .
يأتي بعد (إذا) ، نحو : إذا ما حضر المعلمُ سكتَ الطلابً
وبعد متى ، نحو : متى ما تأتِ أُعَلِّمك
وبعد حرف الجر ، نحو : عما قريب سيبدأ الاختبار
وبعد كثيرًا ، نحو : كثيرًا ما نصحتك
وبعد لا سي ، نحو : لا سيما .
:) :)
 
محمد شعیب صاحب شکریہ:)۔ اس کے اردو معنی یا متبادل استعمال کیا ہوں گے ؟
عربی لفظ کا ترجمہ عربی میں؟ :)
لاسیما ، خصوصا اور بالخصوص تینوں ہی عربی الفاظ ہیں ، خاص طور پر لاسیما۔ :)
 

حسان خان

لائبریرین
عربی لفظ کا ترجمہ عربی میں؟ :)
لاسیما ، خصوصا اور بالخصوص تینوں ہی عربی الفاظ ہیں ، خاص طور پر لاسیما۔ :)
اردو زبان کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ اردو ہوتے ہوئے بھی لفظی سطح پر فارسی اور عربی کے بہت نزدیک ہے، اور اس میں عربی اور فارسی کے اکثر الفاظ آسانی سے رشتۂ تحریر میں آ جاتے ہیں۔ یقین مانیے یہ ہمارے لیے ایک نعمت ہے کیونکہ عربی اور خصوصاً فارسی سیکھتے وقت ہماری نصف محنت کم ہو جاتی ہے۔
 

حسینی

محفلین
بہت اچھے۔۔۔ یہاں عربی زبان وادب کی باتیں چل رہی ہیں۔۔۔ اوربندہ ناچیز کو معلوم ہی نہیں۔۔۔۔
آئندہ کوئی موضوع ہوا تو ضرور رائے کا اظہار کروں گا۔۔۔۔
جبکہ آپ کے سوالوں کا برادران کافی وشافی جواب دے چکے ہیں۔۔۔

تحية مني الى كل عشاق اللغة العربية۔
 

حسان خان

لائبریرین
شیخ بہائی کی ایک نظم کے ابتدائی ساڑھے تین اشعار عربی زبان میں ہیں۔ اگر کوئی عزیز ان اشعار کا اردو میں ترجمہ کر دے تو مہربانی ہو گی۔

ایها المأثور فی قید الذنوب
ایها المحروم من سر الغیوب
لا تقم فی اسر لذات الجسد
انها فی جید حبل من مسد
قم توجه شطر اقلیم النعیم
و اذکر الاوطان والعهد القدیم

گنج علم «ما ظهر مع ما بطن»
گفت: از ایمان بود حب الوطن
الخ۔۔۔۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
شیخ بہائی کی ایک نظم کے ابتدائی ساڑھے تین اشعار عربی زبان میں ہیں۔ اگر کوئی عزیز ان اشعار کا اردو میں ترجمہ کر دے تو مہربانی ہو گی۔

ایها المأثور فی قید الذنوب
ایها المحروم من سر الغیوب
لا تقم فی اسر لذات الجسد
انها فی جید حبل من مسد
قم توجه شطر اقلیم النعیم
و اذکر الاوطان والعهد القدیم

گنج علم «ما ظهر مع ما بطن»
گفت: از ایمان بود حب الوطن
الخ۔۔۔۔
مندرجہ ذیل حب الوطنی کے جذبات ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وہ کہ جو و ذنوب و رسوم کا پابند ہے۔
اے وہ کہ جو غیب کے رموز سے نا آشنا ہے۔
اے وہ کے جس کی گردن جکڑی ہوءی ہے۔
(اٹھ) اور اپنی نعمتوں کی کائنات کی ترف رخ کرلے۔
اوراپنے وطن اور قدیم عہد کے تذکرے میں مشغول و جا۔
علم کاخزانہ ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔
کہتے ہیں کہ وطن کی محبت بھی (دراصل) ایمان ہی کا حصہ ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
سَاعَدَ طَرِيقُ الْحَرِيرِ التَّارِيخِيُّ عَلَى نَقْلِ سِلَعِ جَنُوبِ وَشَرْقِ آسْيَا إِلَى أُورُوبَّا.

طَرِيقُ الْحَرِيرِ التَّارِيخِيُّ ایک پوری اضافی ترکیب ہے، لہٰذا لفظِ حریر کا مکسور ہونا تو سمجھ آتا ہے، لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ لفظِ تاریخی کیوں مضموم ہے؟ کیا 'تاریخی' کو بھی مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے یہاں مکسور نہیں ہونا چاہیے تھا؟

سید عاطف علی حسینی محمد شعیب
 
سَاعَدَ طَرِيقُ الْحَرِيرِ التَّارِيخِيُّ عَلَى نَقْلِ سِلَعِ جَنُوبِ وَشَرْقِ آسْيَا إِلَى أُورُوبَّا.

طَرِيقُ الْحَرِيرِ التَّارِيخِيُّ ایک پوری اضافی ترکیب ہے، لہٰذا لفظِ حریر کا مکسور ہونا تو سمجھ آتا ہے، لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ لفظِ تاریخی کیوں مضموم ہے؟ کیا 'تاریخی' کو بھی مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے یہاں مکسور نہیں ہونا چاہیے تھا؟

سید عاطف علی حسینی محمد شعیب
تاریخی تو طریق کی صفت ہونے کی وجہ سے مضموم ہے۔ :):)
 

حسینی

محفلین
سَاعَدَ طَرِيقُ الْحَرِيرِ التَّارِيخِيُّ عَلَى نَقْلِ سِلَعِ جَنُوبِ وَشَرْقِ آسْيَا إِلَى أُورُوبَّا.
سید عاطف علی حسینی محمد شعیب
اس پورے جملے کی ترکیب کچھ یوں ہوگی۔
ساعد: فعل ماضی، مبنی علی الفتح
طریق الحریر: ترکیب اضافی ، ساعد کا فاعل، طریق چونکہ الحریر کی طرف مضاف ہے اور مضاف الیہ چونکہ مجرور ہوتا ہے اس لیے الحریر مجرور ہے۔
التاریخی: طریق الحریر، مرکب اضافی، کےلیے صفت ہے۔ طریق چونکہ معرفہ کی طرف مضاف ہوا ہے اس لیے یہ خود بھی معرفہ بن گیا، التاریخی بھی معرفہ ہے اس لیے معرفہ کی صفت بن گیا۔ صفت اپنے اعراب میں موصوف کی اتباع کرتی ہے۔
الی سے لے کر آخر تک سارا "ساعد" کے متعلق ہے۔
 
ایک نحوی بات:
مضموم مفتوح ، مکسور مبنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ معرب کے لیے مرفوع ، منصوب اور مجرور لکھے جاتے ہیں۔
الحریر اور التاریخی دونوں چونکہ معرب ہیں اس لیے انھیں مکسور اور مضموم کے بجائے یوں کہنا بہتر ہوگا کہ الحریر مجرور اور التاریخی مرفوع ہے۔
اسی طرح مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے ، نہ کہ مکسور۔
 

حسان خان

لائبریرین
۱) أستیْقِظُ کلَّ یومٍ في الساعة السابعة صباحاً.
۲) أستحِمُّ صباحَ کلِّ یومٍ.


'کُل' جملۂ اول میں منصوب اور جملۂ ثانی میں مجرور کیوں ہے؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
۱) أستیْقِظُ کلَّ یومٍ في الساعة السابعة صباحاً.
۲) أستحِمُّ صباحَ کلِّ یومٍ.

'کُل' جملۂ اول میں منصوب اور جملۂ ثانی میں مجرور کیوں ہے؟
حسان ۔مجھے یہاں پہلے جملے کا کل مفعول مطلق کا لگ رہا ہے اور مفعول مطلق منصوب ہی استعمال ہوتا ہے ۔ یہ "کل" اور "بعض " کی شکل میں عام استعمال ہوتا ہے۔جیسے انگلش کے ایڈوَرب ہوتے ہیں۔یہ فعل کی نوعیت یا شدت وغیرہ کے وضاحت کرتے ہیں۔
دوسرے کل کی وجہ کے لیے اسامہ بھائی سے رجوّ کرتے ہیں ۔ مجھے یہاں اس کے مجرور ہو نے کی وجہ دن کی اضافت لگ رہی ہے۔ بمعنی ہر دن کی صبح۔اصل قاعدہ ایکوریٹلی اسامہ بھائی بتائیں گے۔
 
پہلی مثال میں کل مفعول فیہ کی وجہ سے منصوب ہے جبکہ دوسری مثال میں جیسا کہ عاطف بھائی نے کہا کہ اضافت کی وجہ سے مجرور ہے۔ :):)
 
Top