طلاق کا مسئلہ: برطانیہ میں عورتیں حلالہ کے نام پر عصمت لٹا بیٹھتی ہیں

صرف علی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 14, 2013

  1. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    فقہ حنفیہ اس بارہ میں کیا کہتا ہے کیونکہ زیادہ تر سنی اسی کو مانتے ہیں؟
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اس خبر میں ایک بھی ایسے ادارے، مدرسے یا مسجد کا نام نہیں دیا گیا جہاں یہ کام ہوتا ہو۔ ساری خبر سنی سنائی پر مبنی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ مسئلہ یعنی حلالہ تو موجود ہے لیکن اسے فیچر میں محض سنسنی خیز بنانے کی خاطر بہت زیادہ اچھالا گیا ہے۔ اسی طرح اوپر ایک فتویٰ کوٹ کیا گیا ہے جس میں مفتی کا نام تک نہیں دیا گیا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ جب کوئی فتویٰ کوٹ کیا جائے تو اس کا حوالہ ساتھ ہونا چاہیئے کیونکہ برطانوی مسلمانوں کے ہزاروں گھر برباد ہونے کا ذکر موجود ہے جبکہ نام ایک بھی موجود نہیں (بے شک مظلومین کے نام نہ ہوں لیکن اداروں یا ان نام نہاد مولویوں کے نام تو موجود ہوتے) اس سے اس سروے یا فیچر کی افادیت کا اندازہ ہو جاتا ہے
     
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اس موضوع پر دنیا نیوز کا ایک پروگرام:
     
  4. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    کوئی نام اسلئے نہیں دیا گیا کہ مسلم کمیونیٹی کی مزید بدنامی ہوگی۔ جو بھی کیسز سامنےآئے ہیں وہ بے نامی کی شرط پر آئے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    میری پوسٹ میں آخری سے پہلے والی سطر میں بریکٹ والی عبارت پڑھی؟
     
  6. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    تو جناب یہ نام نہاد مولوی بھی تو اسی برطانوی مسلم کمیونیٹی کا حصہ ہیں۔ نام دیتے ہی یہ برطانوی انکے پیچھے لگ جاتے اور میڈیا کا تو آپکو پتا ہی ہے کہ کتنا سنسنی انگیز ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    میں اپنی بات ذرا اور تفصیل سے بیان کرتا ہوں ۔
    اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق میں قرآن مجید میں طلاق کا پورا قانون بیان کیا ہے ۔ اس قانون پر اگر عمل ہو تو کوئی پیچیدگی نہیں باقی رہتی ۔ پیچیدگی وہاں پیدا ہوتی ہے ۔ جب آپ قرآن کے قانون سے انحراف کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں اب کیا کرنا چاہیئے ۔ اس پر بحث کی جاسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر میری ہی بات کو لے لیں ۔ جسے آپ نے کوٹ کیا ہے ۔ ایک شخص ، حیض یا حمل کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ۔ ظاہر ہے اس شخص سے قرآن کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ۔ اس صورت میں اب کیا قدم اٹھایا جاسکتا ہے ۔ سوائے اس کے کہ آپ عدالت ( قاضی ) میں جائیں ۔ قاضی یا عدالت آپ کی دی جانے والی طلاق کے محرکات دیکھے گا ۔ صورتحال کا جائزہ لے گا ۔ گواہ موجود ہیں تو گواہوں سے بیان بھی لے گا ۔ یہ بلکل وہی عمل ہوگا جیسا کہ عموماً عدالتی معاملات میں ہوتا ہے ۔ سب سے اہم بیان اُس شخص کا ہے ۔ جس نے طلاق دی ۔ اگر وہ شخص کہہ دیتا ہے کہ اس نے طلاق اپنے پورے ارادے اور عزم کی بنیاد پر دی ۔ اس کا اب ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے کو مذید دراز کرے ۔ تو اب یہ قاضی یا عدالت پر منحصر ہے کہ واقعہ کے صحیح تناظر میں طلاق کا جائزہ لے اور اگر وہ سمجھتی ہے کہ حیض یا حمل کے بعد بھی یہ شخص طلاق دینے پربضد ہے تو وہ اس طلاق کا اطلاق کر سکتی ہے ۔ کیونکہ قرآن کے قانون کی خلاف ورزی کے بعد آپ کا معاملہ وہاں سے نکل گیا ۔ اب یہ عدالت کا کام ہے کہ طلاق کے صحیح محرکات کو سمجھنے کے بعد وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ۔
    اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھیں کہ اگر آپ اپنی گاڑی میں گھر سے باہر نکلتے ہیں مگر اپنے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس لے جانا بھو ل جاتے ہیں ۔ تو آپ سے ایک قانون کی خلاف ورزی ہوئی ۔ اب اگر آپ کو کوئی پولیس والا روک لیتا ہے اور ڈرائیونگ لائسنس دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے تو آپ کیا کریں گے ۔ ؟ آپ کچھ نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ آپ درخواست کریں کہ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنا لائسنس گھر سے لے آؤں ۔ آپ سے ایک قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اب یہ پولیس والے ( عدالت ) پر منحصر ہے کہ آیا وہ آپ کو اجازت دیتا ہے کہ آپ جائیں اور لائسنس لے آئیں ۔ یا پھر وہ آپ کا چالان کردیتا ہے ۔
    بلکل اسی طرح جب آپ قرآن کے طلاق کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ تو معاملہ آپ کے ہاتھ میں نہیں رہتا اور یہ عدالت میں چلا جاتا ہے ۔ اب یہ عدالت کاکام ہے کہ وہ طلاق کا اطلاق کرتی ہے یا نہیں ۔ یعنی میں یہ کہنے کی کوشش کررہا تھا کہ جب آپ نے حیض یا حمل کی حالت میں طلاق دیدی تو قرآن کے قانون کی خلادف ورزی ہوگئی ۔ یعنی یہ طلاق دینی نہیں چاہیئے تھی مگر دیدی گئی ۔ اب یہ طلاق قابل عمل ہے کہ نہیں ۔ اس بات کے فیصلے کا اختیار اب آپ کے پاس نہیں رہا ۔ یہ معاملہ عدالت میں جائیگا ۔ اور وہاں اصولی بنیاد پر یہ مقدمہ چلے گا ۔ اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فریق نے عزم کیساتھ طلاق دی ہے تو عدالت اس طلاق کو نافذ کرسکتی ہے ۔ اگر فریق عدالت مطمئن نہ کرسکا یا اس نے اس بات پر عدالت کو باور کرلیا کہ وہ طلاق نہیں دینا چاہتا تھا تو عدالت کوئی دوسرا فیصلہ بھی کرسکتی ہے ۔
    یعنی اب حیض اور حمل والی شرط کا اطلاق یہاں ختم ہوگیا کہ یہ شق پہلے ہی توڑی جاچکی ہے۔ اسی اصول پر میں نے کہا کہ " قرآن میں ایک قانون موجود ہے ۔ آپ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ خلاف ورزی کیوجہ سے کسی کی دی جانے والی طلاق کا نفاذ نہیں ہوسکتا ۔لہذا اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ "حیض یا حمل کی حالت میں طلاق " ہو ہی " نہیں سکتی ۔ کیونکہ خلاف ورزی پر عدالت محرکات دیکھ کر اس کو نافذ بھی کرسکتی ہے ۔
    اسی بنیاد پر میں نے کہا کہ " مگر یہ کہنا کہ حیض اور حمل میں طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ بلکل غلط ہے ۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    یہ بلکل غلط تاثر ہے کہ طلاق غصے کی حالت میں ہوجاتی ہے ۔ قرآن مجید میں طلاق دینے کا پورا ایک جامع طریقہ ہے ۔ اور ساتھ ساتھ وہاں " عزم الطلاق " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ یعنی کہ طلاق پورے عزم اور ارادے کیساتھ دینا ضروری ہے ۔ بلکل اسی طرح جب آپ یہی عزم اور ارادہ نکاح میں استعمال کرتے ہیں ۔ میں اپنے پچھلے مراسلے میں کہہ چکا ہوں کہ پیچیدگی قرآن کے قانون سے خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہے ۔ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینا قرآن کے قانون خلاف ورزی ہے ۔ اس کا فیصلہ بھی عدالت یا قاضی کرے گا کہ اس معاملے میں ارادہ اور نیت کیا تھی ۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور کہا کہ " یا رسول اللہ ! مجھ سے کوتاہی ہوگئی ۔ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی " ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استفار کیا کہ " ارادہ کیا تھا ۔ " جواب ملا کہ " بخدا میرا کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا ۔ " آپ نے فرمایا "تو پھر جاؤ اور ویسا رہو جیسے پہلے رہتے تھے ۔ "
    قرآن مجید کے قانون کے خلاف ورزی پر مختلف مکتبِ فکر پر مختلف آراء موجود ہیں ۔ جس کو جو اچھی لگے ۔ وہ اس کو اپنا سکتا ہے ۔ اس پر بحث کیسی کہ یہ تو اجتہاد ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    ایک سانس میں یا ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا بھی قرآن کے طلاق کے قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ ایک وقت میں تین طلاقوں کا نفاذ کا کیا جانا ، یہ رائے ( فتویٰ) زیادہ تر احناف میں رائج ہے ۔ اس کی بنیاد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس حکم سے ہے ۔ جب انہوں نے معاشرے میں طلاق کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی دیکھی ۔ لوگ آ کر کہتے تھے کہ ہم نے مذاق میں طلاق دی ، غصے میں دی ، وغیرہ وغیرہ ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے یہ صورتحال دیکھ کر حکم جاری کردیا کہ اب اگر کوئی شًخص ایک نشت میں تین طلاق دیدے گا تو اس کا نفاذ کر دیا جائے گا ۔ یہ ایک ریاستی انتظامی فیصلہ تھا ۔ مگر بعد میں اس کو جاری رہنے دیا گیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    آپ یہ کیسے ثابت کریں گے کہ قانون شکنی کے بعد طلاق نافذ کی جاسکتی ہے ۔ اور اجماع امت سے کیا مراد ہے ۔ جبکہ فہقی اختلاف کی بات آپ خود کر رہے ہیں ۔
     
    • متفق متفق × 1
  11. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    میں یہاں اپنی بات الٹی ترتیب سے شروع کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں پہلے کسی بات کی وضاحت کسی پر صحیح طور پر واضع ہو تو پھر آپ ماخذ اور دیگر امور کی طرف آسکتے ہیں ۔ :)
     
    • متفق متفق × 1
  12. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    سارے بھائیوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ایک خوشخبری ہے لبرل مسلم کے لئے جسطرح نکاح طلاق حلالہ انگلینڈ میں آسان ہے اس طرح ایگریڈ پیریڈ میرج بھی آسان ہے جسٹ پے مونی ٹو گرل ایند فسکڈ پیریڈ ایس یو وش، اس میں نہ حلالہ ہے نہ ظلالہ۔ اگر پیریڈ اوور ہوجاتا ہے تو اگر پسند آگئی تو دوبارہ ایکسٹینڈ کرلیں۔۔
    یہ سب آج کل انگلینڈ سے امپورٹ ہورہے ہیں۔
    :laughing::grin::redheart::rollingonthefloor:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    شمشاد بھائی دونوں باتوں میں بہت فرق ہے ۔
     
  14. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    ماشاءاللہ بھئ یہاں تو بڑے بڑے علامے ،فہامے مفتیان کرام مجتہدین علی الاطلاق اور محدثین و مفسرین اپنے اپنے اجتھادات سے ملت اسلامیہ کی خدمت فرمارہے ہیں کسی کے نزدیک طلاق کے لیے گواہ ضروی تو کوئی طلاق کو قانونی دستاویر کے بغیر غیر مؤثر بتلارہا ہے کوئی تین کو ایک بتلارہا ہے تو کوئی تین کو تین شمار کرنے والوں کی ملامت،اور کسی کو غصہ اور حیض کی طلاق پر اعتراض ہے الغرض جتنے منہ اتنے ہی علامے فہامے ماشاء اللہ لگے رہو ۔۔والسلام
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. حسینی

    حسینی محفلین

    مراسلے:
    1,560
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہمارا یہ موقف ہے چونکہ یہ طلاق قرآن کے احکام کے مخالف ہے اور حالت حیض میں دیا گیا ہے لہذا درست ہی نہیں ہوگا۔۔۔۔ درست اس وقت ہوتا جب قرآن کے حکم کو مد نظر رکھا جاتا۔
    جس طرح سے قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی نکاح میں ولی کی اجازت نہ لے۔۔۔۔ یا لڑکی، لڑکے کی رضایت نہ لے، تو وہ نکاح درست نہیں۔۔۔
     
  16. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    بس جناب آپ کی کمی تھی ۔۔۔۔۔۔ والسلام
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    یعنی یہ بلکل اسی طرح ہوا کہ آپ نے ٹریفک کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی اور آپ سے کہا جائے کہ آپ نے سرخ بتی توڑ دی ہے ۔ مگر آپ واپس جائیں اور وہیں کھڑے ہوجائیں اور پھر ہری بتی کے روشن ہونے پر دوبارہ آئیں ۔ یعنی خلاف ورزی پر کسی قسم کی کوئی سزا نہیں ۔کوئی مقدمہ نہیں ۔
     
  18. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,502
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    آپ جو ہیں حضور بس آپ ہیں تو ہمارا بھی نام اور کام دونوں ہوگیا آخر کو آپ سے پرانی " رفاقت مراسلت " جو ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. حسینی

    حسینی محفلین

    مراسلے:
    1,560
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دیکھیے سزا ملنا یا نہ ملنا اور بحث ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحث اس میں ہے کہ ایسا طلاق درست ہے یا نہیں؟؟؟ نافذ ہے یا نہیں؟؟ جب قرآن کے صریح حکم کی مخالفت ہوئی تو درست کیسی ہوئی۔۔۔ اگر مخالفت پر بھی کام درست ہوتا ہو تو قرآن کو منع کرنے ٰ کی ضرورت ہی کیا تھی۔
    ایک اور مثال سے سمجھاتا ہوں۔۔۔۔ قرآن نے کہا ہے کہ جب کوئی جانور ذبح کیا جا رہا ہو تو غیر خدا کے نام کے ساتھ ذبح نہ کرو۔۔۔۔ بلکہ اسم خدا پر ذبح ہونا چاہیے۔۔۔
    اب اگر کوئی اس حکم کی مخالفت کرے۔۔۔۔ تو نہیں کہ سکتے کہ جانور تو اس کا حلال ہے۔۔۔ لیکن اس کو اس مخالفت کی صرف سزا ملے گی۔۔ یا اس پر مقدمہ ہوگا۔
    بلکہ وہ جانور ہی مردار اور اس کا گوشت حرام ہے۔۔۔
     
  20. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,541
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    یہی میں کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ کہ قرآن کے قانون پر عمل ہو تو کوئی پیچیدگی نہیں ۔ پیچیدگی وہاں سے پیدا ہوتی ہے جہاں آپ یہ قانون توڑ دیتے ہیں ۔ اس خلاف ورزی کے بعد آپ اجتہاد کی طرف آتے ہیں ۔ کیونکہ اس بارے میں قرآن میں کوئی احکام موجود نہیں ہیں ۔ جو آپ کہہ رہے ہیں ۔ میں کہہ رہا ہوں ۔ شمشاد بھائی کہہ رہےہیں ۔ یوسف بھائی کہہ رہے ہیں اور دیگر حضرات جو کچھ کہہ رہے ہیں ۔ فقہہ کے رائے کا ہی اظہار کر رہے ہیں ۔ اس میں اختلاف موجود ہے ۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کون سے بات زیادہ قرآن کے قریب ہے اور کس کے دلائل اور استدلال قوی ہیں ۔ کوئی نیک نیتی سے کسی بھی رائے کو اپنا چاہے تو اپنا سکتا ہے ۔ کیونکہ بہرحال یہ ساری آراء ہیں ۔ کوئی حکمِ خداوندی تو نہیں ہے ۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 22, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر