اقتباسات ضمیر صاحب بھی خوب تھے

ضمیر صاحب بھی خوب تھے، کہیں نثر میں نمایاں ہوئے تو کہیں نظم میں، کبھی دوستوں کے ضمیر جعفری ہوتے تو کبھی ٹی وی ناظرین کے لیے ’’آپ کا ضمیر‘‘ کے میزبان، کبھی مزاحیہ شاعر اور کہیں بے بدل مزاح نگار۔ وہ ضمیر حاضر ہوتے یا ضمیر غائب، دونوں صورتوں میں تقریبات اوردلوں میں موجود ہوتے۔ وہ اپنے سادہ، مخلصانہ لہجے، عمدگی سے مزاح میں پروئے لفظوں، جملوں، کھلکھلاتے، شرارتیں کرتے اشعار اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلق کے باعث عمر بھر اپنے وجود کی طرح نمایاں رہے۔

یکم جنوری ۱۹۱۶ء کو جہلم کے ایک گائوں موضع چک عبدالخالق میں سید حیدر شاہ کے گھر اور سیدہ سردار بیگم کی گود میں جنم لینے والے ضمیر حسین شاہ ۸۳ سال کی ایک بھرپور خوشگوار اور مطمئن زندگی گزار کر ۱۲مئی ۱۹۹۹ء میں اپنے رب کے حضور حاضری کے لیے بلا لیے گئے۔ سیدضمیرجعفری ضلع جہلم کے جس چھوٹے سے گائوں میں پید اہوئے، وہ نیلی نیلی پہاڑیوں میں گھری وادی میں واقع ہے۔ دریائے جہلم پہاڑوں سے اتر کر اسی وادی میں گنگناتا گزرتا ہے۔ سیدضمیر جعفری کا بچپن اور جوانی چونکہ اس گائوں اور وادی میں گزری۔ اسی لیے وہ بھی عمر بھر دھیرے دھیرے بہنے والے دریا کی طرح گاتے، گنگناتے رہے۔ اس وادی کے پھیلائو اور وسعت ان کے لفظوں، تعلقات اور سوچوں میں نمایاں رہی۔

دنیاوی نامہ اعمال میں فوج اور سول کی ملازمتوں، دو بیٹوں سید احتشام ضمیر، سید امتنان ضمیر کے علاوہ نثر کی کتابیں ’’کتابی چہرے، اڑاتے خاکے، کالے گورے سپاہی، جنگ کے رنگ، ہندوستان میں دو سال، آنریری خسرو، ضمیرحاضر ضمیر غائب، شاہی حج، سفیر لکیر، کنگرو دیس میں، پہچا ن کا لمحہ، جدائی کا موسم‘‘ شامل ہیں۔ شاعری جو ان کی اصل وجہ پہچان تھی، مزاح کی چاشنی میں گندھی ہوئی، جھرنوں کی سی تازگی اور روانی لیے اور وہ بھی ان کی مترنم آواز میں۔ یہی شاعری انہیں ملک اور ملک سے باہر مشاعروں میں لیے لیے پھری۔ شاعری کی کتابوں میں قرینہ جاں، مافی الضمیر، ولائتی زعفران، ضمیریا، مسدسِ بدحالی، بھنور، بادبان، کھلیان، ارمغانِ ضمیر، ضمیرِ ظرافت و سردگوشیاں اور نعت نذرانہ شامل ہیں۔

زندگی میں بہت سی ادبی شخصیات، شاعروں، ادیبوں سے واسطہ رہا۔ مگر جس قدر بی بے، میٹھے اور کھلے دل والے ضمیرصاحب تھے شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ شاعری ان پہ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے اترتی تھی۔ سننے والے کبھی ان اشعار پر مسکرا دیتے، کبھی کھلکھلا کر قہقہہ لگاتے، ہاں کبھی کبھی سنجیدہ اشعار کا موڈ ہوتا تو وہاں بھی ان کی فکری موجودگی ان کے وجود کی طرح نمایاں رہتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ دل اور مشاعرہ دونوں ہی آسانی سے لوٹ لیتے تھے۔

میری ان سے پہلی ملاقات اسلام آباد میں ان کے گھر پر ہوئی۔ ممتاز مفتی صاحب سے ملاقات اور لمبی گپ شپ کے کچھ دِنوں بعد ان کی طرف گیا تھا۔ ان دنوں میں ملک کے ممتاز پبلشنگ ہائوس فیروز سنز میں ایڈیٹر اور ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں کو اپنے ادارے کے ساتھ وابستہ کرنے کی ایک خصوصی مہم پر نکلا تھا۔ لاہور سے چلتے ہوئے ملاقات کا وقت طے کرلیا تھا۔ ملاقات شروع ہوئی تو چند لمحوں بعد ہی ایسے تھا جیسے برسوں سے گہری شناسائی ہے۔ وہ اپنے پسندیدہ سفاری سوٹ میں ملبوس تھے۔ مچی مچی آنکھیں اور معصومیت بھرے چہرے کی شرارت ان کا ہتھیار بھی تھے اور ڈھال بھی۔

میں سہ ماہی اُردُو پنج راولپنڈی میں ان کی ادارت کے زمانے سے ان کا فین تھا،کیا رسالہ تھا۔ بے شک عمر کم پائی مگر توجہ، شہرت اور مقبولیت زیادہ ہاتھ لگی۔ کرنل محمدخاں، سلطان رشک، صفدر محمود، شفیق الرحمن اور ضمیر جعفری اس کی مجلسِ ادارت میں تھے۔ یہ اپنی طرح کا واحد، منفرد اور پہلا رسالہ تھا جس کے ۵ مشہور و معروف لوگ ایڈیٹر تھے ا ور اس کے سارے مضامین اور موضوعات کا محور و مرکز مزاح تھا اور بے حد مشکل کام تھا ۔ توقعات زیادہ تھیں اور دستیاب تحریر یں اور مزاح نگار کم، اس لیے اردو پنج نے عمر بھی کم پائی۔

ضمیرجعفری روزنامہ احسان، بادِشمال پنڈی کے علاوہ ہفت روزہ سدابہار لاہور اور سہ ماہی ادبیات کے مدیر بھی رہے۔ کالم نگاری کے لیے انہوں نے ہفت روزہ ہلال سے لے کر روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ مشرق، روزنامہ خبریں اور روزنامہ جسارت کو مختلف اوقات میں چُنا۔ ملاقات شروع ہوئی تو انہوں نے مجھے حیرت سے دیکھا۔ میں ان کی توقع کردہ عمر سے کم تھا۔ پنجاب یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کرکے لکھنے پڑھنے کی دنیا میں آ نکلنے پر وہ متوحش تھے۔
تم آدھمکے ہو یا آنکلے ہو؟

میں نے کہا’’ قبلہ جعفری صاحب بقائمی ہوش و حواس خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔‘‘
مسکرائے’’ اچھا بھئی مرضی تمہاری اگے تیریے بھاگ لچھیے۔ ہم میں سے اکثر تو نوکریوں میں جوانی گزار کر ہی آئے ہیں۔ پھر بھی جب جب موقع ملتا ہے رسیاں تڑوا کر نوکری کرنے بھاگتے ہیں۔ اب میری باری تھی، میں نے ان سے پوچھا: ضمیرصاحب! جہلم والے تو فوج میں جاتے ہیں، دشمن سے نبردآزما ہوتے ہیں پھر ریٹائرمنٹ کے بعد مزے سے آرام کرتے ہیں۔ آپ کہاں شعروں کی بستی میں آ نکلے اور وہ بھی مزاح کی وادی میں جہاں شاعر بھی پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنی نیم وا آنکھوں سے دیکھا، بولے ’’سچ کہتے ہو برخوردار! ہمارے بڑے کہتے تھے یہ مست الست لڑکا اگر دین کی طرف نکل گیا تو درویش بنے گا اور اگر دنیا دار ہوگیا تو ایسا زمیندار جس کی تعلیم کم اور زمین زیادہ ہو، جسے مجروں سے اٹھانا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ تکبر اور طنطنہ اس پر الگ بہار دکھاتا۔ کتے لڑائے گا۔ لڑائیاں کروائے گا۔ پھر کسی روز مار کھا کر یا اغوا کے مقدمے میں جیل جائے گا۔ یہاں سے بچ گیا تو عوامی بلوے میں مارا جائے گا۔ شاعری تو واقعی اس بیچ میں کہیں نہیں آتی تھی۔‘‘
’’آپ اپنے بارے میں ہی بات کر رہے ہیں نا!‘‘ میں نے ان کی نرم روی اور نرم گفتاری کے اندر جھانکتے اور تصوراتی زمیندار کی تفصیلات سے دہلتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں بھئی! میں ذرا مختلف نوجوان تھا۔ اتنا موٹا نہیں تھا مگر تنہا بہت تھا۔ اکیلا ہی پھرتا رہتا۔ بے مقصد پہروں، پرندے جانور پالتا۔ ان سے باتیں کرتا۔ کبوتر، طوطے، تیتر، بٹیر اور شاید کچھ بلبلیں بھی تھیں۔لڑکے بھی مجھے وہی اچھے لگتے جو ان پرندوں سے پیار کرتے۔

’’اب بھی معاملہ ایسا ہی ہے؟‘‘ میں نے لقمہ دیا۔’’آپ کو شاعر بھی وہی اچھے لگتے ہیں جو شعروں اور شاعری سے اچھا سلوک کرتے ہیں؟‘‘
وہ مسکرائے ’’تمہیں کس نے کہا؟‘‘
’’آپ عطاالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کو مٹھاس کے دوآبے کہتے ہیں پھر بھی پوچھتے ہیں کہ کس نے کہا۔‘‘
’’وہ دونوں شاعری میں بھی ایک والہانہ پن کے ساتھ شرارت کا تڑکا لگاتے ہیں اور آپ کی ان کے ساتھ مشاعروں کے باہر بھی خوب جمتی ہے۔‘‘ بات بہت دور جا سکتی تھی۔ میں نے اپنے سوالوں کے ڈھیر کو ٹٹولا اور اگلا سوال کرڈالا۔ میں اپنا مقصدِملاقات بتانے سے پہلے ان کے بارے میں سب کچھ جان لینا چاہتا تھا۔
گھر کیسا تھا؟ گھر والے کیسے تھے؟

وہ بولے ’’ہمارے والد نیک، متقی اور پرہیزگار اتنے تھے کہ علاقے بھر میں ان کا احترام اور بزرگی کی شہرت تھی۔ لوگ انہیں کم گو ولی کہتے تھے۔ اللہ جانے میں ان پہ کیوں نہیں گیا۔ (انہوں نے خودکلامی کی)۔ ہمارے گھر میں اکثر وعظ و ارشاد کی محفلیں ہوتیں۔ دینی تبلیغ کا سا ماحول رہتا۔ میں مشائخ کی جوتیاں سیدھی کرتا۔ وہاں موجود رہتا۔ وہاں سے نکل کر میلوں ٹھیلوں پہ بھی ہو آتا۔ اسے لاابالیانہ پن کہیں یا اک بے نیازی سی، بس ایسا ہی تھا اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادت پکی ہوتی گئی۔ خاندان والوں کا خیال تھا جوانی کے چار دن ہیں۔ سدھر جائے گا۔ واپس پلٹ آئے گا۔ بھاگے گا بھی توکدھر جائے گا۔‘‘
آپ بھاگ سکتے تھے! کبھی سوچا تھا۔

’’میں تو ایک لحاظ سے بھاگ ہی گیا تھا۔ سچ کہوں تو مجھے دنیا سے اور لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔ خدا جانے کب ٹھوکر لگ جائے۔ کب دھوکا ہوجائے۔ زراعت، تجارت، ملازمت، میں عمر کا بڑا حصہ لوگوں سے چھپتا ہی پھرا ہوں۔ اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا بس چھپنے چھپنے ہی میں نمایاں ہوگیا۔ پتا ہی نہیں چلا۔ مجھے تو لگتا تھا کہ تانگے پر کھڑا بہروپیا سا ہوں، سوانگ بھر کے اپنا ڈر چھپاتا ہوں اور لوگوں کو بتاتا ہوں کہ یارو تھک گیا ہوں۔ مجھے پکا یقین تھا کہ مجھ جیسا آدمی ملازمت کے لیے بنا ہی نہیں اور ہوا کیا کہ ملازمت کے علاوہ کچھ کیا ہی نہیں۔ میں رہا شہر میں اور پسند گائوں کو کرتا رہا۔ بہت سی باتوں اور قدروں پہ مجھے یقین نہیں تھا مگر میں نے زندگی میں سب سے زیادہ قدر، قدروں کی ہی کی ہے۔

زندگی ایسے گزر جاتی ہے ضمیر صاحب!‘‘ میں نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔
’’گزر نہیں جاتی، گزر رہی ہے، گزر جانی ہے۔ میں تو زندگی بھر وہ کام کرتا رہاں ہوں جو میری دانست میں مجھے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ میں زندگی بھر سچے جھوٹے سمجھوتے کرتا رہا اور اکثر ہارتا رہا۔
آپ کی زندگی اس طرح گزری کیا؟‘‘ میں نے یقینی سے پوچھا۔

وہ چائے کی ٹرے لے کر آ رہے تھے۔ میرا سوال سن کر مسکرائے، ’’تمہارا اشارہ میرے چائے لانے اور سرو کرنے کی طرف تو نہیں ہے ناں!۔ دیکھو! زندگی کے حقائق سے میں کبھی نہیں لڑا۔ لڑنا بھی نہیں چاہا میرا تو قول ہے نہ خود ہاتھ لگائو نہ حقائق کے ہاتھ آئو۔ زندگی جیسی اور جس طرح سامنے آتی جائے بازو پھیلا کر اس کا خیرمقدم کرتے جائو۔ ویسے سچ پوچھو تو میرے دل و دماغ میں دور کہیں دھندلے دھندلے سے ریشمی خواب، ڈوبتے ابھرتے مرمریں ستارے اور ان کی دنیا بلکہ کہکشاں آباد ہے۔ وہاں پھول ہیں، آبشار ہیں، پھولوں کے تختے ہیں، انگوروں کی بیلیں ہیں، چشمے اُبل رہے ہیں۔ ساحل کے ساتھ ساتھ چھوٹی سی بستی بلکہ بستیاں اور اجلے اجلے گائوں ہیں۔ دھان اور زعفران کے کھیت ہیں، سرو و صنوبر کے سائے پری چہرہ لوگ، بادہ و سانحہ، عود و عنبر، رقص و نغمہ اور دن ڈھلے ہزاروں روشن چراغ۔

وہ بول رہے تھے اور میں چشمِ تصور سے فی الواقعی ان جلتے چراغوں کو دیکھ رہا تھا جو ان کی آنکھوں میں اس وقت جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ ’’تم باتیں بہت کرتے ہو؟‘‘ انہوں نے مجھے چائے نہ پیتے دیکھ کر کہا ’’اتنی مشکل سے چائے بنوا کر لایا ہوں تمہارے لیے، رعب بھی ڈالا کہ لاہور سے مہمان آیا ہے اور بڑی محبت سے آیا ہے۔‘‘ انہوں نے خودکلامی کی۔ یہ آخری جملہ ذرا زیادہ نہیں کہہ گیا۔ ’’میں شاعر تو ہوں، اچھا بُرا لوگ طے کرتے ہیں۔ مگر یہ بات حقیقت ہے کہ دوسرے بہت سارے شاعروں کے پاس کوئی نظریہ حیات نہیں۔ مگر میں جو سوچتا ہوں اسے کوئی نہ بھی مانے میرے لیے تو یہ نظریہ حیات ہی ہے۔

میری ذات تو میرے خیالوں کے خیابان کا ایک لرزتا ہوا سایہ ہے۔ میری زندگی اور فن پر یہی سایہ ہے۔ خامی، کمی ضرور ہوگی مگر میں تو خوب صورتی اور روشنی پر نظر رکھتا ہوں۔ جہاں جاتا ہوں پھول لگاتا ہوں، میرے بس میں ہو تو جھاڑو لے کر بہت سارے خراب خیالوں کو گلی کوچوں سے صاف کردوں۔‘‘
پھر وہ رکے ’’کچھ زیادہ نہیں ہوگیا۔ تم جس کام سے آئے تھے وہ بتائو۔‘‘ میں نے کہا ’’ان دنوں میں ایک مشن پہ ہوں۔ ہر اچھے شاعر اور ادیب کو فیروزسنز میں لانا ہے اور اس گلدستے میں سجانا ہے۔
کون کون قابو آیا؟

ممتاز مفتی صاحب مفتیانے دے رہے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی نے اپنی تینوں کتابیں دے دی ہیں۔ اشفاق صاحب سے ایک کتاب لے لی ہے اور ایک بانو آپا سے۔ ہاں مستنصرحسین تارڑ صاحب نہیں مانے۔ وہ کہتے ہیں میں نیاز سے خوش ہوں۔ سنگِ مل والے میرے ساتھ تو اتنے اچھے ہیں کہ میں ان کے علاوہ کچھ سوچتا بھی نہیں۔ رضیہ بٹ کے سارے ناول لے لیے ہیں۔ الطاف فاطمہ سے بھی ایک کتاب لی ہے۔ یونس جاوید کے افسانے اور طارق اسماعیل ساگر کے 2 ناولٹ بھی چھاپنے کے لیے منظور ہوچکے ہیں۔
یہ ضمیر آپ کا ہوا؟

انہوں نے صوفے کی نکر میں دھنستے ہوئے کہا۔ میرے مختلف مضامین ہیں جو دوستوں کی کتابوں کی تقریبِ رونمائی میں پڑھے۔ کچھ نئے ہوں گے بس زندگی میں چراغ جلانے، گیت گانے اور پھول اُگانے جیسے۔ بھئی جیسا میں ہوں ویسے ہی مضامین ہیں۔‘‘ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’’قبول ہے۔‘‘
بس میں جو کچھ ہوں۔ ایسا ہی ہوں۔ ایسے ہی ہوں۔

’’یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ میں نے تھوڑی محبت اور زیادہ بے باکی سے پوچھا۔ ’’کتنے لوگ آپ کو پسند کرتے ہیں، سنتے ہیں، پڑھتے ہیں، میں نے تو شاعروں کو آپ کی چغلیاں کرتے بھی نہیں دیکھا۔ حتیٰ کہ کسی نے موٹاپے کا بھی مذاق نہیں اڑایا۔ آپ ماشاء اللہ یہ کام خود ہی کافی اچھا کرلیتے ہیں۔
’’کچھ دنوں بعد ان کی تحریریں موصول ہوگئیں اور یہ میٹھا پانی کے نام سے کتابت ہوئیں۔ رومی صاحب نے اس کا ٹائٹل بنایا۔
۱۹۸۷ء ہی میں علی اکبر عباس پہلی بار ملے۔ اُس وقت میں جعفری صاحب کے مسودے پر کام کر رہا تھا۔ وہ صاحبِ کتاب شاعر اور بہت شفقت اور محبت کرتے تھے۔ ملاقاتیں بڑھیں تو پتا چلا کہ وہ تو نذیرناجی کے بھائی ہیں۔ ان دنوں ہم اظہرسہیل کی دوسری یا تیسری سیاسی کتاب پر کام کر رہے تھے۔ عینک والا جن وہ بعد کے سالوں میں بنے اور مشہور ہوئے۔ جب روزنامہ پاکستان اسلام آباد میں ان کی لڑائی حامد میر اور اسلم خاں سے ہوئی۔ وہ بے نظیر کا دور تھا اور وہ زرداری صاحب کے قریبی دوستوں کے حلقے میں داخل ہوچکے تھے۔ پیرپگاڑا کی کہانی کے بعد وہ سازشوں کا دور لکھ چکے تھے۔ لکھتے خوب تھے۔ کتاب میں سنسنی خیزی ان کو ڈالنی خوب آتی تھی۔
اللہ جانے مجھے کیا سوجھا میں نے علی اکبر عباس سے بڑی محبت سے کہا ’’ناجی صاحب کے کالموں کا انتخاب چھاپتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’اچھی بات۔ وہ تو کتابت شدہ پڑے ہیں۔
اگلے چند روز میں کالم آگئے۔ میں نے جستہ جستہ پڑھ لیے۔ ہمارے منصوبے میں وہ آسانی سے سمار ہے تھے۔ پھر ایک مشہور کالم نگار ادارے کے مصنفین کی فہرست میں جگمگاتا۔ ناجی صاحب سے آپ اتفاق کریں یا اختلاف، وہ ہر دور میں سیاسی طور پر ہمیشہ اِن رہے ہیں۔ یہ خوبی بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔
علی اکبر عباس نے صرف کتابت ہی نہیں جڑی ہوئی کاپیاں بھی دے دیں۔ ظہیرسلام صاحب جو فیروزسنز کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے، بہت دلچسپی لے کر نئے نئے مصنفین کی آمد اور ان کے رابطوں کی تحسین کرتے، یہی وجہ تھی کہ پہلے ہی سال فیروز سنز کی تاریخ میں اتنے سارے معروف و مقبول مصنفین گلدستے کے پھولوں کی طرح جگمگانے لگے تھے۔

اس سال ظہیر صاحب نے مجھے 500 روپے کا خصوصی انعام دیا جو مین آف دی ایئر قسم کی کیفیت کا حامل تھا۔ اب میں ایڈیٹر ہوچکا تھا۔ نعیم احمد سب ایڈیٹر کے طور پر جوائن کرچکے اور ہمارے دفاتر فیروزسنز کے مین دروازے کے بالکل اوپر منتقل ہوگئے تھے۔ اچانک ایک روز جب میں ایگری منٹ پر بطور گواہ دستخط کروانے کے لیے سیلز مینیجر الطاف صاحب کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ کالم کہاں بکنے ہیں۔

وہ لڑکی شیمامجید، بھی ’’مقصود انور‘‘ کے کالموں کا انتخاب لیے پھر رہی ہے۔ کس کس کے کالم چھاپیں گے۔ آپ ادیبوں اور ادبی کتابوں تک ہی رہیں۔ میں نے اظہر سہیل کی کتابوں کی کامیابی اور فروخت کا جواز دے کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ان کو تو ہم پیسے بھی کافی زیادہ دے رہے ہیں۔ ’’سویرے سویرےؔ‘‘ پر ہمارا خرچ بھی اتنا نہیں ہوگا۔ وہ بولے، اظہرسہیل تو خود کوشش کرکے بہت سی کتاب نکلوا دیتا ہے۔ یوں بات ختم ہوگئی۔ میں نے بہت دکھی دل سے علی بھائی سے معذرت کی۔ کچھ مہینوں بعد انہوں نے ’’سویرے سویرے‘‘ کہیں اور سے چھپوالی اور ایک روز تقریب کا دعوت نامہ لے آئے۔ پھر مسکراتے ہوئے بولے’’ آپ کے ضمیر جعفری صاحب بھی آ رہے ہیں۔ سویرے سویرے‘‘ کی تقریب رونمائی مال روڈ لاہور کے آواری ہوٹل میں تھی۔ بے شمار مہمان اور کئی مقرر … مگر ضمیر جعفری صاحب نے سماں باندھ دیا۔ ان کے کچھ جملے تو آج بھی یاد ہیں۔

٭ جس طرح بعض جرائد کی ضخامت زیادہ اور شرافت کم ہوتی ہے، اسی طرح آپ میری جسامت پر نہ جائیں۔ مجھے یہ اقرار کرنے میںتامل نہیں کہ میں صحافیوں سے ڈرتا ہوں اور میں کیا حکومتیں بھی صحافیوں سے ڈرتی ہیں۔ اگر ثبوت چاہیے تو صحافیوں کے پلاٹوں کی فہرست ملاحظہ کرلیں۔
٭ نذیرناجی کی بس دہشت زیادہ ہے۔ بعض سانپوں کی طرح وہ پھنکارتا ہے مگر ڈستا نہیں اور اب تو وہ خود بھی ’’مارگزیدہ‘‘ نہیں ’’یارگزیدہ‘‘ ہو گیا ہے۔
٭ روزانہ اخبار کا کالم لکھنا، ہر روز ایک نیا کنواں کھودنا ہے۔ یہ وہ جان لیوا عمل ہے کہ کالم نگار کنوئیں میں اتر جاتا اور لٹریچر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھا اونگھتا رہتا ہے۔
٭ ناجی کے ہاں قلم کش افراتفری میں بھی یہ التزام نظر آتا ہے کہ اگر جملے کا پیٹ خالی بھی ہے تو کم از کم اس کا منہ ضرور چپڑا ہوا ہوگا۔
٭ یہ زیادہ تر سیاسی کالم لکھتا ہے، اگر یہ رومانی موضوع پر قلم اٹھاتا تو سیاست منہ دیکھتی رہ جاتی اور محبت بڑھ کر اس کے قلم کا منہ چوم لیتی۔ (اس کامنہ چوم کر کیا کرتی)۔
٭ ناجی اکثر اپنے کالموں میں جنرل ٹکاخاں سے دو دو ہاتھ کرتا ہے مگر عجیب اتفاق ہے اگر کالم نگاری کے حوالے سے اسے آرمی کے کسی جرنیل مماثلت دینی ہو تو وہ بھی ٹکا خاں سے ہی ہے۔ ٹکا کی طرح معرکہ لڑتا ہے اور اسی کی طرح بلنڈر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جس بات پہ بہت قہقہے گونجے تھے، انہوں نے رک کر ٹھہر کر کہا تھا وہ بلنڈر ٹکا کی طرح کرے تو کرے سرنڈر کبھی نہیں کرتا۔
٭ میں نے ناجی کے کالموں کو فالن کرکے کرید کرید کر خامیاں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ہے مگر مجھے کوئی باعثِ تشویش خامی نہ مل سکی۔
یہ فروری ۸۹ء کا آٹھواں دن تھا۔ تقریب ختم ہوئی تو چائے کے لیے سوئمنگ پول کے ساتھ والے ہال کی طرف لپکے۔ میں، علی اکبر عباس، نعیم احمد اور بدرمنیر جو متحدہ پاکستان کے نامور صحافی، افسانہ نگار تھے۔ سالوں نوائے وقت میں کالم لکھتے رہے۔ سال بھر پہلے فوت ہوئے تو رائل پارک سے نکلنے والے رسالے ’’مزدور‘‘ کے ’’مدیر‘‘ تھے۔ ان کی دوستیاں شیخ مجیب الرحمن اور ان کی والدہ سے لے کر حسین شہید سہروردی اور جنرل اعظم خاں سے خوب تھیں۔

ایک زمانے میں وہ ایم کیو ایم کے بھی بڑے قریب رہے۔ کھنڈ کر مشتاق جو بنگلہ دیش کے پہلے صدر بنے، ان کی اہلیہ جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں پروفیسر تھیں۔ ان کی دوسری اہلیہ تھیں اور کھنڈکر مشتاق نے بھارت فرار ہونے سے پہلے خود ان کا نکاح کروایا تھا، ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے چائے کے بجائے ضمیرجعفری صاحب کو گھیر لیا۔ کچھ دیر کے لیے ناجی صاحب بھی آگئے مگر وہ ان کا دن تھا۔ چاہنے والوں اور ملنے والوں کی بھیڑ تھی۔ ضمیرجعفری صاحب نے اس روز بدرمنیر صاحب سے خوب باتیں کیں۔ میرے بارے میں کچھ ایسے بے ساختہ تبصرے بھی کیے جن کی میں توقع نہیں کر رہا تھا۔ بدر صاحب نے بعد میں میری کتاب پھٹا ہوا دودھ میں اس ساری ملاقات کا حال لکھ دیا۔

سیدضمیر جعفری کی محبت اور یادداشت دونوں کمال پھوار کی طرح تھیں۔ میں اس میں بھیگا نہ ہوتا تو کبھی اس کا مزہ اور لذت جان بھی نہ پاتا۔
کہنے لگے، یہ مفتی کبھی بوڑھا نہیں ہوسکتا۔ ہسپتال میں داخل تھا۔ میں عیادت کے لیے چلا گیا۔ اس نے کتنی ہی پھبتیاں کس ڈالیں۔ وہیں ایک لڑکا آگیا۔ کہنے لگے ’’برخوردار! تمہاری صحت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے تم اگلی سالگرہ پر مجھ سے ملنے آئو گے۔

ممتاز مفتی ان کے کولیگ رہے تھے۔ میرا اشتیاق دیکھ کر بتانے لگے کہ ہمارے ساتھ احمد بشیر، ابن انشا جیسے نابغے بھی تھے۔ مگر ہمارا سرپنچ یہی تھا۔ ’’ماسٹری‘‘ اس کے بہت کام آئی۔ حفیظ جالندھری باس تھے۔ انگریزی میں خط لکھنے کا انہیں بڑا شوق تھا۔ ممتاز مفتی ان کا شوق پورا کر دیتا مگر اپنی مرضی اور اپنے الفاظ سے۔
ہماری ملاقات کے دنوں مفتی صاحب تلاش لکھ رہے تھے۔ ان کا دفاع کرتے ہوئے بولے ’’روحانی تجربہ میاں بیوی کے تعلق جیسا ہوتا ہے۔ اس میں کسی دوسرے آدمی کو نہیں بولنا چاہیے۔ بتانے لگے، ایک بار ہی میں نے اس کو ایک مزار پر دیکھا تھا۔ کشمیر کے کسی بزرگ کا نام لیا تھا۔ کھڑی شریف، دمڑی والی سرکار۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ان میں پیر کون ہے؟ کہنے لگے، پیر شاہ غازی کا مزار تھا یار! ممتاز مفتی کی سیٹی گم تھی۔ وہ تو اندر بھی نہیں گیا۔ باہر ہی بیٹھا آسماں دیکھتا رہا۔ اللہ جانے مانگتا بھی ہے یا نہیں جھولی توپھیلی نہیں دیکھی۔

جھولیاں تو ہم میں سے اکثر نہیں پھیلاتے مگر زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ اﷲ جی ہم لوگوں کو باہم محبت میں باندھ دیتے ہیں۔ یہی محبت زندگی کو تازہ دم اور خوشگوار رکھتی اور اعتراضات کی کوفت سے بچاتی ہے۔ ایک مجلس میں ضمیر جعفری صاحب کی تحریر پر کسی نقاد نے اعتراض جڑ دیا۔ میرِمجلس شفیق الرحمن تھے۔ جنرل صاحب نے اپنی صدارت کا خوب استعمال کیا اور اپنے دوست کی مدد کو پہنچے، ان کے پاس بیکانیر کے مہاراجہ کا قصہ تھا۔ انگریزی سرکار نے ان کی ریاست میں ریلوے لائن بچھائی تو آخری اسٹیشن صحرائی شیروں کی کچھار میں جا بنایا۔ شیر ٹہلتے ٹہلتے آتے کبھی اسٹیشن ماسٹر اور کبھی کانٹے والے کو اٹھا کر لے جاتے۔ اس پر ہندوستان کے وائسرائے نے مہاراجہ کو خط لکھا کہ شیروں کا انسداد کریں۔ مہاراجہ نے لکھا ’’حضور! اپنی ریل اٹھا کر لے جائیں، ہمارا شیر تو یوں ہی کرے گا۔‘‘

ضمیرجعفری صاحب نے دو تین بار تقریبات میں مضامین پڑھنے سے توبہ کی، ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کیا، پہلا اعلان شاید ممتاز مفتی کی کتاب ’’روغنی پتلے‘‘ کی تقریب میں کیا تھا مگر محبتوں کے اسیر اس شیر نے محفلوں اور تقریبات میں دوستوں پہ اپنے الفاظ نچھاور کرکے انہیں لوٹنے کی اپنی عادت کبھی نہ چھوڑی۔
شیر کب شیریت سے باز آتا ہے۔ یہ اس کی سرشت اور جبلت میں ہی نہیں ہوتا۔ وادی جہلم میں جنم لینے والے وادی مزاح کے اس شیرِببر نے بھی مہاراجہ بیکانیر کے شیروں کی طرح زندگی جی۔ ان کے سبھی دوست جانتے تھے کہ بیمار اور بوڑھا بھی ہوگیا تب بھی ہمارا شیر تو یوں ہی کرے گا۔
بشکریہ اردو ڈائجسٹ
ربط
http://urdudigest.pk/2012/05/zameer-sb-bhi-khood-thay/
 

تلمیذ

لائبریرین
شاہ جی، نہایت اعلی اور گوناگوں معلومات سے بھر پور مضمون چنا ہے آپ نے شراکت کے لئے۔
ضمیر جعفری مرجوم کے بارے میں بہت جانکاری حاصل ہوئی ہے۔
بے حد شکریہ اور جزاک اللہ، جناب۔
(پس نوشت۔ مصنف کا نام نہیں ملا، ربط کھول کر اصل مضمون دیکھنے پر بھی)
 
آخری تدوین:
شاہ جی، نہایت اعلی اور گوناگوں معلومات سے بھر پور مضمون چنا ہے آپ نے شراکت کے لئے۔
ضمیر جعفری مرجوم کے بارے میں بہت جانکاری حاصل ہوئی ہے۔
بے حد شکریہ اور جزاک اللہ، جناب۔
(پس نوشت۔ مصنف کا نام نہیں ملا، ربط کھول کر اصل مضمون دیکھنے پر بھی)
آداب عرض ہے حضور
اللہ آپ کو بہت سی خوشیاں عطا فرمائے آمین
اصل میں یہ مضمون ادارہ کی طرف سے شریک کیا گیا
اور اردو ڈائجسٹ میں یہ ہی قباحت ہے بعض اوقات مصنف کا نام نہیں دیا جاتا
 

شمشاد

لائبریرین
بہت شکریہ شاہ جی۔

ان کے متعلق تو پہلے بھی کئی بار پڑھا لیکن اتنی تفصیل سے پہلی بار پڑھا۔

جزاک اللہ خیر۔
 
بہت شکریہ شاہ جی۔

ان کے متعلق تو پہلے بھی کئی بار پڑھا لیکن اتنی تفصیل سے پہلی بار پڑھا۔

جزاک اللہ خیر۔
پسندیدگی کے لئے ممنون ہوں
کافی عرصہ پیشتر ضمیر جعفری کی لکھی ہوئی ایک تحریر نٹ کھٹ دریائی مہم اردو ڈائجسٹ میں پڑھی تھی بہت خوبصورت تحریر ہے مگر بہت تلاش کرنے پر بھی دستیاب نہیں ہوئی
 
Top