ضبط کی ہم نے سیکھ لی ہے ادا

محمد شکیل خورشید نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 23, 2020

  1. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    237
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    کوئی باقی نہیں ہے حرفِ دعا
    ضبط کی ہم نے سیکھ لی ہے ادا

    سیکھ لی یہ روش بھی دنیا کی
    وقت پر آنکھ پھیرنا ہے روا

    وہ جو دل پر پڑی تھی وصل کی شب
    اب بھی باقی ہے اس نظر کا نشہ

    کون پہچانتا ہے یاس کی لے
    کون سنتا ہے ٹوٹے دل کی صدا

    یاد سے اس کی ڈر نہیں کوئی
    اک خلش ہے نہیں یہ کوئی سزا

    ترکِ نسبت کا کیا گلہ کہ شکیل
    ان سے منسوب کب تھی رسمِ وفا

    محترم الف عین
    محترم محمد خلیل الرحمٰن
    محترم محمد وارث
    و دیگر احباب کی نذر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,279
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ جو دل پر پڑی تھی وصل کی شب
    اب بھی باقی ہے اس نظر کا نشہ
    نشہ کے غلط تلفظ کو صرف نظر کر بھی دیا جائے تو شب وصل کا 'دل پر پڑنا' خلاف محاورہ
    باقی اشعار درست لگ رہے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    237
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    رہنمائی کا شکریہ استادِ محترم
    " دل پر پڑی" ۔۔۔ کا ربط "اسں نظر" سے تھا، یعنی وہ جو وصل کی شب دل پر نظر پڑی تھی، اس کا نشہ اب بھی باقی ہے۔۔
    شائد فاصلہ زیادہ ہو گیا
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,279
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس فاصلے کی وجہ سے ہی میں اس ممکنہ مفہوم تک نہیں پہنچ سکا!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر