شیخ عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات

شیخ عبدالقادر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات
72.jpg

73.jpg
 
کیا روحانی بابا کی ملاقات ہے؟

یعنی انسان نہیں ہیں؟
حضرت خضر علیہ السلام انسان ہی ہیں۔ روحانی بابا کیونکہ ان معاملات پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔ اس لئے ان کا حوالہ پیش کیا تھا۔
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقائد تکمیل الایمان میں مندرجہ ذیل لکھا ہے۔
1zxwew5.jpg
 

حسیب

محفلین
تھی؟ حضرت حضر علیہ السلام ابھی بھی زندہ ہیں۔ :) روحانی بابا اس معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈال سکتے ہیں :)
میں روحانیت کے معاملے پر کبھی بھی غیر متعلق لوگوں سے بات نہیں کیا کرتا ہوں اور اس محفل میں مذاق اڑانے والوں کی کمی نہیں ہےاس لیئے معذرت۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت ۔۔۔۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے
موت سے کس کو رُستگاری ہے
آج تمہاری تو کل ہماری باری ہے
ویسے اگر آپ چاہیں تو آپ کی ملاقات خواجہ خضر علیہ السلام سے ہوسکتی ہےبشرط یہ کہ آپ نماز پنچ گانہ کے عامل ہوں
 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں کیا خیال ہے کہ
کوئی جاندار آج سے سو برس تک زندہ نہیں رہ سکتا
آپ نبی کریم ﷺ کے فرمان عالیشان کو حوالہ بھی پیش کر دیتے تو بہتر تھا۔
بہرحال تحقیق میں علماء کرام کا اختلاف ہوتا ہے یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ میں جس بات پر یقین رکھتا ہوں وہ بیان کر چکا ہوں کیونکہ یہ ایک مستند کتاب سے لی گئی ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام انسان ہی ہیں۔ روحانی بابا کیونکہ ان معاملات پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔ اس لئے ان کا حوالہ پیش کیا تھا۔
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقائد تکمیل الایمان میں مندرجہ ذیل لکھا ہے۔
1zxwew5.jpg
 

ظفری

لائبریرین
میں روحانیت کے معاملے پر کبھی بھی غیر متعلق لوگوں سے بات نہیں کیا کرتا ہوں اور اس محفل میں مذاق اڑانے والوں کی کمی نہیں ہےاس لیئے معذرت۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت ۔۔۔ ۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے
موت سے کس کو رُستگاری ہے
آج تمہاری تو کل ہماری باری ہے
ویسے اگر آپ چاہیں تو آپ کی ملاقات خواجہ خضر علیہ السلام سے ہوسکتی ہےبشرط یہ کہ آپ نماز پنچ گانہ کے عامل ہوں
بات متعلق اور غیر متعلق کی نہیں ہے ۔ مگر جب آپ روحانیت کو ایک دین کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس کے ماخذ کو بھی متعین کریں ۔ دین جو ہم سب جانتے ہیں وہ اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کا نام ہے۔ جو ہمارے سامنے قرآن و سنت کے روپ میں رہنمائی کے لیئے موجود ہے ۔ لہذا جب آپ ماروائی واقعات بیان کرتے ہیں تو اس کو اللہ اور رسول اللہ کے فرمان سے ثابت کریں کہ یہ کیا چیزیں ہیں ۔ اگر یہ ماخذ سے ہٹ کر ہیں تو پھر ظاہر ہے اس پر اعتراضات آئیں گے ۔ اگر اعتراضات کے جوابات استدلال ، دلائل اور قرآن و سنت کے مطابق ہونگے تو پھر یہ متعلق اور غیر متعلق کی بحث باقی نہیں رہے گی ۔ باقی جس کو اپنے اپنے دین پر قائم رہنا ہے تو کوئی حرج نہیں کہ اللہ نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ مگر جب آپ روحانیت کواس طرح دین کے طور پر سب کے سامنے پیش کریں گے تو پھر اعتراضات کے لیئے بھی تیار رہیں ۔
 

ظفری

لائبریرین
حضرت خضر علیہ السلام انسان ہی ہیں۔ روحانی بابا کیونکہ ان معاملات پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔ اس لئے ان کا حوالہ پیش کیا تھا۔
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقائد تکمیل الایمان میں مندرجہ ذیل لکھا ہے۔
1zxwew5.jpg
حضرت خضر کا جو واقعہ قرآن میں بیان ہوا ہے ۔ اس کی وہ حقیقت نہیں ہے ۔ جس کو اس طرح عام کیا گیا ہے ۔ دراصل قرآن میں وہ واقعہ بہت حکیمانہ طور پر بیان ہوا ۔ اس میں ایک نبی کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیئے دنیا کے نظم میں جس طرح اللہ کی حکمت کام کر رہی ہے ۔ اس پر سے پردہ ہٹا گیا ہے ۔ یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ جوواقعات دنیا میں رونما ہو رہے ہیں ۔ وہ ایک نظم اور سسٹم کے تحت ہو رہے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی شخص دنیا میں انتشار یا قتل و غارت کرنا چاہتا ہے تو اس کو یہاں تک تو اجازت ہے کہ وہ ارادہ کرلے ۔ مگر اس ارادے کو حتمی شکل دینے میں وہ قدرت نہیں رکھتا ۔ یہاں اللہ مداخلت کرتا ہے ۔ ورنہ دنیا شر و فساد کا منبع بن جائے ۔ ( اس پر تفصیلی بحث درکار ہوسکتی ہے ۔ ) ۔
مگر جہاں تک حضرت خضر کی بات ہے تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے یہ معاملہ اپنے ایک فرشتے کے سپرد کیا اور اس نے حضرت موسیٰ کے سوالوں کے جوابات اللہ کے حکمت کے حوالے سے دنیا کے نظم سے پردہ اٹھا کر بتایا کہ اللہ کا نظم کس طرح چلتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اور بات سامنے نہیں آتی ۔
 
بات متعلق اور غیر متعلق کی نہیں ہے ۔ مگر جب آپ روحانیت کو ایک دین کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس کے ماخذ کو بھی متعین کریں ۔ دین جو ہم سب جانتے ہیں وہ اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کا نام ہے۔ جو ہمارے سامنے قرآن و سنت کے روپ میں رہنمائی کے لیئے موجود ہے ۔ لہذا جب آپ ماروائی واقعات بیان کرتے ہیں تو اس کو اللہ اور رسول اللہ کے فرمان سے ثابت کریں کہ یہ کیا چیزیں ہیں ۔ اگر یہ ماخذ سے ہٹ کر ہیں تو پھر ظاہر ہے اس پر اعتراضات آئیں گے ۔ اگر اعتراضات کے جوابات استدلال ، دلائل اور قرآن و سنت کے مطابق ہونگے تو پھر یہ متعلق اور غیر متعلق کی بحث باقی نہیں رہے گی ۔ باقی جس کو اپنے اپنے دین پر قائم رہنا ہے تو کوئی حرج نہیں کہ اللہ نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ مگر جب آپ روحانیت کواس طرح دین کے طور پر سب کے سامنے پیش کریں گے تو پھر اعتراضات کے لیئے بھی تیار رہیں ۔
بھئی خیر تو ہے ۔۔۔۔نواں آیاں سوہنیاں
دراصل بعض لوگوں میں روحانیات کو دیکھنے کی صلاحیت بائے ڈیفالٹ نہیں ہوتی ہے اس وجہ سے ایسے لوگوں سے بات کرنا ہی وقت کا ضیاع ہے۔ دوسرا روحانیت کسی بھی مذہب کی میراث نہیں ہے یہ افریقہ کے وچ ڈاکٹر سے لیکر ہندوؤں کے سادھو سنتوں اور برما کے لاماؤوں سے صحرائے گوپی کے شامانوں تک، غرض ربیوں،صوفیوں،بھکشوؤں ہر قوم و ملت و ادیان میں اس کا تصور ہے اور اسی طرح ہر قوم و ادیان میں آپ کی طرح اس کی مخالفت کرنے والے بھی ہیں تو لگے رہو منا بھائی کس نے اعتراض کیا ہے۔
جہاں تک دین کی بات ہے تو دین سب پر واضح ہے دین پر یعنی شریعت پر عمل پیرا ہو کر آپ کو کچھ ملتا ہے اس کو معرفت کہتے ہیں جو کہ فی زمانہ شائد کسی کو بھی نہیں مل رہی ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔اشاراتا ذالک الکتاب لاریب فی ھدی للمتقین۔
باقی جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے تو اس کا تعلق روح سے ہے اور یہ یوگا اوردوسرے مختلف علوم جیسے ہپناٹرم ، ٹیلی پیتھی وغیرہ کی مشقیں کرنے سے آپ کو حاصل ہوجاتی ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ایک سپارہ پڑھنے میں اور سمجھ کر پڑھنے میں اگر نصف گھنٹہ بھی لگتا ہو تو 30 سپارے 15 گھنٹے میں ختم ہوتے ہیں۔ ایک رات کا جو واقعہ ہے، اگر وہ عشاء کی نماز کے بعد ہوا ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ فجر کی نماز قضاء ہو گئی ہوگی؟
اس کے علاوہ اوپر موجود تحریر میں دیئے گئے سال گنے جائین تو کل 91 سال یہیں بنتے ہیں۔ جبکہ ان کی کل عمر بھی اکیانوے سال ہی تھی۔ یعنی پیدا ہوتے ہی عبادات اور سفر شروع؟
دراصل عقیدت میں ہم لوگ انتہائی حد عبور کر جاتے ہیں اور اپنے ممدوح کو انسان نہیں رہنے دیتے
 

حسیب

محفلین
آپ نبی کریم ﷺ کے فرمان عالیشان کو حوالہ بھی پیش کر دیتے تو بہتر تھا۔
بہرحال تحقیق میں علماء کرام کا اختلاف ہوتا ہے یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ میں جس بات پر یقین رکھتا ہوں وہ بیان کر چکا ہوں کیونکہ یہ ایک مستند کتاب سے لی گئی ہے۔
{ آپ سے قبل ہم نے کسی انسان کوبھی ہمیشگی نہیں دی ، کیا اگرآپ فوت ہوگئے تووہ ہمیشہ کے لیے رہ جائيں گے } الانبیاء ( 34 ) ۔

عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری ایام میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب سلام پھیراتو فرمانے لگے :

آج کی رات میں تمہیں یہ خبر دے رہا ہوں کہ صدی کی آخر میں اس وقت زمین میں پائے جانے والوں میں سے کو‏ئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔ (صحیح بخاری) ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح اس طرح بیان کرتے ہیں :
( صلی بنا ) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کروائی ( زندگی کے آخری ایام میں ) اسے جابررضي اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مقید کیا گيا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ یہ واقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوموت سے ایک مہینہ قبل کا ہے ۔
( ارائیتکم ) یعنی کیا تم نے اس رات کوجان اورپہچان لیا ہے ۔
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( جوبھی زمین پر موجود ہے ) یعنی اس وقت جوبھی موجود ہے وہ اس وقت نہیں ہو گا ۔
ابن بطال کہتے ہیں کہ :
اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ مدت اس موجودہ نسل کو ختم کردے گی ، توانہیں اس بات کی نصیحت فرمائی‏ کہ تمہاری عمریں تھوڑی ہیں ، ان کے علم میں یہ لائے کہ ان کی عمریں اس طرح نہیں جس طرح پہلی امتوں کی تھی اس لیے وہ عبادت کرنے کی تگ دو کریں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
اس سے مراد یہ ہے کہ ہروہ ‎شخص جو اس رات زمین پرزندہ تھا وہ اس رات سے لیکر سوبرس سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا چاہے اس کی عمر اس سے قبل کم یا نہ ، اس میں اس رات کے بعد پیدا ہونے والے کی سوبرس زندگی کی نفی نہيں ہے ، واللہ تعالی اعلم
 
{ آپ سے قبل ہم نے کسی انسان کوبھی ہمیشگی نہیں دی ، کیا اگرآپ فوت ہوگئے تووہ ہمیشہ کے لیے رہ جائيں گے } الانبیاء ( 34 ) ۔

عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری ایام میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب سلام پھیراتو فرمانے لگے :

آج کی رات میں تمہیں یہ خبر دے رہا ہوں کہ صدی کی آخر میں اس وقت زمین میں پائے جانے والوں میں سے کو‏ئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔ (صحیح بخاری) ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح اس طرح بیان کرتے ہیں :
( صلی بنا ) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کروائی ( زندگی کے آخری ایام میں ) اسے جابررضي اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مقید کیا گيا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ یہ واقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوموت سے ایک مہینہ قبل کا ہے ۔
( ارائیتکم ) یعنی کیا تم نے اس رات کوجان اورپہچان لیا ہے ۔
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( جوبھی زمین پر موجود ہے ) یعنی اس وقت جوبھی موجود ہے وہ اس وقت نہیں ہو گا ۔
ابن بطال کہتے ہیں کہ :
اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ مدت اس موجودہ نسل کو ختم کردے گی ، توانہیں اس بات کی نصیحت فرمائی‏ کہ تمہاری عمریں تھوڑی ہیں ، ان کے علم میں یہ لائے کہ ان کی عمریں اس طرح نہیں جس طرح پہلی امتوں کی تھی اس لیے وہ عبادت کرنے کی تگ دو کریں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
اس سے مراد یہ ہے کہ ہروہ ‎شخص جو اس رات زمین پرزندہ تھا وہ اس رات سے لیکر سوبرس سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا چاہے اس کی عمر اس سے قبل کم یا نہ ، اس میں اس رات کے بعد پیدا ہونے والے کی سوبرس زندگی کی نفی نہيں ہے ، واللہ تعالی اعلم
آپ کے دئیے گئے حوالے سر آنکھوں پر، لیکن میں نے جس کتاب کا حوالہ پیش کیا ہے اسکا نام تکمیل الایمان ہے اور یہ علامہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی ہے۔ انکی کی تحقیق کو نظر انداز کرنا نا آسان ہے اور نا ہی مناسب۔ آپ کے اعتراض کے بارے میں اسی کتاب کے اگلے صفحے تحریر موجود ہے۔
ایسے :
1tnb13.jpg
 
ایک سپارہ پڑھنے میں اور سمجھ کر پڑھنے میں اگر نصف گھنٹہ بھی لگتا ہو تو 30 سپارے 15 گھنٹے میں ختم ہوتے ہیں۔ ایک رات کا جو واقعہ ہے، اگر وہ عشاء کی نماز کے بعد ہوا ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ فجر کی نماز قضاء ہو گئی ہوگی؟
اس کے علاوہ اوپر موجود تحریر میں دیئے گئے سال گنے جائین تو کل 91 سال یہیں بنتے ہیں۔ جبکہ ان کی کل عمر بھی اکیانوے سال ہی تھی۔ یعنی پیدا ہوتے ہی عبادات اور سفر شروع؟
دراصل عقیدت میں ہم لوگ انتہائی حد عبور کر جاتے ہیں اور اپنے ممدوح کو انسان نہیں رہنے دیتے
اوپر بیان کیا گیا واقعہ نزہۃ الخاطر الفاتر جو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے سے لیا گیا ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کے بہت بڑے پائے کے جید عالم ہیں اور بڑے بڑے علماء انکی رائے کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ آپ کے بیان کردہ اعتراضات یقیناً مصنف کی نظر میں ہونگے مگر پھر بھی انہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ۔ ظاہر ہے کہ ان اعتراضات کا جواب انکے پاس ہوگا۔
ملا علی قاری کا اس واقعے کو بیان کرنا ہی میرے لئے سچا ہونے کی دلیل ہے۔ اگر آپ کو مزید دلائل کی ضرورت ہے تو علماء سے رابطہ کریں۔
 
اہلِ کشف و شہود کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور امت محمدیہ میں سے کثیر تعداد میں اولیاء کرام ان سے شرفِ ملاقات حاصل کرچکے ہیں۔ صوفیہ کی کتب میں ان واقعات کا جابجا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی نہیں ہیں بلکہ ولی ہیں۔
کل نفس ذائقۃ الموت والی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ذی نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، یہ نہیں کہ وہ چکھ چکا ہے۔ جبرل، میکائیل، عزرائیل او اسرافیل نے بھی ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے مخصوص وقت میں وفات پاجائیں گے اور اسی طرح خضر و الیاس علیھما السلام۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب
 
دراصل قرآن میں وہ واقعہ بہت حکیمانہ طور پر بیان ہوا ۔ اس میں ایک نبی کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیئے دنیا کے نظم میں جس طرح اللہ کی حکمت کام کر رہی ہے ۔ اس پر سے پردہ ہٹا گیا ہے ۔ یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ جوواقعات دنیا میں رونما ہو رہے ہیں ۔ وہ ایک نظم اور سسٹم کے تحت ہو رہے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی شخص دنیا میں انتشار یا قتل و غارت کرنا چاہتا ہے تو اس کو یہاں تک تو اجازت ہے کہ وہ ارادہ کرلے ۔ مگر اس ارادے کو حتمی شکل دینے میں وہ قدرت نہیں رکھتا ۔ یہاں اللہ مداخلت کرتا ہے ۔ ورنہ دنیا شر و فساد کا منبع بن جائے ۔ ( اس پر تفصیلی بحث درکار ہوسکتی ہے ۔ ) ۔

سو فیصد متفق۔۔۔۔ یہ واقعہ بیشک اپنے اندر کہیں زیادہ گہرائی اور حکمت سموئے ہوئے ہے۔ صوفیہ نے اس پر نہایت نفیس کلام کیا ہے۔

مگر جہاں تک حضرت خضر کی بات ہے تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے یہ معاملہ اپنے ایک فرشتے کے سپرد کیا اور اس نے حضرت موسیٰ کے سوالوں کے جوابات اللہ کے حکمت کے حوالے سے دنیا کے نظم سے پردہ اٹھا کر بتایا کہ اللہ کا نظم کس طرح چلتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اور بات سامنے نہیں آتی ۔
یہاں آپ سے اختلاف کروں گا۔ یہ واقعہ سورہ کہف میں بیان ہوا ہے۔ کسی بھی آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مذکورہ شخص (حضرت خضر)انسان نہیں بلکہ کوئی فرشتہ تھا۔
قرآن پاک میں ایک دوسری جگہ پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کیلئے بھیجے گئے فرشتوں کے بارے میں اشارہ دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اپنی مہمان نوازی میں مشہور تھے، انہوں نے جب ان لوگوں کو کھانا وغیرہ کھلانا چاہا تو انہوں نے اسکی طرف بالکل ہاتھ نہیں بڑھائے۔ اس بات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام دل میں کچھ خوفزدہ ہوئے (قرآن پاک کی آیت کے مطابق)۔ کیونکہ انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ لوگ بنی نوع انسان میں سے نہیں ہیں۔
لیکن حضرت موسیٰ اور خضر والے واقعے میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں جب یہ لوگ اس بستی میں پہنچتے ہیں جہاں خضر نے بغیر کسی معاوضے کے دیوار تعمیر کردی، وہاں کے لوگوں نے ان مسافروں کی مہمانداری اور کھانا وغیرہ سے تواضع کرنے سے انکار کردیا تھا اسی لئے حضرت موسیٰ نے خضر سے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ایسا غیر دوستانہ رویہ رکھا، اپ نے وہاں بغیر کسی معاوضے کے انکا کام کردیا اسکی کیا وجہ ہے؟۔۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس واقعے کی جو تفاسیر احادیث میں ملتی ہیں ان میں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ خضر انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے۔
واللہ اعلم بالصواب
 
اہلِ کشف و شہود کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور امت محمدیہ میں سے کثیر تعداد میں اولیاء کرام ان سے شرفِ ملاقات حاصل کرچکے ہیں۔ صوفیہ کی کتب میں ان واقعات کا جابجا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی نہیں ہیں بلکہ ولی ہیں۔
کل نفس ذائقۃ الموت والی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ذی نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، یہ نہیں کہ وہ چکھ چکا ہے۔ جبرل، میکائیل، عزرائیل او اسرافیل نے بھی ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے مخصوص وقت میں وفات پاجائیں گے اور اسی طرح خضر و الیاس علیھما السلام۔۔۔ ۔
واللہ اعلم بالصواب
غزنوی جی جان دیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تے اے گَل دل دے انیاں لئی کیتی سی۔ تے جدھر تک تُساں دی گل اے تو جناب میں تے اوسی ویلے لیخ دیتا سی کہ ۔۔۔۔ منڈیا توں خضر علیہ السلام نال ملنا اے تو دَس دے
 

قیصرانی

لائبریرین
سو فیصد متفق۔۔۔ ۔ یہ واقعہ بیشک اپنے اندر کہیں زیادہ گہرائی اور حکمت سموئے ہوئے ہے۔ صوفیہ نے اس پر نہایت نفیس کلام کیا ہے۔


یہاں آپ سے اختلاف کروں گا۔ یہ واقعہ سورہ کہف میں بیان ہوا ہے۔ کسی بھی آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مذکورہ شخص (حضرت خضر)انسان نہیں بلکہ کوئی فرشتہ تھا۔
قرآن پاک میں ایک دوسری جگہ پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کیلئے بھیجے گئے فرشتوں کے بارے میں اشارہ دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اپنی مہمان نوازی میں مشہور تھے، انہوں نے جب ان لوگوں کو کھانا وغیرہ کھلانا چاہا تو انہوں نے اسکی طرف بالکل ہاتھ نہیں بڑھائے۔ اس بات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام دل میں کچھ خوفزدہ ہوئے (قرآن پاک کی آیت کے مطابق)۔ کیونکہ انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ لوگ بنی نوع انسان میں سے نہیں ہیں۔
لیکن حضرت موسیٰ اور خضر والے واقعے میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں جب یہ لوگ اس بستی میں پہنچتے ہیں جہاں خضر نے بغیر کسی معاوضے کے دیوار تعمیر کردی، وہاں کے لوگوں نے ان مسافروں کی مہمانداری اور کھانا وغیرہ سے تواضع کرنے سے انکار کردیا تھا اسی لئے حضرت موسیٰ نے خضر سے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ایسا غیر دوستانہ رویہ رکھا، اپ نے وہاں بغیر کسی معاوضے کے انکا کام کردیا اسکی کیا وجہ ہے؟۔۔۔ ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس واقعے کی جو تفاسیر احادیث میں ملتی ہیں ان میں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ خضر انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے۔
واللہ اعلم بالصواب
حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ہم عصر تھے؟
 
Top