شفیق خلش شفیق خلش ::::: اُس حُسن کے پیکر کو کچھ پیار بھی آجائے ::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ

محفلین
غزلِ
شفیق خلش

اُس حُسن کے پیکر کو کچھ پیار بھی آجائے
ہونٹوں پہ محبّت کا اِقرار بھی آجائے

لبریز ہو چاہت سے پیمانۂ دِل اُس کا
ہونٹوں سے چَھلک کر کچھ اِظہار بھی آجائے

رُت آئی ہے برکھا کی، ہیں پُھول کِھلے دِل میں
کیا خُوب ہو ایسے میں دِلدار بھی آ جائے

کیا کیا نہ کِیا ہم نے، پُوری نہ ہُوئی کوئی
خواہش ، کہ کسی شب وہ ضُوبار بھی آجائے

چُپ ہُوں ، کہ نہ ہوں نالاں وہ میرے تواتر سے
ایسا نہ ہو لہجے میں دُھتکار بھی آجائے

اتے ہیں سبھی سُننے محفِل میں خلِش کو تو !
جس کے لئے لکھے ہیں اشعار بھی آجائے

شفیق خلش
 
آخری تدوین:
Top