شعر کی وضاحت

گِل صاحب نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 13, 2019

  1. گِل صاحب

    گِل صاحب محفلین

    مراسلے:
    17
    السلام علیکم

    جون ایلیاء کے اس شعر کی وضاحت طلب ہے...

    جون یہ جو وجود ہے ، یہ وجود
    کیا بنے گی اگر عدم نکلے ...!

    #Gill_Sab
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. گِل صاحب

    گِل صاحب محفلین

    مراسلے:
    17
  3. Aanum

    Aanum محفلین

    مراسلے:
    20
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    السلام علیکم
    اس شعر کے شاعر کا نام اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دیں
    بہکا تو بہت بہکا، سنبهلا تو ولی ٹهہرا
    اسخاک کے پتلے کا ہر رنگ نرالا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,982
    وعلیکم السلام! یہ شعر عزیز نبیل صاحب کا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,161
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    وعلیکم السلام
    صحیح شعر یہ ہے ۔
    بہکا تو بہت بہکا سنبھلا تو ولی ٹھہرا
    اُس چاک گریباں کا، ہر رنگ نرالا تھا
    مکمل غزل کے لیے یہاں کلک کریں ۔
    عزیز نبیل
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,993
    اس شعر میں شاعر اپنی اندرونی کیفیت بیان کررہا ہے. وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ ہمارا وجود جسے ہم وجود سمجھتے ہیں یہ نہ وجود جیسا ہے. یعنی اگر ہو یا نہ ہو برابر ہے. بنیادی طور پر وہ وجود کے تصور کو چیلینج کررہے ہیں. کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم خواب دیکھ رہے ہوں اور سمجھ یہ رہے ہوں کہ حقیقت ہے
    جون کے ہاں اس طرح کی بے شمار تعبیرات ملتی ہیں. یہ ایک فلسفی بحث ہے جسے انہوں نے صرف دو مصرعوں میں ڈھال دیا ہے. یہی شاعر کی بڑائی ہے
     
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    9,982
    وعلیکم السلام!
    ہماری نظر میں اس کا مفہوم کچھ یوں ہے: مادی وجود بظاہر مانی جانی حقیقت ہے تاہم شاعر کا فرمانا ہے کہ اگر یہ تصور کیا جائے تو کہ وجود کی دراصل کوئی حیثیت نہ ہے اور یہ محض اک فریب ہے تو پھر اس صورت میں یعنی وجود کے نہ ہونے کی صورت کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سب کچھ عدم ہے؛ یوں ہمارے سوچ کا کُلی تناظر ہی بدل جاتا ہے۔ بظاہر یہ شعر غالب کے اس شعر کی ہی ایک اور صورت ہے۔
    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
    یہ وحدت الوجودی رنگ ہمیں اس شعر میں بھی دکھائی دیتا ہے تاہم اس مضمون کو نئے ڈھب سے باندھا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. Aanum

    Aanum محفلین

    مراسلے:
    20
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    تو حرم میں جس کو ہے ڈهونڈتا مجهے بت کدے میں وہ ملا
    تجهے ملال ہے زاہد یہ نظر نظر کی تلاش ہے
    کیا یہ شعر درست ہے اور شاعر کا نام پلیز
     
  9. خورشید بھارتی

    خورشید بھارتی محفلین

    مراسلے:
    74
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    میں آئینہ ہوں دکھاؤں گا داغ چہرے کے
    جسے برا لگے وہ سامنے سے ہٹ جائے
    اس مشہور شعر کےشاعر کا نام کوئی صاحب بتانے کی زحمت کریں۔ نوازش ہوگی
     

اس صفحے کی تشہیر