شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

بَقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کُچھ اور چاہیئے وُسعت مِرے بیاں کے لیے

مِرزا اسداللہ خاں غالؔب
 

طارق شاہ

محفلین

بُنیادِ جہاں میں کجی کیوں ہے
ہر شے میں کسی کی کمی کیوں ہے

جس بات سے دِل میں ہلچل ہے
وہ بات لبوں پہ رُکی کیوں ہے

شہر یا ؔر
 

طارق شاہ

محفلین

کیا کیا ہُوا ہے ہم سے جنُوں میں ، نہ پُوچھیے !
اُلجھے کبھی زمِیں سے، کبھی آسماں سے ہم

مجاؔز لکھنوی
 

طارق شاہ

محفلین

یہ جانتا ہے کہ وعدہ شکن ہے وہ، پِھر بھی !
دِل اُس کے وعدۂ فردا پہ شاد کتنا ہے

مُرتضٰی برلاؔس
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

دِکھا کے خواب یہ محرُومِ خواب کِس نے کِیا
تمام عُمر کا جِینا عذاب کِس نے کِیا

جو احتیاطِ نظر ہی سے راز فاش ہُوا
تو یہ قصُور بھی آخر جناب کِس نے کِیا

مُرتضٰی برلاؔس
 

طارق شاہ

محفلین

ہیں یہ سب گِلے شِکوے، بربنائے لاعلمی
ورنہ بجلیاں اپنی اور نہ آشیاں اپنا

علامہ سیماؔب اکبر آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

وہ بَلا سے دشمنِ دِیں سہی، وہ کنشت و دَیر نَشِیں سہی
مِرے اعتبار میں بُت تو ہے، جو خُدا نہیں تو نہیں سہی

سیمؔاب اکبر آبادی
 

طارق شاہ

محفلین

غَرَض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دِن، اے دوست!
وہ تیری یاد میں ہُوں، یا تجھے بُھلانے میں

فِراؔق گورکھپوری
 
Top