شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

صبا صِفَت ہے، سو مِلتا نہیں کبھی مُجھ سے
کہیں مِلا بھی تو کُھلتا نہیں کبھی مُجھ سے

اُسے خبر ہے کہ پابندِیوں میں جِیتا ہُوں
سو، میرا حال ہی پُوچھا نہیں کبھی مُجھ سے

گُماں ہے ایسا، گلے لگ کے میرے روئے گا
گو اُس نے ہاتھ مِلایا نہیں کبھی مجھ سے

انا پسند ہُوں، سو تِیرَگی میں جی لُوں گا
چراغ مانگوں، یہ ہوگا نہیں کبھی مجھ سے

فضل ایضاء سحؔر
 

طارق شاہ

محفلین

اللہ رے اعتمادِ محبّت، کہ آج بھی !
ہر درد کی دَوا ہیں وہ، اچھّا کئے بغیر

شوکت علی خاں فانؔی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

دِیےجو چارہ گروں نے، ہم آزما بھی چُکے
کسی بھی نسخے سے بیتابیاں نہیں جاتیں

ہزارمحفلِ خُوباں میں جا کے دیکھ لِیا
مِلی جو تُجھ سے ہیں تنہائیاں نہیں جاتیں

شفیق خلؔش
 

طارق شاہ

محفلین

اے ذوق ! کِس کو چشمِ حقارت سے دیکھیے !
سب ہم سے ہیں زیادہ، کوئی ہم سے کم نہیں
*
شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ
 

طارق شاہ

محفلین

اِسی تلاش و تجسّس میں کھو گیا ہُوں مَیں !
اگر نہیں ہُوں تو کیونکر؟ جو ہُوں، تو کیا ہُوں مَیں

جِگر مُرادآبادی
 

طارق شاہ

محفلین

اندھیر ہو ، وہ زُلف اگر تا بہ کمر جائے !
پِھر کیا ہوکمر سے بھی اگر اور اُتر جائے

*
یاؔس یگاؔنہ چنگیؔزی
 

طارق شاہ

محفلین

راحت میں ہو یا رنج میں، غم میں ، کہ خوشی میں !
جس طرح گُزرنی ہے کہیں جلد گُزر جائے


یاؔس یگاؔنہ چنگیؔزی
 
Top