شرح خواندگی بڑھانے میں انگریزی رکاوٹ ہے - قومی زبان تحریک

ناصر علی مرزا نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 29, 2014

?

شرح خواندگی بڑھانے میں انگریزی ایک رکاوٹ ہے

  1. متفق

    47.6%
  2. غیر متفق

    52.4%
  1. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    آپ بصد شوق ایک طبقہ کو میٹرک کی سند تک محدود رکھیے۔ اور باقیوں کو کالج یونیورسٹی کی سطح تک پہنچنے دیں۔ ویسے یہ سسٹم اب بھی کام کر ہی رہا ہے۔
    کینیڈا میں فرانسیسی بولنے والوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے۔ یہاں ہر مواد انگریزی اور فرانسیسی میں مل جاتا ہے۔ اس کے باوجود کینیڈئین فرانسیسی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انگریزی سیکھے بغیر ان کا گزاراہ نہیں۔ وہ قطعی انگریزی یا انگریزی تعلیم سے متنفر نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. جہانزیب

    جہانزیب محفلین

    مراسلے:
    2,442
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    جی بدقسمتی سے میرا فرنچ کینیڈا جانا ہوتا رہتا ہے اور مجھے سڑکوں کے سائن بورڈ بھی انگریزی میں نظر نہیں آتے، میرے خالہ زاد مونٹریال میں انگریزی ہی میں تعلیم نوش فرما رہے ہیں لیکن نوکریاں فرانسیسی پڑھنے والوں کو ملتی ہیں، ایک دفعہ میں وہیں کسی مضافات میں غلط ایگزٹ لے کر گم گیا تھا، چار لوگوں سے راستہ معلوم کرنا چاہا تب ایک شخص انگریزی میں بات کرنے والا ملا جس نے مجھے درست سمت میں روانہ کیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. جہانزیب

    جہانزیب محفلین

    مراسلے:
    2,442
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    یہ وہی فرنچ کینڈا ہے نہ جو اپنی زبان اور ثقافت کی بنیاد پر الگ ہونے کی بات بھی کرتا رہتا ہے؟ ریفرنڈم تک بھی گیا ہے جہاں انچاس- اکیاون فیصد سے کینیڈا سے الحاق کا فیصلہ کیا گیا تھا؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  4. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    میں کنیڈئین فورسز میں ہوں جس کا کم از کم تیسرا حصہ کینیڈئین فرانسیسیوں پر مشتمل ہے۔ تربیت کے دوران بھی ایک عرصہ کیوبیک میں گزار چکا ہوں۔ اپنے تجربہ کی بنیاد پر بتا رہا ہوں کہ فرینچ کنیڈئین انگریزی کے بغیر عملی طور پر گزارا نہیں کر سکتے۔
    فرنچ کینڈا الگ ہونے کی بات ثقافتی شناخت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ الگ ہو بھی جائے تو بھی انگریزی پہ انحصار کیے بغیر ان کا گذارا نہیں۔
    جو مثالیں دے کر آپ نے غالبا یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ فرنچ کینڈا میں فرنچ کا اثرورسوخ ہے تو یہ ظاہری بات ہے۔ کسی معاشرے میں انگریزی کی اہمیت مقامی زبان کو معدوم نہیں کرتی۔
    قیصرانی سے فن لینڈ میں انگریزی کی اہمیت پوچھ لیجیے۔ میرے قریبی دوست سویڈن اور ڈنمارک میں طویل عرصہ سے قیام پذیر ہیں۔ ان غیر انگریزی معاشروں میں انگریزی کی اہمیت کے وہ عینی شاہد ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    نیز یہ بتائیے کہ فرنچ کینیڈا جانا آپ کی "بدقسمتی " کیوں ہے ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. جہانزیب

    جہانزیب محفلین

    مراسلے:
    2,442
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    میرا خیال ہے گفتگو کسی اور جانب نکل رہی ہے، پہلے ہم تعین کر لیں کہ تعلیم ہم کہتے کسے ہیں؟
    تعلیم جس سے سوچ کو مہمیز کیا جا سکے، یا تعلیم جو کہ پیشہ سے منسلک ہو؟ امریکہ جیسے ملک میں صرف 28 فی صد لوگ کالج کی ڈگری رکھتے ہیں، مطلب جدید تعلیم آپ کے الفاظ میں، اڑتالیس فی صد وہ ہیں جنہوں نے کالج کا منہ بھی نہیں دیکھا ہوتا ۔ لیکن یہاں جدید تعلیم کو پروفیشنل تعلیم کہا جاتا ہے جسے پاکستان میں کالج کہتے ہیں، کالج امریکہ میں اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کافی سوچ بچار کی جاتی ہے کہ اگر میں اتنے پیسے خرچ کروں گا تو آیا اس کا آؤٹ پٹ اسی حساب سے ملے گا کہ نہیں؟ کئی لوگ پڑھائی کے دس دس سال بعد بھی اپنے کالج کے قرض ہی چکا رہے ہوتے ہیں ۔
    لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ کی جو چکا چوند آپ دیکھ رہے ہیں وہ انہیں میٹرک پاس کے مرہون منت ہے، کیونکہ کسی ہنر میں ڈپلومے جس کی مارکیٹ میں ویلیوو ہے لوگ انہیں حاصل کرتے ہیں، ان کی بنیاد پر نوکریاں حاصل کرتے ہیں، آن جاب ٹریننگ اور روزمرہ معمولات کی وجہ سے اپنی اپنی جاب میں بہتریاں لاتے ہیں، اور زیادہ تر جاب مارکیٹ میں جو نوکریاں دستیاب ہیں وہ انٹری کے لئے ہائی اسکول ہی مانگتے ہیں ۔
    پاکستان میں ہماری ترجیحات ہی غلط ہیں، ملک کی اقتصادیات میں زراعت کا بڑا حصہ ہے، کتنے لوگ زراعت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ سرگودھا میں سافٹ وئیر میں بی ایس ہر کالج میں کروایا جا رہا ہے، پاکستان میں کتنے سافت وئیرز ہاوسز ان فارغ التحصیل طلباء کو کھپانے کے لئے موجود ہیں؟
    تعلیم کی ترجیحات بہت بڑی حد تک معاشرے سے اور جاب مارکیٹ سے جڑی ہوتی ہیں، پاکستان میں مجھے بتائیں کتنے لوگ میڈیکل بلنگ یا میڈیکل نرسنگ کے کورسز کر رہے ہیں، حالانکہ ان کی ضرورت سافٹ وئیر میں بی ایس کرنے سے بہت زیادہ ہے، یہاں ہر دوسرا شخص میڈیکل بلنگ، فارمیسی کے کورسز ہائی اسکول کے بعد کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اخیر میں یہیں جاب مارکیٹ زیادہ ہے ۔
    اور ان تمام امور میں آپ کو انگریزی نہ بھی آتی ہو تو کیا مسلہ ہے؟ آپ کا برتاؤ ایسے لوگوں سے ہونا ہے جو انگریزی نہیں بولتے تو پھر انہی کی زبان میں پڑھنے میں کیا دقت ہے؟ جن سے آپ کا واسطہ رہنا ہے؟
    انجنرنگ میں اگر تحقیق میں انگریزی کی وجہ سے دقت ہے تو یہاں پاکستان ہی سے بہت سے لوگ روس جا کر انجنئر بن کر آئے ہیں جہاں پہلے انہیں روسی زبان سیکھنا پڑی اور انہوں نے سیکھی، اسی طرھ انگریزی بھی سیکھی جا سکتی ہے، جیسے اس وقت امریکہ میں مینڈرین سب سے زیادہ سیکھی جانے والی زبان بن چکی ہے، کیونکہ نوکریوں کی ساخت ایسی ہو گئی ہے کہ چین کے بغیر گزارا نہیں، اور لوگ مینڈرین بھی سیکھ لیتے ہیں، انگریزی کیا چیز ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    اسی فلسفہ کی بنیاد پر اگر میں کہوں کہ پاکستانی جاب مارکیٹ میں انگریزی کی مانگ ہے تو کیا آپ اس حقیقت سے انکار کریں گے ؟ مانگ ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی کو سکول کی سطح پر کم از کم ایک مضمون کی طور پر پڑھانے ہی میں کیا قباحت ہے ؟
    کیا وہ لوگ جو اس مانگ کا ساتھ نہ دے سکے اپنے ہم عصروں کی نسبت پیچھے نہیں رہ گئے۔ ایک طرف امریکیوں کو مینڈرئین سیکھانے کی مثالیں دوسری طرف پاکستانیوں کو انگریزی پر آمادہ کرنے کی مخالفت !؟ واقعی!۔۔ جب لوگ مینڈرئین سیکھ لیتے ہیں تو انگریزی کیا چیز ہے!
    آپ اہل سرگودھا کو سافٹ وئیر تعلیم کی بجائے زراعت پڑھانا چاہتے ہیں۔ پڑھائیے۔ نصاب کو کس حد تک اردوائیں گے ؟ کیا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اردو میں تعلیم دے رہی ہے؟ یا زراعت کے میدان میں تحقیق اردو میں ہورہی ہے ؟
    لاہور سے سرگودھا تک انگریزی کیا اردو کے بغیر بھی روزمرہ کا کام چل سکتا ہے۔۔۔ اور چلتا ہے۔ لیکن یہ آپ کے موقف کے حق میں دلیل کیسے ہوگئی؟
    آپ پاکستان میں دو ہی نظام تعلیم رکھیے۔ اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم۔ مانگ کس کی ہے، آپ کو معلوم ہے۔ آپ اپنے بچوں کو کس طرف بھیجیں گے یہ بھی واضح ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 1, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  8. اسد

    اسد محفلین

    مراسلے:
    1,092
    موڈ:
    Busy
    پاکستان ایک بھکاری ہے، یہاں وہی ہو گا جس کے لئے بھیک ملے گی۔ اگر مجھے امید ہو کہ ورلڈ بینک وغیرہ ایک ایسے منصوبے کے لئے قرضہ دیں گے جس کے بعد (امریکہ کی نظر میں) طالبان سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکیں، تو میں بھی اردو کے نفاذ کا نعرہ بلند کر دوں گا!

    اردو اور تعلیم کے موضوع پر بیک وقت کئی جگہ جنگ چھڑی ہوئی ہے اور ایک لڑی (اور سائٹ) کا غم و غصہ دوسری میں بھی آ جاتا ہے۔ کم از کم مَیں اکثر موضوع کے بجائے، موضوع پر بیان داغنے والوں کے بارے میں شروع ہو جاتا ہوں۔ پہلے میرے خیالات بھی اردو کے نفاذ کے بارے میں کچھ ایسے ہی تھے۔ اب میں اس حل کی طرف جاتا ہوں جو میرے خیال میں ممکن ہو۔ ناممکن کی طرف جانا میرے خیال میں وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ بیان باز/نعرے باز عموماً ناممکن کی طرف جاتے ہیں۔

    ہمارے پاس ایک تعلیمی نظام چل رہا ہے جس میں کم از کم دو زبانیں (اردو/انگلش اور مقامی) اور (کم از کم) تین شاخیں ہیں اور کئی نظام امتحانات۔ ایک شاخ مدرسے ہیں جس کا اردو کے نعرے لگانے والے ذکر نہیں کرتے، کیوں؟ یہ واحد شاخ ہے جو صرف اردو میں تعلیم دیتی ہے۔ دوسری شاخ سرکاری سکول ہیں، جو اردو اور انگلش دونوں میں تعلیم دیتے ہیں۔ غالباً سرکاری طور پر انہیں دو شاخیں کہا جاتا ہے، میں انہیں ایک ہی سمجھتا ہوں کیونکہ ایک ہی بورڈ دونوں کے امتحانات لیتا ہے۔ تیسری شاخ وہ انگلش سکول ہیں جو غیر ملکی امتحانات دلواتے ہیں، عموماً کیمبرج کے۔ ان کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے۔

    انگلش اور شرح خواندگی کے مسئلے کے میرے نزدیک دو حل ہیں۔
    پہلا حل یہ ہے کہ انگلش شروع سے پڑھائی جائے اور لازمی مضمون ہو۔ میں اس حل کا حامی ہوں، ایک وجہ یہ کہ میرے خیال میں اس کا نفاذ ممکن ہے اور چند سالوں میں معیار تعلیم بلند کر سکتا ہے۔ اس کے لئے قرضہ مل جائے گا یا پرانے قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ۔ دوسری وجہ یہ کہ انگلش کے بغیر سرکاری (یا پرائیویٹ) ملازمت نہیں ملے گی، جو کہ اکثریت کا مقصد ہوتا ہے۔ اس سرکاری (ملازمت) پالیسی میں تبدیلی میرے خیال میں ناممکن ہے۔

    دوسرا حل (صرف شرح تعلیم بڑھانے کے لئے) یہ ہے کہ انگلش کو لازمی مضمون نہ بنایا جائے اور میٹرک میں اس کا پاس کرنا سند کے حصول کے لئے لازمی نہ ہو (اور چھوٹی جماعتوں میں اگلے درجے میں جانے کے لئے بھی)۔ آخر مدرسے والے بھی تو مدرسوں کے نظام میں انگلش کے بغیر امتحان دیتے ہیں، ان کی سند میٹرک کے برابر نہیں ہوتی۔ عام سکولوں کے طلبا کو بھی یہی سہولت دینی چاہیے کہ وہ ایک ایسی سند حاصل کر سکیں جو ان کی تعلیمی قابلیت (میٹرک ودآؤٹ انگلش) کو ظاہر کرے اور اگر وہ اس سند کو میٹرک کے مساوی کرنا چاہیں تو انگلش کا علیحدہ سے امتحان دے لیں۔ میٹرک کے بعد بھی وہ اردو یا مقامی زبان میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ سند سرکاری ملازمتوں کے لئے بیکار ہو گی۔

    اوپر کے دونوں حل بھی عارضی اور جگاڑ ہیں۔ اصل میں بنیادی ڈھانچا ہی تبدیل ہونے والا ہے جس میں بیکار تعلیم کے بجائے تکنیکی تعلیم پر رقم خرچ کرنی چاہیے۔

    نوٹ: پاکستانی نظام کا دوسرے ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے ہم اصل درجوں کے بجائے ان کے اصطلاحی نام استعمال کرتے ہیں جس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔
    پاکستان میں میٹرک یا دسویں تک تعلیم دینے والے اداروں کو ہائی سکول کہا جاتا ہے، جبکہ گیارھویں، بارھویں کو کالج بنا دیا گیا ہے۔ پاکستانی ہائی سکول سے امتحان پاس کرنے کے بعد سند 'سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ' SSC کی ملتی ہے۔ بارھویں پاس کرنے پر انٹرمیڈیٹ کی سند ملتی ہے۔ امریکہ میں ہائی سکول بارھویں تک تعلیم دیتے ہیں اور 'ہائی سکول ڈپلوما' بارھویں کے بعد ملتا ہے۔
    اسی طرح پاکستان میں گیارھویں، بارھویں کے مضامین کو پرِی انجنیرنگ یا پرِی میڈیکل کہا جاتا ہے جبکہ امریکہ میں پری میڈیکل تیرھویں سے سولھویں کے مضامین کو کہا جاتا ہے، انجنیرنگ کا معاملہ مختلف ہے۔
    کالج امریکہ میں تیرھویں سے شروع ہوتا ہے۔ کچھ ادارے (عموماً کمیونٹی کالج) دو سالہ کورس کرواتے ہیں، انہیں 'کالج گریجویٹ' (چودھویں پاس) کہتے ہیں۔ چار سالہ کورس کرنے والوں کو 'یونیورسٹی گریجویٹ' (سولھویں پاس) کہتے ہیں۔ سولہ سالہ ڈگری کو 'بیچلر ڈگری' کہتے ہیں۔ 'ماسٹر ڈگری' کے لئے دو یا تین سال مزید تعلیم حاصل کرنی ہوتی ہے۔ **یہاں میں شاید کچھ غلطی کر رہا ہوں، امریکہ والے تصحیح کر دیں!
    پاکستان میں چودھویں پاس بیچلر اور گریجویٹ ہوتا ہے اور سولھویں پاس ماسٹر۔
    پاکستان میں پروفیشنل تعلیم تیرھویں سے شروع ہو جاتی ہے جبکہ امریکہ میں پروفیشنل تعلیم سترھویں سے شروع ہوتی ہے اور کم از کم چار سال کی ہوتی ہے۔ یعنی پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے کے لئے کم از کم بیس سال کی تعلیم ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی، جو سترہ سالہ تعلیم (بارھویں کے بعد پانچ سالہ میڈیکل کورس) کے بعد ڈاکٹر بن جاتے ہیں، امریکہ میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے تین سال مزید تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
    اب پاکستان بھی، گریجویشن کی حد تک، اسی امریکی نظام کی طرف جا رہا ہے اور تقریباً تمام نئی یونیورسٹیاں چار سالہ بیچلر کورس کرواتی ہیں۔ پرانی (سرکاری) یونیورسٹیوں نے بھی اپنے پرانے دو سالہ نظام کے علاوہ چار سالہ کورسز کروانا شروع کر دیے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ایک عمل، حقیقت ، عملی اصول کا بوجوہ زمانہ حال میں قابل عمل نہ ہونا ، اس کو باطل نہیں بنا سکتا ہے اگر انگریزی کو ہٹا کر اردو کو نافذ کرنا بوجوہ قابل عمل نہیں ہے تو کیا یہ بات اس کے مترادف ہے کہ انگریزی شرح خواندگی میں رکاوٹ نہیں رہی
    جب یہ بات کہی جا رہی ہے کہ انگریزی شرح خواندگی میں رکاوٹ ہے
    تو اس بات میں بہت سی باتیں چھپی ہوئی ہیں
    مثلا
    ۱- یہ بات پاکستان کی عوام کی اکثریت کے لیے کہی جا رہی ہے ہو سکتا ہے کہ کچھ قابل افراد کے لیے ایسا نہ ہو
    ۲-یہ بالکل نہیں کہا جا رہا کہ انگلش ایک لعنت ہے اور اس کا خاتمہ کر دیا جائے
    ۳- یہ بالکل بھی مطلب نہیں ہے کہ انگلش میں جو جدید علوم ہیں ان سے استفادہ ممنوع ہے
    ۴- یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انگلش کی تعلیم با لکل بند کر دی جائے
    ۵- یہ سمجھنا بھی ٹھیک نہیں کہ مطالبہ یہ ہے ک اردو کو یک دم کل ہی نافذ کر دیا جائے
    ۶- نہ ہی دیگر ساری کمزوریوں اور مسائل سے آنکھ بند کرنے کو کہا جا رہا ہے
    7-نہ ہی موجودہ انگلش دان طبقہ پر اردو کے نفاذ کا مطالبہ ہے بلکہ ایک بچہ ابتدا سے ہی اردو سیکھے گا
    اگر موجودہ صورتحال میں اردو کا بطور ذریعہ تعلیم (میڈیم آف انسٹرکشن ) نفاذ میں بہت سی مشکلات ہیں تو اس کا مطلب کیا یہ لیں کہ
    چڑھتے سورج کو دیکھ کر اپنی رائے اس کے مقام کے اعتبار سے قائم کریں، کم از کم رائے اور یقین تو ایک صحیح بات پر ہونا چاہیے (جبکہ ہم اس کو عملی طور پر صحیح سمجھتے بھی ہوں)( چلیں بوجوہ قابل عمل نہ سہی )
    یارزندہ صحبت باقی
     
  10. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    جی بالکل باطل بناتا ہے۔ ایک میڈیم آف انسٹرکشن آپ کو کچھ ڈیلیور کرنے سے قاصر ہے تو اس کے ناقص ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا۔ جو چیز قابل عمل ہی میں نہیں اسے آپ عمل میں لانا چاہتے ہیں۔ اپنے سوچ کے تضاد پر غور فرمائیے۔

    خواندگی کی تعریف یہ ہے کہ ہروہ شخص جو لکھ اور پڑھ سکتا ہے خوانداہ ہے۔ اس تعریف کی رو سے انگریزی زبان پاکستان میں شرح خواندگی میں رکاوٹ نہیں رہی۔
    اگر خواندگی کی آپ کے نزدیک تعریف جدید تعلیم ہے تو ناصرف انگریزی بالکل تمام مضامین میں امتحانات بھی خواندگی میں "رکاوٹ" ہیں۔

    ان سات نکات میں سے کوئی ایک بات بھی آپ کے موقف کے حق میں دلیل نہیں کہ انگریزی شرح خواندگی میں رکاوٹ ہے۔ محض الفاظ کی جھاگ بنانے کی بجائے صاف اور سیدھی بات کیجیے۔

    ایک چیز عملی طور پر صحیح ہے لیکن قابل عمل نہیں ہے۔ ؟؟ :eek::eek:
    آپ کی اپنی ہی رائے میں تضاد عیاں ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 1, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جب اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بات آتی ہے تو کچھ مشاکل اور مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے یہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کو ناقابل عمل سمجھا جاتا ہے ، تو مسائل اگر کسی طرح حل کرلیں جائیں تو اعتراض دور ہو جاتا ہے اور اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا قابل عمل ٹھہرتا ہے
    تو اپنی نوعیت میں اردو بطور ذریعہ تعلیم باطل نہیں ہے ،

    اگر کسی وجہ سے کوئی بندہ کھانا نہیں کھا سکتا،( کھانا پکا نہیں ہے، موجود نہیں ہے ) تو کھانا کھانے کا عمل باطل نہیں ٹھہرتا
    جی ہم چاہتے ہیں کہ جو چیز بوجوہ قابل عمل نہیں ہے اس میں سے بوجوہ نکال دیں اور اس کو قابل عمل بنا دیں،
    اور میں اس کو دور کرنے جا رہا ہوں، کھانا حاضر نہیں ہے ڈنر ناقابل عمل ہے ، مطاعم میں موجود ہے تو میں مطاعم میں جا رہا ہوں اور اس کو ڈنر کو قابل عمل بنانے ، آپ کو بھی دعوت ہے، باقی باتوں کو جواب پھر انشاء اللہ
     
  12. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    وہی حسب سابق الفاظ کی جھاگ!
    حضرت مسائل اور ان کے حل پر بھی کچھ الفاظ ضائع کرنا پسند کریں گے یا سوڈو مثالوں سے ہی دھاگے کا پیٹ بھرنے کا ارادہ ہے۔
    ایک سیدھا سا سوال ہے:
    آپ تعلیمی نصاب کو کس حد تک اردوانا چاہتے ہیں؟
     
  13. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    مطعم ہوتا ہے صاحب۔ مطاعم کھانے کی چیزوں کو کہتے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    منظر صاف کرنے کو الفاظ کی جھاگ بنانا ضروری ہے
     
  15. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت شکریہ ، بہتر تھا کہ درست ابلاغ کے لیے اردو کو ہی ذریعہ بناتا، دوسری زبان میں اس طرح کے مسئلوں کا زیاد ہ امکان رہتا ہے ،، اور یہی ہمارا مقصد ہے کہ اپنی زبان اردو۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    جھاگ منظر صاف نہیں بلکہ آلودہ کرتی ہے۔
    آپ یا اپنے محاورے اور استعارے درست کر لیں یا سوالات کے سیدھے جوابات دے لیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. S. H. Naqvi

    S. H. Naqvi محفلین

    مراسلے:
    942
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Torn
    جہانزیب صاحب میرے خیال میں اس میں آپ کے متاثرہ طالب علم قصور وار ہیں نہ ہی انگلش۔۔۔۔۔۔! قصور وار وہ اساتذہ ہیں جو انھیںپڑھا نہیں سکے، قصوروار وہ نظام ہے جو انھیں سکھا نہیں سکا وہی نظام جو اساتذہ کو بتا بھی نہیں سکا کہ ایک گاؤں کے بچے کو کوئی دوسرے زبان کیسے سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے گورنمنٹ کے طالب علم کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں، پاس ہو کر بھی اور فیل ہو کر بھی؟؟؟؟ پرائیویٹ سکولوں کے طالب علم کیسے آگے چلے جاتے ہیں؟ اس لیے کہ ہمارا معاشرہ مانیں نہ مانیں، انگلش کو ہر طریقے سے اپنا رہا ہے۔ جب آپ خود مثالیں دے رہے ہیں دوسرے ممالک کے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر مختلف زبانیں سیکھ لیتے ہیں اور بعض لوگ چائنہ اور رشین جیسی مشکل زبانیں سیکھ لیتے ہیں تو انگلش میں ایسی کون سی مشکل چیز ہے جو سیکھنی ناممکن ہو؟ ہمیں اصل مسئلے کو سمجھنا ہو گا بجائے اس کے کے پورا نظام بدلیں اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد خود بنانے کی کوشش کریں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اتنے ترقی یافتہ اور باوسائل ہیں ہی نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر بدلاؤ لے کر آئیں تو کیوں نہ آسان حل کی طرف جائیں کہ اپنے تعلیمی نظام کو بدلیں اور اپنے گورنمنٹ سیکٹر کے سکولوں کو راہ راست پرلے کر آئیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ اگر ایک پرائیویٹ سکول کا پانچویں کا بچہ تو انگلس سمجھ پڑھ اور لکھ سکتا ہے تو گورنمنٹ سکول کاکیوں نہیں؟
     
  18. ناصر علی مرزا

    ناصر علی مرزا معطل

    مراسلے:
    1,234
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ابھی تک جو باتیں ہم نے لکھی ہیں، ان میں اس٭ بیان کو واضح کرنے کی کوشش ہو سکی ہے ، مراسلہ نمبر 30 & 49
    ان شا اللہ میں کوشش کروں گا کہ اب تک جو دلائل٭ اس بیان کے حق میں پیش ہوئے ہیں یا مخالفت میں اس کا ایک معروضی انداز میں خلاصہ بنا دوں
    اس ساری بات چیت سے مقصود افہام و تفہیم ہونا چاہے نا کہ انا، مخالفت اور اپنی رائے کی بنیاد پر ہار جیت
    ٭بیان:
    شرح خواندگی بڑھانے میں انگریزی رکاوٹ ہے
     
  19. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ایک بات سمجھ نہیں آتی، دنیا بھر سے طلباء بے شک اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر کے برطانیہ یا امریکہ یا کینیڈا یا آسٹریلیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے زبان کے امتحان کو پاس کرتے ہیں اور پھر انہی یونیورسٹیوں میں جا کر انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر ہر فیلڈ میں ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کرتے ہیں اور نہ صرف اپنے ملک، بلکہ امریکہ کی ترقی بھی بہت حد تک انہی بیرونی طلباء کی مرہون منت ہے۔ اس کی وضاحت کیسے کی جائے؟
     
  20. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اسکی وضاحت اس حدیث مبارک میں کی گئی ہے: "علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے"
    جبکہ ہمارے پسماندوں معاشروں نے علم کو میراث کی بجائے میراثی بنا دیا ہے۔ :D

    جسکو علم سے حقیقتاً صدق دل سے پیار ہوگا، جذبہ ہوگا وہ کسی بھی زبان میں علم حاصل کرنا معیوب نہیں سمجھے گا۔ اور جسکو علم سیکھنا ہی نہیں، اسکو دنیا بھر کا علم اسکی مادری زبان میں بھی سکھا دیا جائے اسکے پلے کچھ بھی نہیں پڑنے والا :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر