شاہ است حسین

محمد وارث

لائبریرین
آنسوؤں کے موسم میں ۔ اقبال ساجد


حُسین تیرے لیے خواہشوں نے خوں رویا
فضائے شہرِ تمنّا بہت اداس ہوئی

غبارِ ظلم پہ رنگِ شفق بھڑک اٹھا
زمیں پہ آگ بگولا گُلوں کی باس ہوئی

غموں کو کاشت کیا آنسوؤں کے موسم میں
یہ فصل اب کے بہت دل کے آس پاس ہوئی

وہ پیاس جس کو سمندر سلام کرتے ہیں
ہوئی تو تیرے لبوں سے ہی روشناس ہوئی

جو تُو نے خون سے لکھی حُسین وہ تحریر
کتابِ حق و صداقت کا اقتباس ہوئی

کبھی بجھا نہ سکے گی ترے چراغ کی لو
کہ جمع تیری امانت ہوا کے پاس ہوئی

دکھوں میں ڈوب گئی دشتِ کربلا کی سحر
ہوائے شام ترے غم میں بد حواس ہوئی

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(قتیل شفائی)


سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا ہے
پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ ہے

تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے
جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا ہے

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ ہے

علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے
نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ ہے

کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی
سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ ہے

نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر بھی
مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے

قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے

قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے


۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(عبدالحمید عدم)


تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین

دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق
کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین

وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند
درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ حسین

کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے کے
نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ حسین

وفا سرشت بہتّر نفوس کی ٹولی
گئی تھی جوڑنے تاریخِ زرنگارِ حسین

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(فارغ بخاری)


حُسین نوعِ بشر کی ہے آبرو تجھ سے
حدیثِ حرمتِ انساں ہے سرخرو تجھ سے

ملایا خاک میں تُو نے ستمگروں کا غرور
یزیدیت کے ارادے ہوئے لہو تجھ سے

بہت بلند ہے تیری جراحتوں کا مقام
صداقتوں کے چمن میں ہے رنگ و بُو تجھ سے

ترے لہو کا یہ ادنٰی سا اک کرشمہ ہے
ہوئی ہے عام شہادت کی آرزو تجھ سے

کبھی نہ جبر کی قوت سے دب سکا فارغ
ملی ہے ورثے میں یہ سر کشی کی خُو تجھ سے


۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(عطاءالحق قاسمی)


جب بھی شام کو سورج ڈوبنے لگتا ہے
ایسے میں یہ دل بھی ڈولنے لگتا ہے

آنکھوں میں پھر جاتی ہے وہ سوہنی صورت
اور پھر دل پر خنجر چلنے لگتا ہے

اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں
خیموں میں کوئی بچہ رونے لگتا ہے

چاروں جانب گھیرا جھوٹ کے لشکر کا
سچ کا سایہ اس پر پھیلنے لگتا ہے

سچ کا سایہ حُر کی صورت سامنے ہے
وہ ہر دل پر دستک دینے لگتا ہے

حرص و ہوس کے بندے لیکن کیا جانیں
مرنے والا کیسے جینے لگتا ہے

لیکن تم مایوس نہ ہونا دل والو
دل جو سوچتا ہے وہ ہونے لگتا ہے

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(خالد احمد)


اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے
یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے

اے تشنگی، یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں
اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے

یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا
یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے

سایہ ہے سر پہ چادرِ صبر و صلوٰہ کا
بادل کی آرزور ہے نہ بارش کی آس ہے

سوئے دمشق صبر کا سکہ رواں ہوا
اک رخ پہ ہے خراش تو اک رخ پہ لاس ہے

اے زینِ عابدین، امامِ شکستگاں
زنجیر زن ہواؤں میں کس خوں کی باس ہے

اے سر بلند و سر بہ فلک اہلِ دین و دل
مدفون کربلا میں ہماری اساس ہے

تاجِ سرِ نیاز کا ہالہ ہے رفتگی
آہِ امامِ دل زدگاں آس پاس ہے

ممکن ہے کسطرح وہ ہماری خبر نہ لیں
ہر سانس، تارِ پیرہنِ التماس ہے

خالد شکست و فتح کے معنی بدل گئے
بازارِ شام ہے کہ شبِ التباس ہے


۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(محمد اعظم چشتی)


جہانِ عشق و محبّت ہے آستانِ حُسین
نشانِ حق و صداقت ہے آستانِ حُسین

حدیثِ صدق و صفا، داستانِ صبر و رضا
بنائے شوقِ شہادت ہے آستانِ حُسین

جہاں میں مسکن و ماوا ہے اہلِ ایماں کا
دیارِ حُسنِ عقیدت ہے آستانِ حُسین

زمانہ کہتا ہے جس کو جمالِ لم یزلی
اسی جمال کی حجّت ہے آستانِ حُسین

نظر گئی مگر اب تک نہ لوٹ کر آئی
وہ برجِ اوجِ امامت ہے آستانِ حُسین

جو دیکھنا ہو تو میری نگاہ سے دیکھو
گناہ گاروں کی جنّت ہے آستانِ حُسین

یہیں سے جلتے ہیں اعظم حقیقتوں کے چراغ
ضیائے شمعِ نبوت ہے آستانِ حُسین

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
رباعیات ۔ کنور مہندر سنگھ بیدی


نغمۂ بربطِ کونین ہے فریادِ حُسین
جادۂ راہِ بقا مسلک آزاد حُسین
شوخیٔ لالۂ رنگین ہے کہیں خونِ شفق
کس قدر عام ہوئی سرخیِ رودادِ حُسین


زندہ اسلام کو کیا تُو نے
حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے


بڑھائی دینِ مُحمد کی آبرو تُو نے
جہاں میں ہو کے دکھایا ہے سرخرو تُو نے
چھڑک کے خون شہیدوں کا لالہ و گل پر
عطا کیے ہیں زمانے کو رنگ و بُو تُو نے


لب پہ جب شاہِ شہیداں ترا نام آتا ہے
ساقی بادۂ عرفاں لیے جام آتا ہے
مجھ کو بھی اپنی غلامی کا شرف دے دیتے
کھوٹا سکہ بھی تو آقا کبھی کام آتا ہے


.
 

محمد وارث

لائبریرین
سبط علی صبا


جمود ذہن پہ طاری تھا انقلاب نہ تھا
سکونِ قلب کہیں سے بھی دستیاب نہ تھا

حصارِ ظلم کی بنیاد کو اکھاڑ دیا
جہاں میں تجھ سا کوئی بھی تو فتح یاب نہ تھا

کچھ اس لیے بھی ترے نام کے ہوئے دشمن
تو وہ سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا

کچھ اس طرح سے بہتر کا انتخاب کیا
کسی رسول کا بھی ایسا انتخاب نہ تھا

حسین ابنِ علی کو نہ آفتاب کہو
وہ جب تھا جب کہ کہیں نامِ آفتاب نہ تھا

حُسین مصدرِ اُمّ الکتاب کیا کہنا
بجز تمھارے کوئی وارثِ کتاب نہ تھا

حُسین باعثِ تخلیقِ کائنات ہے تُو
غضب ہے تیرے لیے کربلا میں آب نہ تھا

.
 

محمد وارث

لائبریرین
گردھاری پرشاد باقی


سلامی کربلا ہے اور میں ہوں
غمِ کرب و بلا ہے اور میں ہوں


کہا شہ نے نہیں کوئی رفیق اب
فقط ذاتِ خدا ہے اور میں ہوں


دیا ہے اپنا سر میں نے خوشی سے
قضا ہے یا رضا ہے اور میں ہوں


جو کچھ وعدہ کیا پورا کروں گا
یہ خنجر ہے گلا ہے اور میں ہوں


.


 

محمد وارث

لائبریرین
نظم طباطبائی


چمکا خدا کا نور عرب کے دیار میں
پھیلی شعاع ہند میں چین و تتار میں

پہنچا ستارہ اوج پہ دینِ حُسین کا
اب تک تھا گردشِ فلکِ کج مدار میں

چونکیں ذرا یہود و نصاریٰ تو خواب سے
آئی نسیم صبحِ شبِ انتظار میں

وردِ زبانِ پاک صحیفہ ہے نور کا
اترا تھا جو خلیل پہ گلزارِ نار میں

ہے یاد دشت میں گہر افشانیٔ کلیم
اور موعظ مسیح کا وہ کوہسار میں

موسیٰ کی رات کی مناجات طُور پر
داؤد کا وظیفہ وہ صبح بہار میں

بت ہو گیا ہے سنگ سرِ بت پرست پر
سرکہ بنی شراب کہن بادہ خوار میں

وہ جام پی کے اٹھ گئے پردے نگاہ سے
دریائے علم و نور کو پایا کنار میں

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ثروت حسین


کس کی خوں رنگ قبا آتی ہے
روشنی اب کے سوا آتی ہے

ساعتِ علم و خبر سے پہلے
منزلِ کرب و بلا آتی ہے

روزِ پیکار و جدل ختم ہوا
شبِ تسلیم و رضا آتی ہے

گریہ و گرد کا ہنگام نہیں
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے

پھر سرِ خاکِ شہیداں ثروت
پھول رکھنے کو ہوا آتی ہے

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
صدائے استغاثہ - افتخار عارف


ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا
ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا
کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا
کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا
صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز
سنائی دی تھی
جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی
یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی
بازگشت ہے
اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا
سامان کیا جاتا ہے
اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا
جاتا ہے
تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے
اچھے اچھے لوگوں کی باتیں سنتا تھا
سچے سچے لوگوں کی باتیں پڑھتا تھا اور پہروں روتا تھا
اور اب برسوں بیت گئے ہیں
جن آنکھوں میں آنسو تھے اب ان آنکھوں میں حیرت ہے
سچائی کی گواہی دینے والے آخر ظالم کو
ظالم کہنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟
موت سے پہلے مرتے کیوں ہیں؟


.
 

محمد وارث

لائبریرین
شورش کاشمیری


قرنِ اوّل کی روایت کا نگہدار حسین
بس کہ تھا لختِ دلِ حیدرِ کرار حسین

عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ حکیم
وادیٔ نجد میں اسلام کی للکار حسین

سر کٹانے چلا منشائے خداوند کے تحت
اپنے نانا کی شفاعت کا خریدار حسین

کوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ ہو
اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار حسین

ابو سفیان کے پوتے کی جہانبانی میں
عزّتِ خواجۂ گیہاں کا نگہدار حسین

کرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا ظہور
عشق کی راہ میں تاریخ کا معمار حسین

جان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال گیا
حق کی آواز، صداقت کا طرفدار حسین

دینِ قیم کے شہیدوں کا امامِ برحق
حشر تک امّتِ مرحوم کا سردار حسین

ہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس کی
ہر زمانے کے لیے دعوتِ ایثار حسین

کربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی ہے
دورِ حاضر کے یزیدوں سے دوچار حسین

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شہزاد احمد


وعدہ کر کے بھی نہیں ساتھ نبھانے والے
کتنے بیدرد ہیں یہ لوگ زمانے والے

اہلِ کوفہ نے بلایا تو چلے آئے ہیں
کیسے سادہ ہیں محمد کے گھرانے والے

رحم کرتے ہیں تو اس کی بھی نہیں حد کوئی
کسی سفاک کو خاطر میں نہ لانے والے

فیصلہ آپ کریں، آپ کو کرنا کیا ہے؟
آپ پر چھوڑتے ہیں شمع بجھانے والے

ظلم کے تیروں سے چھلنی ہیں حسین ابنِ علی
غلبۂ کفر سے دنیا کو بچانے والے

ظلم کرنے پہ تلی بیٹھی ہے دنیا ساری
اور ہم لوگ فقط سوگ منانے والے

عرصۂ دہر میں باقی نہیں رہتا کچھ بھی
خاک ہو جاتے ہیں خیموں کو جلانے والے

کس کو معلوم کہ دن بھر کے تھکے ہارے ہوئے
شام کو اپنے لہو میں ہیں نہانے والے

کیا بتائیں تجھے کیا چیز ہے یہ تشنہ لبی
خشک ہو جاتے ہیں دریا نظر آنے والے

جو بچاتے نہیں کل کے لیے اک دانہ بھی
وہی درویش ہیں عقبیٰ کے خزانے والے

درِ مولا پہ پڑے ہیں تو بڑے ہیں شہزاد
یہ پرندے نہیں اڑ کر کہیں جانے والے

۔
 

محمد وارث

لائبریرین
امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری


اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے
بہرِ پرواز محفوظ تھے آسماں
بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے
اس مہینے میں غارت گری منع تھی یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے
قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینے کی حرمت کے اعزاز میں
دوش پر گردنِ خم سلامت رہے
کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے
میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ
اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے
روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیرِ در مجھ سے کھلتی نہیں
فرشِ ہموار پر پاؤں چلتا نہیں
دل دھڑکتا نہیں
اس مہینے میں گھر سے نکلتا نہیں

.
 

محمد وارث

لائبریرین
(صبا اکبر آبادی)

حسین نزہتِ باغِ پیمبرِ عربی
حسین نازشِ فاقہ، وقارِ تشنہ لبی

حسین مرکزِ ایثار و مخزنِ تسلیم
حسین شمعِ حقیقت، چراغِ بزمِ نبی

حسین لختِ دلِ مرتضیٰ و جانِ بتول
جہاں میں کس کو میسر ہے یہ علو نسبی

حسین، سینۂ اکبر سے کھینچ لی برچھی
حسین سینہ میں اس وقت کیسے آہ دبی

ستم کا تیر بھی دیکھا گلوئے اصغر میں
وہ مسکرانے کا انداز روحِ تشنہ لبی

جوان بھائی کے شانے کٹے ہوئے دیکھے
یہ صبر ابنِ ید اللہ، یہ رضا طلبی

یہی تو شان ہے سبطِ رسول ہونے کی
دعائے بخششِ امت، جوابِ بے ادبی

نہیں ہے کوئی ذریعہ صبا، حسین تو ہیں
بڑا سبب ہے زمانہ میں اپنی بے سببی


۔
 

محمد وارث

لائبریرین
(غلام محمد قاصر)


جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر
فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر

سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے
جو کشتیٔ حق کا بادباں ہے سلام اس پر

جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں
وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر

مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی
جو ان زمینوں کا آسماں ہے سلام اس پر

ہر اک غلامی ہے آدمیّت کی نا تمامی
وہ حریّت کا مزاج داں ہے سلام اس پر

حیات بن کر فنا کے تیروں میں ضو فشاں ہے
جو سب ضمیروں میں ضو فشاں ہے سلام اس پر

کبھی چراغِ حرم کبھی صبح کا ستارہ
وہ رات میں دن کا ترجماں ہے سلام اس پر

میں جلتے جسموں نئے طلسموں میں گِھر چکا ہوں
وہ ابرِ رحمت ہے سائباں ہے سلام اس پر

شفق میں جھلکے کہ گردنِ اہلِ حق سے چھلکے
لہو تمھارا جہاں جہاں ہے سلام اس پر


۔
 

محمد وارث

لائبریرین
خورشید رضوی


اشک میں گُھل گیا لہو، سرخ ہوا فضا کا رنگ
عرصۂ جاں پہ چھا گیا پھر وہی کربلا کا رنگ

کس سے بھلا وہ ٹل سکے، عزم ہو جب حُسین کا
کون اسے بدل سکے، رنگ ہو جب خدا کا رنگ

اس نے بجھا دیا چراغ، تا رہے سہل و سازگار
ظلمتِ پردہ دار میں، بدلی ہوئی ہوا کا رنگ

پر وہ سبھی تھے جاں نثار، سود و زیاں سے برکنار
ان کے دلوں میں تھا کوئی رنگ تو تھا وفا کا رنگ

جب بھی خیال آ گیا اس سرِ سرفراز کا
صفحۂ دل سے اڑ گیا مصلحت و ریا کا رنگ

ڈھل نہ سکے گا تا ابد اب کفِ دستِ شام سے
خونِ دلِ شہید کا رنگ نہیں حنا کا رنگ

صرف کیے سخن ہزار، پھر بھی رہا مآلِ کار
مہر بلب حروف پر حسرتِ مدّعا کا رنگ

.
 

محمد وارث

لائبریرین
(جلیل عالی)

بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے
اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے

آبجو پاس تھی بوند پانی کو ترسے ہوؤں کے لیے
منتظر باغِ جنت میں صبر و رضا کے ثمر اور تھے

نور پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ اور تھا
چور چہروں پر ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر اور تھے

گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی کم تو نہ تھی آپ کی
کربلا میں مگر سرخرو تھے سوا، معتبر اور تھے

سطح صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھی
لفظ لیکن لہو سے جو لکھے گئے ریت پر اور تھے

۔
 
Top