مکمل شام شہر یاراں ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 16, 2016

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    قطعہ
    اَج رات اِک رات دی رات جی کے
    اَساں جُگ ہزاراں جی لِتّا اے
    اَج رات امرت دے جام وانگوں
    اینہاں ہتھّاں نے یار نوں پی لتا اے​
     
    آخری تدوین: ‏مئی 10, 2016
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ناظم حکمت٭


    زنداں سے ایک خط

    مری جاں تجھ کو بتلاؤں، بہت نازک یہ نکتہ ہے
    بدل جاتا ہے انساں جب مکاں اس کا بدلتا ہے
    مجھے زنداں میں پیار آنے لگا ہے اپنے خوابوں پر
    جو شب کو نیند اپنے مہرباں ہاتھوں سے
    وا کرتی ہے در اس کا
    تو آ گرتی ہے ہر دیوار اس کی میرے قدموں پر
    میں ایسے غرق ہو جاتا ہوں اس دم اپنے خوابوں میں
    کہ جیسے اِک کرن ٹھہرے ہوئے پانی پہ گرتی ہے
    میں ان لمحوں میں کتنا سرخوش و دل شاد پھرتا ہوں
    جہاں کی جگمگاتی وسعتوں میں کس قدر آزاد پھرتا ہوں
    جہاں درد و الم کا نام ہے کوئی نہ زنداں ہے
    "تو پھر بیدار ہونا کس قدر تم پر گراں ہوگا؟"
    نہیں ایسا نہیں ہے، میری جاں! میرا یہ قصّہ ہے
    میں اپنے عزم و ہمت سے
    وہی کچھ بخشتا ہوں نیند کو جو اس کا حصّہ ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ ترکی کا شہرہ آفاق شاعر جس نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران ترکی کی جنگِ حریت میں حصہ لیا اور بعد میں بیشتر عمر قید و بند اور جلا وطنی میں گزاری۔ 63ء میں وفات پائی۔
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ویرا٭ کے نام
    اُس نے کہا آؤ
    اُس نے کہا ٹھہرو
    مسکاؤ کہا اس نے
    مر جاؤ کہا اس نے
    میں آیا
    میں ٹھہر گیا
    مسکایا
    اور مر بھی گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ ناظم حکمت کی رُوسی بیوی
     
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    وا میرے وطن!

    او میرے وطن! او میرے وطن! او میرے وطن!
    مرے سر پر وہ ٹوپی نہ رہی
    جو تیرے دیس سے لایا تھا
    پاؤں میں وہ اب جوتے بھی نہیں
    واقف تھے جو تیری راہوں سے
    مرا آخری کُرتا چاک ہوا
    ترے شہر میں جو سِلوایا تھا
    اب تیری جھلک
    بس اُڑتی ہوئی رنگت ہے میرے بالوں کی
    یا جُھرّیاں میرے ماتھے پر
    یا میرا ٹوٹا ہوا دل ہے
    وا میرے وطن! وا میرے وطن! وا میرے وطن!
     
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اولنجر*، عمر علی سلیمان


    صحرا کی رات

    کہیں بھی شبنم کہیں نہیں ہے
    عجب، کہ شبنم کہیں نہیں ہے
    نہ سرد خورشید کی جبیں پر
    کسی کے رخ پر، نہ آستیں پر
    ذرا سی شبنم کہیں نہیں ہے
    پسے ہوئے پتھروں کی موجیں
    خموش و ساکن
    حرارتِ ماہِ نیم شب میں سلگ رہی ہیں
    اور شبنم کہیں نہیں ہے
    برہنہ پا غول گیدڑوں کے
    لگا رہے ہیں بنوں میں ٹھٹھے
    کہ آج شبنم کہیں نہیں ہے
    ببول کے استخواں کے ڈھانچے
    پکارتے ہیں
    نہیں ہے شبنم، کہیں نہیں ہے
    سفید، دھندلائی روشنی میں
    ہیں دشت کی چھاتیاں برہنہ
    ترس رہی ہیں جو حسنِ انساں لیے کہ شبنم کا ایک قطرہ
    کہیں پہ برسے
    یہ چاند بھی سرد ہو رہے گا
    افق پہ جب صبح کا کنارا
    کسی کرن سے دہک اٹھے گا
    کہ ایک درماندہ راہرو کی
    جبیں پہ شبنم کا ہاتھ چمکے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    * قازقستان کا ممتاز نوجوان شاعر
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

اس صفحے کی تشہیر