سچل سرمست کی اردو شاعری اور ان کے نظریات کا جائزہ

سارہ خان نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 27, 2016

  1. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool

    تعارف :

    سچل سرمست ایک صوفی شاعر تھے جن کا اصلی نام عبدل وہاب بن صلاح الدین تھا۔ آپ نے اپنی شاعری میں "سچل' کا استعمل کیا ہے۔ سندھی زبان میں سچالو کے معنی سَچ بولنے والا یعنی راست گو ہے ۔ سرمست کا مطلب صوفی ۔ تو لَفظاً سچل سرمست کے معنی راست گو صوفی کے ہوئے ۔ آپ کی پیدائشسن ۱۷۳۹ع بمطابق ۱۱۵۲ھ گاؤں درازاضلعہ خیرپور میرس میں ہوئی۔
    حضرت سچل سرمست خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کی اولاد میں سے ہیں۔حضرت سچل سرمست کے خاندان کے ایک بزرگ شہاب الدین محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ میں آئے ۔۔ محمد بن قاسم نے ان کوسیوہن کا حاکم مقرر کر دیا۔ بعد میں ان کے خاندان کے ایک بزرگ رانی پور میں آباد ہوئے اس وقت ٹالپروں کی حکومت تھی ۔۔ حکومت نے ان رانی پور کے آس پاس کے کچھ علاقے زمین بھی عطا کی جس کا انتظام ان کے ایک ملازم درازا کے ہاتھ میں تھا۔۔ سچل کے گاوں کا نام اس ہی ملازم کے نام پر ہے۔
    آ پ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے اس کے علاوہ عربی، سندھی ، ، پنجابی ، اردو ، فارسی اور بلوچی میں شاعری کی اس لئے آپ کوشاعر ہفت زبان کہتے ہیں۔ اردو میں تقریباً پچاس نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔
    نظریات :
    حضرت سچل سرمست سنی العقیدہ مسلمان تھے اور تصوف کے قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ آپ کی نظریاتی شاعری میں زیادہ تر مذہبی شاعری آتی ہے۔جس کا تعلق تصوف سے ہے۔تصوف میں عشق الٰہی ، عشق رسول اور اپنے مرشد کی محبت کے علاوہ وحدت الوجود کے خیالات کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ آپ کے نظریات میں وحدت الوجود کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
    جو یہاں وجود ہے
    وہ ہے وہاں موجود
    کرنے سے دیوار
    ہیں ایک شاہد و مشہود
    (سچل سرمست)

    صوفیات میں تخمینی اور باطنی قسم کے فلسفہ میں دو نظریات اہم ہیں ایک واحدت الوجود ہے
    اور دوسرا وحدة الشہود ۔ وحدة الوجود الوجود میں اللہ تعالیٰ اور کائنات ایک ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں صرف اللہ ایک حقیقت ہے اور باقی اللہ کی بنائی ہوئی کائنات ایک تخیل ہے ۔ اس کو اس طرح بھی پیش کیا جاتا ہے االلہ حقیقی ہے اور مخلوق مجازی ۔ وحدة الشہود میں اللہ تعالیٰ اور اس کی کائنات الگ الگ ہیں۔
    حضرت سچل سرمست وحدت الوجود کے اظہار میں اتنے بے باک تھے کہ نام نہاد علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ عائد کر دیا۔لیکن ٹالپر حکمرانوں کی وجہ سے وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکے ۔۔ اس نظریے کے سرگرم مبلغ ہونے کی وجہ سے آپ کو منصور ثانی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
    جہاں ہجوم انسانوں کا
    وہاں نہ میں جاؤں
    سر سجا کر اپنا یارو !
    راہ حلاج اپنا یارو !
    راہ حلاج کی لوں۔
    (سچل سرمست)

    بندھن سب تعظیم کے
    توڑ کے چل انسان
    نوبت انالحق کی
    بجا علی الاعلان
    (سچل سرمست)
    جو شریعت کی پیروی کرتے ہیں وہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیئے جسمانی عبادات کرتے ہیں لیکن اہل تصوف خدا کی خوشنودی اور محبت حاصل کرنے کے لیے روحانی عوامل سے گزرتے ہیں اور اس وقت وہ دین اور (کفر واسلام )کا فرق مٹا دیتے ہیں ۔ دوسرے صوفیوں کی نسبت سچل نے اس نظریے کا اظہار بہت بے باکی سے کیا ہے۔

    شعور ِ عام سے الجھے، شعور ِ خاص سے الجھے
    ہمارا مسلکِ پرواز کس کس دام سے الجھے
    صباجب زلفِ جاناں سے پیامِ مشک بو لائی
    کبھی ہم کفر سے الجھے، کبھی اسلام سے الجھے

    (حضرت سچل سرمست رحمتہ اللہ علیہ)

    ۔آپ روداری اور انسان دوستی پر ایمان رکھتے تھے۔صوفیائے کرام نے ہمیشہ مذہبی رواداری سے کام لیا ہے۔۔ ملا کی طرح انہوں نے کبھی کفر و اسلام کی جنگ کا نعرہ بلند نہیں کیا بلکہ ہر ممکن کوشش کی کہ ان جھگڑوں سے بالا تر رہ کر انسان کی خدمت کی جائے۔

    نظریہ وحدت الوجود کی خصوصیات :
    وحدت الوجود کے بارے میں تاریخی حقیقت کو جان لینا ضروری ہے کہ یہ نظریہ ان دنوں زیادہ مقبول ہوتا ہے جب سیاسی اور سماجی طور پر ملکی حالت دگرگوں ہو اور لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہوں۔ حضرت سچل سرمست کے زمانے میں بھی سندھی سیاسی طور پر انتشار کا شکار تھا۔ میر مدد خان پٹھان کی خونریزی، کلہوڑا خاندان کا زوال اور اس کے علاوہ اس وقت کی معزز شخصیتوں مثلا شاھ عنایت جھوک والے، مخدوم عبدالرحمٰن کھہڑائی، میر بہرام خان، میر صوبدار خان، میاں سرفراز اور میاں بجار خان کا پر فریب قتل اور پھر ہندستان میں مسلمانوں کی کمزور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے انگریزوں کی پیش قدمی سے جس قسم کی مایوسی پیدا ہورہی تھی۔ وہ ذہین لوگوں سے بیزاری خانقاہی نظام کے سکون اور وحدت الوجود کے نظرعے میں پناہ لینے کی دعوت دے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سچل سرمست نے ساری عمر اس نظریے کو سینے سے لگائے رکھا۔
    اس نظریے کو اپنانے سے جو مذہبی رواداری ، انسان دوستی ،خودی کا مثبت تصور ، رجائیت پسندی اور مذہبی بدعتوں کے خلاف منصوری نعرہ ایسی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں جو سماج میں پیدا ہونے والی زہر آلود سوچوں کے خلاف تریاق کا کام دیتی ہیں۔

    ۱۔عشق حقیقی : عشق حقیقی خدا کی ذات سے عشق ۔۔ عشق مجازی خدا کی مخلوق سے ۔۔ یا اللہ کی خلق کردہ چیزون سے عشق۔ اور عشق محقیقی خالق سے عشق۔ جب عشق مجازی انتہا کو پنہنچتا ہے تو، اس کے خالق سے عشق کی رہ ہموار ہوتی ہے، اس طرح عشق مجازی عشق حقیقی کی راہ پر لے آتاہے۔۔۔ یہ کائنات خدا کی مخلوق ۔۔ صوفی مخلوق میں خالق کا تصور دیکھتے ہیں وہ اسے خالق سے جدا نہیں سمجھتے ۔۔ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر کرتے ہیں۔۔اور جب فنا فی اللہ کے مقام پر پہنچتے ہیں تو انہیں خدا کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔۔ اپنی ذات کے اندر ۔۔ باہر ہر چیز ہر سمت میں خدا ہی نظر آتاہے۔
    میرے من میں آگ عشق کی
    تو نے ہی بھڑکائی
    آہ و فغان کی صورت میں
    تیری یاد لبوں پر آئی۔

    پیچھے سے محبوب کو
    سجدہ ہے بیکار
    سجرہ رو اسی سمت
    جس رخ چہرہ یار
    (سچل سرمست)

    ۲۔ملائیت سے بیزاری :
    سچل سرمست ملاؤں کے قول و عمل میں تضاد ان کے ظاہری و باطنی طرز عمل میں امتیاز کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔ان کے دئے گئے سبق کو عالم انسانیت کے لئے رجعت پسندی کا درس سمجھتے ہیں۔
    کفر و دین دلوں کے دام
    یہ موجوں میں ڈالدے
    ان کے بعد تیرے احکام
    ہر جا چلیں جگ میں
    (سچل سرمست)

    ۳۔ مذہبی رواداری و انسان دوستی :
    سچل سرمست ملک و قوم رنگ نسل اور مذہب کی بنیاد پر فرق امتیاز کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک سب انسانوں کا مقام برابر ہے اور ہرانسان میں انہیں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے ۔اس لیئے ہر انسان واجب التعظیم ہے۔
    جان نہ تفاوت
    عبد او اللہ میں
    یہ بھی تو امرت
    وہ بھی جدا نہیں اس سے
    (سچل سرمست )

    ۴۔ خودی کا مثبت تصور :
    حضرت سچل سرمست کے نزدیک خودی خود شناسی کے مترادف ہے ان کے خیال میں انسان کو اپنی صلاحیتوں قابلیتوں اور عظمتوں کا شعور ہونا چاہیئے۔ عاجزی انکساری نیاز مندی تو اسے اشرف لمخلوقات کے درجے سے گرادیتی ہے۔۔ سچل سرمست کے خودی کی حمایت اور غرور کی نفی اور مذمت کی ہے۔
    گر تو جانے ’’آپ‘‘ کو

    میں ہوں کوئی ’’اور‘‘
    دوئی تجھ کو لے ڈوبے کی
    مورکھ کر لے غور !
    (سچل سرمست )

    ۵۔ منزلیں سر کرنے کا جذبہ :
    حضرت سچل سرمت کے ہاں انسان دوستی اور خودی کا مثبت تصور جیسے اعلیٰ انسانہ اقدار کا شعور ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں جا بجا انسان کو آگے بڑھنے اور نئی منزلیں سر کرنے کا پیغام ملتا ہے۔
    ان کے نزدیک عشق ہی وہ جذبہ ہے جو مقصد کے حصول کو ممکن بناتا ہے عشق صادق کے بنا کوئی منزل سر نہیں ہو سکتی ۔
    گمراہی سے ہوتی ہے
    قدر ہدایت کی
    بن گمراہی کب ملتی ہے
    نظر ہدایت کی
    (سچل سرمست)

    ۵ ۔ رجائیت پسندی :
    حضرت سچل سرمست کے تذکروں سے اندازۃ ہوتا ہے کہ وہ اکثر مغموم رہا کرتے تھے ۔ غم کی اتھاہ گہرائیاں ہی عظیم تخلیق کا باعث بنتی ہیں ۔اور کوئی عظیم تخلیق قنوطیت کا درس بھی نہیں دے سکتی ۔۔ ان کے کلام میں رجائی عنصر اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔
    وحدت الوجودی جو خدا اور انسان کو دو مختلف خانوں میں نہیں بانٹتے اور دوئی کو شرک سمجھتے ہیں کبھی انسانی ارتقا کے بارے میں مایوس نہیں ہو سکتے۔
    ان کے کلام میں محبوب سے وصال کا ذکر بھی ب جگہ جگہ موجود ہے ۔جب انسان عشق کی انتہا پر پہنچتا ہے وہاں اپنے محبوب کے لیئے اپنی جان مال ہر چیز قربان کرنے کے لیئے تیار ہو جاتا ہے۔اس کے لئے سب ے اہم محبوب کی رضا اور خوشی ہوتی ہے۔
    جن کی دکھ سے یاری
    ان کا ملے نہ کہیں نشان
    قسمت سے ہی دکھ ملتا ہے
    سب کا بخت کہاں
    (سچل سرمست )

    جن کی دکھ سے پکی یاری
    منہ ان مشعل
    ان کے دکھ کی بپتا جانوں
    بات بڑی مشکل
    (سچل سرمست)
    سچل سرمست بہت بڑے عالم اور قران پاک کے حافظ بھی تھے۔۔ دوسرے علوم کے ساتھ انہیں نے تاریخ کا بھی گہرا مطالعہ کیا تھا ۔۔وہ ایسے انسانوں سے متاثر نظر آتے تھے جنہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیئے سب کجھ قربان کر دیا تھا۔۔ منصور بن حلاج سے عقیدت ان کی شاعری میں واضح ہے ۔۔ ان کی شاعری تصنیع اوقات یا تفریح طبع کے لیئے نہیں بلکہ گہرے مشاہدے اور عمیق تجربات کا نچوڑ ہے۔ جو قاری کو بھی وسعت علم اور احساس حسن سے مالا مال کر دیتی ہے۔
    چپ بیٹھوں تو مشرک کہلاؤں
    بولوں تو میں کافر ہوں
    سچل کو بھید کی بات ہے
    کس کس کو سمجھاؤں۔

    نوٹ : اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل ذرائع سے مدد لی گئی ہے ۔
    کتاب : حضرت سچل سرمست ؒ مصنف : محمد اسلم رسولپوری ، پبلشر :بزم ثقافت ملتان۔
    مضمون : سچل سرمست کی شاعری کا فکری پس منظر ، مصنف : ڈکٹر عبدالغفور میمن۔
    کتاب : سندھی ادب کا مختصر جائزہ ، مصنف : محمد اکبر لغاری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    زبردست
    ایک گزارش ہے
    سچل صحیح العقیدہ سنی مسلمان تھے۔ یہ زیادہ درست ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. مہتاب اظہر

    مہتاب اظہر محفلین

    مراسلے:
    3
    سچل سرمست رحمہ اللہ کا سلسلہ طریقت سلسلہ قادریہ سے منسوب کیا گیا ۔۔۔۔ اسکا کوئی حوالہ مل سکتا ھے۔۔؟؟
     
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,518
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مضمون کے آخر میں چند کتب کا حوالہ موجود ہے۔
    نوٹ : اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل ذرائع سے مدد لی گئی ہے ۔
    کتاب : حضرت سچل سرمست ؒ مصنف : محمد اسلم رسولپوری ، پبلشر :بزم ثقافت ملتان۔
    مضمون : سچل سرمست کی شاعری کا فکری پس منظر ، مصنف : ڈکٹر عبدالغفور میمن۔
    کتاب : سندھی ادب کا مختصر جائزہ ، مصنف : محمد اکبر لغاری
     
  5. مہتاب اظہر

    مہتاب اظہر محفلین

    مراسلے:
    3
    اس حوالہ کے لئے شکریہ
     
  6. مہتاب اظہر

    مہتاب اظہر محفلین

    مراسلے:
    3
    عرض یہ ھیکہ جو سچل سرمست ؒ کا سلسلہ طریقت قادریہ بتایا گیا ،، اسکا حوالہ درکار ہے ۔
    براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر