سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کردیا

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 26, 2019

  1. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,309
    جھنڈا:
    Pakistan
    بولے تو اگر عدالت ٹال مٹول کرتے کرتے 30 نومبر تک لے جائے تو باجوہ صاب ایکس ہو جائیں گے اور شاید پھر عہدہ چھوڑنا ہی پڑے؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,990
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    کسی بھی وزارت یعنی محکمہ میں چیف کا انتخاب، اس محکمہ کے وزیر کی سفارش پر ہوتا ہے، وزیر اعظم اس سفارش کی سفارش پر ہوتا ہے۔ جس کی توژیق صدر کرتا ہے،
    وزیر دفاع، کسی بی مناسب ملازم (جنرل) کو عارضی چیف بنا سکتا ہے۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ حکومت ، 29 نومبر 2019 کو جنرل باجوہ کو عارضی چیف بنا کر ایک بار پھر یہی فیصلہ کر لے۔

    اس وقت ضرورت ہے کہ ، چیف جسٹس آصف کھوسہ کو ، پاکستان کی اسمبلی اور سینٹ، سمن دے کر طلب کرے اوروضاحت طلب کرے کہ عدلیہ کو ، آنتظامیہ کے فیصلے معطل کرنے کا اختیار کس نے دیا اور وضاحت طلب کرے کہ اس عمل کو کیوں کر سنگین غداری کا عمل کیوں نا سمجھا جائے۔

    کیا اسی طرح انتظامیہ، عدلیہ کے فیصلے معطل کرنے کا حق رکھتی ہے؟

    پاکستان کی مقننہ اس قسم کی دخل اندازی کے لئے مناسب قانوں سازی کرے تاکہ منتخب نمائندوں ، وزیروں، وزیر اعظم پر کوئی دوسرا ادارہ حکم اندازی نا کرسکے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    پھر جسٹس کھوسہ پر ایگزیکٹو کے آئینی اختیارات میں مداخلت پرآرٹکل 6 لگے گا۔
     
    • متفق متفق × 1
  4. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    نہیں لیکر جاتے، ورنہ ویڈیوز نکل آنی ہیں یا پھر مفتی کفایت اللہ اور صحافی احمد نوارنی صاحبان کی طرح کوئی گاڑی ٹکر بھی مار جائے گی اور آہنی راڈوں سے لڑکی کے بھائی پیار محبت کا اظہار بھی فرما سکتے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آج کی مضحکہ خیز عدالتی کاروائی کے بعد بھی یہ آپ کو کہیں سے جج لگتے ہیں؟
    [​IMG]
     
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس سارے ڈرامائی پیش منظر کا ایک پسِ منظر مقصد مجھے یہ لگ رہا ہے کہ اگر آئین میں سروس چیفس کی تعینانی کا طریقہ درج ہے اور ایکسٹینشن وغیرہ کا نہیں ہے تو چونکہ تعیانی اور توسیع کا یہ اختیار حکومت ہی کا ہے اور اس اختیار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی اور آئین میں ترمیم اپوزیشن کی منت سماجت اور لینے دینے کے سوا ممکن نہیں ہے سو۔۔۔دیکھتے ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,309
    جھنڈا:
    Pakistan
    تے فئیر کیانی صاب دی ایکسٹنشن کداں ہو گئی سی؟
    دونوں ہاتھوں سے سر کھجانے والی سمائیلی

     
    • زبردست زبردست × 1
  8. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,309
    جھنڈا:
    Pakistan
    No. Under no circumstances will the office be left unoccupied. Primarily, because it has never happened before in the history of Pakistan, and it unlikely to happen now. In my opinion, neither the army nor the government and neither, I think, the judiciary would want this to happen.

    Right now the senior most general in Pakistan is General Nadeem Raza, who has been recently named the Chairman Joint Chief of Staff Committee (CJCSC). If the court hearings were to be extended beyond Nov. 29, Gen. Nadeem could be given the acting charge of the COAS office, until the court’s verdict.

    There are precedents of this in the past. The additional charge of CJCS were given to then army chiefs General Ashfaq Parvez Kayani, General Jehangir Karamat and General Pervez Musharraf. Musharraf, in fact, was a full army chief and CJCS. This would be the only constitutional way out, if such a crisis were to emerge.

    بشکریہ جیو
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    صدر پاکستان بذریعہ آرڈیننس بھی آرمی چیف کو توسیع دے سکتے ہیں۔ جسٹس کھوسہ نے صرف عمران خان کی حکومت کو متنازعہ بنانے کیلئے یہ سارا ڈرامہ کیا ہے۔
     
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کسی کام کا طریقہ کار اگر مبہم ہے یا معلوم ہی نہیں ہے اور اگر بعد میں اس کو واضح یا وضع کر لیا جائے تو پچھلے فیصلوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا یا نہیں پڑنا چاہیئے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    باقی سر میں اگر کھجلی دونوں ہاتھوں سے کر رہے ہیں تو کچھ اور وجوہات کے بارے میں بھی سوچیے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    ویسے نئے آرمی چیف کی خوشی فوج سے زیادہ ن لیگیوں کو ہے جیسے باجوہ کے جانے سے ان کو دوبارہ حکومت ملنے والی ہے :)
     
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی نہیں، یہ جو "جمعے"آپ مناتے رہے ہیں اس کا "ٹٹ فار ٹیٹ" ہے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  14. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    ہماری دانست میں، مسٹر باجوہ مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے تاہم حکومت انہیں منا لے تو ممکن ہے کہ ٹک جائیں تاہم وہ پہلے سا جاہ و جلال قائم نہ رہے گا۔ بطور ادارہ، فوج کی بھی خوب سبکی ہو چکی۔ درونِ خانہ خوب ہنگامے بپا ہوں گے! شہر اقتدار کے بڑے محلات میں خدا جانے کیا سازشیں ہو رہی ہوں گی۔ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  15. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    8,700
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ہمیں یقین ہے کہ باجوہ صاحب کو بچانے کے لیے 29 کی رات بارہ بجے سے پہلے کوئی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس مشکل صورتحال کا حل نکل لیا جائے گا لیکن یہ کیس وزیر اعظم اور ان کی معزز کابینہ کی نالائقی پر مہر ثبت کرچکا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    آرمی چیف کو ٹینشن دینے پر عمران خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،سائیں قائم علی شاہ :LOL:
    منقول
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کیا معلوم یہ بحران جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہو تاکہ آرمی چیف کو ترسا ترسا کر ملی ہوئی ایکسٹینشن کی قدر معلوم ہو سکے۔ :)
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    اب بات مستعفی ہونےسے بہت آگے چلی گئی ہے۔ سب سے پہلے اس وکیل کو پکڑا جائے گا جس نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے خلاف عدالت میں درخواست دے کر واپس لی۔ پھر جسٹس کھوسہ کو جس نے جان بوجھ کر اس کیس پر سو موٹو ایکشن لیا تاکہ حکومت اور فوج کو میڈیا میں متنازعہ بنایا جا سکے۔ اس کھیل میں شامل تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچا جائے گا۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,990
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    آئین صاف طور پر انتظامیہ کو حکومت کرنے کے اختیارات دیتا ہے، انتظامیہ کٓی طرف سے تعیناتی اور توسیع، اس آئینی حق کا استعمال ہے۔

    ہم اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جسٹس کھوسہ صاحب ، انار کلی لاہور تھانے ٓکو فون کرکے کہیں کہ اس چھوٹے والے سپاہی کو ملازمت سے فارغ کردو۔ یہ اختیار چیف جسٹس صاحب کے پاس بناء کسی معقول وجہ کے نہیں ہے۔۔ ابھی تک جسٹس کھوسہ صاحب ناکام ہیں کہ مناب وجہ ٓبتائیں کہ ان کے وہ کون سے اختیارات اور حقوق ہیں ، جس کی بنیاد پر جناب نے انتظامیہ کے آیینی اختیارات معطل کئے ہیں؟

    انتظامیہ ، مقننہ اور عدلیٓہ ، آزاد ادارے ہیں، یہ پاکستان کے آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ انتظامیہ کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ عدلیہ سے ثابت شدہ مجرم کی جاں بخشی کرکے ، عدلیہ کے احکامات معطل قرار دے دیں ۔ لیکن ایسا کوئی آئینی اختیار ، مفاد عامہ کی آڑ میں ، عدلیہ کے پاس نہیں ہے۔ یہ صاف صاف انتظامی کے آئینی اختیار میں مداخلت ، حکومت کے احکامات کی معطلی یعنی آئینی اختیارات سے تجاوز کرجانے کا معاملہ ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,990
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    یہ جسٹس آصف کھوسہ کی نالائقٓی ہے کہ ان کو اپنے اور انٹطامیہ کے آئینی اختیارات کا علم نہیں ۔

    آرٹیکل 184، (3)
    Article: 184 Original jurisdiction of Supreme Court
    184. Original jurisdiction of Supreme Court.-(1) The Supreme Court shall, to the exclusion of every other Court, have original jurisdiction in any dispute between any two or more Governments.
    Explanation.-In this clause, “Governments” means the Federal Government and the Provincial Governments.

    (2) In the exercise of the jurisdiction conferred on it by clause (1), the Supreme Court shall pronounce declaratory judgments only.

    (3) Without prejudice to the provisions of Article 199, the Supreme Court shall, if it considers that a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter I of Part II is involved, have the power to make an order of the nature mentioned in the said Article.




    اس آرٹیکل کی شق نمبر 3 عدالت عالیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ مفاد عامہ کے معاملات پر از خود نوٹس لے۔

    یہاں معاملہ ، مفاد ٓعامہ کا نہیں ہے بلکہ ، انتظامیہ کے آئینی اختیارات کا ہے ، اس اختیار کی بنیاد پر جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے، جس پر ٓعوام نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 27, 2019
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر