سوچ کا سفر ---------تبصرہ جات لڑی

ظفری

لائبریرین
متفق! اسی وجہ سے یہاں شیر کرنا چھوڑ دیا تھا، پھر محترم شمشاد کے کہنے پر شروع کیا ... اچھا ہوا آپ نے تبصرے کردیے. یہ کوئی دین کی بات نہیں یہ صرف اک لگن تھی جو تحریر ہوگئی. جذبات میں فلسفہ آیا کہاں سے اسکا بھی علم نہیں ہے اور تصوف کا معنویت کا ابھر آنا ایک ایسی خطا ہے جو بلا ارادہ ہے. میرا مقصد عقائد کی تشریح نہیں بلکہ یہ ذات کا اظہاریہ ہے. جیسے آپ مختلف، باقی لوگوں سے اور باقی لوگ آپ سے، سب کی سوچ مختلف ... اسی وجہ سے محض اپنی سوچ لکھنے کی جسارت کردی ہے. ... میں نے جب اس دنیا سے چلے جانا ہے تو جو دل میں سوچ ہے، نیت ہے وہ کام آنی ہے جس نیت و سوچ سے کام کیا ہے. سوچ ظاہر ہے شریعت کا نام ہے، نیت میں بہت کچھ آتا ہے مگر نیت میں محبت نہ ہو تو نیت صاف نہیں ہوتی. یہ سب لکھا میری سوچ ہے، سوچ پر اعتراضات ہوتے ہیں ... میری نظر میں ان اعتراضات کی حیثیت نہیں رہی ہے .... اس لیے سب کی آراء کا احترام کرنا فرض ہے. میں آخری کوشش اعتراض ختم کرنے کی یہی کر سکتی ہوں کہ یہ سب لکھا منظر عام سے ہٹ جائے ...
جب کوئی اپنی ذات کا اظہا ر کرنا چاہے تو پھر بات اپنی ذات تک ہی محدود رہنی چا ہیئے۔اس کے ہزاروں طریقے ہیں ۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو خود بھی یہ علم نہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ اس کو آپ مختلف پہلوؤں سے جاننے کی کوشش کررہیں ہیں ۔ مگر آپ کی دانش اس کا کوئی حل تلاش کرنے سے قاصر ہے ۔ علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو۔اگر آپ اپنی تحریر یا اپنے بارے میں جاننا چاہتیں ہیں تو پھر سوالات اپنے تک ہی محدود رکھیں کہ آپ کو صحیح جوابات مل جائیں ۔ تشنگیِ ہستی آپ کی اپنی ہو ۔ اور سوالات آپ دوسروں سے ان کےحوالے سے کریں تو آپ کو جواب دوسری کی ہستی کے متعلق ہی ملے گا ۔ آپ کی ہستی کے بارے میں نہیں ۔
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
جب کوئی اپنی ذات کا اظہا ر کرنا چاہے تو پھر بات اپنی ذات تک ہی محدود رہنی چا ہیئے۔اس کے ہزاروں طریقے ہیں ۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو خود بھی یہ علم نہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ اس کو آپ مختلف پہلوؤں سے جاننے کی کوشش کررہیں ہیں ۔ مگر آپ کی دانش اس کا کوئی حل تلاش کرنے سے قاصر ہے ۔ علاج اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو۔اگر آپ اپنی تحریر یا اپنے بارے میں جاننا چاہتیں ہیں تو پھر سوالات اپنے تک ہی محدود رکھیں کہ آپ کو صحیح جوابات مل جائیں ۔ تشنگیِ ہستی آپ کی اپنی ہو ۔ اور سوالات آپ دوسروں سے ان کےحوالے سے کریں تو آپ کو جواب دوسری کی ہستی کے متعلق ہی ملے گا ۔ آپ کی ہستی کے بارے میں نہیں ۔
آپ کی بات درست ہے کہ اظہار محدود ہوتا یا نہ ہوتا وقت کے ہم کردار ہیں. بہت کچھ ایسا ہوجاتا ہے جس کے ہم ناچاہتے ہوئے بھی مجرم ٹھہرتے ہیں. اس لیے دیگر ذرائع محفل کے اس کے اظہار کے نہیں ہیں، جو کہ میں نے خود ختم کردیے. محفل میں میں نے زیادہ تر اشعار کی اصلاح کی پوسٹ ہی کیں ہیں کل شمشاد محترم نے اس ناچیز کی تحریر کو سراہا تو عجب سی توانائی مل گئی کہ تحریر میری ہے مجھے اچھی لگتی ہے دنیا کو جتنی بری لگی جیسا کہ اولاد بری ہو مگر اپنی اولاد ہمیشہ اچھی لگتی ہے. میں تو خود سوچ رہی ہوں اس دھاگے کو بھی نہیں ہونا چاہیے، دیکھیے:)
 

La Alma

لائبریرین
نور وجدان
‎آپ اپنی سوچ کا سفر ضرور جاری رکھیے ۔کوئی شک نہیں کہ علم کی کھوج میں آپ کی لگن سچی اور جستجو خالص ہے. آپ کی تحریروں میں عشق حقیقی کا رنگ جھلکتا ہے. قلم پر دسترس بھی خوب ہے. سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے , نہ ہی خیالات پر بند باندھنا ممکن ہے. آپ لکھتی رہیے اور سب کے ساتھ شئیر بھی کیجئے. لیکن ایک بات ذہن میں ضرور رکھیے کہ جب کوئی اپنے خیالات کو رقم کر کے دوسروں کو اپنے ذہن تک رسائی دے دیتا ہے تو اور لوگ بھی اس سفر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اس ایموشنل رولر کوسٹر کا سفر شاید لکھنے والے کے لیے بہت ایڈونچرس ہو لیکن قاری بعض مقامات پر جھنجھلا سکتا ہے۔۔۔بلکہ چکرا سکتا ہے۔
‎سوچ کی یلغار کو روکنا ناممکن ہے. یہ ایک غیر اختیاری عمل ہے. خیالات ساکت و جامد نہیں ہوتے, بلکہ ہمیشہ متحرک رہتے ہیں. یہ ایک در کھٹکھٹاتے ہیں اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اگلے دروازے پر دستک دے دیتے ہیں. جب ہم سوچ کی وادی میں خیالات کے گھوڑے سرپٹ دوڑائیں گے, غبار تو پھر اڑے گا. ہر منظر دھندلا جائے گا. ایسی صورت میں صفحہ قرطاس پر کوئی منظر اتارنے سے پہلے تھوڑا توقف کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ ابہام کی گرد بیٹھ جائے اور اصل منظر واضح ہو جائے. آپ کی تحریروں میں کم و بیش یہی کیفیت پائی جاتی ہے. آپ تو دھول ختم ہونے کے بعد کا منظر دیکھ پاتی ہیں کیونکہ یہ آپ کی اپنی ذات کا سفر ہے. لیکن دوسرے وہی رنگ دیکھ پاتے ہیں جو اس سے قبل آپ منتشر خیالات کی صورت کینوس پر بکھیر چکی ہوتی ہیں. اس لیے بعض اوقات آپ کے مافی الضمیر تک پہنچنے میں قدرے مشکل ہوتی ہے.
‎ہر خیال ، حقیقت کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا. کچھ خیالات اوہام ہوتے ہیں. آپ کی بیشتر تحاریر پر یہ گمان ہوتا ہے ، جیسے کسی نیم خوابیدہ کیفیت میں لکھی گئی ہوں . کسی غیر محسوس طریقے سے آپ کا رابطہ حقیقت سے کٹ کر تصوراتی دنیا سے جڑ جاتا ہے . پھر کسی آہٹ سے چونک کر آپ حقیقت کی دنیا میں واپس آ جاتی ہیں اور یہ سلسلہ پھر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے جہاں سے منقطع ہوا تھا.
‎فکشن لکھتے ہوئے سوچ کا بہاؤ کسی بھی سمت ہو جائے,تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا. لیکن مذہبی تحریروں میں سوچ کو ہمیشہ حقیقت کے تابع ہی رہنا ہوتا ہے. اسے تصورات کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا. اسی مقام پر آپ کا قاری مخمصے کا شکار ہو جاتاہے اور اختلاف جنم لیتا ہے. لیکن یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں. ذرا سی شعوری کوشش سے حقیقت اور خیال کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھ کر قاری کے ساتھ رابطے کے اس فقدان کو دور کیا جا سکتا ہے۔
‎ آپ تنقید کو ہمیشہ مثبت لیجئے. کسی بھی بات سے دلبرداشتہ ہو کر لکھنا مت چھوڑیئے. آپ کی ای بک کا انتظار رہے گا. :):)
 

نور وجدان

لائبریرین
نور وجدان
‎آپ اپنی سوچ کا سفر ضرور جاری رکھیے ۔کوئی شک نہیں کہ علم کی کھوج میں آپ کی لگن سچی اور جستجو خالص ہے. آپ کی تحریروں میں عشق حقیقی کا رنگ جھلکتا ہے. قلم پر دسترس بھی خوب ہے. سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے , نہ ہی خیالات پر بند باندھنا ممکن ہے. آپ لکھتی رہیے اور سب کے ساتھ شئیر بھی کیجئے. لیکن ایک بات ذہن میں ضرور رکھیے کہ جب کوئی اپنے خیالات کو رقم کر کے دوسروں کو اپنے ذہن تک رسائی دے دیتا ہے تو اور لوگ بھی اس سفر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اس ایموشنل رولر کوسٹر کا سفر شاید لکھنے والے کے لیے بہت ایڈونچرس ہو لیکن قاری بعض مقامات پر جھنجھلا سکتا ہے۔۔۔بلکہ چکرا سکتا ہے۔
‎سوچ کی یلغار کو روکنا ناممکن ہے. یہ ایک غیر اختیاری عمل ہے. خیالات ساکت و جامد نہیں ہوتے, بلکہ ہمیشہ متحرک رہتے ہیں. یہ ایک در کھٹکھٹاتے ہیں اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اگلے دروازے پر دستک دے دیتے ہیں. جب ہم سوچ کی وادی میں خیالات کے گھوڑے سرپٹ دوڑائیں گے, غبار تو پھر اڑے گا. ہر منظر دھندلا جائے گا. ایسی صورت میں صفحہ قرطاس پر کوئی منظر اتارنے سے پہلے تھوڑا توقف کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ ابہام کی گرد بیٹھ جائے اور اصل منظر واضح ہو جائے. آپ کی تحریروں میں کم و بیش یہی کیفیت پائی جاتی ہے. آپ تو دھول ختم ہونے کے بعد کا منظر دیکھ پاتی ہیں کیونکہ یہ آپ کی اپنی ذات کا سفر ہے. لیکن دوسرے وہی رنگ دیکھ پاتے ہیں جو اس سے قبل آپ منتشر خیالات کی صورت کینوس پر بکھیر چکی ہوتی ہیں. اس لیے بعض اوقات آپ کے مافی الضمیر تک پہنچنے میں قدرے مشکل ہوتی ہے.
‎ہر خیال ، حقیقت کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا. کچھ خیالات اوہام ہوتے ہیں. آپ کی بیشتر تحاریر پر یہ گمان ہوتا ہے ، جیسے کسی نیم خوابیدہ کیفیت میں لکھی گئی ہوں . کسی غیر محسوس طریقے سے آپ کا رابطہ حقیقت سے کٹ کر تصوراتی دنیا سے جڑ جاتا ہے . پھر کسی آہٹ سے چونک کر آپ حقیقت کی دنیا میں واپس آ جاتی ہیں اور یہ سلسلہ پھر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے جہاں سے منقطع ہوا تھا.
‎فکشن لکھتے ہوئے سوچ کا بہاؤ کسی بھی سمت ہو جائے,تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا. لیکن مذہبی تحریروں میں سوچ کو ہمیشہ حقیقت کے تابع ہی رہنا ہوتا ہے. اسے تصورات کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا. اسی مقام پر آپ کا قاری مخمصے کا شکار ہو جاتاہے اور اختلاف جنم لیتا ہے. لیکن یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں. ذرا سی شعوری کوشش سے حقیقت اور خیال کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھ کر قاری کے ساتھ رابطے کے اس فقدان کو دور کیا جا سکتا ہے۔
‎ آپ تنقید کو ہمیشہ مثبت لیجئے. کسی بھی بات سے دلبرداشتہ ہو کر لکھنا مت چھوڑیئے. آپ کی ای بک کا انتظار رہے گا. :):)
بہت اچھا تبصرہ و تجزیہ! لا المی بہن آجکل لکھنا چھوڑ چکی ہوں یہ سب پرانا لکھا ہے. آپ کی محبت کا شکریہ آپ نے توجہ دی .یہ تبصرہ اس لڑی کے تمام تبصروں سے بہترین ہے. سلامت رہیے ایسے ہی علم دوست رہیے. آپ کے لیے بہترین دعائیں کہ اللہ آپ کو آسانیاں دے مزید ... محبتیں ♥♥♥
 

سیما علی

لائبریرین
نور وجدان
‎آپ اپنی سوچ کا سفر ضرور جاری رکھیے ۔کوئی شک نہیں کہ علم کی کھوج میں آپ کی لگن سچی اور جستجو خالص ہے. آپ کی تحریروں میں عشق حقیقی کا رنگ جھلکتا ہے. قلم پر دسترس بھی خوب ہے. سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے , نہ ہی خیالات پر بند باندھنا ممکن ہے. آپ لکھتی رہیے اور سب کے ساتھ شئیر بھی کیجئے. لیکن ایک بات ذہن میں ضرور رکھیے کہ جب کوئی اپنے خیالات کو رقم کر کے دوسروں کو اپنے ذہن تک رسائی دے دیتا ہے تو اور لوگ بھی اس سفر میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اس ایموشنل رولر کوسٹر کا سفر شاید لکھنے والے کے لیے بہت ایڈونچرس ہو لیکن قاری بعض مقامات پر جھنجھلا سکتا ہے۔۔۔بلکہ چکرا سکتا ہے۔
‎سوچ کی یلغار کو روکنا ناممکن ہے. یہ ایک غیر اختیاری عمل ہے. خیالات ساکت و جامد نہیں ہوتے, بلکہ ہمیشہ متحرک رہتے ہیں. یہ ایک در کھٹکھٹاتے ہیں اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اگلے دروازے پر دستک دے دیتے ہیں. جب ہم سوچ کی وادی میں خیالات کے گھوڑے سرپٹ دوڑائیں گے, غبار تو پھر اڑے گا. ہر منظر دھندلا جائے گا. ایسی صورت میں صفحہ قرطاس پر کوئی منظر اتارنے سے پہلے تھوڑا توقف کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ ابہام کی گرد بیٹھ جائے اور اصل منظر واضح ہو جائے. آپ کی تحریروں میں کم و بیش یہی کیفیت پائی جاتی ہے. آپ تو دھول ختم ہونے کے بعد کا منظر دیکھ پاتی ہیں کیونکہ یہ آپ کی اپنی ذات کا سفر ہے. لیکن دوسرے وہی رنگ دیکھ پاتے ہیں جو اس سے قبل آپ منتشر خیالات کی صورت کینوس پر بکھیر چکی ہوتی ہیں. اس لیے بعض اوقات آپ کے مافی الضمیر تک پہنچنے میں قدرے مشکل ہوتی ہے.
‎ہر خیال ، حقیقت کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا. کچھ خیالات اوہام ہوتے ہیں. آپ کی بیشتر تحاریر پر یہ گمان ہوتا ہے ، جیسے کسی نیم خوابیدہ کیفیت میں لکھی گئی ہوں . کسی غیر محسوس طریقے سے آپ کا رابطہ حقیقت سے کٹ کر تصوراتی دنیا سے جڑ جاتا ہے . پھر کسی آہٹ سے چونک کر آپ حقیقت کی دنیا میں واپس آ جاتی ہیں اور یہ سلسلہ پھر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے جہاں سے منقطع ہوا تھا.
‎فکشن لکھتے ہوئے سوچ کا بہاؤ کسی بھی سمت ہو جائے,تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا. لیکن مذہبی تحریروں میں سوچ کو ہمیشہ حقیقت کے تابع ہی رہنا ہوتا ہے. اسے تصورات کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا. اسی مقام پر آپ کا قاری مخمصے کا شکار ہو جاتاہے اور اختلاف جنم لیتا ہے. لیکن یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں. ذرا سی شعوری کوشش سے حقیقت اور خیال کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھ کر قاری کے ساتھ رابطے کے اس فقدان کو دور کیا جا سکتا ہے۔
‎ آپ تنقید کو ہمیشہ مثبت لیجئے. کسی بھی بات سے دلبرداشتہ ہو کر لکھنا مت چھوڑیئے. آپ کی ای بک کا انتظار رہے گا. :):)
بہت عمدہ ۔۔ آپ نے باکل درست کہا انکی تحاریر میں عشقِ کا رنگ جھلکتا ہے ۔اور سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔۔
 

نور وجدان

لائبریرین
بہت عمدہ ۔۔ آپ نے باکل درست کہا انکی تحاریر میں عشقِ کا رنگ جھلکتا ہے ۔اور سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے۔۔
سیما جی! بعض اوقات لفظوں کا مفہوم قدرے مختلف ہوتا، جب ہم بیان کو متوازن رکھنا چاہتے ہوں.. آپ نے بھی لاالمی بہن کے بیان کا اثر لیا ہے. عشق حقیقی ہوتا کیا ہے یہ تو اللہ والے جانتے جبکہ ہم جیسوں کو اللہ والوں سے بھی واسطہ نہیں .. آپ اسے بیمار ذہن کا قصہ سمجھیے، اکثر ہوتا ہے گھر میں بیمار فرد چڑاچڑاہٹ کا شکار ہوکے طرح طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے. میں بھی کچھ ایسی کیفیت سے دوچار رہی ہوں یا دوچار ہوں. یہاں پر لکھنے کی گنہ گار الگ ہوں اور وجوہات اس کی بھی بہت سی ہوں گی جس کو خدا بہتر جانتا ہے
 

سیما علی

لائبریرین
سیما جی! بعض اوقات لفظوں کا مفہوم قدرے مختلف ہوتا، جب ہم بیان کو متوازن رکھنا چاہتے ہوں.. آپ نے بھی لاالمی بہن کے بیان کا اثر لیا ہے. عشق حقیقی ہوتا کیا ہے یہ تو اللہ والے جانتے جبکہ ہم جیسوں کو اللہ والوں سے بھی واسطہ نہیں .. آپ اسے بیمار ذہن کا قصہ سمجھیے، اکثر ہوتا ہے گھر میں بیمار فرد چڑاچڑاہٹ کا شکار ہوکے طرح طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے. میں بھی کچھ ایسی کیفیت سے دوچار رہی ہوں یا دوچار ہوں. یہاں پر لکھنے کی گنہ گار الگ ہوں اور وجوہات اس کی بھی بہت سی ہوں گی جس کو خدا بہتر جانتا ہے
نوری ایسا کبھی نہ کہیے گا۔۔ہم سب اس کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں۔لیکن اسکا قعطناً یہ مطلب نہیں کہ ہم عشقِ حقیقی سے دور ہیں ۔وہ ہم سب کے دل میں ہے۔اور جو دل میں ہے اس سے محبت شرطِ اوّل ہے۔مالک سے ہمیشہ دعا ہے کہ وہ ہمیں اس درجہ پہ فائز رکھے۔اُسکا شکر ہے اُس نے درد مند دل دیا۔جو اُسکے بندوں کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرتا۔بڑا خوب صورت دل ہے آپکا۔اللّہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔
؀
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو!!!!!!!!!
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
سلامت رہیے جیتی تر ہیے اللّہ دین اور دنیا کی خوشیا ں عطا فرمائے آمین۔۔۔۔۔بہت سارا پیار:redheart::redheart::redheart::redheart::redheart:
 

سیما علی

لائبریرین
سیما جی! بعض اوقات لفظوں کا مفہوم قدرے مختلف ہوتا، جب ہم بیان کو متوازن رکھنا چاہتے ہوں.. آپ نے بھی لاالمی بہن کے بیان کا اثر لیا ہے. عشق حقیقی ہوتا کیا ہے یہ تو اللہ والے جانتے جبکہ ہم جیسوں کو اللہ والوں سے بھی واسطہ نہیں .. آپ اسے بیمار ذہن کا قصہ سمجھیے، اکثر ہوتا ہے گھر میں بیمار فرد چڑاچڑاہٹ کا شکار ہوکے طرح طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے. میں بھی کچھ ایسی کیفیت سے دوچار رہی ہوں یا دوچار ہوں. یہاں پر لکھنے کی گنہ گار الگ ہوں اور وجوہات اس کی بھی بہت سی ہوں گی جس کو خدا بہتر جانتا ہے
یہ پڑ ھ رہی تھی اور میرا دل چاہا آپ سے شئیر کروں:
حضرت سری سقطیؒ نے ایک شرابی کو دیکھا جو مدہوش زمین پر گرا ہوا تھا اور اپنے شراب آلودہ منہ سے ﷲ ﷲ کہہ رہا تھا۔

حضرت سری سقطیؒ نے وہیں بیٹھ کر اس کا منہ پانی سے دھویا اور فرمایا:’’اس بے خبر کو کیا خبر؟ کہ ناپاک منہ سے کس پاک ذات کا نام لے رہا ہے۔‘‘ اس کا منہ دھو کر آپ چلے گئے۔

جب شرابی کو ہوش آیا تو لوگوں نے اسے بتایا: ’’تمہاری بے ہوشی کے عالم میں حضرت سری سقطیؒ یہاں آئے تھے اور تمہارا منہ دھو کر گئے ہیں۔‘‘ شرابی یہ سُن کر بڑا پشیمان اور نادم ہوا اور رونے لگا، اپنے نفس کو مخاطب کر کے بولا:’’ بے شرم! اب تو سری سقطیؒ بھی تجھے اس حال میں دیکھ گئے ہیں، ﷲ عزوجل سے ڈر اور آئندہ کے لیے توبہ کر۔‘‘

رات کو حضرت سری سقطیؒ نے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا۔ ’’اے سریؒ! تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھویا۔ ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو دیا۔

‘‘ حضرت سری سقطیؒ تہجد کے وقت مسجد میں گئے تو اس شرابی کو تہجد پڑھتے ہوئے پایا۔ آپؒ نے اس سے پوچھا:’’ تم میں یہ انقلاب کیسے آ گیا؟‘‘ وہ بولا: ’’آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں، جب کہ ﷲ عزوجل نے آپ کو بتا دیا ہے.
سبحان اللّہ سبحان اللّہ
 
Top