سوچ کا سفر ---------تبصرہ جات لڑی

سیما علی

لائبریرین
کبھی کبھی لکھتے ہوئے آنکھ نم ہوجاتی ہے اور آنسو دل میں گرتے ہیں ۔ یہ آنسو جو باطن میں گرتے ہیں ایک آگہی رکھتے ہیں ۔ اس آگہی کو کوئی نام نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ اپنے اندر انسان جب جھانکنا شروع کرتا ہے تو اس پر راز عیاں ہوتے ہیں ۔ ایسے راز جو اس کے باطن کو دھندلا کیے ہوتے ہیں ۔ اس کے گناہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے گناہوں سے بھرپور باطن اور دنیا کا پرنور چہرہ مجھے کائنات کی پہچان کرا گیا ہے ۔ ایک کائنات انسان کے باطن میں ہوتی ہے اور ایک کائنات انسان کے باطن سے پرے ہوتی ہے ۔ اندر کی دنیا بھی تب بنتی ہے جب باہر کی دنیا کی آیتوں سے آیتیں ملاتے نشانیاں حاصل کرتے ہیں ۔


بچپن کی بات ہے جب تین چار سال کی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ تین گناہوں سے پہلے معاف کر دیتا ہے ۔ابھی میں نے گناہ نہیں کیا ہے اور کبھی گنتی کہ ایک گناہ کیا ہے اور اس گناہ کی معافی مانگ کے سوچا کرتی کہ میرا تو اب کوئی گناہ ہی نہیں ہے ۔۔۔ ایسی سوچ ۔۔۔ایسی امید---ایسی توقع میں نے مالک سے اب کیوں نہ رکھی ! دوستو ! ہم اللہ کو اتنے قریب سے بچپن میں دیکھتے ہیں اور جوانی میں بھُول جاتے ہیں ۔ جب کچھ ماہ گزرے تو سوچا کرتی کہ دو بہن بھائی جو میرے اسکول میں پڑھا کرتے تھے یہ اللہ کے قریب ہیں کیونکہ ان کے چہرے میں معصومیت ہیں جیسے کہ انہوں نے کوئی گناہ کبھی نہیں کیا ۔ تین سال اور گزرے تو قرانِ پاک ختم کرنے کے مراحل میں تھا ۔ تب میں سوچا کرتی تھی کہ اللہ میرے قران مجید پڑھانی والی ''بی بی'' میں ہیں ۔ ان کے چہرے کا نور سوچنے پر مجبور کردیتا تھا کہ اللہ ان کے چہرے سے جھلکتا ہے اور پھر سوچتی کہ ان کی تو ساری زندگی قران پاک پڑھانے میں صرف ہوئی جو کہ ترجمہ ء تفسیر کے ساتھ قران پاک پڑھایا کرتی تھیں ۔ ان کا کھانا پینا ، ان کا چلنا اٹھنا ، بیٹھنا سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرانی آیات کے ورد اور سمجھانے میں گزر جاتا اور میں سوچا کرتی کہ اگر انہوں نے کوئی گناہ کیے بھی ہوں گے تو ان کے اچھے اعمال کی سبب دُھل گئے ہوں گے ۔۔۔ ہائے ! ایسے لوگ محبت والے ! جن کے چہروں پر نور جھلکتا ہے کیونکہ وہ خود میں نور کا خزینہ لیے ہوئے ہوتے ہیں ۔


اپنے گناہ کا خیال تب آیا جب مجھے سورہ العصر سمجھ آئی ہے ۔ ایسی دل پر لگی کے سب پڑھنا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔جو اس کا مفہوم سمجھ جائے وہ کبھی گناہ نہ کرے اور مجھ جیسے خطا کار سیہ کار۔۔۔۔۔۔۔۔جن کے اعمال نامے گناہوں کے پلڑے سے بھاری ہیں تو احساسِ زیاں ہوتا ہے کہ ہائے! ہائے ! میں اگر بچپن میں قران پاک کو ٹھیک سے سمجھتی تو جوانی میں احساس زیاں یوں نہ رُلاتا اور نا ہی میں کوئی گناہ کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سورہ میں تو محبت کا ذکر ہے لوگ اس کو سزا سے تعبیر کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس ! صد افسوس ! میں ناکامی میں ہوں کہ میں نے لوگوں سے محبت نہیں کی اگر کی ہوتی تو ان کی فکر ہوتی ۔۔۔۔۔۔ میرا عمل ---صرف میری تقدیر نہیں بنائے گا بلکہ میرے اردگرد لوگوں کی آدھی تقدیر کو پلٹ دے گا ۔اگر میں اپنے اچھے عمل سے ، قربانی ایثار سے اور صبر سے دوسروں کے بھلے کا سوچوں ! مگر میں سوچوں تو ۔۔۔۔۔-مجھے اپنی فکر رہی کہ میں نے اپنا اچھا کرنا ہے اس سبب میں نے دوسروں کے لیے گڑھا کھود دیا یا میری مثال ایسی ہے جس میں میرے اپنے میرے پاؤں کی زنجیر ہیں جیسے ایک ماں کے لیے اس کی اولاد پاؤں کی بیٹری بن جاتی ہے اور وہ اس کی خاطر قربانی در قربانی دیے چلی جاتی کہ اگر وہ نہیں ہوگی تو اس کے بچوں کا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔اس کے بچے تو رل جائیں گے ۔میں نے ایسا نہیں سوچا کہ میں اپنے بہن بھائی ، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی زنجیر رکھتی ہوں ۔۔


ایک تو میں نے کبھی اپنوں کے لیے قربانی کا سوچا نہیں اور سوچا تو احسان جتایا ۔۔۔چلیے اس کو چھوڑیے ! میں تو خود بھی سوئی رہی ہوں جیسے ایک بندہ بیزار ہوتے بستر سے نہیں نکلتا کہ اجالا اس کے لیے آگہی ہے اور یہ اذیت ہے ۔۔۔مجھے آگہی ملتی رہی اور میں اس پر آنکھیں بند کیے سوئی رہی ۔۔۔۔۔۔گھر میں کبھی حادثہ ہوا ۔۔۔۔۔میری عدم جذباتیت ----کوئی شادی ہو--------عدم جذباتیت ----یہ نہیں کہ جذبات نہیں تھے مگر اندر کی دنیا بھری پڑی تھی جذبوں سے اور باہر کے لوگوں کے لیے ایک پتھر تھی ۔۔سب کہتے تھے میں بہت بے حس ہوں اور اندر اندر کڑھتی رہتی تھی کہ میرے اپنے مجھے بے حس کہتے جبکہ ان کے لیے رات کی تنہائی میں آنسو بہاتی ہوں یا آنسو دل پر گرتے ہیں ۔۔۔روح محسوس کرے اور عمل نہ کرے تو بندے کیا کرے ۔۔دل تو کرتا ہوں بہت ملامت کروں خود کو -----مگر کیا ہے کہ میں نے اگر خود کو ملعون کہا تو میرے خالق کو برا لگے گا کہ اس نے مجھے بنایا ہے ۔


اسی سوچ پر میرے اندر آنسو گر رہے ہیں کہ اگر میں سوئی نہ ہوتی تو میں بہت کچھ اچھا کرسکتی تھی یا اچھے کو اور اچھا کرسکتی تھی مگر میں تو سوئی رہی اور اس خواب کی حالت میں سمندر کی گہری لہریں مجھے خود میں سمونے لگیں ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ لہریں مجھے غرقابی کی طرف لے جائیں میرے خالق نے مجھے توفیق دی کہ میں جاگ جاؤں ۔ جب میں جاگ گئی تو احساس ہوا میرے اپنے میرے عمل سے بندھے ہوئے اگر ان کے لیے اچھا کروں گی تو تقدیر میری اچھی ہونی ہے ۔ درحقیقت ایک بچہ باپ اور بچی ماں پیدا ہوتی ہے ۔۔۔اس حقیقت کا احساس مجھے اب ہوا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔


اس ملامت کے احساس کے ساتھ مجھے سورہ العصر یاد آرہی ہے کہ انسان خسارے میں ہے ۔۔۔۔۔۔کیسے ؟؟؟ کبھی کپڑے کو نچوڑو تو اس کا سارا پانی نکل جاتا ہے اور اس کے پاس خشکی رہ جاتی اور ساری ''تری '' نکل جاتی ہے ۔۔اس طرح جیسے ایک درخت کے سارے پتے اور پھول جھڑ جاتے ہیں اور اس کے لیے خزاں کا موسم ابدی ہوجاتا ہے اور اس وقت اگر میں بچپن کی طرح سوچنے لگوں ۔۔۔ خالق دو جہاں --- کردے نا کرم اور مجھے اپنی جناب میں لے لے ! تیری بندی ! تیری حکمت سے جاگتے تیرے احکام بجالانا چاہتی ہے اور خدمت کا جو سبق سورہ العصر میں دیا اس کا مجھے موقع دے دے مالک ! مالک سن لے ! موقع دے دے ! تاکہ میں اپنے اندر کی کائنات جو گناہوں سے آلود ہے ، جو خسارے سے کی حامل ہے ۔۔۔مولا اس کو سدھار لوں ۔۔مجھے احساس ہوگیا ہے گناہوں نے میری روح کی لطافت نچوڑ لی ہے مگر پھر بھی مجھ بے کس و بے بس پر ترا رحم ابر رحمت کی طرح برسا ہے اور مجھے اپنا آپ بھیگتا محسوس ہوتا ہے ۔ مولا کریم ! مجھے بارش طوفان کی طرح لگتی تھی ۔ مجھے بارش سے ڈر لگتا تھا مگر آج ترے کرم کی بارش میں بھیگتے ہوئے میرے سارے اندیشے مٹی مٹی ہوگئے ۔۔۔۔۔۔ مجھے بخش دے اور مجھے عمل کی توفیق دے ۔۔۔۔۔۔میں تیری گناہ گار بندی ہوں ۔۔


پھر احساس ہوا کہ اصل کائنات تو ماں جس نے ساری عمر میرے لیے قربانی دے اور اس طرح جس طرح مالکِ کائنات دیتا ہے ۔مشاہدات ، سوچ اور گمان سے انسانوں میں خدا کو تلاشتے میری سوئی اب اپنی ماں پر اٹکی ہے اور میں نے ان کو بچپن سے بہت چاہا ہے مگر کبھی احساس نہیں کرپائی کہ وہ خالق کا روپ ہیں اور جب مجھے کانٹا چبھا تو مرہم بن گئی میں نافرمان ۔۔۔۔۔ان کی نافرمانی کرتی تو اس طرح خاموشی اختیار کرتی کہ جیسا خالق کرتا ہے اور وہ ہمارا مشاہدہ کرتا ہے کہ ہم کب بدلیں اور ماں بھی یہی مشاہدہ کرتے کرتے تھک جاتی ہے مگرامید نہیں ہارتی کہ اولاد کب بدلے ۔ جناب یعقوب علیہ سلام کو جو مامتا عطا ہوئی اس سبب ان کی بینائی چھن گئی ۔محبت کا وہ احساس اپنی ماں سے عشق میں بدل گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ماں ہی اصل کائنات ہے
نور!!!!!
آپ واقعی سراپا نور ہیں،بہت عمدہ ایک ایک لفظ سچائی سے گندھا ہوا دل میں اتر گیا، سچ ہے آگہی بہت اذیت ہے اسکا دکھ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس کرب سے گذرتے ہیں،باقی سب تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بے حس ہیں جبکہ وہ جس تکلیف سے گذر رہے ہوتے ہیں وہ یا تو وہ خود سمجھتے ہیں یا اُن کے جیسی آگہی رکھنے والے ؀
چادریں سروں سے سِرک کر
مزاروں پہ چڑھنے لگی ہیں
مذہب سے رنجشیں بڑھنے لگی ہیں
محبت کے دھاگے رشتوں کے بجائے
درگاہ کی جالیوں پہ باندھے جاتے ہیں
بھوکے پیٹ کو لوگ دانشوری سمجھاتے ہیں
پھٹے ہوئے رستے سرد خیمے میں
جسم کی حرارت روا ہوتی ہے ۔۔۔۔
یہاں دکھ طبعی
مرگ کا کارن قضا ہوتی ہے
خزاں کو کوئی کچھ نہیں کہتا
پتوں کی مجرم ہوا ہوتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از ثروت نجیب
 

سیما علی

لائبریرین
مئے خوار کو میخانہ لایا گیا ہے
شہِ ابرار کا سوالی بنایا گیا ہے
باب العلم نے اسے تھام رکھا ہے
سیدالعشاق کے کے ساتھ چلنا ہے
حیدار کرار کی زمین پر حسین پھول
جس کی چمن، چمن نگر، نگر دھول
ان کا خون عشق حقیقی کی نشانی
تاریخ نے لکھی شاہد کی کہانی
طیبہ کی زمین پر آنکھ کھولی
ان کا چرچہ کیے یاں واں میں ہولی
تیغ وسناں میں ماہر ، خلقِ عظیم کا حامل
عاشقِ کن فکاں کی ہستی ہے کامل
نور نے ان کے ہاتھ بیعت کر رکھی ہے
ان سے عشق کی خلقت لے رکھی ہے
محسنِ ہستی پیار کرنے کے ہیں قائل
بھیجتے نہیں سوالی کو بنا کے سائل
ان کے ہمراہ کربل کے میدان چلی
گلاب کی خوشبو ان کے فیضان سے ملی
کھلا چمنِ بہاراں میں اک اک پھول
دہن پھول ، لب پھول ، دل پھول
حسینؑ میرے دل کی کائنات ہیں
لا الہ اللہ کی سلطنت پر تعینات ہیں
حسین علم و الم کی حکمت ہیں
حسینؑ لا الہ اللہ کی شہادت ہیں
ان کی باتوں میں چھپی روایت ہے
ان کا حلم ، علم ، قلم عبادت ہے
خاکِ حسینؑ خود میں طبیب ہے
خاکِ حسینؑ عشق کی تشبیب ہے
حسینؑ ، حسنؑ علی کے چمن کے لالہ زار
جن سے نکلے عیسیؑ، موسیؑ جیسے بار بار
حسنؑ نورِ حقیقی کی جمالی نشانی
حسینؑ نور حقیقی کی جلالی نشانی
علیؑ نورِ یزدانی کی مکمل کہانی
فاطمہ ؑ کا نورانی سارا گھرانہ
ان سے پایا عالم نے دانا دانا
محمد ان شہسواروں کے سردار
محمد غمخواروں کے ہوئے میخوار
محمد سے دین الہی ہوا مکمل
محمد خلق حسنہ کی نشانیِ اکمل
اللہ ھو اللہ ھو اللہ اللہ ھو
اللہ ھو اللہ اللہ ھو اللہ ھو اللہ
ھو کی سدا دل نے لگا دی
ھو نے دل میں دھوم مچادی
ھو مجھ میں آج بہت بول رہی ہے
ھو مجھ سے آج کچھ کہ رہی ہے
ھو کی محبت سے میں لکھ رہی ہوں
ھو کی حکمت کہ میں یا ھو ! یاھو !
اللہ ! اللہ کیا کمال کردیا ہے
اللہ ! اللہ ! مجھے مست حال کردیا ہے
اللہ ! اللہ ! مجھے شوخ و چنگ کردیا ہے !
اللہ ! اللہ ! ساز سخت کردیا ہے
اللہ ! اللہ ! میں تیری تلاش میں نکلی
اللہ ! اللہ ! میری اندر تیری شبیہ نکلی
میں تیری گمشدہ بستی بنتی گئی
میرا پتا گمشدگی لکھتی گئی
میں کون ہوں ؟ میں کہاں ہوں
میں تیرے دم سے ہوں ،میں تیرا ساز ہوں
ایک جام میں مکمل میخانہ تھما دیا
میخانے کو پھر نیا جام پلا دیا
ایک جام کی نشانی حسینؑ سے ملی
ایک جام کی نشانی حسنؑ سے ملی
ایک جام ؑعلی کے دم سے ملا ہے
اک جام جہاں محمد نے دینا ہے
ان کے در سے در نہ چھوٹے گا میرا
محمد کے در پر کاسہ تھامے کھڑی
ان کی سوالی سنا رہی قوالی
مجھے دیکھ کے وہ مسکرا دیے
!بولے ! کیا ہے تیری مست حالی
تنگیِ حال پر کیا کیا شوخیاں اپنالیں
ان کی مسکراہٹ سے دل کے غنچے کھلے
چمن در چمن خوشبو کی جھونکے ملے
ان کی خوشبو ابر بن کے برس رہی ہے
ان کی محبت سے نور مہک رہی ہے
وہ پیارے شہ ابرار ، میرے مرشد حق ہیں
وہ پیار مئے خوار ، میرے غم خوار ہیں
وہ پیارے شہسوار ، حسین کے نانا ہیں
وہ پیارے شہسوار فاطمہ کے بابا ہیں
صدیق کو ان کے دم سے ملے کاسہ
وہ کاسہ جہاں کے دے رہا آسرا
محمد کی حیا کا عکس عثمان کو ملا
محمد کے جلال کا آئنہ عمر میں پایا
علی نے آپ سے علم کا کاسہ پایا
عشقِ اویس کی شہادت محمد نے دی
بلال کی محبت سے زمانہ ہوا گھائل
حمزہ نے دلوں میں گھر بنا لیے
عضو عضو سے سینکڑوں گواہ بنا لیے
آئنہ ساز ہستی اصحاب کو ملی
ہر آئنہ خود میں اپنا اصل نکلا
عباس نے علم کی دستار سنبھالی
عمار نے فقر میں شہنشاہی کی
زید نے بیٹے کی نشت سنبھالی
غلامی سے کیسی فضیلیت پالی
محمد کے غلاموں کا شمار نہیں
ان کا یاروں سا کوئی یار نہیں
آزادی کا پروانہ غلامی کے سر کیا
جو آپ کی صحبت میں ہوکے رہ گیا​
بہت کمال ،ماشاءاللہّ ماشاءاللہّ
جیتی رہیے، دل بہت خوش ہوتا ہے
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
 

سیما علی

لائبریرین
لمحہ لمحہ ملا ہے درد صدیوں کا
ایک پل میں سہا ہے درد صدیوں کا

ساز کی لے پہ سر دھنتی رہی دنیا
تار نے جو سہا ہے درد صدیوں کا

چھیڑ ! اب پھر سے ،اے مطرب! وہی دھن تُو۔۔۔!
اب کہ نغمہ بنا ہے درد صدیوں کا

گیت میرے سنیں گے لوگ صدیوں تک
شاعری نے جیا ہے درد صدیوں کا

ہوش کر ساز کا قوال تو اپنے۔۔!
ہر کسی کو دیا ہے درد صدیوں کا۔۔۔!

میرا نغمہ ، مرا سُر ، ساز بھی اپنا
آئنہ سا بنا ہے درد صدیوں کا

میری ہی دُھن پہ محوِ رقص ہے کوئی ۔۔؟
ساز کس کا بنا ہے درد صدیوں کا ؟​
:in-love::in-love::in-love::in-love::in-love:
 

سیما علی

لائبریرین
الف کے واسطے دل بھی ہے

الف کے واسطے دل بھی ہے
الف کے لیے یہ جہاں بھی ہے۔
الف نے رنگ سجایا ایہہ دنیا دا
الف نے میم دے واسطے سوانگ رچایا۔

میم ساڈے دل دی ہستی وچ سمایا ہے۔
میم ساڈے انگ انگ وچ ،ذات نوں مست بنایا
میم دی ہستی مستی اجی ویکھی کوئی نا
میم نے فر وی دل وچ وسیب بنایا ہے


بے خود کیے دیتے ہیں اندز حجابانہ
آ ! دل میں تجھ میں رکھ لوں اے جلوہ جاناں
جب اللہ تعالیٰ پیارے آقاﷺ کے پیار کی قسمیں اپنے کلام میں کھاتا ہے تو ہم کیوں نہ کھائیں ۔ وہ پیارا نبیﷺ جس کو ہادی بر الحق کہا اللہ تعالیٰ نے اور ان کو رسالت و نبوت سے سرفراز کیا۔ آپﷺ پر قرانِ حکیم پر قران کریم اتارا گیا۔ وہ کلام جو حکمتوں سے بھرپور ہے ۔ میرے پیارے مولاﷺ کی قسمیں بھی بڑی پیاری ہیں ۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک کی قسموں میں پیار اور دلار ہوتا ہے ۔​

وہ رب جس نے آقا ِ دو جہاں کو اپنے کرم و فضل سے نوازا۔ وہ رب جس نے میرے پیارا آقاﷺ کی تعریف کی ۔ وہ رب جس نے سدرۃ المنتہیٰ تک آپ کے ساتھ روح الامین کو رکھا ۔ وہ رب جس نے معراج کا تحفہ بخشا ۔ اس پیاری سی قسم کے ہم کیوں نہ قربان جائیں ۔ اس کو قرانِ پاک کا دل کہتے ہیں ۔ اللہ پاک کے کلام کے دل یعنی مرکز اور اس کی ابتدا میرا مالک پیارے محبوب ﷺ کے نام سے کر رہا ہے ، جب ابتدا اِس پیارے نام سے ہے تو انتہا کیا ہوگی ۔ انتہا بھی ابتدا ہے اور ابتدا بھی انتہا ہے ۔ اس سے پہلے بھی کچھ نہیں ہے اور اس کے بعد بھی کچھ نہیں ہے ۔ یہ میرے اللہ کا ہم سب لوگوں کو ایک تحفہ ہے کہ ہم تک قرانِ پاک موجود اسی حالت میں ہے ، جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اتارا تھا۔ آپ کو مستقیم راستے پر استوار کرکے بھیجا گیا تاکہ دنیا کی تمام رہ جانے والی امتیں اس راہ پر آجائیں ۔ وہ راہ جو اچھائی کی ہے اس راہ پر چلنے والے ہی اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو حضور پر نورﷺ کا پیرو کار بنایا۔ ہم کو اسی راستے پر چلنا ہے ۔​

حق ! سیدھے راستے کی ایقان ہر کسی کو ملے گی ۔ اس کی پہچان کرنے والے تو ہدایت پا جائیں گے مگر اکثر لوگ اس راستے کو ماننے سے انکار کردیں گے بالکل اسی طرح کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں ۔ جو اس راستے کو جان کر اپنے آپ کو ہدایت کی راہ پر لے آئیں گے وہی اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول و منظور ہوں گے


افسوس ! دکھ ! رنج اور ندامت ۔۔۔۔۔۔۔۔​

کس بات پر ۔۔۔ اس بات پر جس کے پاس حق پہنچے اور وہ حق کو نہ مانے اور نہ ماننے والے کو وعید سنا دی گئی ہے ۔ جس طرح ایک مفلس دنیا کی لذتوں کو محسوس نہیں کر سکتا مگر حسرت تو رکھتا ہے ۔۔۔! مایوسی کے خواہش پوری نہ ہوسکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ جو حق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں یا انکار دیں گے ان کے دل و دماغ ، ان کے اعصاب ، ان کے روح و جسم سب پر دنیا اپنے نشان ثبت کر دے گی اور وہ ان نشانات کو مٹا نہ سکیں گے ۔ ان نگاہوں کے پردے کبھی حق کے لیے نہ اٹھیں گے اور نہ ہی ان کا دل حق کی مالا جپ سکے گا، اس سے برا ان کے لیے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ان کا انکار اس ہدایت کو ماننے سے انکاری ! بالکل ویسے ہی جیسے رب تعالی نے پہلے انبیاء کرام بھیجے ، حضرت موسی علیہ السلام کو بھیجا اور لوگوں نے ان سے رسول ہونے کی نشانی مانگی ۔۔۔آسمان سے من و سلوی اتارا گیا۔ اور معجزات کو ان کے ہاتھ اور عصا میں استوار کیا گیا۔ اور حضرت عیسی کو ''قم با اذن اللہ '' کا معجزہ دیا گیا ۔ان لوگوں نے باری تعالیٰ کی روشنیوں پر اعتبار نہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! کیا رب کا محبوب جس کا مجسم تمام معجزوں کو لیے ہوئے ہے اس بابرکت ذات کو ''رد'' کرنا اللہ کو منظور کہاں !ً جس کو تسبیح ملائک پڑھتے ہیں اور جس کا مدح خواں رب باری تعالیٰ کی ذات خود ہے ۔ اس ذات کی نفی گویا کائنات کی نفی ہے ، اپنی ذات کی نفی ہے ۔​

میری خوش قسمتی کی میں آپﷺ کی امتی ۔۔۔۔۔ وہ ذات جو نفاق سے پاک ، کینہ پروری سے پاک ہے ۔ شافع دو جہاں ہمارے لیے روتے رہے ہیں اور قیامت کے دن بھی روئیں گے ۔رحمت کا سوچوں تو نبی پاکﷺ کا خیال آتا ہے کہ طائف والے ہیں ، چاہتے تو ۔۔۔! اگر چاہتے تو ہلاک کرنے کی بد دعا دیتے اگر چاہتے تو ! ہندہ ! جس نے سید الشہدا حضرت حمزہ رض کا جگر چبا ڈالا ، اس کو بد دعا دیتے مگر آپ ٹھہرے نا ! رحمت ٹھہرے تمام عالم کے لیے ۔۔۔ ! اس لیے امت کے لیے راتوں کو جاگ جاگ کر روتے ۔ یہ نہیں کہ اپنے عہد کے لوگوں کے لیے دعا فرماتے بلکہ آنے والے عہد کے لیے بھی دعا فرماتے ۔ وہ نبی ! میرے نبی ۔۔

میں کیوں نا حق ادا کردوں ۔۔۔
حق تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔۔۔۔۔۔!
نبی نبی ۔۔ یا نبی،ﷺ یا نبیﷺ
دل سے نکلے ،یا نبی ﷺ
زباں بھی پڑھے ،یا نبی ﷺ
کلمہ میں بھی ہو یا نبیﷺ
قراں میں رب کہے۔ یانبیﷺ
مدینہ و مکہ کی صدا۔ یا نبی ﷺ
ہند و ایران میں ہے صدا یا نبیﷺ
اقصیٰ میں انبیاء کہیں یانبیﷺ
عرش کے مکین بولے یا نبی ﷺ
فرش کی ہے یہ صدا یا نبیﷺ
قطرہ قطرہ بدن میں کہے یا نبیﷺ
آؤ ! سارے مل کر تو بولیں یا نبیﷺ
نبی ﷺ نبیﷺ ، نبیﷺ میرے نبیﷺ
مسلک ہوئے ختم اس صدا پر یا نبیﷺ
انساں سارے ہیں کہے یا نبیﷺ
عشق و عاشق کا نعرہ ہے یا نبیﷺ

ان پر ایمان لانے سے سارے گناہ اس طرح دھلنے لگتے ہیں جس طرح صابن سے ہاتھ کی میل ، سارے راستے متوازی ہوجاتے ہیں ۔ آنکھیں تو آنکھیں۔۔۔۔! بصارت بھی مل جاتی ہے ۔ امامت و سالاری کو چھوڑیے ، اس کو شفاعت کا حق بھی مل جاتا ہے ۔ جب آنکھ نبیﷺ کا وضو کرے تو دل میں نعت کے پھول کھلتے ہیں


اس بات میں اور اس بات میں!
آپ نظر آتے ہو ہر ذات میں!
بہروپ پھرتے ہیں دیوانے!
چلتے ہیں شانے ملانے!
کون کس کا محرم حال جانے!
صحرا کو جنگل اب کیا جانے!
اس دنیا میں انسان کی قیمت!
صورت و مورت سے بصیرت!
حرص و تکبر کی لکڑی!
او لکڑی! دنیا مکڑی!
کیا جانے درد کا حال!
ذرہ ذرہ ہے نڈھال!
ہو گئے ہم تو مست حال!
کون جانے کس کی کھال!
اللہ اللہ کرکے سارے!
''ھو ''نال گلاں ماریے!
''ھو'' نے انگ انگ وچ!
کردی سج دھج!
اب تو ناچ سنگ!
''الف'' اور'' م ''کا رنگ
مٹا اب سب زنگ
چل زنگی! اٹھ رنگ نال!
ناچ تے مار دھمال!
ہجر نے ہن ستانا!
اب تو ہے نبھانا!
چل ہوگیا یارانہ!
اور مل گیا پرانا!
سانس مہک اٹھی!
جاں لہک اٹھی!
چھلکا یہ پیمانہ!
مٹ گیا تفرقانہ!
جان جاناں! دور نہ جاناں!
دل تم پہ قربان جاناں​
وہی اقبؔال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

پروفیسر اقبال عظیم
 

سیما علی

لائبریرین
لمحہ لمحہ ملا ہے درد صدیوں کا
ایک پل میں سہا ہے درد صدیوں کا

ساز کی لے پہ سر دھنتی رہی دنیا
تار نے جو سہا ہے درد صدیوں کا

چھیڑ ! اب پھر سے ،اے مطرب! وہی دھن تُو۔۔۔!
اب کہ نغمہ بنا ہے درد صدیوں کا

گیت میرے سنیں گے لوگ صدیوں تک
شاعری نے جیا ہے درد صدیوں کا

ہوش کر ساز کا قوال تو اپنے۔۔!
ہر کسی کو دیا ہے درد صدیوں کا۔۔۔!

میرا نغمہ ، مرا سُر ، ساز بھی اپنا
آئنہ سا بنا ہے درد صدیوں کا

میری ہی دُھن پہ محوِ رقص ہے کوئی ۔۔؟
ساز کس کا بنا ہے درد صدیوں کا ؟​
بہت اعلیٰ
انسان اپنی دُھن ، لگن کی خاطر نفع لینے سے نقصان ملتا چلا جائے تاہم ہستی اسی سمت پر جستجو کے رنگ بکھیرتی چلی جاتی ہے اور آپ نت نئے رنگ بکھرتی چلی جاتی ہیں ماشاء اللہّ:in-love::in-love::in-love::in-love::in-love:
 

فہد مقصود

محفلین
بابا بلھے شاہ رح کو ان کے استادِ گرامی نے مسجد میں بوقت جمعہ مٹھائی کی تقسیم کا کہا. آپ نے پوچھا..

اے محترم ! کس طرز پر تقسیم کروں : اللہ تعالیٰ کی طرز پر یا حضرت محمدﷺ کی طرز پر.... یہ سوال استادِ گرامی سمجھ نا پائے اور کہ دیا اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر .. .! اور آپ نے تقسیم میں ''تضاد'' رکھا..! استاد محترم نے ''تضاد'' کی وجہ ٌوچھی تو کہا اللہ کی تقسیم تضاد پر چلتی ہے اور نبی کی تقسیمﷺ مساوات پر.....! اللہ تعالیٰ کے دینے اور نہ دینے میں حکمت پوشیدہ ہے اور شکوہ مناسب لگتا ہی نہیں جبکہ نبیﷺ کی تقسیم میں میں مساوات ہے .. جو آئے گا ، جس طریق کا پیروکار ہوگا اس کو جناب نبی پاکﷺ سے مساوات کی بنیاد پر ملے گا اور اس مساوات سے دنیا میں محبت کا رنگ ایسا نکھرنا ہے ، ایسا نکھرنا ہے کہ سب کا طریق ہی ایک ہوجانا ہے .. سب کا قبلہ ہی ایک ہوجانا ہے ... سب نے راستہ سیدھا کر لینا .... یہ محبت کو تقاضہ ہے اور اس تقاضے کو ہم بھلا بیٹھے ہیں .. یہ تقاضا کیا محبت کی جہاں میں ترغیب نہیں دیتا ؟ دیتا ہے...! کوئی سمجھے تو سہی ...! کوئی مانے تو سہی ...! کوئی تو سمجھے ...! سمجھنا بالکل اسی طرح جس طرح '' جاننا اور نہ جاننا'' برابر نہیں ہوسکتا ہے َ؟

آپ سے کئی دن پہلے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ سے منسوب اس قصے کا حوالہ مانگا تھا لیکن اب تک آپ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

خدائے رب العزت اس قوم پر رحم فرمائے۔ ہماری کتب میں بزرگانِ دین سے متعلق ناجانے کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جن کی بزرگانِ دین کے نام سے ترویج کی گئی ہے اور جو کہ ان سے غلط منسوب محسوس ہوتی ہیں۔ اگر ان باتوں کی قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیق کی جائے تو ایسی باتیں قرآن اور حدیث کے خلاف نکلتی ہیں۔ ایسی باتیں یقیناً اولیاء اللہ رحمۃ اللہ اور عظیم رتبہ کے حامل بزرگانِ دین کی کہیں ہوئی ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔ چاہے بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ ہوں، بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ ہوں یا حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ، قرآن اور حدیث کے خلاف جا ہی نہیں سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان کے نام سے یہ سب باتیں مشہور کی ہیں خدائے رب العزت ان کا جھوٹ سب کے سامنے ضرور لائے گا اور ان سے ضرور سوال کرے گا۔

اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک "العادل" بھی ہے جس کے معنی ہیں سراپا عدل اور انصاف۔ نعوذباللہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رب العالمین نے انصاف سے کام نہیں لیا چاہے اس کے پیچھے حکمت ہی پوشیدہ کیوں نہیں تھی؟؟؟

اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو اس دنیا میں غربت دی ہے یا اسے کمزور بنایا ہے تو وہ قیامت کے دن اس کی اس کمی کو پورا فرمائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ یہ خدائے رب العزت کی طرف سے امتحان ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ، بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الزھد ۳۷ (۲۳۵۱) (حسن)
(سند میں محمدبن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف و مضطرب الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ، تراجع الألبانی رقم : ۴۹۰) سنن ابن ماجہ۴۱۲۳-
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''فقیرمہاجرین ،مالدارمہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں دا خل ہوں گے''۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۱)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۳۷ (۲۳۵۴) (حسن صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۲۲-

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومنوں میں سے محتاج اورغریب لوگ مالد اروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے )پانچ سوسال کے برابر ہے ''۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن (سورۃن والقلم)۱ (۴۹۱۸)، الأیمان النذور ۹ (۶۶۵۷)، م/الجنۃ ۱۳ (۲۸۵۳)، ت/صفۃ جہنم ۱۳ (۲۶۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۶) (صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۱۶-

حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں'' ؟ ہروہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزورسمجھیں ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج ، پیسہ جوڑجوڑکررکھنے ،اورتکبرکرنے والا ہے '' ۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، هُوَ سِمَاكٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۶۴)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۱۳ (۶۴۴۳)، حم (۵/۱۵۲،۱۵۷) (حسن صحیح)
" وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ " کا جملہ شاذ ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۱۶۹) سنن ابن ماجہ ۴۱۳۰-

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' زیادہ مال والے لوگ قیامت کے دن سب سے کمتر درجہ والے ہوں گے ، مگر جو مال کو اس طرح اور اس طرح کرے اور اسے حلال طریقے سے کمائے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی کثرت سے اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے ۔


اب ذرا سوچئے کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں پھر کہاں سے تضاد ہوا؟؟؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَم ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُه‘‘دیکھو میری تعریف میں غلو نہ کرنا، جس طرح نصاری نے ابن مریم i کی تعریف میں غلو کیا ہے، بے شک میں بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو)۔
البخاري أحاديث الأنبياء (3261).


خدا ہمیں غلو سے بچائے۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اتنا آگے نکل جایا جائے کہ اللہ رب العزت کی صفت کے خلاف بات کر دی جائے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

سب بہن بھائیوں سے التماس ہے کہ اسلام کے نام پر کوئی بھی بات آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں کہ کہیں وہ قرآن و حدیث کے خلاف تو نہیں جا رہی ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے اللہ رب العزت کی صفت "عدل" کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو دین کی درست تعلیم حاصل کرنے اور ترویج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے خلاف تعلیمات کی ترویج کرنے سے بچائے آمین ثم آمین۔

اس میں نہ کسی کی ہار یا جیت کا سوال ہے اور نہ ہی کسی کی انا پرستی کو بیچ میں آنا چاہئے۔ اگر کسی کی بات قرآن اور حدیث کے خلاف جا رہی ہے تو اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور ایسی باتوں کی ترویج کرنے سے خود کو روکنا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر لکھی تحاریر ہمیشہ رہ جاتی ہیں۔ لوگ آتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر کسی کو علم ہو جائے کہ اس کی کہی ہوئی بات قرآن اور حدیث کے خلاف ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے حذف کر دے تاکہ لوگ اسلام کے نام پر غلط باتوں پر یقین کرنے سے بچ جائیں۔
 

فہد مقصود

محفلین
قارئین سے التماس ہے کہ تحاریر کے علاوہ ان آیات اور احادیث پر بھی غور کریں۔ اپنی عقل کا استعمال کریں۔ کوئی بھی بات قرآن اور احادیث کے خلاف جا رہی ہو تو اسے رد کر دیں کیونکہ اسلام میں اصل معیار قرآن اور صحیح احادیث ہیں۔ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ۔ ضروری نہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جا رہا ہو وہاں ہر بات قرآن و حدیث کی روشنی میں درست کہی گئی ہو۔ قرآن اور احادیث کا مطالعہ کریں اور خود تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں۔ اسلام کی تعلیمات کو قرآن اور احادیث کے مطالعہ کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا ہے۔ اسلام کی اصل خدمت تو قرآن اور احادیث کی تعلیمات کی ترویج ہے۔

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
ترجمہ: آپ کہہ دیں: میں اپنے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت سے مفادات جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں تو صرف ایمان لانے والی قوم کو ڈرانے اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ [الأعراف:188]


قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں ۔[الأنعام:50]


يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
ترجمہ: اے ایمان والو! تم سب اللہ تعالی کے محتاج ہو، اور اللہ تعالی ہی غنی اور تعریف کے لائق ہے۔[فاطر:15]

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَ۔ٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (القصص: ۵۶)

"اے نبی جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔"

وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ} (یوسف:۱۰۳)
"اور آپ خواہ کتنا ہی چاہیں ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔"

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ
ترجمہ: بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ [النمل:62]"


وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّ۔هِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ
’’ اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا۔ “ [ 10-يونس:106]

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّ۔هُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
’’ اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس مصیبت کو دور کر نے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ “ [ 10-يونس:108]

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ
’’ مجبور و بے بس شخص کی دعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ [27-النمل:62]

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾) (المومن: 60)
"اور تمہارے رب نے فرمایا: "مجھے پکارو! میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا، بلاشبہ جو لوگ میری عبادت (یعنی مجھے پکارنے اور مجھ سے دعائیں کرنے) سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے۔"


(الدعا هو العبادة) (جامع الترمذي' الدعوات' باب منه "الدعاء مخ العبادة" ح: 3372)

"پکارنا (دعا کرنا) عبادت ہی ہے۔"

(الدعا مخ العبادة) (جامع الترمذي' الدعوات' باب منه "الدعاء مخ العبادة" ح: 3371)
"دُعا (پکارنا) عبادت کا مغز ہے۔"

واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك
’’ جان لو ! اگر ساری امت تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو نفع نہیں پہنچا سکتی مگر وہ جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ “ [ترمذي، كتاب صفةالقيامة : باب منه 2016]

صحیح مسلم : (2577) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں ، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں ، اس لیے مجھ سے رزق مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو!تم سب کے سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہننے کیلیے دوں ، اس لیے مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو، اور میں سب گناہ معاف کرتا ہوں، اس لیے مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔)

اذا سالت فاسال الله واذا استعنت فاستعن بالله) (جامع الترمذي' صفة القيامة' باب حديث حنظلة' ح: 5216 )
"جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ۔"

طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں روایت کی ہے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک منافق مومنوں کو تکلیف دیا کرتا تھا، تو صحابہ کرام نے کہا: کہ چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منافق کے مقابلے میں مدد مانگتے ہیں، تو صحابہ کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے غوث نہیں بنایا جا سکتا، غوث تو صرف اللہ ہے)"

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: (( ما شاء اللّٰہ و شئت)) جو اللہ اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ آپ نے فرمایا: "تو نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا۔ بلکہ کہو جو اللہ اکیلا چاہے۔ (وہی ہوتا ہے)" (مسند احمد ۱۸۳۹،۱؍۲۱۴)
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
نور!!!!!
آپ واقعی سراپا نور ہیں،بہت عمدہ ایک ایک لفظ سچائی سے گندھا ہوا دل میں اتر گیا، سچ ہے آگہی بہت اذیت ہے اسکا دکھ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس کرب سے گذرتے ہیں،باقی سب تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بے حس ہیں جبکہ وہ جس تکلیف سے گذر رہے ہوتے ہیں وہ یا تو وہ خود سمجھتے ہیں یا اُن کے جیسی آگہی رکھنے والے ؀
چادریں سروں سے سِرک کر
مزاروں پہ چڑھنے لگی ہیں
مذہب سے رنجشیں بڑھنے لگی ہیں
محبت کے دھاگے رشتوں کے بجائے
درگاہ کی جالیوں پہ باندھے جاتے ہیں
بھوکے پیٹ کو لوگ دانشوری سمجھاتے ہیں
پھٹے ہوئے رستے سرد خیمے میں
جسم کی حرارت روا ہوتی ہے ۔۔۔۔
یہاں دکھ طبعی
مرگ کا کارن قضا ہوتی ہے
خزاں کو کوئی کچھ نہیں کہتا
پتوں کی مجرم ہوا ہوتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از ثروت نجیب

بہت کمال ،ماشاءاللہّ ماشاءاللہّ
جیتی رہیے، دل بہت خوش ہوتا ہے
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے


وہی اقبؔال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

پروفیسر اقبال عظیم

بہت اعلیٰ
انسان اپنی دُھن ، لگن کی خاطر نفع لینے سے نقصان ملتا چلا جائے تاہم ہستی اسی سمت پر جستجو کے رنگ بکھیرتی چلی جاتی ہے اور آپ نت نئے رنگ بکھرتی چلی جاتی ہیں ماشاء اللہّ:in-love::in-love::in-love::in-love::in-love:

آپ کا بہت بہت شکریہ، اس قدر محبت پر کہ جواب کے لیے الفاظ نہیں پاس میرے
 

نور وجدان

لائبریرین
آپ کی ہمت کو داد دینا بنتی ہے کہ بکثرت حوالے آپ نے لکھے. میرے لیے ان مراسلوں کو پڑھنا ممکن نہیں ہے. اپ کو تحریر اچھی لگی تو شکریہ اور اگر نہیں لگی تب بھی شکریہ. میری باتیں یا سوچ اک تحریر ہے، تبلیغ نہیں. نا ان تحاریر کی تبلیغ مقصود ہے . آپ کے سیر حاصل تبصرے کا شکریہ .
آپ سے کئی دن پہلے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ سے منسوب اس قصے کا حوالہ مانگا تھا لیکن اب تک آپ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

خدائے رب العزت اس قوم پر رحم فرمائے۔ ہماری کتب میں بزرگانِ دین سے متعلق ناجانے کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جن کی بزرگانِ دین کے نام سے ترویج کی گئی ہے اور جو کہ ان سے غلط منسوب محسوس ہوتی ہیں۔ اگر ان باتوں کی قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیق کی جائے تو ایسی باتیں قرآن اور حدیث کے خلاف نکلتی ہیں۔ ایسی باتیں یقیناً اولیاء اللہ رحمۃ اللہ اور عظیم رتبہ کے حامل بزرگانِ دین کی کہیں ہوئی ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔ چاہے بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ ہوں، بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ ہوں یا حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ، قرآن اور حدیث کے خلاف جا ہی نہیں سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان کے نام سے یہ سب باتیں مشہور کی ہیں خدائے رب العزت ان کا جھوٹ سب کے سامنے ضرور لائے گا اور ان سے ضرور سوال کرے گا۔

اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک "العادل" بھی ہے جس کے معنی ہیں سراپا عدل اور انصاف۔ نعوذباللہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رب العالمین نے انصاف سے کام نہیں لیا چاہے اس کے پیچھے حکمت ہی پوشیدہ کیوں نہیں تھی؟؟؟

اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو اس دنیا میں غربت دی ہے یا اسے کمزور بنایا ہے تو وہ قیامت کے دن اس کی اس کمی کو پورا فرمائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ یہ خدائے رب العزت کی طرف سے امتحان ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ، بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الزھد ۳۷ (۲۳۵۱) (حسن)
(سند میں محمدبن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف و مضطرب الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ، تراجع الألبانی رقم : ۴۹۰) سنن ابن ماجہ۴۱۲۳-
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''فقیرمہاجرین ،مالدارمہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں دا خل ہوں گے''۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۱)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۳۷ (۲۳۵۴) (حسن صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۲۲-

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومنوں میں سے محتاج اورغریب لوگ مالد اروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے )پانچ سوسال کے برابر ہے ''۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن (سورۃن والقلم)۱ (۴۹۱۸)، الأیمان النذور ۹ (۶۶۵۷)، م/الجنۃ ۱۳ (۲۸۵۳)، ت/صفۃ جہنم ۱۳ (۲۶۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۶) (صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۱۶-

حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں'' ؟ ہروہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزورسمجھیں ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج ، پیسہ جوڑجوڑکررکھنے ،اورتکبرکرنے والا ہے '' ۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، هُوَ سِمَاكٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۶۴)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۱۳ (۶۴۴۳)، حم (۵/۱۵۲،۱۵۷) (حسن صحیح)
" وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ " کا جملہ شاذ ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۱۶۹) سنن ابن ماجہ ۴۱۳۰-

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' زیادہ مال والے لوگ قیامت کے دن سب سے کمتر درجہ والے ہوں گے ، مگر جو مال کو اس طرح اور اس طرح کرے اور اسے حلال طریقے سے کمائے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی کثرت سے اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے ۔


اب ذرا سوچئے کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں پھر کہاں سے تضاد ہوا؟؟؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَم ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُه‘‘دیکھو میری تعریف میں غلو نہ کرنا، جس طرح نصاری نے ابن مریم i کی تعریف میں غلو کیا ہے، بے شک میں بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو)۔
البخاري أحاديث الأنبياء (3261).


خدا ہمیں غلو سے بچائے۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اتنا آگے نکل جایا جائے کہ اللہ رب العزت کی صفت کے خلاف بات کر دی جائے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

سب بہن بھائیوں سے التماس ہے کہ اسلام کے نام پر کوئی بھی بات آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں کہ کہیں وہ قرآن و حدیث کے خلاف تو نہیں جا رہی ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے اللہ رب العزت کی صفت "عدل" کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو دین کی درست تعلیم حاصل کرنے اور ترویج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے خلاف تعلیمات کی ترویج کرنے سے بچائے آمین ثم آمین۔

اس میں نہ کسی کی ہار یا جیت کا سوال ہے اور نہ ہی کسی کی انا پرستی کو بیچ میں آنا چاہئے۔ اگر کسی کی بات قرآن اور حدیث کے خلاف جا رہی ہے تو اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور ایسی باتوں کی ترویج کرنے سے خود کو روکنا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر لکھی تحاریر ہمیشہ رہ جاتی ہیں۔ لوگ آتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر کسی کو علم ہو جائے کہ اس کی کہی ہوئی بات قرآن اور حدیث کے خلاف ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے حذف کر دے تاکہ لوگ اسلام کے نام پر غلط باتوں پر یقین کرنے سے بچ جائیں۔

قارئین سے التماس ہے کہ تحاریر کے علاوہ ان آیات اور احادیث پر بھی غور کریں۔ اپنی عقل کا استعمال کریں۔ کوئی بھی بات قرآن اور احادیث کے خلاف جا رہی ہو تو اسے رد کر دیں کیونکہ اسلام میں اصل معیار قرآن اور صحیح احادیث ہیں۔ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ۔ ضروری نہیں کہ جہاں اللہ تعالیِ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جا رہا ہو وہاں ہر بات قرآن و حدیث کی روشنی میں درست کہی گئی ہو۔ قرآن اور احادیث کا مطالعہ کریں اور خود تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں۔ اسلام کی تعلیمات کو قرآن اور احادیث کے مطالعہ کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا ہے۔ اسلام کی اصل خدمت تو قرآن اور احادیث کی تعلیمات کی ترویج ہے۔

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
ترجمہ: آپ کہہ دیں: میں اپنے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت سے مفادات جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں تو صرف ایمان لانے والی قوم کو ڈرانے اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ [الأعراف:188]


قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں ۔[الأنعام:50]


يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
ترجمہ: اے ایمان والو! تم سب اللہ تعالی کے محتاج ہو، اور اللہ تعالی ہی غنی اور تعریف کے لائق ہے۔[فاطر:15]

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَ۔ٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (القصص: ۵۶)

"اے نبی جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔"

وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ} (یوسف:۱۰۳)
"اور آپ خواہ کتنا ہی چاہیں ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔"

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ
ترجمہ: بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ [النمل:62]"


وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّ۔هِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ
’’ اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا۔ “ [ 10-يونس:106]

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّ۔هُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
’’ اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس مصیبت کو دور کر نے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ “ [ 10-يونس:108]

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ
’’ مجبور و بے بس شخص کی دعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ [27-النمل:62]

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾) (المومن: 60)
"اور تمہارے رب نے فرمایا: "مجھے پکارو! میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا، بلاشبہ جو لوگ میری عبادت (یعنی مجھے پکارنے اور مجھ سے دعائیں کرنے) سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے۔"


(الدعا هو العبادة) (جامع الترمذي' الدعوات' باب منه "الدعاء مخ العبادة" ح: 3372)

"پکارنا (دعا کرنا) عبادت ہی ہے۔"

(الدعا مخ العبادة) (جامع الترمذي' الدعوات' باب منه "الدعاء مخ العبادة" ح: 3371)
"دُعا (پکارنا) عبادت کا مغز ہے۔"

واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك
’’ جان لو ! اگر ساری امت تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو نفع نہیں پہنچا سکتی مگر وہ جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ “ [ترمذي، كتاب صفةالقيامة : باب منه 2016]

صحیح مسلم : (2577) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں ، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں ، اس لیے مجھ سے رزق مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو!تم سب کے سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہننے کیلیے دوں ، اس لیے مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو، اور میں سب گناہ معاف کرتا ہوں، اس لیے مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔)

اذا سالت فاسال الله واذا استعنت فاستعن بالله) (جامع الترمذي' صفة القيامة' باب حديث حنظلة' ح: 5216 )
"جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ۔"

طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں روایت کی ہے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک منافق مومنوں کو تکلیف دیا کرتا تھا، تو صحابہ کرام نے کہا: کہ چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منافق کے مقابلے میں مدد مانگتے ہیں، تو صحابہ کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے غوث نہیں بنایا جا سکتا، غوث تو صرف اللہ ہے)"

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: (( ما شاء اللّٰہ و شئت)) جو اللہ اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ آپ نے فرمایا: "تو نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا۔ بلکہ کہو جو اللہ اکیلا چاہے۔ (وہی ہوتا ہے)" (مسند احمد ۱۸۳۹،۱؍۲۱۴)
 

نور وجدان

لائبریرین
ماشاء اللہ۔ بہت ہی لاجواب۔

یہ سلسلہ رُک کیوں گیا نور وجدان
اسے جاری رکھیں ناں۔

محب علوی اس کی تو ای بک بنا کر اسے لائبریری میں ہونا چاہیے۔
کافی تحاریر موجود ہیں بلاگ میں ڈرافٹس کی صورت. بس ایسے ہی روک دیا تھا شئیر کرنا ..مین کردوں گی شئیر
 

فہد مقصود

محفلین
آپ کی ہمت کو داد دینا بنتی ہے کہ بکثرت حوالے آپ نے لکھے. میرے لیے ان مراسلوں کو پڑھنا ممکن نہیں ہے. اپ کو تحریر اچھی لگی تو شکریہ اور اگر نہیں لگی تب بھی شکریہ. میری باتیں یا سوچ اک تحریر ہے، تبلیغ نہیں. نا ان تحاریر کی تبلیغ مقصود ہے . آپ کے سیر حاصل تبصرے کا شکریہ .

انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ رب العزت اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بات کی جائے اور کہا جائے یہ تبلیغ نہیں ہے؟؟؟ ہو سکتا ہے آپ کی نیت تبلیغ کی نہ ہو لیکن پڑھنے والے تو پڑھ رہے ہیں اور سیکھ بھی رہے ہیں۔

اللہ رب العزت اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بات کی جائے گی تو اسے قرآن و احادیث کی روشنی ہی میں جانچا جائے گا! آپ کی مرضی آپ قرآن کی واضح آیات اور صحیح احادیث کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتی ہیں تو آپ جانیں اور آپ کا کام جانے! آپ نے لکھا ہے، ہم نے جو محسوس کیا وہ لکھ دیا۔ ہم نے تو جو بھی ہمت کی ہے وہ قرآن اور احادیث کی صحیح تعلیمات کی ترویج کی خاطر کی ہے۔ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا ہے!!!

اللہ کی تقسیم میں تضاد کہا جائے اور یہ امید کی جائے کہ کبھی کوئی جواب ہی نہیں آئے گا تو ایسا نہیں ہو سکتا ہے!

ہم نے یہ سب قارئین کے لئے بھی لکھا ہے! جسے سمجھنا ہوگا اور جو قرآن اور صحیح احادیث کو اہمیت دے گا تو ضرور قرآن کی آیات اور احادیث کا مطالعہ کر لے گا اور قرآن اور احادیث کے خلاف باتوں پر یقین کرنے سے بچ جائے گا۔
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
انا للہ وانا الیہ راجعون!
اللہ رب العزت اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بات کی جائے اور کہا جائے یہ تبلیغ نہیں ہے؟؟؟ ہو سکتا ہے آپ کی نیت تبلیغ کی نہ ہو لیکن پڑھنے والے تو پڑھ رہے ہیں اور سیکھ بھی رہے ہیں۔

اللہ رب العزت اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متلعق بات کی جائے گی تو اسے قرآن و احادیث کی روشنی ہی میں جانچا جائے گا! آپ کی مرضی آپ قرآن کی واضح آیات اور صحیح احادیث کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتی ہیں تو آپ جانیں اور آپ کا کام جانے! آپ نے لکھا ہے، ہم نے جو محسوس کیا وہ لکھ دیا۔ ہم نے تو جو بحی ہمت کی ہے وہ قرآن اور اھادیث کی صھیھ تعلیمات کی ترویج کی خاطر کی ہے۔ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا ہے!!!

ہم نے یہ سب قارئین کے لئے بھی لکھا ہے! جسے سمجھنا ہوگا اور جو قرآن اور صحیح احادیث کو اہمیت دے گا تو ضرور قرآن کی آیات اور احادیث کا مطالعہ کر لے گا اور قرآن اور احادیث کے خلاف باتوں پر یقین کرنے سے بچ جائے گا۔
یہی بات ہے محترم. بات سمجھ کی ہے. جس کو سمجھ ہوگی، اسکے لیے چورواہوں پر کشمکش نہ ہوگی! لڑی کا نام ہے میری سوچ کا سفر ... آپ کی بات کے جواب میں جواب سے جواب تک کافی بات لمبی جا سکتی ہے... اس لیے بس جوابا دو باتیں عرض کردوں .. تضاد حسن ہے. عدل کو دیکھیں یا فضل و رحمت کو؟ تقسیم کے حوالے سے دیکھ لیں آپ روز محشر تک لے گئے. محشر میں تقسیم نہیں ہونی. عدل بھی ہوگا، رحم بھی، فضل بھی ... دنیا بھی ایسے چل رہی ہے. جہاں تک آپ نے حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کی. وہ آپ اسی لڑی میں کرچکے ہیں .. میں نے آپ کی بات سمجھ لی. آپ اسی تحریر کو دو تین بار پڑھیں شاید سمجھ آجائے. ذو معنی تحریر کا اک معنی نہیں ہوتا ہے. خیر! آپ نے قارئین کو مطلع کردیا ہے سب احتیاط سے کام لیں گے
 

فہد مقصود

محفلین
یہی بات ہے محترم. بات سمجھ کی ہے. جس کو سمجھ ہوگی، اسکے لیے چورواہوں پر کشمکش نہ ہوگی! لڑی کا نام ہے میری سوچ کا سفر ... آپ کی بات کے جواب میں جواب سے جواب تک کافی بات لمبی جا سکتی ہے... اس لیے بس جوابا دو باتیں عرض کردوں .. تضاد حسن ہے. عدل کو دیکھیں یا فضل و رحمت کو؟ تقسیم کے حوالے سے دیکھ لیں آپ روز محشر تک لے گئے. محشر میں تقسیم نہیں ہونی. عدل بھی ہوگا، رحم بھی، فضل بھی ... دنیا بھی ایسے چل رہی ہے. جہاں تک آپ نے حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کی. وہ آپ اسی لڑی میں کرچکے ہیں .. میں نے آپ کی بات سمجھ لی. آپ اسی تحریر کو دو تین بار پڑھیں شاید سمجھ آجائے. ذو معنی تحریر کا اک معنی نہیں ہوتا ہے. خیر! آپ نے قارئین کو مطلع کردیا ہے سب احتیاط سے کام لیں گے

محترمہ میں نے بہت بار غور کیا ہے آپکی تحریر پر! ایک بار نہیں بار بار! تضاد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

یہاں پر تقسیم کی بات ہوئی تھی اور اس حوالے سے احادیث نقل کی جا چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمی کیسے پوری فرمائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی پر غربت یا بیماری کی صورت میں امتحان ڈالا ہے تو وہ اس کے بدلے میں اس کو وہ عنایت فرمائے گا جو وہ مالدار اور صحت مند کو نہیں عنایت فرمائے گا۔ خدائے رب العزت کے عدل میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ پھر تضاد میں حسن کہہ کر اس بات پر سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی ہے!

رہی بات ذو معنی کی تو یہ آپ جانیں! تحریر آپکی ہے میری نہیں! اول تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذومعنی باتیں کی ہی نہیں جانی چاہئیں۔ دوسری بات اگر آپ نے کی ہے تو یہ ہوئی آپ کی ذمہ داری۔

مجھے جو اپنی ذمہ داری محسوس ہوئی میں نے وہ کر دیا ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ ایسے سوالات کون کرتا ہے کہ اللہ کی تقسیم میں تضاد ہے کسی کو غریب یا امیر کیوں بنایا کسی کو بیماری دی کسی کو صحت دی؟ غیر مسلم کرتے ہیں اور ہم ان کے لئے ایسے سوالات کے جوابات تیار رکھتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر ان کے اولین سوالات یہی ہوتے ہیں۔ اور صرف غیر مسلمان ہی نہیں، مسلمانوں کے دماغ میں بھی ایسے سوالات آتے ہیں۔ تو اس لئے میں نے رد لکھ دیا ہے۔ جس کو سمجھنا ہوگا وہ ان شاء اللہ ضرور سمجھ لے گا۔
 

نور وجدان

لائبریرین
محترمہ میں نے بہت بار غور کیا ہے آپکی تحریر پر! ایک بار نہیں بار بار! تضاد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

یہاں پر تقسیم کی بات ہوئی تھی اور اس حوالے سے احادیث نقل کی جا چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمی کیسے پوری فرمائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی پر غربت یا بیماری کی صورت میں امتحان ڈالا ہے تو وہ اس کے بدلے میں اس کو وہ عنایت فرمائے گا جو وہ مالدار اور صحت مند کو نہیں عنایت فرمائے گا۔ خدائے رب العزت کے عدل میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ پھر تضاد میں حسن کہہ کر اس بات پر سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی ہے!

رہی بات ذو معنی کی تو یہ آپ جانیں! تحریر آپکی ہے میری نہیں! اول تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذومعنی باتیں کی ہی نہیں جانی چاہئیں۔ دوسری بات اگر آپ نے کی ہے تو یہ ہوئی آپ کی ذمہ داری۔

مجھے جو اپنی ذمہ داری محسوس ہوئی میں نے وہ کر دیا ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ ایسے سوالات کون کرتا ہے کہ اللہ کی تقسیم میں تضاد ہے کسی کو غریب یا امیر کیوں بنایا کسی کو بیماری دی کسی کو صحت دی؟ غیر مسلم کرتے ہیں اور ہم ان کے لئے ایسے سوالات کے جوابات تیار رکھتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر ان کے اولین سوالات یہی ہوتے ہیں۔ اور صرف غیر مسلمان ہی نہیں، مسلمانوں کے دماغ میں بھی ایسے سوالات آتے ہیں۔ تو اس سے پہلے کہ کوئی غلط فہمی کا شکا ہو میں نے رد لکھ دیا ہے۔ جس کو سمجھنا ہوگا وہ ان شاء اللہ ضرور سمجھ لے گا۔
آپ بات کو کدھر سے کدھر لیے جارہے ہیں. آپ کا شکریہ آپ نے اصلاح کی . جزاک اللہ خیر. کوشش کریں جس تحریر کی بات ہو، وہ وہیں پر کریں ... ہر لڑی میں جا کے نہ کریں. آپ کا پھر سے شکریہ
 

نور وجدان

لائبریرین
آپ سے کئی دن پہلے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ سے منسوب اس قصے کا حوالہ مانگا تھا لیکن اب تک آپ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

خدائے رب العزت اس قوم پر رحم فرمائے۔ ہماری کتب میں بزرگانِ دین سے متعلق ناجانے کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جن کی بزرگانِ دین کے نام سے ترویج کی گئی ہے اور جو کہ ان سے غلط منسوب محسوس ہوتی ہیں۔ اگر ان باتوں کی قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیق کی جائے تو ایسی باتیں قرآن اور حدیث کے خلاف نکلتی ہیں۔ ایسی باتیں یقیناً اولیاء اللہ رحمۃ اللہ اور عظیم رتبہ کے حامل بزرگانِ دین کی کہیں ہوئی ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔ چاہے بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ ہوں، بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ ہوں یا حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ، قرآن اور حدیث کے خلاف جا ہی نہیں سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان کے نام سے یہ سب باتیں مشہور کی ہیں خدائے رب العزت ان کا جھوٹ سب کے سامنے ضرور لائے گا اور ان سے ضرور سوال کرے گا۔

اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک "العادل" بھی ہے جس کے معنی ہیں سراپا عدل اور انصاف۔ نعوذباللہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رب العالمین نے انصاف سے کام نہیں لیا چاہے اس کے پیچھے حکمت ہی پوشیدہ کیوں نہیں تھی؟؟؟

اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو اس دنیا میں غربت دی ہے یا اسے کمزور بنایا ہے تو وہ قیامت کے دن اس کی اس کمی کو پورا فرمائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ یہ خدائے رب العزت کی طرف سے امتحان ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ، بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الزھد ۳۷ (۲۳۵۱) (حسن)
(سند میں محمدبن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف و مضطرب الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے ، تراجع الألبانی رقم : ۴۹۰) سنن ابن ماجہ۴۱۲۳-
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''فقیرمہاجرین ،مالدارمہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں دا خل ہوں گے''۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۱)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۳۷ (۲۳۵۴) (حسن صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۲۲-

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مومنوں میں سے محتاج اورغریب لوگ مالد اروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے )پانچ سوسال کے برابر ہے ''۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن (سورۃن والقلم)۱ (۴۹۱۸)، الأیمان النذور ۹ (۶۶۵۷)، م/الجنۃ ۱۳ (۲۸۵۳)، ت/صفۃ جہنم ۱۳ (۲۶۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۶) (صحیح) سنن ابن ماجہ ۴۱۱۶-

حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں'' ؟ ہروہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزورسمجھیں ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج ، پیسہ جوڑجوڑکررکھنے ،اورتکبرکرنے والا ہے '' ۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، هُوَ سِمَاكٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۶۴)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۱۳ (۶۴۴۳)، حم (۵/۱۵۲،۱۵۷) (حسن صحیح)
" وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ " کا جملہ شاذ ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۱۶۹) سنن ابن ماجہ ۴۱۳۰-

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' زیادہ مال والے لوگ قیامت کے دن سب سے کمتر درجہ والے ہوں گے ، مگر جو مال کو اس طرح اور اس طرح کرے اور اسے حلال طریقے سے کمائے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی کثرت سے اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے ۔


اب ذرا سوچئے کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں پھر کہاں سے تضاد ہوا؟؟؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَم ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُه‘‘دیکھو میری تعریف میں غلو نہ کرنا، جس طرح نصاری نے ابن مریم i کی تعریف میں غلو کیا ہے، بے شک میں بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو)۔
البخاري أحاديث الأنبياء (3261).


خدا ہمیں غلو سے بچائے۔ کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اتنا آگے نکل جایا جائے کہ اللہ رب العزت کی صفت کے خلاف بات کر دی جائے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

سب بہن بھائیوں سے التماس ہے کہ اسلام کے نام پر کوئی بھی بات آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں کہ کہیں وہ قرآن و حدیث کے خلاف تو نہیں جا رہی ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم میں تضاد ہے اللہ رب العزت کی صفت "عدل" کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو دین کی درست تعلیم حاصل کرنے اور ترویج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن اور حدیث کے خلاف تعلیمات کی ترویج کرنے سے بچائے آمین ثم آمین۔

اس میں نہ کسی کی ہار یا جیت کا سوال ہے اور نہ ہی کسی کی انا پرستی کو بیچ میں آنا چاہئے۔ اگر کسی کی بات قرآن اور حدیث کے خلاف جا رہی ہے تو اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور ایسی باتوں کی ترویج کرنے سے خود کو روکنا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر لکھی تحاریر ہمیشہ رہ جاتی ہیں۔ لوگ آتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر کسی کو علم ہو جائے کہ اس کی کہی ہوئی بات قرآن اور حدیث کے خلاف ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے حذف کر دے تاکہ لوگ اسلام کے نام پر غلط باتوں پر یقین کرنے سے بچ جائیں۔
اس کا حوالہ دینے سے قاصر ہوں کہ کسی پرانے رسالے سے کھنگالنا ممکن نہیں میرے لیے. اگر یہ حوالہ میں نے لکھ دیا اس میں کچھ نہ کچھ میری رائے بھی شامل ہوگی ... آپ اپنی رائے دے دیتے اتنے زیادہ حوالے اٹھا دیے، سمجھدار کے لیے اک حوالہ کافی ہوتا ہے اگر سامنے والے کے پاس استدلال کی قوت ہو.



تمام کائنات اللہ کے اشارہ ء قدرت سے چل رہی ہے. برکت کا نظام ہے جس پر سارا کام چل رہا ہے، بارش رحمت بن جاتی ہے کہیں اور کہیں یہی بارش تباہی لے آتی ہے .. یہ تضاد ہے اور اس تضاد کا نتیجہ آپ کو اچھے اخلاقی سبق کے طور پر سامنے آئے گا. درخت قیام کی حالت میں کھڑا ہے اور دریا حرکت کر رہا ہے ... یہی دریا سیراب کرتا درختوں کو تو کہیں کٹاؤ کا عمل مٹی کھاجاتا ہے ... یہ تضاد ہے، جہاں سیرابی چاہیے وہاں سیرابی ملی، جہاں کٹاؤ تھا وہاں کٹاؤ یعنی کہ لے لیا .... اللہ غفور الرحیم ہے، اللہ ستار العیوب ہے مگر اللہ قہار و جبار بھی ہے، اللہ شاہد بھی ہے شہید بھی ہے ... یہ ساری صفات قران پاک سے سورہ الحشر سے ماخوذ ہیں .. آپ شاہد و شہید کو دیکھیے تو آپ تضاد پائیں گے. آخری پارے کی پہلی پہلی صورتوں میں اللہ نے فرمایا یے کہ ہر شے کے جوڑے پیدا کیے اور یہ جوڑا: جھوٹ سچ کا، کالے سفید کا، نیکی و بدی کا، خوشی و غم کا ... کائنات کا نظام اس تضاد سے چل رہا ہے تضاد حسن ہے یہ تضاد نہ ہو تو دنیا یا جنت ہوتی یا جہنم سے بدترین ہوتی. اسی تضاد کی وجہ سے کہیں رشک ہوتا، کہیں خدمت ہوتی، کہیں تخریب کہیں تعمیر، کہیں جنت کہیں دوذخ ... اس تضاد کے بغیر کائنات کا اک ذرہ بھی چل نہیں سکتا. اللہ الرزاق ہے اور وہ الخبیر ہے وہ العلیم یے، بابا بلھے شاہ نے اس تضاد کی بات کی ہے کہ اللہ کی تقسیم تضاد پر ہے، جبکہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یکساں دیتے ہیں کہ سب کے حقوق کا خیال رکھتے .. شادیاں کی تو تمام ازواج کے حقوق کا خیال رکھا، سپہ سالار ہوئے تو کیا شان مرتبہ ایسا عظیم سالار نہ ہوا ... سالاری بھی تب کامیاب ہوتی ہے جب ماتحت کے حقوق کا خیال رکھا جائے ان کے حقوق کی تقسیم برابری کی بنیاد پر کی جائے، جب کہ آپ استاد ہوئے تو یکساں دیا ..اک دفعہ آپ نے نابینا کو توجہ نہ دی تو اللہ پاک نے سورہ عبس کی آیات اتاری ۔۔ عبس وتولی ... آپ کو ہر اک کو برابر دینا تھا آپ نے سب کو برابر تقسیم کیا، چاہے کوئ کتنا برا کرے چاہے دوست ہو یا دشمن ..سب کو ملا ..یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی روئے .... دعا دی ..شناسا و نا آشنا کو ...دشمن و دوست کو .... سب کو ملا .


اس تقسم کی بات کی تھی بابا بلھے شاہ نے ... اگر یہ روایت ٹھیک بھی نہیں اس کی حقیقت مسلم ہے یہ تو ہوئ میری رائے. آپ مزید لوگوں کی اصلاح کرسکتے ان کے لیے آپ کی خدمات کی دلی قدر کرتی ہوں. اللہ کرے آ آپ کی نیت ہمیشہ فلاح کے لیے استعمال ہو، اس سے امت مسلمہ کے فرقہ ورانہ مسائل حل ہوں اور امت میں اتحاد پیدا ہو
 
Top