آٹھویں سالگرہ سونگ ڈیڈیکیٹ کارنر :) :) :)

زبیر مرزا

محفلین
ظفری بھائی کے لیے

راہِ طلب میں کون کسی کا ، اپنے بھی بیگانے ہیں
چاند سے مکھڑے رشکِ غزالاں سب جانے پہچانے ہیں

تنہائی سی تنہائی ہے ، کیسے کہیں ، کیسے سمجھائیں
چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں

اُف! یہ تلاشِ حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں
صحنِ چمن میں پھول کھلے ہیں ، صحرا میں دیوانے ہیں

ہم کو سہارے کیا راس آئیں ، اپنا سہارا ہیں ہم آپ
خود ہی صحرا ، خود ہی دِوانے شمع نفس پروانے ہیں

بلآخر تھک ہار کے یارو ! ہم نے بھی تسلیم کیا
اپنی ذات سے عشق ہے سچا ، باقی سب افسانے ہیں

 

زبیر مرزا

محفلین
نایاب بھائی کے لیے

اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہو
کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو

میں ایک زمانے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو

میں اس کو ترے نام سے تعبیر کرونگا
وہ پھول جسے قربت شبنم بھی گراں ہو

شاید یہ میری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو

 

زبیر مرزا

محفلین
محمود احمد غزنوی جن کا میں فین ہو ان کے نام اپنے فیورٹ گائیک جو محمودبھائی کے بھی پسندید ہ ہیں کی ایک غزل

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو

کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو

یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو

یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو

سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو

 

نیرنگ خیال

لائبریرین
نیرنگ خیال کے لیے

ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ دل ابھی بھرا نہیں

ابھی ابھی تو آے ہو
بہار بن کے چھاے ہو

ہوا ذرا مہک تو لے
نظر ذرا بہک تو لے

یہ شام ڈھل تو لے ذرا
یہ دل سمبھل تو لے ذرا

میں تو تھوڑی دیر جی تو لوں
نشے کے گھونٹ پی تو لوں

ابھی تو کچھ کہا نہیں
ابھی تو کچھ سنا نہیں

برا نہ مانو بات کا
یہ پیار ہے گلا نہیں

ادھوری آس چھوڑ کے
ادھوری پیاس چھوڑ کے

جو روز یوں ہی جاؤ گے
تو کس طرح نبھاؤ گے

کہ زندگی کی راہ میں
جواں دلوں کی چاہ میں

کئی مقام آیئں گے
جو ہم کو آزمائیں گے

برا نہ مانو بات کا
یہ پیار ہے گلا نہیں
کہ دل ابھی بھرا نہیں



ساحر لدھیانوی کا لکھا گیت اور رفیع صاحب کی آواز۔۔۔ سنا ہے اس گیت سے اک بہت خوبصورت واقعہ جڑا ہے۔ جو جاوید اختر صاحب بیان کرتے ہیں۔۔۔ کیا کہنے زبیر مرزا بھائی۔۔۔ بہت بہت شکریہ :)
 

زبیر مرزا

محفلین
ساحر لدھیانوی کا لکھا گیت اور رفیع صاحب کی آواز۔۔۔ سنا ہے اس گیت سے اک بہت خوبصورت واقعہ جڑا ہے۔ جو جاوید اختر صاحب بیان کرتے ہیں۔۔۔ کیا کہنے زبیر مرزا بھائی۔۔۔ بہت بہت شکریہ :)

واقعہ میں اگرشبانہ اعظمی کا ذکر ہے تو میں مشتاق ہوں ورنہ رہنے دیں :)
 

زبیر مرزا

محفلین
اپنے پنسدید شاعر کی موسٹ فیورٹ غزل تلمیذ سر کے نام

نہ سیئو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
مصلحت کا یہ تقاضا ہے، بھلا دو ہم کو

جرمِ سقراط سے ہٹ کر نہ سزا دو ہم کو
زہر رکھا ہے تو یہ آبِ بقا دو ہم کو

بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں
ہم اگر سوئے ہوئے ہیں تو جگا دو ہم کو

ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب؟
ہاں اگر حرفِ غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو

خضر مشہور ہو الیاس بنے پھرتے ہو
کب سے ہم گم سم ہیں ہمارا تو پتہ دو ہم کو

زیست ہے اس سحر و شام سے بیزار و زبوں
لالہ و گل کی طرح رنگِ قبا دو ہم کو

شورشِ عشق میں ہے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرمِ تمنّا کی سزا دو ہم کو

 

زبیر مرزا

محفلین
حسان خان کے نام جن سے ملاقات ہوچکی ہے :)

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے
شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی
اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے

ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا
محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا

آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا
ملنے جلنے لگے آنے جانے لگے

ہم نے جب آپ کی دیکھی دلچسپیاں
آگئی چند ہم میں بھی تبدیلیاں

ایک مصور سے بھی ہو گئی دوستی
اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے

آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی
کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی

کہنے والی جو تھیں باتیں وہ نہ کہیں
بات جو تھی چھپانی بتانے لگے

عشق بےگھر کرے عشق بے در کرے
عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانہ نہیں

ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی
آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے

 

نایاب

لائبریرین
بہت شکریہ محترم زبیر مرزا بھائی
سدا خوش و ہنستے مسکراتے رہیں ۔ آمین
اک دیوانہ جا رہا تھا کہیں جو گاتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کلام آپ کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


راہِ عشق میں واپسی کے راستے نہیں رہتے
جو اس راہ میں بھٹک جائیں وہ کہیں کے نہیں رہتے

محبتوں میں دوریاں کوئی معنی نہیں رکھتیں
دل جو دل کے قریب ہوں تو فاصلے نہیں رہتے

محبت خود ہی سکھا دیتی ہے راضی با رضا ہونا
جب عشق کامل ہو جائے تو پھر گلے نہیں رہتے

محبتوں میں وفاؤں کا تسلسل بھی ضروری ہے
ربط ٹوٹ جائے تو وہ سلسلے نہیں رہتے

آؤ اس کی یادوں کو ہمسفر کر لیں راسخ
اتنی بڑی دنیا میں یوں اکیلے نہیں رہتے
 
بہت عزیز زبیر مرزا کی نذر۔۔۔امید ہے یہ گیت بھی آپکے پسندیدہ گیتوں میں ضرور شامل ہوگا۔۔۔۔
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے۔۔
اب نہ وہ پیار نہ اس پیار کی یادیں باقی
آگ یوں دل میں لگی، کچھ نہ رہا کچھ نہ بچا
جسکی تصویر نگاہوں میں لئے بیٹھی ہو۔۔۔
میں وہ دلدار نہیں، اسکی ہوں خاموش چتا
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے۔۔
زندگی ہنس کے گذرتی تو بہت اچھا تھا
خیر ہنس کے نہ سہی، رو کے گذر جائے گی
راکھ برباد محبت کی بچا رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
بار بار اسکو جو چھیڑا تو بکھر جائے گی
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے۔۔
آرزو جرم، وفا جرم، تمنا ہے گناہ
یہ وہ دنیا ہے جہاں پیار نہیں ہوسکتا
کیسے بازار کا دستور تمہیں سمجھاؤں
بک گیا جو وہ خریدار نہیں ہوسکتا
جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے۔

 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
یہ گانا ہے نام​
کے نام :)
دو پل کا یہ جیون ہے
کچھ کرنا ہے تو کر گزرو
ہر لمحہ اک سپنا ہے
کیا جانے اپنا ہو نہ ہو
غم کو ہمیشہ مسکرا کے چھپانا
ہنس کے ہنسا کے زندگی کو بتانا
اڑتے ہوں،کہیں جگنو
کہ بیٹھی تتلی ہے کہیں
دیکھو تو حسیں ہے یہ
نہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں
سوچو تو یہ سب نظارے تمہارے
چاہو تو لے لو سب ستارے تمہارے
ہاروگے تو ہارو نا
ہارو گے تو تبھی تو مزہ آئے گا جیت کا
رکنے نہ پائے سلسلہ جو چلا ہے
دیکھو نہ بکھرے قافلہ جو بنا ہے
جنید جمشید
 

نیلم

محفلین
یہ گانا ہے نام​
کے نام :)
دو پل کا یہ جیون ہے
کچھ کرنا ہے تو کر گزرو
ہر لمحہ اک سپنا ہے
کیا جانے اپنا ہو نہ ہو
غم کو ہمیشہ مسکرا کے چھپانا
ہنس کے ہنسا کے زندگی کو بتانا
اڑتے ہوں،کہیں جگنو
کہ بیٹھی تتلی ہے کہیں
دیکھو تو حسیں ہے یہ
نہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں
سوچو تو یہ سب نظارے تمہارے
چاہو تو لے لو سب ستارے تمہارے
ہاروگے تو ہارو نا
ہارو گے تو تبھی تو مزہ آئے گا جیت کا
رکنے نہ پائے سلسلہ جو چلا ہے
دیکھو نہ بکھرے قافلہ جو بنا ہے
جنید جمشید
بہت خوبصورت عینی :)
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
یہ گانا ہے نام​
کے نام :)
دو پل کا یہ جیون ہے
کچھ کرنا ہے تو کر گزرو
ہر لمحہ اک سپنا ہے
کیا جانے اپنا ہو نہ ہو
غم کو ہمیشہ مسکرا کے چھپانا
ہنس کے ہنسا کے زندگی کو بتانا
اڑتے ہوں،کہیں جگنو
کہ بیٹھی تتلی ہے کہیں
دیکھو تو حسیں ہے یہ
نہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں
سوچو تو یہ سب نظارے تمہارے
چاہو تو لے لو سب ستارے تمہارے
ہاروگے تو ہارو نا
ہارو گے تو تبھی تو مزہ آئے گا جیت کا
رکنے نہ پائے سلسلہ جو چلا ہے
دیکھو نہ بکھرے قافلہ جو بنا ہے
جنید جمشید
سو سوئیٹ عینی آپی
 

عینی شاہ

محفلین
یہ گانا ہے نام​
کے نام :)
دو پل کا یہ جیون ہے
کچھ کرنا ہے تو کر گزرو
ہر لمحہ اک سپنا ہے
کیا جانے اپنا ہو نہ ہو
غم کو ہمیشہ مسکرا کے چھپانا
ہنس کے ہنسا کے زندگی کو بتانا
اڑتے ہوں،کہیں جگنو
کہ بیٹھی تتلی ہے کہیں
دیکھو تو حسیں ہے یہ
نہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں
سوچو تو یہ سب نظارے تمہارے
چاہو تو لے لو سب ستارے تمہارے
ہاروگے تو ہارو نا
ہارو گے تو تبھی تو مزہ آئے گا جیت کا
رکنے نہ پائے سلسلہ جو چلا ہے
دیکھو نہ بکھرے قافلہ جو بنا ہے
جنید جمشید
تھینکیو سو ویری مچ :)
 
Top