سندھی زبان کو سائبر زبان بنانے والے ماجد بھرگڑی

سید شہزاد ناصر نے 'سندھی فورم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 19, 2015

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]

    لاڑکانہ ضلع کے شہر شہداد کوٹ کے نزدیک کسی دور میں بھرگڑی ریلوے اسٹیشن ہواکرتا تھا جوآج سے پندرہ بیس سال پہلے بند کر دی گئی تھی ۔ اس اسٹیشن کے ٹوٹے پھوٹے آثار وں کے مشرق میں ’’غلام نبی بھرگڑی‘‘ کے نام کا ایک چھوٹاساگاؤں موجو د ہے جہاں 8 فروری 1948 ع کو سندھ کے مایہ ماز بیٹے ماجد بھرگڑی کاجنم ہوا۔ ماجد بھرگڑی رواجی تعلیم مکمل کرنے کے بعد1972ع میں سی ایس ایس کا امتحاں امتیازی نمبروں میں پاس کرکے انکم ٹیکس گروپ میں سلیکٹ ہوا تھا۔ اس وقت تک فیڈرل کمیشن سروس میں (pre common bedge) کا سلسلہ چل رہا تھا جبکہ انہی کی بیج کے بعد ذوالفقار علی بھٹونے کے کوٹا سسٹم کا سلسلہ شروع کیا جس سے پاکستان کی دیہی آبادیوں کی ترقی کا ایک راستہ کھلاورنہ اس سے پہلے سندھ بلوچستان اور سرحد کی کمبائن کوٹا ہواکرتا تھا جبکہ پنجاب اور کراچی کا کوٹہ الگ تھا۔ نوے کی دہائی میں ماجد انکم ٹیکس سے ڈیپوٹیشن پرجنرل مینیجر بن کر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائینز میں چلاگیاجہاں سے اسی سال وہ چھٹی لے کر امریکہ روانہ ہوگیا۔ آٹھ سال امریکہ میں رہنے کے بعدماجد 1999ع میں واپس اپنے ملک آیا مگر یہاں اس کا دل نہیں لگا اس لئے ایک سال نوکری کرنے کے بعد استعفیٰ دے کر واپس امریکہ چلا گیاجہاں اب وہ مستقل طور پر رہائش پذیرہیں۔ گزشتہ دنوں جب وہ پاکستان آئے تومیں نے ان کے گھربھرگڑی پلازہ لاڑکانہ میں جاکر ان سے ملاقات کی ۔ ماجد بھرگڑی نے سندھی زبان کو کمپیوٹر کی زبان بنانے میں جو جدوجہد کی ہے اس قسم کی مثالیں تاریخ کے جھرونکوں کومیں کسی ایک شخص کی وابستگی سے متعلق انتہائی کم ملتیں ہیں۔ جب میں مرحبانہ شخصیت ، نفیس طبیعت اور ٹھہرے ہوئے لہجے والے اس عظیم اور خوبصورت انسان کی جدوجہدپر نظرڈالتاہوں تویہ اس حقیقت کاانکشاف بھی ساتھ ہوجات ہے کہ اس کس قرض اتارنے کے لئے اگر ہماری کئی نسلیں اس کے آگے ہاتھ باندھ کربھی کھڑی رہیں تومجھے پورا یقین ہے کہ اس کا حق ادا نہیں کر سکیں گی۔

    سوال۔ سائیں جب آپ پاکستان آتے ہیں تو یہاںآپ کی کیا مصروفیات ہوتی ہیں؟۔
    جواب۔ میں یہاں اپنے کچھ ہم عصر دوستوں سے ملاقاتوں کو ترجیح دیتا ہوں جن میں کئی خاندان کے لوگ بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ کہیں کوئی دوست احباب یا کوئی آرگنائیزیشن کسی پروگرام میں بلالیتے ہیں تو بھی جانا ہوتا ہے ۔ اکثر سندھی ادبی بورڈ کے ایسے سیمیناروں میں بھی شرکت کے لئے جاتا رہتاہوں جہاں زبان سے متعلق جانکاری کی امید ہوتی ہے ورنہ یہاں بھی وہی کمپیوٹرکی دنیا ہوتی ہے اور میں۔

    سوال۔ آپ ایک بہت بڑے آفیسر رہے ہیں ۔ عام طور پر پاکستانی بیوروکریسی کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ عوام کا خون چوس کر اداروں کوتباہیوں سے ہمکنار کرتی ہے مگر آپ کے خیال میں سندھی زبان کوکمپیوٹنگ کی زبان بنانے کاعظیم خیال کیسے آیا؟۔
    جواب۔ مجھے کوئی ایسا خیال نہیں آیا تھاکہ میں سندھی زبان کے لئے کچھ کروں اور نہ ہی میں نے اس قسم کی کوئی پلاننگ کی تھی۔ اصل میں نوکری سے ملنے والی تنخوا ہ سے میرا گزارہ نہیں ہوتا تھا اس لئے اکثر یہ خیال آتا تھا کہ نوکری کے ساتھ کوئی اور کام بھی کیا جائے جس سے آدمی میں اضافہ ہونے کی سبیل نکلے۔ میرا ایک دوست لاہور میں انگریزی ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کا کام کرتا تھا جس نے اپنے کاروبار میں اچھے خاصے منافع کا لالچ دے کر پارٹنر شپ کی آفرکی تو میں نے بھی حامی بھرلی۔

    سوال۔ ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے لئے آپ لوگ کونسے کمپیوٹراستعمال کیا کرتے تھے؟
    جواب۔ اس دو میں میکنٹاش کمپیوٹر اس کام کے لئے موزون سمجھے جاتے تھے۔ بحرحال میں نے اس دوست کے مشورے سے ڈیلرکو پئسے دے کرکچھ کمپیوٹرز منگوانے کا آرڈردے دیا۔

    سوال۔ ڈیلرکے منگوانے سے آپ کاکیا مطلب ہے وہ کہاں سے منگواتاتھا؟
    جواب۔ اس دور میں کمپیوٹرزآج کی طرح دوکانوں پر تیار حالت میں نہیں ملتے تھے بلکہ ان کے لئے ڈیلروں کو آرڈر دینا پڑتا تھا کیوں کہ وہ لوگ باہر کے ملکوں سے منگواکر دیتے تھے اور اس کے لئے دو ڈھائی مہینے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جس ڈیلر سے ہماری بات چیت چل رہی تھی اس نے ایک دن ہمیں بتایا کہ ان کے پاس کمپیوٹر پر اردو کمپوزنگ پر کام کیا جاتا ہے۔ وہ آدمی میرے اصرار پر وہ مجھے پی ای سی ایس ایچ کالونی (بہادر آباد)کراچی کے ایک بنگلے میں لے گیا جہاں انہوں نے اپنا آفیس بنارکھاتھا۔ اس نے مجھے آفیس توگھمایا مگر وہ کمپیوٹر دکھانے سے انکار کردیاجہاں اردولکھی جاتی تھی کہ’’ ٹریڈ سیکرٹ ہے ‘‘البتہ یہ تفصیل ضرور بتائی کہ’’ اردو کمپوزنگ کس طرح ہوتی ہے‘‘۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے کمپیوٹرزپر لکھی ہوئی اردو کے کچھ پرنٹ بھی نکلواکر دکھائے۔ اس دور میں کمپیوٹرپر نسق میں لکھاجاتا تھا جبکہ اخباریں نستعلیق میں لکھی جاتیں تھیں اور وہ بھی بڑے سسٹم پر پرسنل کمپیوٹر میں نہیں۔ میں ان کے طریقہء کار سے بڑا متاثر ہوااوراسی دن یہ خیال آیا کہ’’ اسی طرح تو سندھی زبان بھی کمپیوٹر پر آسکتی ہے‘‘۔ میں نے ان سے کہا کہ’’ تم لوگ ہمیں اسی سسٹم میں سندھی زبان تیار کرکے دے سکتے ہو‘‘۔ انہوں نے حامی بھری تو میں نے ان کے تقاضے پر انہیں سندھی الفا بیٹ مہیا کرکے دی مگرکچھ دنوں کے بعد انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سندھی زبان میں باون الفاظ ہیں جنہیں کمپیوٹر پر لانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے‘‘۔ مگر چوں کہ یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی تھی اس لئے ان سے معلوم کرلیا کہ’’ وہ لوگ کس عربی اور فارسی کے سافٹ ویئر زکو موڈی فاءِ کرکے اردو میں استعمال کرنے کے قابل بناتے تھے‘‘۔

    سوال۔ جب وہ اردوکو ماڈی فاءِ کرلیتے تھے تو سندھی کے لئے جواب کیوں دیا؟
    جواب۔ سندھی زبان میں اردو سے زیادہ لیٹرز ہیں اس لئے ۔ بحرحال میں نے ان سے وہ سافٹ ویئر معلوم کرلیا کہ اس مقصد کے لئے وہ ورڈ پروسیسنگ کاکونسا پروگرام ہے جو عربی اور فارسی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

    سوال۔ آپ کے کاروبار کا کیا ہوا؟۔
    جواب۔ یہ سب قسمت کی باتیں ہیں کہ مجھے سے اس نے کچھ کام لینا تھا ورنہ کہاں ایک انکم ٹیکس کی نوکری کرنے والا میں شخص اور کہاں کمپیوٹرکی دنیا۔ اور پھر میں اجرتی بنیاد پر اپنی کمائی بڑہانے کے چکر میں گیا تھا لیکن زبان کی محبت کہیں اور لے گئی۔ جس دوست نے پارٹنرشپ کا وعدہ کیا تھا وہ بھی اپنی مصروفیات اور مجبوریوں کا جواز پیش کرکے درمیاں سے نکل گیا مگر تب تک منگوایا ہوا سامان بھی آچکا تھا۔ اب مجھے نہ کاروبار کا کوئی تجربہ نہیں تھانہ ہی وہ سامان رکھنے کی جگہ تھی لہٰذا فی الحال وہ سامان لاکر گھر رکھ دیا اور اس کو سافٹ ویئر سندھی کے حساب سے موڈی فاءِ کرنے کی کوشش شروع کردی۔

    سوال۔ کیا آپ کو کمپیوٹر سے متعلق اس کام کا تجربہ پہلے سے تھا؟
    جواب۔ نہیں تجربہ تو نہیں تھا مگر چوں کہ میں نے ایم بی اے فارین سے کی تھی اس لئے کمپیوٹر سے کافی حد تک جانکاری تھی مگرجس میکنٹاش کمپیوٹرپر وہ کام ہوتا تھا وہ کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ اس لئے سب سے پہلے تو میں نے اس کو سمجھااوربعد ازاں اپنے کام کے حوالے سے اس میں سافٹ ویئر کو موڈی فاءِ کرنے کی کوشش شروع کردی جس سے اپنے مسئلے کا بنیادی حل ڈھونڈھ لیا۔

    سوال۔ کتنا عرصہ لگا اس حل کو ڈھونڈھنے میں؟۔
    جواب۔ تقریباً ایک مہینہ ۔ آپ میری خوشی کا اندازہ نہیں کرسکے جس دن میں نے پہلی مرتبہ سندھی لکھت کے پورا پیج کا پرنٹ کمپیوٹر سے نکالا تھا۔

    سوال۔ یہ کس سال کی بات ہے؟
    جواب۔ میرے خیال میں نومبر1987ع کی۔ اس کے بعد تو ہر نئے دن کے ساتھ نہ صرف اس کام میں بہتری آتی چلی گئی بلکہ میری اسپرٹ میں بھی روزبروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔

    سوال۔ آپ نے اس اپنی کاوش کو باظابطہ طور پر اداروں میں لانے کی کوشش کب کی ۔
    جواب۔ اسی دوران میں نے اپنے ایک جانکار سے بات کی جو ہلال پاکستان اخبار میں ایک اہم عہدے پر کام کرتاتھا اور اپنی کامیابی کے متعلق بتایا تو انہوں نے اس سلسلے میں نہ صرف اپنے اخبار میں ایک خبر شایع کردی بلکہ اس دور میں انعام شیخ ’’ککھ پن‘‘کے عنوان سے ایک کالم لکھتا تھا جس کا ایک مضموں انہوں نے مجھے دیا جو میں نے اپنے بنائے ہوئے سسٹم پر لکھ کر دیا تو اور انہوں نے چھاپ دیا۔ بعد ازاں عوامی آواز نکلی تو انہوں نے بھی میرا سسٹم اپنایا تھا۔

    سوال۔ آپ نے انہیں وہ مضمو ن سیٹ کرکے کیوں دیا وہ سسٹم ہی کیوں نہیں دیا؟
    جواب۔ اس سلسلے میں جو پرائمری سالیوشن میں نے نکالا تھا اس کو کسی بھی ادارے میں استعمال کرنے میں ابھی کچھ مشکلاتیں تھیں جنہیں حل کرنا تھا۔

    سوال۔ اچھاوہ کونسی مشکلات تھیں۔
    جواب ۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جو پیج عام طور پر لکھنے میں پندرہ منٹ لیتا تھا اسے میرے سسٹم سے لکھنے میں مجھے ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت وہ اتنا قابلِ عمل نہیں تھا کہ کسی ادارے میں کامیابی سے چلتا مگر وہ کسی بھی کامیاب سسٹم کی پہلی شکل ضرور تھا جسے مزید ماڈی فاءِ کرنے کی ضرورت تھی۔

    سوال۔ پھر اس سلسلے میں آپ نے کیا کیا؟۔
    جواب۔ بعد ازاں جب میں امریکہ گیا تو وہاں بھی اپنے سسٹم کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کام کرتا رہا۔ بالآخر اپنی کوششوں سے میں نے مارچ 1988ع کی شروعات میں اپنے مسئلے کا مکمل حل نکالا کہ ’’کس طرح ایک ایسا سسٹم نکالا جائے جس سے سندھی زبان کی ورڈ پروسیسنگ، ٹائپ سیٹنگ یا اخباروں کا کام ممکن ہو سکے‘‘۔

    سوال۔ اس سلسلے میں آپ کانکالاہوا بیسک سالیوشن نکالا کیا تھا؟۔
    جواب ۔ بیسک سالیوشن تو بہت سادہ تھا جو بعد ازاں جلد ہی عام ہوگیا تھا اور وہ یہ تھا کہ جیسے عربی اور فارسی کے کچھ لیٹرز ہیں جیسا کہ ج، خ اورچ وغیرہ کی جگہ پر سندھی کے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ یا جیسے سندھی کے دوسرے مخصوص لیٹرز ہیں چھ، چ وغیرہ کی فیملی کے لیٹرز کے نقطے الگ کرکے انہیں ی کے ساتھ ملاکر الفاظ بنائے جائیں۔ اسی طرح باون لیٹرز کو آہستہ آہستہ میں نے اس سسٹم کا حصہ بنایا۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میں نے کمپیوٹر میں عربی اور فارسی زبان سے متعلق موجود کیپیسٹی کو ہینڈل کرکے سندھی زبان لکھنے میں مدد لی تھی۔

    سوال۔ لیکن اس کام کے لئے تو زبان کا ماہر ہونابھی ضروری تھا؟
    جواب۔ نہیں اس میں زبان کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ کمپیوٹر میں سندھی کا پیج کس طرح لکھا جائے اور سندھی زبان کو کمپیوٹر پر کیسے لایا جائے۔

    سوال۔ اس سلسلے میں سندھی ٹائپ رائیٹر تو متعارف ہوچکا تھاکیا آپ نے اس کی کیز سے بھی مدد لی؟۔
    جواب۔ نہیں میں نے اس سے مدد نہیں لی کیوں کہ ٹائپ رائیٹرمیں کمپیوٹر کی نسبت محدودیت ہونے کے ساتھ اس میں ہر الفاظ کی صرف دو صورتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر ہماری لغات میں لیٹرز بھی بہت زیادہ تھے جبکہ ٹائپ رائیٹر کو بھی میرے جیسے کسی دوست نے ضرورت کے تحت ماڈی فاءِ کیا ہوگاجس میں نہ صرف ٹائیپنگ کرنے والے کو ہمیشہ مشکل ہوتی تھی بلکہ اس کے لئے رفتاربڑہانا بھی انتہائی جوکھم کا کام ہوتا تھایہی سبب ہے کہ سندھی ٹائیپنگ ہمارے اداروں میں آسانی سے مروجہ نہیں ہو سکی ۔

    سوال۔ اس دور میں ڈیسک ٹاپ پر پبلشنگ یا فوٹو ٹائپ سیٹنگ کا کام تو ہواکرتا تھا؟
    جواب۔ ہاں یہ 87 19 اور 88 19ع کی بات ہے جب ابھی انٹر نیٹ متعارف نہیں ہوئی تھی تب کمپیوٹر کا سارا استعمال ورڈ پراسیسنگ کے تحت ہوتا تھاخاص طور پر ڈیسک ٹاپ پر پبلشنگ کا کام ہوتا تھا۔ اس وقت بھی فوٹو ٹائپ سیٹنگ سسٹم ہواکرتا تھا جواس دور میں سندھی ادبی بورڈ والوں کے پاس بھی تھامگر وہ مشین کتاب چھاپنے یا چھپانے کے حوالے سے انتہائی مہنگی ہوتی تھی کیوں اس سے چھپنے والے کتاب کے ایک ایک پیج کی کاسٹ لگائی جاتی تھی۔ یوں اگر کوئی کتاب چار پانچ سو کی تعداد میں چھپتے تھے تو ان کی قیمت آسمان سے جا لگتی تھی۔ اس لئے کچھ اداروں میں اگر فوٹو ٹائپ سیٹنگ مشینیں بھی تھیں تو وہ مہنگی ہونے کے سبب ادارے خود بھی انہیں استعمال نہیں کرسکتے تھے عام لوگوں کی اوقات ہی کیا تھی کہ ان سے فائدہ اٹھاتے۔ سندھی ادبی بوردوالوں نے بھی بڑی مشکل سے چندایک کتابیں چھاپنے کے بعد اسے ایک ایئرکنڈیشنڈ روم میں رکھ دیا جہاں پڑے پڑے وہ تباہ ہوگئی۔ اس لئے ضروری ہوگیا تھا کہ بڑی بڑی مشینوں کے بجائے پرسنل کمپیوٹرکی طرح اس سلسلے میں کوئی آسان حل تلاش کیا جائے۔

    سوال۔ آپ کے حل کا نتیجہ کیا نکلا؟
    جواب۔ سندھی زبان کو کمپیوٹر کی زبان بنانے میں ایک لحاظ سے وہ پہلا سالیوشن تھاجو میں نے نکالاتھا اور اس نے سندھی اخباروں، رسالوں کے ساتھ پریس و پبلشنگ کی تمام دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔

    سوال۔ اس سے پہلے چھپنے والے اخبارات کی کیا صورتحال تھی؟ ۔
    جواب۔ اس دور میں چھپنے والے اخبارات اگر آپ نے دیکھے ہوں تو وہ اپنی حالتِ زار کے بارے میں خود بتا سکتے ہیں کہ پڑہنے کے حوالے سے ان چھپنے والی تحریریں بڑی حد تک پڑہنے کے لائق ہی نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ان کے نقطے بھی مشکل سے نظر آتے تھے ۔ میرے پاس آج بھی اس دور کی اخبارات پڑی ہوئی ہیں جو اگر آپ پڑہیں تو آپ کو مکمل طور پر پڑہنے میں نہیں آئیں گی کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے ۔ مجھے یاد ہے اس دور میں جب میں ہلالِ پاکستان اخبار کے دفتر گیا تو وہاں چالیس کمپوزرز تھے اور سب ہی کی مشترکہ راءِ تھی کہ’’ سر یہ پروفیشن ہمارے لئے بد دعا کے مثل ہے کیوں کہ اسے ہنڈل کرتے ہوئے ہمیں ڈیڈ پوائزننگ ہوجاتی ہے نہ ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں نہ پکڑ کر رکھنے کو دل کرتاہے‘‘ اب یہ انقلاب نہیں تو اور کیا ہوگا کہ پہلے ایک اخبار میں چالیس پچاس آپریٹر ہواکرتے تھے مگر میرے سالیوشن تیار ہونے کے بعد عوامی آواز والوں نے چارکمپیوٹر لئے ایک لیزر پرنٹرلیا اور اس سے وہ ساری اخبار تیار کرلیتے تھے حالانکہ وہ میری کوششوں کا پہلا دور تھا۔

    سوال۔ کیا آپ نے اس کوسسٹم کو پروفیشنلی ہنڈل نہیں کیا کہ اس سے پئسے بنائے جائیں؟
    جواب۔ شروعات تو میں نے اسی مقصد کے لئے کی تھی مگر بعد ازاں پیسے کمانے کی دھن پر زبان کی محبت چھاگئی اس لئے مجھ سے ایساکچھ نہیں ہوسکا۔ شروعاتی طور پرجب کچھ اخباروں نے میری مدد سے اس نظام کو رائج کیا تو جو خوشی مجھے ملی وہ پئسے سے خریدی نہیں جا سکتی تھی۔

    سوال۔ لیکن اگر اس سسٹم سے پیسے بھی ملتے تو خوشی دوگنی نہیں ہوتی ؟
    جواب۔ آپ کی بات شاید صحیح ہو مگر میں شروع سے بیوقوفی کی حد تک پروفیشنل نہیں تھاجو کہ اب تک نہیں بن سکا تھا ہوں۔ یوں جو بھی مجھ سے میرے کام کے حوالے سے آتا تھا تو میں اسے پروفیشنلی نہیں بلکہ پرسنلی ہنڈل کیا کرتا تھا۔ یعنی اپنے سسٹم سے کمانے کے گر استعمال کرنے کے بجائے سب کے مسئلے کا حل نکال کر دیا کرتا تھا حالانکہ میں نے اس دور میں نے گھرکے ایک کمرے میں آفس بھی بنا رکھا تھا جہاں اسٹاف میں عطیہ داؤداور چند دوسرے لوگ میرے پاس ٹائپسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔

    سوال۔ آپ کے سسٹم کے حصول کے لئے اخبار والوں کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کے لوگ آئے آپ کے پاس؟
    جواب۔ ہاں کئی بار ۔ ایک دن سندھیکا اکیڈمی کا چیئرمن نور احمد میمن بھی میرے پاس آیا تھا سندھی ادبی بورڈ کی چھپی ہوئی ایک کتاب کوکمپوز کروانے کے لئے۔ مگر میں اپنی طبیعت کے انوسار اسے بھی سارا سسٹم بتایا جسے ایک ڈیڑہ سال کے بعد انہوں نے بھی اپنے ادارے میں رائج کیا ۔

    سوال۔ ایاز شاہ نے بھی تو اس سلسلے میں کام کیا؟
    جواب۔ جب میں امریکہ سے پہلی مرتبہ یہاں واپس آیاتھا تو ایاز شاہ مجھ سے ملا تھا۔ میرے سسٹم کے متعارف ہونے کے بعد آیا وہ بھی اسی قسم کا سسٹم پرسنل کمپیوٹر پر لے آیاتھا؟۔ اصل میں میرا بنایاہوا سسٹم میکنٹاش کمپیوٹر پر چلتا تھا جو مروجہ ضرورتوں کے حساب سے سپورٹ کم دیتا تھا۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ پرانے کمپیوٹر مہنگے ہوگئے تھے رکھنے کے لئے بھی تو سنبھالنے کے لئے بھی کیوں کہ وہ جگہ اور بجلی جیسے معاملات میں بھی مہنگا تھا اور پھر آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہوتے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں نئے نئے کمپیوٹرنہ صرف سستے مل رہے تھے بلکہ کم جگہ لینے والے، کم قیمت ہونے کے ساتھ ان کا ونڈوزآپریٹنگ سسٹم بھی نہایت آسان ہواکرتا تھا۔ اس لئے ضرورتِ وقت کے حساب سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایاز شاہ صاحب نے میرا ہی سالیوشن اور اپرو چ نئے کمپیوٹر کی ونڈوز میں متعارف کروایا۔

    سوال۔ کیا اس وقت تک آپ کا سسٹم عام ہوچکا تھاَ؟
    جواب ۔ اس وقت تک ہم لوگ جوکام کرتے تھے وہ عربی اور فارسی میں موجود فونٹز میں تبدیلیاں لاکرسندھی زبان میں استعمال کرنے کے قابل بناتے تھے مگروہ اپروچ عام لوگوں کے لئے قابلِ قبول نہیں تھی کیوں وہ اپروچ ایک لحاظ سے شخصی ماہری کے ضمرے میں آجاتی تھی کیوں کہ اس میں ہر آدمی اپنی کاریگری کے حساب سے کام کرتا تھا جیسا کہ میں نے فونٹ کو اپنے سہولت کے اعتبار سے بنایا آپ نے اپنے طریقے سے۔ لیکن اگر کوئی آدمی امریکہ یا برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے تو وہ میری ترتیب کو نہیں سمجھ سکتاتھا کہ کہ’’ کون سی کی کس الفاظ کے لئے استعمال کی جائے‘‘ ۔ اسی طرح ایاز شاہ نے میرے سالیوشن کو اپنے حساب سے رائج کیا۔ اس وقت تک کی گئیں ہماری ساری کوششیں ایک لحاظ سے non standard اپروچ کی تھیں یایوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے کا وہ دیرپا حل نہیں تھاجو حقیقت میں ہم چاہتے تھے یا ہوناچاہیے تھا۔ میں ایک اور مثال دیتا ہوں آپ کو۔ یوں سمجھیں کہ ایک گھر میں باون خانے موجود ہیں جن میں سے ہر خانے پر الف ، ب، پ، ث وغیرہ لکھا ہوا ہے ۔ کمپیوٹر کی مثال اس گھر جیسی ہے جو احکامات دیتا ہے کہ اس خانے میں سے یہ لفظ اٹھاؤ اور ڈسپلے کرو ۔ کمپیوٹر حرفوں کے معاملے میں زبان کو سمجھتا ہی اسی طرح ہے جس میں ہر حرف کے لئے ایک انگ دیا گیا ہوتا ہے کیوں کہ اسے عدد سمجھ میں آتا ہے حرف نہیں۔ کمپیوٹر کی دنیا میں ہر بولی کی الفابیٹ کے لئے ایک کوڈ پیج ہوتا ہے جو ان کے بین الاقوامی اسٹینڈرڈ میں اپرووڈ ہوتا ہے جیسا کہ یونی کوڈ بھی اسی قسم کا ایک اسٹینڈرڈ ہوتا ہے۔ اس وقت تک عربی اور فارسی وغیرہ کے اسٹینڈرڈ کوڈ بن چکے تھے مگر سندھی زبان کو لکھنے کے لئے کوئی اسٹینڈرڈ نہیں تھا۔ اس لئے ہم نے انہی مروجہ دوسری زبانوں کے خانوں یا اسٹینڈرڈ میں سے تبدیلی کرکے انہیں اس قابل بنایاکہ ہم کمپیوٹر پر سندھی زبان کو لکھنے میں کامیاب ہو سکیں۔ جب یونی کوڈ(یونیورسل کوڈ)آیا تو اس کو بنانے والوں نے تمام زبانوں کے کوڈ زکوایک ہی اسٹینڈرڈ کوڈ میں شامل کیا۔ یونی کوڈ آنے کے بعد ایاز شاہ نے آکر مجھ سے کہا کہ’‘ مجھ سے یہ بات ہنڈل نہیں ہوتی لہٰذاآپ اس کو ہنڈل کرکے بتاؤ کہ کس طرح اس کا فونٹ بنایا جائے یا اس کو ہنڈل کیا جائے‘‘ ۔

    سوال۔ تو آپ نے اس سلسلے میں کیا کیا؟
    جواب۔ اس وقت تک کمپیوٹر کی دنیا میں بے شمار تبدیلیاں و ترقیاں متعارف ہو چکی تھیں۔ سن 2000ع میں جب میں امریکہ گیا تو یہ کام پھر نئے سرے سے اور اس فیلڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کے انوسارکرنا شروع کیا۔ سندھی زبان کو کمپیوٹر پر لانے کی کوششوں سے متعلق ایک لحاظ سے یہ میرا دوسرا دور تھا ۔ تب تک ورلڈ وائیڈ ویب کے ساتھ دیگر بیشمار ویب سائیٹس آچکی تھیں۔ میں نے وہاں سندھی کا پہلا فونٹ تیار کیا جو یونی کوڈ سے مطابقت رکھتا تھااور ونڈوز کے آپریٹنگ سسٹم کے روٹس کو بھی قابل استعمال کرنے کے لائق بنایاتاکہ ہم سندھی زبان کو ایک بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق استعمال کریں تاکہ اگر کوئی آدمی اسے لاڑکانہ میں کمپوز کرے تو امریکہ ، آسٹریلیا ، برطانیہ اور تمام دنیا میں بیٹھے ہوئے لوگ اس کوآسانی سے پڑھ اور سمجھ سکیں۔ میں نے جولائی سے ا گسٹ 2000 تک پہلا فونٹ بنایا کر جب اس کو ونڈوز میں استعمال کیا توپھر کچھ مسائل نے جنم لیا جن پرنفسیاتی طور پر سوچ بچاربھی شروع ہوئی کہ‘ یہ مسئلہ کیوں ہوا‘‘ تو حل بھی ملتے گئے۔ اسی طرح مسئلوں کا حل نکالتے ہوئے ایک دن میں نے اپنی طرف سے ایک ’’پرفیکٹ سسٹم‘‘ تیار کرلیا۔ لیکن استعمال کرنے پراس کا نتیجہ وہ نہیں نکلا جو اسے بین الاقوامی طور پر استعمال کرنے کے لئے ضروری تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد جب کچھ سمجھ میں نہیں آیاتومیں نے مائکروسافٹ والوں سے رابطہ کرکے اس وقت تک کی گئی اپنی کوششوں سے آگاہ کیا۔ میرے کام کو پرکھنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ’’تم نے تمام کام درست کیا ہے مگر ہمارے بین الاقوامی آپریٹنگ سسٹم میں سندھی زبان کے لئے کوئی سپورٹ موجود نہیں ہے اس لئے آپ کا کام مکمل طور پر قابل عمل نہیں ہو رہا ہے‘‘۔ تب مجھے بھی اپنے کام میں موجود خامی سمجھ میں آگئی کیوں کہ یونی کوڈ میں تو ہزاروں زبانیں موجود ہیں لیکن اگر کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹم میں زبان کے رولز اور سپورٹ نہیں ہوگی توہماراکم بے کار تھا۔

    سوال۔ لیکن آپ نے جن عربی اور فارسی زبانوں میں تبدیلی کی تھی ان کی سپورٹ تو کمپیوٹر میں موجود تھی کیا وہ سندھی کو سپورٹ نہیں کرتی تھی؟
    جواب۔ فارسی اور عربی الفابیٹ تو سینکڑوں زبانوں کو ہنڈل کرتی ہیں جن کے حروف ، صورتیں، اشکال او ر رولز اپنے اپنے طریقے سے فیڈ ہوتے ہیں جن سے کمپیوٹر کو سپورٹ ملتی ہے۔ بد قسمتی سے سندھی زبان کے سلسلے میں وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ مائکروسافٹ والوں سے یہ بحث مباحثہ کئی ماہ تک جاری رہاجس سے انہیں میری کام سے دلچسپی کا شاید ان پر اثرہوا۔

    سوال۔ مائکروسافٹ میں آپ کا رابطہ کس سے ہوا تھا؟
    جواب۔ خوش قسمتی سے میرا رابطہ اس بندے سے ہوا تھا جو مائکرو سافٹ میں ونڈوز کی ملٹی لنگول انجن کا ذمے دار تھا۔ اسے میری جدوجہد کے ساتھ میرا بنایا ہوافونٹ بھی پسند آیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس نے ایک دن کہاتھا کہ ’’ایک انسان ہونے کے ناطے تمہارااتنا بڑا کام دیکھ کرمیرا فرض بنتا ہے کہ میں آپ کی اس سلسلے میں ہر ممکن مدد کروں اس لئے تم اپنے پروگرام کوٹیسٹ کرکے مجھے بھجواتے رہو اور میں اسے ماڈی فاءِ کرکے قابلِ عمل بناؤں گا‘‘۔

    سوال۔ سراس آدمی کا کیا نام تھا؟
    جواب۔ میرے اس محسن کا نام پال نیلسن تھا۔ اس کے بعد میں اپنا پروگرام ٹیسٹ کرکرکے اسے بجھواتارہا اور اس نے جہاں جہاں ضروری سمجھا ونڈوز کو ماڈی فاءِ کرتارہا ۔

    سوال۔ وہ لوگ تو انتہائی پروفیشنل انداز میں کام کرتے ہیں مگر آپ کے بتانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے یہ کام شخصی طور پر کیا تھا ایسا کیسے ممکن ہے؟
    جواب۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتاہے۔ مائکروسافٹ والوں کا ہیڈ کوارٹر ہے سیاٹل ریاست کے شہر ریڈ منڈمیں ہے جہاں جاکر میرا اس آدمی سے وہاں ملنا اور اس کا میرے کام سے متاثر ہوکرمیری مدد کرنیکی حامی بھرناواقعی حیرت انگیز ہے کیوں آپ کی بات درست ہے کہ وہ لوگ عام طوراس طرح کام نہیں کرتے۔

    سوال۔ ویسے عام طور پر اس سلسلے میں ان کے کام کرنے کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے؟۔
    جواب۔ ظاہر ہے ہر سیکشن کے ہیڈ کو ادارے کی انتظامیہ کوئی بھی کام کرنے کا حکم دیتی ہے یا کسی حکومت کی طرف سے مائکروسافٹ کو فارمل رکوئیسٹ جائے یا پھر جو کام وہ کرنے جا رہے ہیں بین الاقوامی آبادی میں اس کی مارکیٹ ہومگر میرے کام کے حوالے سے اس قسم کی کوئی انوالمیٹ نہیں تھی۔

    سوال۔ پال نیلسن اور آپ کی اس سلسلے میں اشتراکی کوششوں کا سلسلہ نتیجہ خیز ہونے تک کتنے دن چلتا رہا ؟
    جواب۔ تین مہینے تک پال نیلسن مائکروسافٹ ونڈوزمیں جاکر سندھی کے فونٹس کو ملٹی لنگئل انجن میں ماڈی فاءِ کرکے وہاں سندھی زبان کی اپروچ بناتارہا تاکہ وہ قابلِ استعمال ہو سکے۔ جب وہ مکمل ہوا تومیں نے وہ سارا سسٹم عام آدمی کی اپروچ کے لئے اپنی ویب سائیٹس پر رکھ دیا۔ اس کے بعد جب میں پاکستان میں آیاتو اور یہاں ایازشاہ صاحب سے بات ہوئی تو اس نے کہا’’ آپ نے سب کی آسانی کے لئے اتنی قیمتی چیزکو کمپیوٹر پر رکھ دیا ہے یاپھر ہر ایک کو مفت میں دیں گے تو ہم سے کو ن خریدے گا‘‘۔ اس کاارادہ میرے سسٹم کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا تھا جس طرح اردو اور دوسری زبانوں والے اس دور میں کر رہے تھے کہ تین چار سو ڈالر میں پیکیج بنا کر بیچتے تھے یاپھر پشاورکے علاقے میں بھی سی ڈی اور کتابوں کی صورت میں پیکیج بنا کر سات آٹھ سو ڈالر میں بیچتے جاتے تھے مگر مجھ سے یہ سب نہیں ہو سکااس لئے میں نے ساری چیزیں جیسا کہ فانٹس، کی بورڈ ، فائل ، انسٹالروغیرہ بناکر انٹر نیٹ پر رکھ دی تھیں۔ مگر اس کے باوجود ایاز شاہ صاحب نے اپنی عقلمندی سے اس سسٹم سے کافی پیسا کمایا۔

    سوال۔ جب آپ کا بنایاہواپروگرام انٹر نیٹ پرفری میں موجود تھا تو اخباروالوں یا دوسرے اداروں نے ایاز شاہ سے وہی سسٹم کیوں بنوایا؟۔
    جواب۔ اصل میں اس دور میں ان تمام مراحل کے جانکاراور ٹیکنیکل آدمی کم ہوتے تھے جو آسانی سے انٹرنیٹ سے اس سسٹم کا فائدہ اٹھا سکیں اور پھر انہیں ایک خوف بھی ہواکرتا تھا کہ کہیں انٹرنیٹ سے لایا ہواپروگرام درست طور پر کام نہ کرسکے۔ حالانکہ میں نے عوامی آواز ، ہلال پاکستان اور دیگر کئی اداروں کو خود جاکر بتایا کہ’’ وہ کس طرح اس پروگرام کو رائج کرکے فائدہ اٹھائیں‘‘۔ مگر ایاز شاہ صاحب نے کافی اداروں کو ریجھا لیاکہ یہ سسٹم آسان نہیں ، کمپیوٹر کے لئے بھاری ہے ، مشکل ہے وغیرہ وغیرہ ۔ کمرشل اداروں میں خوف کی بڑی اہمیت ہوتی ہے انہیں تو ایسا نظام چاہیے ہوتا ہے جو آسانی سے چلتا رہے ان کے لئے مشکلات جنم نہ لیں۔

    سوال۔ اب سندھی زبان استعمال کرنے والے تو دنیا بھر میں موجود ہیں مگر کیا وہ اپروچ جو آپ کے توسط سے مائکروسافٹ والوں نے بنائی تھی پھر اس میں بہتری ہوئی کہ ابھی تک وہی چل رہی ہے؟
    جواب۔ بد قسمتی سے ہماری زبان میں آج بھی مائکروسافٹ والوں کی وہی سپورٹ موجود ہے جو اس وقت تک حاصل کی جاسکی تھی اور سندھی زبان ابھی تک فارمل لینگویج کے طور پر سلیکٹ نہیں کی جا سکی ہے۔

    سوال۔ بعد ازاں آپ نے ، کسی دوسرے شخص نے ، کسی ادارے یا پھر مائکروسافٹ والوں نے نہیں کی اس کو بہتر بنانے کے لئے؟
    جواب۔ کوششیں تو ہوئیں مگر ہماری ریاست ، اداروں یا لوگوں نے اس سلسلے میں ہمیشہ کم فہمی کامظاہرہ کیا اس لئے بات وہیں کی وہیں رہی۔ جب مائکرو سافٹ والے ونڈوزوستا بنا رہے تھے تو انہوں نے مجھے ایک الیکٹرونک پروفارما بھیجا جس میں زبان کے متعلق تمام رموز شامل تھے جیسا کہ دنوں کے نام، دہائی کیسے لکھی جاتی ہے یا پرسنٹیج کس طرح نکالی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب بھی کسی زبان کاکوئی سسٹم کمپیوٹر کے لئے بنایا جاتا ہے تو اس قسم کی تمام باتیں اس میں شامل کی جاتی ہیں۔ ہمارے پاس لنگویج سپورٹ تھی اورہے کہ ’’سندھی کس طرح لکھی جائے‘‘ مگر جب زبان کمپیوٹر پر لائی جائے جیسا کہ عربی ، فارسی اور اردو ہے تب زبان کو فارمل سپورٹ دینے کے لئے دنوں وغیرہ کے نام بھی ہونے چاہیے ہوتے ہیں تاکہ زبان کے ساتھ کیلینڈراور ڈائریاں یا دیگر ایسی چیزوں کی بھی درستگی ہو سکے۔ میں نے ان کے بھجوائے ہوئے پروفارمابھروانے کے لئے سندھی لینگویج اتھارٹی اور سندھی ادبی بورڈ والوں کو بھیج دئے کیوں کہ وہ ایک لمبا کام تھا جو کسی شخص کے کرنے کا نہیں بلکہ اداروں کے کرنے کا۔ اور پھر ان کے پاس زبان و لغت کے ماہرین بھی موجود تھے تو کمپیوٹرایکسپرٹ بھی ۔ میں نے انہیں سارا معاملہ نہ صرف لکھ کر بھیجا بلکہ بتایااور سمجھایا بھی ۔ اس کے علاوہ انہیں اس کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا رہا کہ آپ لوگ یہ فارم بھر کے مجھے بھیج دو۔ لمبے عرصے تک سندھی لینگویج اتھارٹی والوں کے ہاں سے باوجود کئی یاددہانیوں کے کوئی جواب نہیں آیا۔ البتہ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صدیقی صاحب نے ایک مرتبہ جواب دیا اور متعلقہ لوگوں کو بھی لکھا جس کی کاپی مجھے بھی بھیجی ۔ وہاں سے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ والوں نے ایک مرتبہ مجھ سے رابطہ کرکے پوچھاتھا کہ ’’ آپ نے جو فارم بھیجے ہیں وہ کس طرح بھرے جائیں گے‘‘؟۔ میں نے انہیں ضروری باتیں بتائیں اور یہ بھی کہا کہ ’’ آپ کے پاس کمپیوٹر کے انتہائی ماہر موجود ہیں جن کے لئے یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں ہے ‘‘۔ بحرحال جب تک یہ ہمارے بھائی لوگ اس قومی کام کو کرنے کے لئے تیار ہوتے تب تک وہاں مائکروسافٹ والوں نے وستا ونڈوز کے فائل وغیرہ تیار کرکے لانچ بھی کردئے۔

    سوال۔ آپ نے بعد ازاں مائکروسافٹ والوں سے رابطہ نہیں کیا؟
    جواب۔ کیا تھا مگرہماری کوتاہی پر الٹا انہوں نے معذرت کرلی کہ آپ لوگوں نے مقررہ وقت میں کام کرکے نہیں دیا اس لئے ہم اپنا کام تو نہیں روک سکتے تھے۔

    سوال۔ اس سارے پروسیس میں کتنا وقت لگا ہوگا؟
    جواب۔ چھ سات ماہ تو یقیناًلگے ہوں گے ۔

    سوال۔ کیا سندھی لینگویج اتھارٹی یا سندھی ادبی بورڈ والوں نے بعد میں وہ فارم بھرکے دیئے؟
    جواب۔ ابھی تک تو نہیں دیئے (ہنستے ہوئے)۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک سندھی استعمال کرنے کے لئے میری ویب سائیٹ سے یا دوسرے دوستوں کی اسی قسم کی ویب سائیٹس سے وہ سپورٹ اتارنی پڑتی ہے یا انسٹالر رن کرنا پڑتا ہے جو بنیادی طور پر’ کی بورڈ‘ مہیا کرتا ہے تاکہ سندھی ٹائپ کی جا سکے۔

    سوال۔ کیا وستا میں اب سندھی زبان کی سپورٹ نہیں ہے ؟۔
    جواب۔ یہ سپورٹ وستا میں بھی ہے تو ونڈوز 7 میں بھی ہے مگر ’کی بورڈ ‘ نہیں ہے۔ سندھی زبان ان کی اسٹینڈرڈ زبانوں کی لسٹ میں نہیں ہے اس لئے مجبوراً ہمیں عربی یا فارسی وغیرہ جیسی زبان کو سلیکٹ کرکے سندھی کو سپورٹ دینی پڑتی ہے۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ٹیکنیکلی ہر چیز اس تناظر میں مہیاہوچکی ہے جس سے سندھی زبان کمپیوٹر پر لکھی جا سکتی ہے ، سندھی کمپیوٹنگ کی جا سکتی ہے ، سندھی انٹرنیٹ پر استعمال کی جا سکتی ہے ، سندھی میں ورلڈ وائیڈ ویب پر استعمال کی جا سکتی ہے ، چیٹنگ کی جاسکتی ہے ، ای میلز لکھی جا سکتی ہیں۔ پریکٹیکلی ہر وہ کام جو دوسری ترقی یافتہ زبان میں کیا جا سکتا ہے وہ آج کمپیوٹرپرسندھی زبان میں بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس زبان کوکی بورڈ کی فارمل سپورٹ کی ضرورت ہے۔

    سوال۔ اب یہ سپورٹ حاصل کس طرح کی جا سکتی ہے؟
    جواب۔ اس کے لئے سندھ یا پاکستان کے ادارے مائکرو سافٹ والوں سے یا مائکروسافٹ والوں کی ریجنل آفس سے رابطہ کرکے ان سے یہ فارمل سپورٹ حاصل کر سکتے ہیں مگر وہ نہیں کر رہے ہیں

    سوال۔ فارمل سپورٹ ملنے سے کیا فائدہ ہوگا؟۔؂
    جواب۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ جب بھی کوئی شخص کمپیوٹر کھولے گاتو اسے ڈائریکٹ سندھی زبان ویب میں ملے گی جس طرح انگریزی یا دوسری زبانیں ملتی ہیں کسی کو میری ویب یا کسی دوسری ویب پر جاکر اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بحرحال سندھی زبان کمپیوٹر پر آچکی ہے اور اب اس کو کتنی وسعت دینی ہے یا اس سے کتنا فائدہ لینا ہے اس کا انحصارہم لوگوں پر ہے۔

    سوال۔ ہم لوگوں سے آپ کا کیا مطلب ہے؟۔
    جواب۔ ہم لوگ یعنی سندھی لوگ ۔ اور یہ بھی کہ اس تناظر میں ہمارے ادارے اور یونیورسٹیز کیا کردار اداکرتی ہیں ۔

    سوال۔ مثال کے طور پر انہیں کیا کرنا چاہیے؟۔
    جواب۔ آصف ہر ملک میں ویب سائیٹس کمرشل ادارے بناتے ہیں اور بد قسمتی سے ہمارے ہاں مارکیٹ انتہائی چھوٹی ہونے کے سبب کمرشل ادارے اتنے فعال نہیں ہیں ۔دوسرا یہ کہ پائریسی کا رواج سوفیصد ہے اوپر سے اس معاملے میں قانون نام کی کوئی چیز نہ ہونے کے سبب یہاں اس قسم کے جرائم پرکوئی پکڑدھکڑ نہیں ہے اس لئے کوئی بڑا ادارہ یہاں سیڑپکاری نہیں کرنے کوکبھی بھی تیار نہیں ہوا ۔ دنیا بھرمیں جہاں کہیں اس قسم کی صورتحال ہوتی ہے تو وہاں سافٹ ویئر وغیرہ جیسی چیزیں بنانے کے لئے بہترین ادارے سرکاری انسٹیٹیوشنز، یونیورسٹیز ، کالیجز یا اسکولز ہوتے میں جو اوپن سورس کہلاتے ہیں۔ وہاں جتنا چاہ اور شوق سے کام کیا جاتا ہے اتنے ہی نتیجے اور ذرائع زبان کے لئے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور اگر ہم optical characters recognizationکی بات کریں ایک پرنٹیڈ کاغذ ہے وہ آپ نے ڈالا اور وہ سارا ٹیکسٹ میں تبدیل ہوکر آگیا ۔ یا پھر speech recognitionکہ آپ تقریر کرتے جائیں اور وہ اسٹیج پر الفاظ کی صورت میں نظر آتا جائے ۔ اس قسم کے معاملات انگریزی اور دوسری زبانوں میں اس لئے ممکن ہیں کیوں کہ ہر کمپیوٹر میں ان کے لئے فارمل سپورٹ موجودہوتی ہے جو بدقسمتی سے سندھی زبان کے لئے ممکن نہیں ہے۔

    سوال۔ اس تناظر میں قومی خدمت کے طور پر سندھیوں کو شخصی طور پرکیا کرنا چاہہے؟۔
    جواب۔ سندھی زبان کے لئے مروجہ کمپوٹر کے معاملات جس قدر استعمال کئے جائیں گے اسی قدرہی یہ ٹولز اور ذرائع بھی بڑہتے رہتے ہیں اس لئے عام سندھیوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں یا آفیسوں میں رکھے جانے والے کمپیوٹروں پر سندھی کا استعمال کرتے رہیں۔ یہ ہماری قومی ذمے داری بن جاتی ہے کہ جب ہم ایک گھنٹے کے لئے دن میں کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہو تو پانچ دس منٹ سندھی کمپیوٹنگ کو بھی ضرور دیں۔ یہ ہماری زبان کا ہم لوگوں پر حق ہے جو ہمیں اداکرنا چاہیے کیوں کہ جہاں ادارے ناکام دکھائی دیتے ہیں تووہاں اشخاص اپنی زبان اور قوم کی بھلائی ، ترقی اور اصلاح کے لئے اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔

    سوال۔ آپ کا مطلب ہے کہ سندھیوں کو چاہیے کہ کمپیوٹرکے استعمال پر اپنی شمولیت کو بڑہائیں؟۔
    جواب۔ بلکل ۔ انٹر نیٹ کے ذریعے جوکمیونیکیشن میں انقلاب آیا ہے اس میں ان کی شمولیت انتہائی کم ہے ۔ اس کے ذریعے دنیابھر میں پبلشنگ کا نیا نظام متعارف ہوچکا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے آپ کو انٹرنیٹ پر ویب سائیٹ کے ذریعے پبلش کر سکتا ہے ۔ پہلے کتاب لکھنا اور پبلش کروانا انتہائی مشکل کام ہواکرتا تھالیکن اب شاعر ، ادیب یا لکھاری ذاتی بلاک بناکر اپنی ریڈرشپ بڑھا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں اب پہلے والی مشکلات نہیں رہیں کہ کیسے لکھیں لکھیں، پرنٹ کیسے کریں اور پبلش کس طرح کریں یا ڈسٹری بیوشن یا پھر انویسٹ مینٹ کا کیسے بندوبست کریں وغیرہ وغیرہ۔ اب اس قسم کے تمام معاملات پریکٹیکلی فری ہیں۔

    سوال۔ وکی پیڈیا وغیرہ جیسی ویب پر بھی تو اب سندھی آچکی ہے ؟۔
    جواب۔ ہاں یہ بھی اداروں کا نہیں اشخاص کا کام ہے جو دنیا بھر میں موجودسندھی لوک انفرادی طور پر کررہے ہیں۔ وکی پیڈیا کی سروس بھی مکمل طور پر سندھی میں نہیں ہے مگر کسی حد تک ضرور ہے۔ اس قسم کی ویب پر آپ جتنا مواد سندھی میں دیں گے اتنا ہی سندھی میں آئے گااس لئے یہاں بھی وہی بات درکارہے کہ ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ گوکہ وکی پیڈیا میں سندھی کا مواد بہت ہی کم ہے مگر یہ بھی خوش آئیندہ بات ہے اس کی ابتدا تو کی گئی ہے۔ اسی طرح گوگل کے کسی بھی فارم سے سندھی میں سرچ کی جا سکتی ہے یہاں تک کہ انگریزی کے گوگل میں سے بھی سندھی میں سرچ ہو سکتی ہے۔ مگر آپ کے مینیو سندھی میں تب آئیں گے جب آپ انہیں سندھی میں ماڈی فاءِ کر یں گے۔ اسی طرح فائر فاکس براؤزر ہے جس کو انڈیا کے اندر سندھی میں ماڈی فاءِ کیا گیا ہے یہاں آنے سے پہلے مجھے بھی وہ نمونہ کسی نے بھیجا تھاکہ ’’آپ اسکو دیکھ کر مشورہ دیں ‘‘ ۔

    سوال۔ تو کیاوہ قابل عمل تھا؟
    جواب۔ ہاں کیوں نہیں گوکہ اس میں کچھ مشکلاتیں تھیں جیسا کہ شروع شروع میں اس قسم کے تمام معاملات میں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ یوزرمسلسل استعمال میں لائے تو اس کا عادی بن جاتا ہے ۔ کبھی کبھی اپنی زبان کی نسبت انگریزی زبان ہمیں زیادہ آسان لگتی ہے جیسا کہ فائیل کو سندھی میں کس طرح لکھا جائے مگرانگریزی میں فائیل آسان رہتا ہے۔ جیسا کہ اوپن فائیل، کلوز فائیل وغیرہ جیسے سینکڑوں الفاظ ہیں جن کاترجمہ بہت مشکل لگتا ہے۔ یا جیسے ایکس مل فائیل ہوتے ہیں جس میں اوپن یا کلوز کے لئے سندھی کا متبادل لفظ لکھا جاتا ہے ۔ اس قسم کے معاملے اوپن پروجیکٹ کے طور پر آسانی سے ہوسکتے ہیں جبکہ شخصی طور پرانہیں حل کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے ۔ اوپن پروجیکٹ میں ایک لفظ آپ نے لکھا ایک لفظ میں نے لکھا کی طرح ایک دن میں ایک لاکھ آدمی ایک لاکھ الفاظ بنا سکتے ہیں جبکہ اسی کام کو ایک آدمی کرے گا تو اس لئے اسے بہت ساری عمریں درکار ہوں گی۔

    سوال۔ کیا آپ نے مائکروسافٹ والوں کے ساتھ مل کر بھی کام کیا؟
    جواب۔ مائکروسافٹ والوں سے میری آفئشلی کوئی نسبت نہیں تھی لیکن ان کے ساتھ میرے سسٹم سے متعلق جو’’ ان آفیشل ‘‘معاملہ ہوا اس کے بارے میں آپ کوپہلے ہی بتا چکا ہوں۔ البتہ مائکرو سافٹ والوں کے لئے میں نے فری لانس کام ضرور کیا ۔ انہوں نے عربی کا ایک فونٹ بنایا تھا
    جس میں انہیں کچھ مشکل درپیش آرہی تھی اس لئے انہوں نے مجھے مدد کی رکیسٹ کی کہ تو میں نے انہیں پروگرامنگ کرکے دی تھی۔ اس کے علاوہ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ’’ ایک ریسرچ پیپر لکھ کے دوکہ پاکستانی زبانوں کویونی کوڈ کے ذریعے کس طرح ونڈوزآپریٹنگ سسٹم میں امپلیمنٹ کیا جائے‘‘ ۔ میں نے وہ پیپر بھی انہیں لکھ کر دیا جو انہوں نے اپنی ویب میں شامل کیا اس کے علاوہ میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

    سوال۔ کہیں کسی ادارے یا یونیورسٹی وغیرہ میں کام نہیں کیا اس سلسلے میں یا کوئی آفر؟۔
    جواب۔ پروفیسر گل آغایونیورسٹی آف عربانا شمپین میں کام کرتا ہے اس سے میری دعا سلام ہے جبکہ گل آغا کی بیوی بھی وہاں ڈیپارٹمنٹ آف لنگوسٹک میں پروفیسر ہے۔ انہوں نے ایک دن رابطہ کرکے مجھے بتایا کہ’’ ہم لوگوں نے سندھی زبان کا آن لائین کورس شروع کیا تھا‘‘ اور اس سلسلے میں مجھ سے کچھ مدد مانگی تو میں انہیں ان کی مانگ کے مطابق آن لائی کورس کی پروٹاٹائیپ اور ویب پیچ بنا کر دیاتھا۔

    سوال۔ آپ اگر اس معاملے کو کمرشل رکھتے توکیا سندھی زبان کو زیادہ فائدہ نہیں ہوتاچاہے اس کمائی سے کوئی چھوٹا موٹا ادارہ ہی بناتے اور جیسے اوپن پروجیکٹ کی آپ نے بات کی تو اس قسم کے معاملات کواس ادارے میں بہتر طور پر سرانجام دیا جا سکتا تھا؟۔
    جواب۔ شاید آپ کی بات درست ہے ۔ دیکھیں میں نے ابتدا پیسے کمانے کے لئے ہی کی تھی بلکہ میں نے اس دور میں دو لاکھ روپے خرچ کرکے کچھ کمپیوٹر زاور لیزرپرنٹر بھی خریداتھا۔ میں نے جس ڈیلر سے یہ لین دین کی تھی اس کو سندھی کے سیٹ اپ کو سیل کرنے کی بات کی تو اس نے کاروباری بات کی کہ ’’تم مجھے کتنی پرسنٹ دوگے‘‘۔ میں نے اسے بتایا کہ ’’فائدہ تو تمہیں ہی ہوگا کیوں کہ ہارڈ ویئر تمہارا سیل ہوگا جس سے پیسے تم بناؤگے جبکہ میری سندھی کی سافٹ ویئر یونیک ہے کیوں کہ وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں اس کے پیسے تو میں تم سے نہیں لیتا اس لئے تمہیں مجھ سے کوئی کمیشن نہیں مانگنی چاہیے‘‘۔ بحرحال کام نہیں بنا مگر اس نے اپنے آدمیوں کو جاکر جھاڑ پلائی کہ ’’یہ بندہ دو ماہ پہلے ہم سے کمپیوٹر لے کر گیا اور اتنے عرصے میں اس نے وہ سالیوشن نکالا ہے تم لوگ جو سالوں سے یہاں کام کررہے ہو توکیوں اس کا سالیوشن نہیں نکال سکے ہو‘‘۔ بحرحال میرے کام کی تقلید کرکے اس نے ایک عام قسم کا سسٹم اپنے آدمیوں سے تیار کروایا اور عبرت والوں کے پاس جاکر انہیں فری میں دینے کی پیشکش کی ۔

    سوال۔ عام قسم کا سسٹم سے آپ کی کیا مراد ہے؟
    جواب۔ اس سسٹم میں انہوں نے ہر حرف اور ہر لفظ کے نقطے الگ کئے تھے یعنی اگر آپ نے کچھ لکھنا ہے تو الفاظ الگ لکھو اور نقطے الگ جو انتہائی جوکھم والا اور مشکل سسٹم تھا۔ اصل میں وہ کوئی سسٹم تھا ہی نہیں بلکہ اس آدمی کی ایک کاروباری سازش تھی جس سے وہ ہمیں یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ ’’ایسا سسٹم تو میں نے بھی تیار کرلیا اس لئے مجھے اپنا سسٹم فری میں دو کہ ہم اسے بیچیں‘‘۔

    سوال۔ آپ نے خود عبرت والوں سے بات نہیں کی؟
    جواب۔ کی تھی ۔۔ میں نے بھی بات کی تھی مگر مجھے انہوں نے بھی وہی بات کی کہ’’ آپ ہمیں اپنا سسٹم فری میں دو تو ہم چلائیں گے جس سے آپ کی پبلسٹی ہوگی‘‘۔ میں نے انہیں کہا’’ آپ لوگوں کی مارکیٹ بہت زیادہ ہے اس لئے آپ بہت سارا پیساکماتے ہو جو اس سسٹم سے اور زیادہ کماؤگے جبکہ میں ایک غریب آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ ’’میں نے جو ایک ڈیڑھ لاکھ کی لاگت اس سسٹم کو بنانے میں لگائی ہے اگر وہ بھی نکل جاتی ہے تو غنیمت ہے‘‘۔ مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس دور میں سندھی اخباروالوں کا رویہ میرے ساتھ انتہائی غیردوستانہ ، غیرقومی اور بے رحمی کی حد تک کمرشل تھا جو میں نے اس سلسلے میںیہودیوں میں بھی نہیں دیکھاتھا۔

    سوال۔ کیا یہودیوں کے تعاون کی اس سلسلے میں کوئی مثال دیں گے ؟
    جواب۔ ایک مثال تو میں پہلے ہی دے چکا ہو ں مائکروسافٹ کے پال نیلسن کی مدد کی جس نے میرے سسٹم کو ماڈی فاءِ کیا تھا ۔ اپریل 1988ع میں جب میں نے اپنے سسٹم کی فارمل رونمائی ایپل کمپنی کے ڈسٹریبیوٹرز کے تعاون سے کی تو انہوں نے مجھے کہا کہ’’ ہم لوگ اپ کے سسٹم کی پاکستان بھر میں ڈسٹریبیوشن کرکے آپ کی لگائی ہوئی لاگت نکالنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کراچی ہالی ڈے ان میں (موجودہ میرئیٹ ہوٹل ) ایک پریس کانفرنس کابھی انعقاد کیاتھا جس کی صدارت مرحوم علی احمد بروہی نے کی تھی۔ اس کانفرنس میں سندھ بھر سے کافی نامور آدمیوں کے ساتھ اخبارات کے مالکان نے بھی شرکت کی تھی اور انہوں نے اچھی خاصی کوریج کے ساتھ میرے کام کی تعریف بھی کی تھی مگر دوسری طرف سے مجھے پیغامات بھیجے کہ’’ ہمیں آپ یہ سسٹم فری میں دو‘‘۔ علی احمد بروہی نے پروگرام ختم کرنے کے بعد مجھے گلے لگاکر کہا تھا کہ ’’ ماجد اگر تم نے یہ کام بنگالی زبان کے لئے کیا ہوتاتو وہاں چوک چوک پر تمہارے مجسمے لگائے جاتے‘‘۔ پھر ہنستے ہوئے کہا ’’تم نے سندھی زبان کے لئے یہ کام کیا ہے گبھراؤ نہیں جلد ہی کوئی نہ کوئی تمہیں ٹانگ سے اٹھاکر کھینچ لے گا‘‘ ۔

    سوال۔ تو کیااس سلسلے میں آپ کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کی گئیں؟۔
    جواب۔ خیر انہوں نے تو یہ بات اپنی مخصوص طبیعت کے حوالے سے کی تھی مگر ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ توابھی تک جاری ہے ہی لیکن اس کے ساتھ محبت اورداد بھی ملتی رہتی ہے جو میرے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے بلکہ میرے نزدیک وہی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ باقی جو ساری باتیں ہیں وہ ہمارے سماجی ڈراموں کا حصہ ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتادوں کہ’’ میں ان معاملات کو روحانی توسط سے بھی دیکھتا ہوں میرے نزدیک روشنی کا وجود ہے ، اندھیرے کا نہیں کیوں کہ اگر ہم اندھیرے کے وجود کو تسلیم کریں گے تو اس میں الجھ جائیں گے۔ اسی طرح یہ جو ناکاری معاملات ہوتے ہیں ان کے وجود سے انکار نہ ہوتے ہوئے بھی ہم جانتے ہیں کہ بقا محبتوں کو ہوتی ہے۔ یوں جن چیزوں کی بقا نہیں ہوتی ان میں الجھ کر وقتی طورپر ہم بھی ناکاری باتوں کو بقادینے میں کردار اداکرتے ہیں۔

    سوال۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کسی زبان کے امیر ہونے کے لئے کیالوازمات ضروری ہوتے ہیں؟۔
    جواب۔ سائبر ورلڈ میں کسی بھی زبان کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ اس زبان بولنے والوں کے پاس کمپیوٹر میں بھی وہی ٹولز اور ذرائع ہونے چاہیں جو دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے پاس اس سلسلے میں ہوتے ہیں۔

    سوال۔ سندھی کو سائبر زبان بنانے کے سلسلے میںآپ نے جتنا کام آ پ نے کیا اتنی پزیرائی نہیں ملی آپ کو اس کا سبب کیا ہے؟۔
    جواب۔ کچھ لوگ پذیرائی اور داد کے حصول کے بغیر کام کرتے ہیں آپ مجھے بھی ان میں سے سمجھ لیں۔ جہاں تک پبلسٹی ملنے کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس کا سب سے بڑا سبب میری نان کمرشل ذہنیت ہے ۔ میرا ایک خواب تھا کہ سندھی زبان کو کمپیوٹر میں استعمال کیا جائے اور کمپیوٹرکو سندھی زبان کے لئے استعمال کرنے کے ساتھ سندھی زبان کو انٹرنیٹ پر استعمال کیا جائے۔ علاوہ ازیں میرایہ بھی خواب تھاکہ سندھی کمپیوٹنگ ہر سندھی کا حق ہے جس تک ان کی اپروچ ہونی چاہیے اور وہ بھی فری۔ میں نے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے جدوجہد کی ہے۔ میرے لئے یہی کافی ہے کہ میں نے کام کیا ہے یا میں کام کررہاہوں اور میں جوکام کر رہا ہوں اس کے روشن مستقبل کے بارے میں کافی پرامید بھی ہوں ۔

    سوال۔ آپ کے پرامید ہونے کی وجہہ؟۔
    جواب۔ پچھلے آٹھ دس سالوں میں کمپیوٹر پر سندھی کا استعمال کافی بڑہا ہے۔ ہونا تو اس سے بھی زیادہ چاہیے تھا مگر سر دست اتنا استعمال بھی ہمارے لئے خوش آئند بات ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ یہ استعمال بڑہتا ہے کم نہیں ہوتا ۔ آج کل دنیا بھر میں سندھی لوگ سندھی زبان میں ویب بنارہے ہیں ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں یہ ایک زبردست بات ہے میرے جیسے آدمی کے لئے۔

    سوال۔ آپ نے سندھی زبان کے کمپیوٹرپر استعمال کے بڑہنے پر یقین کی بات کی ہے اس کا کوئی ٹینکنیکلی سبب ہے؟۔
    جواب۔ وہ ٹینکنیکلی سے زیادہ نفسیاتی اور سماجی ہے کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنا مدعا جتنا اپنی زبان میں آسانی سے بیان کر سکتا ہے اتنا کسی دوسری زبان میں نہیں اس لئے میں نے یہ بات کی ۔ ویسے بھی اس دور میں قوم پرستی اور زبان پرستی کا رواج دنیا بھر میں فروغ پا رہاہے جس میں پڑھالکھا طبقہ بھی اپنا کردارادا کر رہاہے۔
    ماخذ
    http://asifrazamorio.com.pk/سندھی-زبان-کو-سائبر-زبان-بنانے-والے-عظی/
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر