سلام باؤ جی

ہم اصل میں جو کچھ ہیں یہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں اورپورا قالین اٹھانے کی ہمت ابھی تک کسی میں نہیں ورنہ وہ تعفن پھیلنا ہے کہ سانس لینا دوبھرہو جائے گا۔
تھوڑا اختلاف رکھوں گی۔
معاشرے میں صرف برائیاں ہی نہیں پنپ رہی ہیں بہت کچھ دنیا بھر سے اچھا بھی ہے اور اس کو سامنے لانا بھی ہمارا ہی کام ہے۔
 
چند دن پہلے ذاتی احباب میں سے ایک نے یہ افسانہ پڑھا تو مشورہ دیا کہ اسے کہیں اور بھی چھاپا جا سکتا ہے۔ اسی مشورے کو مدنظر رکھتے ہوئے پرسوں اسے ’ہم سب‘ پر بھیجا اور آج وہاں سے published کا پیغام موصول ہو گیا۔ :)
 

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم -آپ کے نام کے ساتھ چودھری دیکھ کر ڈر لگتا تھا مگر اب ڈر ختم ہوگیا کہ اس باب میں آپ بھی میرے ہی جیسے ہیں -:LOL:

شاہ ولی اللہ دہلوی کی اولاد میں سے کوئی بزرگ تھے ،نام مجھے یاد نہیں -ان کا ایک واقعہ میری یاد داشت کے مطابق کچھ یوں ہے کہ دہلی میں کوئی رنڈی فوت ہوگئی -ایک آدمی ان سے مسٔلہ پوچھنے آیا کہ حضرت یہ فرمائیے رنڈی کی نماز جنازہ پڑھنا شرعًا کیسا ہے ؟حضرت نے فرمایا کہ کیوں میاں !جو ان رنڈیوں کے پاس جاتے جاتے مرتے ہیں ان کی نماز جنازہ پڑھتے ہو ؟-وہ تھوڑا سوچ کے بولا کہ حضرت پڑھتے تو ہیں -حضرت نے فرمایا کہ ان کے متعلق تو ہم سے مسٔلہ نہیں پوچھا-جب ان کی نماز جنازہ جائز ہے تو طوائف کی کیوں ناجائز ہو گی -

بہرحال بہت درد انگیز کہانی ہے -لکھتے رہیے اور اپنے تجربوں سے ہمیں سیکھنے کے موقعے دیجیے -
 
السلام علیکم -آپ کے نام کے ساتھ چودھری دیکھ کر ڈر لگتا تھا مگر اب ڈر ختم ہوگیا کہ اس باب میں آپ بھی میرے ہی جیسے ہیں -:LOL:
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ۔:)
اجی شاہ صاحب یہ آپ نے انوکھی بات بتائی ۔ جس ماحول میں ہم پلے بڑھے ہیں وہاں الفاظ کی سختی سرے سے موجود نہیں اور طنز وغیرہ وغیرہ سے بھی بڑوں نے منع ہی کیے رکھا ہے، وہ الگ بات ہے کہ ہم باز پھر بھی نہیں آتے اور اس کا افسوس بھی رہتا ہے۔ ہاں ۔۔۔۔۔ عمل کردینے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔:winking:
شاہ ولی اللہ دہلوی کی اولاد میں سے کوئی بزرگ تھے ،نام مجھے یاد نہیں -ان کا ایک واقعہ میری یاد داشت کے مطابق کچھ یوں ہے کہ دہلی میں کوئی رنڈی فوت ہوگئی -ایک آدمی ان سے مسٔلہ پوچھنے آیا کہ حضرت یہ فرمائیے رنڈی کی نماز جنازہ پڑھنا شرعًا کیسا ہے ؟حضرت نے فرمایا کہ کیوں میاں !جو ان رنڈیوں کے پاس جاتے جاتے مرتے ہیں ان کی نماز جنازہ پڑھتے ہو ؟-وہ تھوڑا سوچ کے بولا کہ حضرت پڑھتے تو ہیں -حضرت نے فرمایا کہ ان کے متعلق تو ہم سے مسٔلہ نہیں پوچھا-جب ان کی نماز جنازہ جائز ہے تو طوائف کی کیوں ناجائز ہو گی -
یہی واقعہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے متعلق بھی سن رکھا ہے۔
بہرحال بہت درد انگیز کہانی ہے -لکھتے رہیے اور اپنے تجربوں سے ہمیں سیکھنے کے موقعے دیجیے -
جی بہت شکریہ۔ :):)
 

یاسر شاہ

محفلین
جس ماحول میں ہم پلے بڑھے ہیں وہاں الفاظ کی سختی سرے سے موجود نہیں

چودھری صاحب !سخت الفاظ کے متعلق بھی ہم غلط فہمی میں مبتلا ہیں،جو ہم دفتروں میں بیٹھ کر گالیاں دیتے اور سنتے ہیں وہ واقعی سخت الفاظ کے زمرے میں آتی ہیں -رنڈی کو میں سخت لفظ نہیں سمجھتا اس لفظ سے یا تو وہ لوگ نفرت کرتے ہیں جو رنڈی سے نفرت کرتے ہیں یا اس لفظ میں بھری نفرت سے گریز کرتے ہیں-یہ پیشہ تو حرام ہے لیکن چاہیے تو یہ کہ مرض سے نفرت ہوتی مریض سے نہ ہو تی - مگر ہم نے حلال پیشوں کے ساتھ کیا کیا - ان الفاظ میں نفرت بھی ہم ہی بھرنے والے ہیں :نائی ،موچی ، کنجڑا ،دھوبی ،نانبائی-یہی وجہ ہے کہ آج ان پیشوں کو اختیار کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہمیں انگلش میں پکارا جائے -نائی چاہتا ہے اسے hair dresser پکارا جائے کیونکہ انگریز نے ان پیشوں سے نفرت نہیں کی سو hair dresser کے عنوان میں ایک وقار موجود ہے اور بنگالی کو بھی گالی ہمیں نے بنایا ہے -

انگریز لوگ تو کتوں سے بھی پیار کرتے ہیں لہٰذا میری بیگم کہتی ہے بچوں کے سامنے "کتا " نہ بولا کریں بلکہ doggy کہا کریں -ساری بات کو اپنے ایک شعر میں بیان کروں گا -

ہم تو گندے تھے ہم نے بول کے حیف
یہ زباں بھی خراب کر دی ہے

آپ سے اچھی گفتگو رہی -پھر ملیں گے اگر خدا لایا
 
Top