سبھی یہاں پر محبتوں میں سنا رہے ہیں سزا کی باتیں - برائے اصلاح

انس معین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 3, 2019

  1. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    الف عین عظیم

    سبھی یہاں پر محبتوں میں سنا رہے ہیں سزا کی باتیں
    کوئی تو ہو گا جو اس نگر میں سنائے ان کی ادا کی باتیں

    ملے گا تجھ کو سکون کیسا تو چاہے کر لے ہزار سجدے
    کہ سر جھکایا نہیں ابھی اور تو کر رہا ہے جزا کی باتیں

    ہیں جب سے دلبر ہمارے روٹھے چمن بھی روٹھا نظارے روٹھا
    ہے بدلا بدلا صبا کا لہجہ ہیں اکھڑی اکھڑی ہوا کی باتیں

    مہک اٹھے ہیں یہ دشت و صحرا گلوں کے رخ پر جمال دیکھو
    سنا رہی ہے بہار یارو سبھی کو اس دل ربا کی باتیں

    تمہاری ہمت پے داد احمد کہ اپنا انجام جانتے بھی
    تو بے وفاؤں کی محفلوں میں سنا رہا ہے وفا کی باتیں
     
  2. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    باقی تو استاد محترم دیکھیں گے۔
    آخری شعر کے پہلے مصرعے میں 'تمہاری' اور دوسرے مصرعے میں لفظ 'تو' آیا ہے جو کہ شتر گربہ ہے۔۔۔ تمہاری کے ساتھ تم لگا سکتے ہیں۔۔۔ تو ہی لگانا ہے تو تمہاری کو تری سے بدلنا ہو گا۔۔۔
    پہلے مصرعے میں "جانتے' کی جگہ "جان کر " کہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    سبھی یہاں پر محبتوں میں سنا رہے ہیں سزا کی باتیں
    کوئی تو ہو گا جو اس نگر میں سنائے ان کی ادا کی باتیں
    ۔۔۔۔ 'محبتوں میں سزا کی باتیں' کنفیوژنگ ہے۔ محبت کے بدلے دکھ تکلیف کے قصے سنائے جا رہے ہیں یہ بات واضح نہیں۔
    دوسرے میں کس کی ادا کی باتیں مقصود ہیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا

    ملے گا تجھ کو سکون کیسا تو چاہے کر لے ہزار سجدے
    کہ سر جھکایا نہیں ابھی اور تو کر رہا ہے جزا کی باتیں
    ۔۔۔۔ 'اور' کا ار تقطیع ہونا ناگوار لگتا ہے۔ اس کی جگہ 'تک' لایا جا سکتا ہے
    اسی طرح 'تُو' کا بھی صرف تُ تقطیع ہونا اچھا نہیں لگ رہا۔ 'پہ' بمعنی مگر، لیکن استعنال کیا جا سکتا ہے

    ہیں جب سے دلبر ہمارے روٹھے چمن بھی روٹھا نظارے روٹھا
    ہے بدلا بدلا صبا کا لہجہ ہیں اکھڑی اکھڑی ہوا کی باتیں
    ۔۔۔۔ نظارے روٹھا؟
    باقی ٹھیک

    مہک اٹھے ہیں یہ دشت و صحرا گلوں کے رخ پر جمال دیکھو
    سنا رہی ہے بہار یارو سبھی کو اس دل ربا کی باتیں
    ۔۔۔۔ یارو بھرتی کا لگتا ہے۔ 'آ کر' کیا جا سکتا ہے

    تمہاری ہمت پے داد احمد کہ اپنا انجام جانتے بھی
    تو بے وفاؤں کی محفلوں میں سنا رہا ہے وفا کی باتیں
    ۔۔۔۔ 'جانتے بھی' جانتے ہوئے بھی درست تھا شاید۔ عمران سرگانی کے مشورے کے مطابق 'جان کر' کر لیں
    دوسرا
    سنا رہا ہے یوں بے وفاؤں کی محفلوں میں وفا کی باتیں
    ایک ممکنہ صورت
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میاں تم کو کچھ باتیں سنانے کو جی چاہ رہا ہے ۔
    کچھ سمجھے میں کیا کہہ رہا ہوں
    باتیں سنانا محاورے کے مطابق مطلب دیتا ہے ' ڈانٹنا، غصے کا اظہار کرنا۔
    اگر یہ مطلب نہیں ہے تو باتیں،' کی' جاتی ہیں، سنائی نہیں جاتیں۔ مطلع اور دوسرت اشعار میں سنانے کے فعل کو بدلو۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سر بہت شکریہ بہتر کرتا ہوں ۔
    میاں تم کو کچھ باتیں سنانے کو جی چاہ رہا ہے (یہ سن کر پہلے تو میں ڈر گیا کے خدا جانے کون سی غلطی سرد ہو گئی )
    جزاک اللہ
     
  6. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ عظیم بھائی بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔
    جزاک اللہ
     

اس صفحے کی تشہیر