سامانِ وارِ قتل ہے ہر سو بکھرا ہوا

وسیم خان

محفلین
ایک قطع عرض ہے۔

سامانِ وارِ قتل ہے ہر سو بکھرا ہوا
تیری تیغِ ابرو سے دشنہِ مژگاں تک

سامانِ زدِ گردن اس سے ہو کیا بہتر
لے چلو خمِ کمندِ گیسوئے جاناں تک
 

وسیم خان

محفلین
میری تو اپنی سی کوشش تھی اس بحر پہ کچھ کہنے کی ۔
فعْلن فعْلن فعْلن فَعِلن فعْلن فَعِلن
تھی۔ عروض ویب سائٹ کے مطابق بحر یہ بنتی ہے۔
بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف
بنتی۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے مشق کر رہا ہوں۔ توجہ دلانے کا شکریہ۔
 
Top