سارے مصنوعی سہارے دائیں بائیں ہو گئے۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 20, 2019

  1. کاشف اسرار احمد

    کاشف اسرار احمد محفلین

    مراسلے:
    1,219
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    السلام عليكم
    استادِ محترم جناب الف عین سر ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔احقرکو مستفید فرمائیں۔۔

    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    سارے مصنوعی سہارے دائیں بائیں ہو گئے
    اب سبھی رشتے ہمارے دائیں بائیں ہو گئے

    آزمانا، فیصلہ کن وقت پر سب راستے
    کج روش، فطرت کے مارے دائیں بائیں ہو گئے

    زندگی کی دوڑ میں، مصروفیت کی جنگ میں
    تیری یادوں کے شمارے دائیں بائیں ہو گئے

    بس اچانک دیکھ کر ان کو، ہمارے ذہن سے
    مثل، تشبیہ، استعارے دائیں بائیں ہو گئے

    جب دعا کی رب سے اھدنا الصّرَاط المستقیم
    اہرمن، طاغوت سارے دائیں بائیں ہو گئے

    راستے سے عرش تک مظلوم کی فریاد پر
    کہکشائیں، چاند، تارے دائیں بائیں ہو گئے

    امتحاں میں دیکھ کر کاشف، کراماََ کاتبین
    لکھ گئے کہ دوست سارے دائیں بائیں ہو گئے

     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,986
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عظیم
    ردیف ہی مجھے پسند نہیں آئی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    مجھے بھی ردیف مزاحیہ قسم کی لگ رہی ہے، اس کے علاوہ دوسرا شعر دو لخت محسوس ہو رہا ہے۔
    چوتھی شعر کے دوسرے مصرع میں 'تشبیہ' کی ہ کو گرایا گیا ہے جو میرا خیال ہے کہ درست نہیں ہے
    اور مقطع میں میرا خیال ہے کہ صرف 'امتحاں' ٹھیک نہیں ہے، اس سے ہمارے دنیاوی امتحان ذہن میں آتے ہیں، اور دوسرا وہ تو صرف سوال و جواب ہوتے ہیں اس کو امتحان کہنا بھی درست معلوم نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ 'امتحاں میں دیکھ کر' میں 'دیکھ کر' سے کیا مراد ہے یہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. کاشف اسرار احمد

    کاشف اسرار احمد محفلین

    مراسلے:
    1,219
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    بہت بہت شکریہ عظیم بھائی ۔۔۔ آپ کی گزارشات پر غور کرتا ہوں ۔۔۔ شاید کچھ بہتر کر سکوں ۔۔۔
    جزاک الله ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر