سائنس اور قرآن۔۔۔۔۔۔۔۔۔

arifkarim

معطل
آپ نے خدا کہ وجود کو روحانی طور پر کیسے محسوس کیا ۔۔۔ اب آپ سے میرا ایک سوال ہے ۔۔۔ وہ یہ کہ ۔۔ کیا خدا ایک مادی چیز ہے جو اسے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔۔۔::confused:

نہیں خداکوئی مادی چیز نہیں۔ بلکہ ایک روحانی نور ہے۔ یہی روح انسانی جان کے اندر بھی موجود ہے۔ اسلئے آپ خدا کو روحانیت میں‌ڈوب کر پا سکتے ہیں۔ اسکے وجود کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ تمام انبیاء کو ہوتا ہے
 

وجی

لائبریرین
ہاں ایمان پر کامل ہونے کیلئے تو بس ایک برین واش کرنے والے ملاء یا مولوی کی ضرورت ہے۔ جو بچپن سے ہی ہمیں‌ڈرا ڈرا کر ایمان والا مسلمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی عقائد سے متعلق کوئی دلیل بھی پیش نہیں‌کرتے!
کیا خدا تعالیٰ قرآن میں‌یہ نہیں کہتا کہ میری کائنات کی تسخیر کرو، ذرہ ذرہ خدا کے وجود کی گواہی دیگا؟! یعنی خدا پر کامل ایمان کی بنیاد صرف ہماری سوچ ہی نہیں بلکہ اعمال اور مشاہدے سے بھی ضروری ہے!

عارف صاحب کیسی کی ذاتی رائے کو اس طرح دوسروں پر مت تھوپیں
تو بھای میں نہ کب منع کیا کہ آپ تسخیر کرنا بند کردیں
بلکہ جو قرآن کہ رہا ہے اسکو ثابت کریں جو آپکا مشاہدہ کہ رہا ہے ہو سکتا ہے وہ قرآن سے مختلف ہو تو قرآن آپکی رہنمائی کرے گا آپکو بھٹکنے نہیں دے گا اور رہی بات کہ دوسرا پہلو کون سوچے گا تو منکر قرآن وہ سوال آپکے لیئے کھڑے کرتے رہیں گے
 

arifkarim

معطل
بلکہ جو قرآن کہ رہا ہے اسکو ثابت کریں جو آپکا مشاہدہ کہ رہا ہے ہو سکتا ہے وہ قرآن سے مختلف ہو تو قرآن آپکی رہنمائی کرے گا آپکو بھٹکنے نہیں دے گا اور رہی بات کہ دوسرا پہلو کون سوچے گا تو منکر قرآن وہ سوال آپکے لیئے کھڑے کرتے رہیں گے

ہم پچھلے 200 سال سے قرآن پاک کو سائنس کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں۔ کیا کوئی سائنسی ایجاد قرآن کو دیکھ کر ہوئی ہے؟ نہیں، قرآن پاک ایک روحانی کتاب ہے۔ جسمیں انسانی روحانی زندگی اور خدا کی توحید کا اقرار کیا گیا ہے۔ نیز پچھلی قومیں جو مٹ چکی ہیں اور آخری زمانہ کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔ جنکو آج ہم بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے۔ بھائی قرآن میں تو یہ سب 1400 سال سے لکھا ہے۔ تو 700 سال قبل انہی قرآنی آیات کا موجودہ ترجمہ کیوں نہیں‌کیا گیا؟ کیونکہ تفاسیر قرآن موجودہ حالات و واقعات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ آج سے 300 سال بعد قرآن کریم کی تفاسیر مزید تبدیل ہو جائیں گی، نئی سائنس کی وجہ سے!
 

فرہادعلی

محفلین
محترم عارف کریم صاحب ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بغیر سو چے سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کر دیتے ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ہر علم ہر راہ غرض زندگی کہ ہر معا ملے میں کار آمد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کونسپٹ ہی نہیں کلیئر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر مذ ہب کہ متعلق قران کہ پاس ایک ٹھوس دلیل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کئی ایک غلط باتیں کہ جاتے ہیں صرف اسی وجہ سے کہ آپ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ فورم ایک لمبے عرصے سے استعمال کر رہے ہیں اور ہم کل ہی آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائنس وہ علم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جس مین بعض نظریات کی تصدیق قرآن خود کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ایسے ٹاپکس میں بیٹھین ہی نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ جارحانہ موڈ میں آپ کچھ بھی کہ سکتے ہیں‌لیکن یہاں مزاج ٹھنڈا چاہیے۔۔۔
آئی ایم سوری

:rolleyes: :rolleyes: :rolleyes:
 

arifkarim

معطل
محترم عارف کریم صاحب ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بغیر سو چے سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کر دیتے ۔۔۔۔۔۔۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ہر علم ہر راہ غرض زندگی کہ ہر معا ملے میں کار آمد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کونسپٹ ہی نہیں کلیئر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر مذ ہب کہ متعلق قران کہ پاس ایک ٹھوس دلیل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کئی ایک غلط باتیں کہ جاتے ہیں صرف اسی وجہ سے کہ آپ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ فورم ایک لمبے عرصے سے استعمال کر رہے ہیں اور ہم کل ہی آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائنس وہ علم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس مین بعض نظریات کی تصدیق قرآن خود کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ایسے ٹاپکس میں بیٹھین ہی نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ جارحانہ موڈ میں آپ کچھ بھی کہ سکتے ہیں‌لیکن یہاں مزاج ٹھنڈا چاہیے۔۔۔
آئی ایم سوری

:rolleyes: :rolleyes: :rolleyes:
میں ایک بار پھر کہوں گا کہ قرآن پاک کوئی سائنسی کتاب نہیں ہے۔ اسکا تعلق روحانیات سے ہے، مطلب مکمل ضابطۂ حیات۔ یہ ایک گائیڈ ہے تاکہ انسان سیدھی راہ پر قائم رہے۔ لیکن ہم لوگ اس پاک کتاب کو مسلسل سائنسی اور تاریخی علوم کیساتھ موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن پاک عمل کیلئے ہے جبکہ ہم لوگ قرآن پاک پڑھ کر عمل مغربیوں کی چال چلن پر کرتے ہیں۔۔۔۔
نیز میرے موڈ پر تبصرہ نہ کریں۔ یہ ایک کلک سے تبدیل ہو سکتا ہے:)
 

فرہادعلی

محفلین
کہنے کو تو آپنے بڑی ڈگریاں لی ہوئیں ہیں۔ لیکن کیا اس "dark Energi" سے باخبر ہیں؟ یہ ایک ایسی طاقت یا مادہ ہے جو بصری آنکھ سے نظر نہیں آتا لیکن جب کہکشاؤں کا وذن ناپا جائے تو یہ موجود ہوتا ہے۔ مطلب اگر یہ کالی طاقت چاہے تو کشش ثقل کو بڑھا کر پھٹنے والی طاقت سے زیادہ کر سکتی ہے۔

بلیک انرجی ایک ایسی چیز ہے جس سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی ۔ اور اس میں وقت بھی رک جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ اس میں ایک طرف سے داخل ہوکر دوسری طرف سے نکلے ہوں گے حالانکہ آپ کو پتا نھیں چلےگا لیکن آپ کہ ہزاروں سال بیت چکے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

arifkarim

معطل
بلیک انرجی ایک ایسی چیز ہے جس سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی ۔ اور اس میں وقت بھی رک جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ اس میں ایک طرف سے داخل ہوکر دوسری طرف سے نکلے ہوں گے حالانکہ آپ کو پتا نھیں چلےگا لیکن آپ کہ ہزاروں سال بیت چکے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معزرت۔ مجھے آپکی ڈگریوں پر شک ہونے لگا ہے۔ یہ جو قدرتی phenomena آپنے بیان کیا ہے۔ وہ ’’بلیک ہولز‘‘ میں ہوتا ہے، ’’ڈارک انرجی‘‘ میں نہیں۔ ڈارک انرجی تو محض ایک نہ نظر آنے والی توانائی کا نام ہے، جو بظاہر تو نظر نہیں آتی لیکن جب خاص طریقوں سے کہکشاؤں کی کمیت ماپی جائے تو وہاں موجود ہوتی ہے!!!
 

آبی ٹوکول

محفلین
نہیں خداکوئی مادی چیز نہیں۔ بلکہ ایک روحانی نور ہے۔ یہی روح انسانی جان کے اندر بھی موجود ہے۔ اسلئے آپ خدا کو روحانیت میں‌ڈوب کر پا سکتے ہیں۔ اسکے وجود کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ تمام انبیاء کو ہوتا ہے

معاف کیجیئے گا مجھے آپ کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی ایک طرف تو آپ تمام مسلمات کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنے کہ قائل ہیں جس پر آپ کہ درج زیل الفاظ شاہد ہیں کہ
ایسے اندھے ایمان کا کیا فائدہ جو مشاہدے میں جھوٹا نکلے؟!
مسلمانوں کی جہالت اسی غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ رٹی پٹی باتوں کو ایمان کا حصہ بنا لیتے ہیں اور اپنی سوچ ، عقل و دانش کے تمام دروازے خود ہی مقفل کر تے ہیں۔ سائنس کیا ہے؟ مشاہدات اور تنقید سے علوم کی تسخیر کرنا
اور دوسری طرف آپ خدا کہ وجود کہ ادراک کو روحانی تجربے یا مشاہدے کہ توسط سے مشروط ٹھراتے ہیں ؟ میں کوئی سائنس کا طالب علم تو نہیں لیکن کیا میں اتنا جان سکتا ہوں کہ روحانی تجربات سائنس کہ نقطہ نظر سے کس حد تک قابل قبول ہیں؟اور سائنس ان تجربات کو قبول کرنے کی توجیہ کن ثابت شدہ حقائق کہ تحت کرتی ہے ؟
 

arifkarim

معطل
معاف کیجیئے گا مجھے آپ کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی ایک طرف تو آپ تمام مسلمات کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنے کہ قائل ہیں جس پر آپ کہ درج زیل الفاظ شاہد ہیں کہ

اور دوسری طرف آپ خدا کہ وجود کہ ادراک کو روحانی تجربے یا مشاہدے کہ توسط سے مشروط ٹھراتے ہیں ؟ میں کوئی سائنس کا طالب علم تو نہیں لیکن کیا میں اتنا جان سکتا ہوں کہ روحانی تجربات سائنس کہ نقطہ نظر سے کس حد تک قابل قبول ہیں؟اور سائنس ان تجربات کو قبول کرنے کی توجیہ کن ثابت شدہ حقائق کہ تحت کرتی ہے ؟

آپنے ایک بہت اہم سوال اٹھایا ہے۔ شکریہ۔
موجودہ دور کے مایہ ناز سائنسدان روحانیت پر اسلئے یقین نہیں رکھتے کہ یہ انکے رٹے پٹے six sense concept میں نہیں آتا۔ اسکے مطابق ’’حقیقت وہی ہے جسکا مشاہدہ ہماری جسمانی حسیں یا ہماری مادی جدید مشینیں کر سکیں‘‘۔ لیکن حیرت کی انتہاء ہے کہ اکثر سائنسدان گو خدا کے موجود نہ ہونے پر بضد ہیں، البتہ تسخیر کائنات کے بعد بے ساختہ کہتے ہیں کہ یہ پوری کائنات اسقدر پختہ اور بے عیب ہے کہ ضرور اسکے پیچھے ایک ’’باشعور طاقت‘‘ کارفرما ہے۔ یعنی وہ بیچارے آخر کار اپنے ہی جال میں جا پھنستے ہیں۔:)
نیز سائنس ہر اس نظریے کو ٹھکراتی ہے جسے کوئی دوسرا انسان نقل نہ کر سکے۔ یعنی اگر امریکہ میں کوئی سائنسدان کوئی نیا تجربہ کرتا ہے اور نتائج بتاتا ہے تو پاکستان میں بھی سائنسدان اسی طریقہ کو استعمال کرکے تجربہ کریں اور نتائج یکساں آنے چاہیے۔ بصورت دیگر نظریہ پیش کرنے والا جھوٹا ہوگا۔ آئن اسٹائین اور نیوٹن کے نظریات کی شہرت بھی اسی وجہ سے ہے کہ وہ عام مشاہدات و تجربات میں ۹۹فیصد قوانین قدرت کے عین مطابق ہیں۔
اب اسی کہانی کا دوسرا رخ لیتے ہیں یعنی’’ روحانیات‘‘۔ ایک درویش بزرگ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا اسکی تمام دعائیں قبول کرتا ہے۔ عام لوگ تجرباتی طور پر اس سے دعائیں کرواتے ہیں اور خدا انکی دعائیں قبول کر لیتا ہے۔ یوں اسکونیک نامی، شہرت نیز مریدوں کا ہجوم ملتا ہے۔ اسکے مرید اپنے بزرگ کی طرز پر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی وہ تمام اخلاق و عادات اپنا لیتے ہیں جو اُس بزرگ میں موجود ہیں۔ کئی سال بیت جاتے ہیں اور بزرگ کی وفات ہو جاتی ہے۔ اسکے مرید بھی اسی بزرگ کی عمر کو پہنچ کر اسی کی طرز پر دعائیں کرتے ہیں لیکن نہ تو انکی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں ، الٹا انکے اپنے ذاتی حالات مشکلات و آزمائش کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ اب خود ہی بتائیں کیا روحانیت اور سائنس یکجا ہو سکتے ہیں؟:eek: دونوں کی منطق میں زمین آسمان کا فرق ہے! سائنس مادی دنیا کی تسخیر کا علم ہے جو انسانی جسمانی حسوں پر انحصار کرتا ہے۔ اور جو انسان کی پیدائش سے پہلے اور موت کے بعد کا بالکل کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ جبکہ روحانیت اور علم الغیب محض اللہ تعالیٰ کی دین ہے جسے نہ تو انسان اپنی محنت و مشاہدہ و تجربات سے زبردستی پا سکتا ہے، اور نہ ہی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ اگر میں نیک راہ پر چلوں گا تو نتیجہ نیک ہی نکلے گا۔۔۔۔۔ اسلئے ہر دم خدا سے توبہ و استغفار پر زور دینا چاہیئے کہ خدا ہمیں ہر معاملہ میں خود رہنمائی کرے۔ سائنس محض ہماری دنیا بہتر کرنے کیلئے ہے، جبکہ روحانیت ہماری ’’حقیقی زندگی‘‘ (موت کے بعد والی) بہتر کرنے کیلئے ہے۔ اتنا سا فرق ہے اور جاہل دنیا سائنس میں اتنی غرق ہو چکی ہے چند روزہ دنیا کیلئے پاگل ہو چکی ہے!:(
 

فرہادعلی

محفلین
بھائی سائنس کا مطلب ہوتا ہے پرکھ اور پرکھ کے لیے سوال اور تنقید لازم ہے
اس لیے اگر آپ کو سوال پوچھنا برا لگا تو موازنہ ہی کیوں کیا؟؟؟

ویری گڈ آپ نے صحیح‌کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں خیال رکھوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے انہوں نے سوال نہیں‌کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا نظریہ پیش کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ان کہ نظریہ پہ تنقید کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
:doh: :doh: :doh:
 

فرہادعلی

محفلین
ہم پچھلے 200 سال سے قرآن پاک کو سائنس کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں۔ کیا کوئی سائنسی ایجاد قرآن کو دیکھ کر ہوئی ہے؟ نہیں، قرآن پاک ایک روحانی کتاب ہے۔ جسمیں انسانی روحانی زندگی اور خدا کی توحید کا اقرار کیا گیا ہے۔ نیز پچھلی قومیں جو مٹ چکی ہیں اور آخری زمانہ کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔ جنکو آج ہم بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے۔ بھائی قرآن میں تو یہ سب 1400 سال سے لکھا ہے۔ تو 700 سال قبل انہی قرآنی آیات کا موجودہ ترجمہ کیوں نہیں‌کیا گیا؟ کیونکہ تفاسیر قرآن موجودہ حالات و واقعات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ آج سے 300 سال بعد قرآن کریم کی تفاسیر مزید تبدیل ہو جائیں گی، نئی سائنس کی وجہ سے!

بلکل صحیح کہا آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 700 سال پہلے تفسیر اس لیئے نہیں بدلی گئی کہ اس وقت ایسی دریافت نہیں‌ہو سکیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چو نکہ سائنس ترقی کر چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے ہو بھی سکتا ہے اور نہیں‌بھی نہیں‌اس لئے کہ ہمارے مذہبی رہنما ملا وغیرہ سائنس کو دجالیت کہتے ہیں‌ان کہ نزدیک یہ ایک فتنہ ہے ۔اور ہو اس لئے سکتا ہے کہ آئندہ ترقی یافتہ دور میں شاید سب کچھ بدل جائے
:eek: :eek: :eek:
 

فرہادعلی

محفلین
معزرت۔ مجھے آپکی ڈگریوں پر شک ہونے لگا ہے۔ یہ جو قدرتی phenomena آپنے بیان کیا ہے۔ وہ ’’بلیک ہولز‘‘ میں ہوتا ہے، ’’ڈارک انرجی‘‘ میں نہیں۔ ڈارک انرجی تو محض ایک نہ نظر آنے والی توانائی کا نام ہے، جو بظاہر تو نظر نہیں آتی لیکن جب خاص طریقوں سے کہکشاؤں کی کمیت ماپی جائے تو وہاں موجود ہوتی ہے!!!
میں‌نے آپ کو کوئی ڈگری نہیں‌بتا ئی شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو آپ سے سیکھ رہا ‌ہوں ۔۔۔
اچھا یہ بتائیے کہ یہ بلیک انرجی وجود میں‌کیسے آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری باتوں کا برا نہ بنا یا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ
:blushing: :blushing:
 

فرہادعلی

محفلین
معاف کیجیئے گا مجھے آپ کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی ایک طرف تو آپ تمام مسلمات کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنے کہ قائل ہیں جس پر آپ کہ درج زیل الفاظ شاہد ہیں کہ

اور دوسری طرف آپ خدا کہ وجود کہ ادراک کو روحانی تجربے یا مشاہدے کہ توسط سے مشروط ٹھراتے ہیں ؟ میں کوئی سائنس کا طالب علم تو نہیں لیکن کیا میں اتنا جان سکتا ہوں کہ روحانی تجربات سائنس کہ نقطہ نظر سے کس حد تک قابل قبول ہیں؟اور سائنس ان تجربات کو قبول کرنے کی توجیہ کن ثابت شدہ حقائق کہ تحت کرتی ہے ؟

بلکل!۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی بات تو میری سمجھ میں نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا سوال کیا ۔۔۔۔۔ شاید میرے ہی الفاظ جو میں کہنے ہی والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:idea2: :idea2:
 

فرہادعلی

محفلین
نہیں خداکوئی مادی چیز نہیں۔ بلکہ ایک روحانی نور ہے۔ یہی روح انسانی جان کے اندر بھی موجود ہے۔ اسلئے آپ خدا کو روحانیت میں‌ڈوب کر پا سکتے ہیں۔ اسکے وجود کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ تمام انبیاء کو ہوتا ہے

ہوں ں‌ں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے یہ بلکل ٹھیک کہا ۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال مرحوم نے اسی چیز کو خودی کہا ہے جس کو آپ نے روح کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدیث ہے کہ :۔۔۔۔۔

" جس نے اپنے آپ کو پہچانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے رب کو پہچانا ِِِِِِِِِِِِِِِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

آپ نے جسے روح کہا ہے اگر انسان اسے صحیح طور پر محسوس کر لے تو ۔۔۔ وہ اپنے رب کو پہچا ن سکتا ہے۔ لیکن اس کےلئے کچھ قربانیاں دینی پڑیں گی ۔۔۔۔۔ اور ارتقا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مشکلات سے نہ گزرا جا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

arifkarim

معطل
میں‌نے آپ کو کوئی ڈگری نہیں‌بتا ئی شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو آپ سے سیکھ رہا ‌ہوں ۔۔۔
اچھا یہ بتائیے کہ یہ بلیک انرجی وجود میں‌کیسے آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری باتوں کا برا نہ بنا یا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ
:blushing: :blushing:

تاریک توانائی ایک قیاس قسم کی توانائی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں کہکشاؤں کی حرکات کے مشاہدے کےبعد "اخذ" کی گئی ہے۔ مختلف مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ اور اسکو روکنے والی متضاد قوت کشش ثقل فی الحال اسکا مقابلہ نہیں‌کر سکتی۔ اس نظریہ کو سائنسی طور پر سمجھنے کیلئے تاریک توانائی اور تاریک مادہ جیسی سائنسی اصطلاحیں گھڑ لی گئی ہیں تاکہ کسی طرح اس کائنات کی مکمل کمیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق تاریک توانائی اس کائنات میں 74 فیصد اور تاریک مادہ 22 فیصد کے تناسب سے موجود ہے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں عام نظر آنے والا مادہ محض3،6فیصد ہے۔ اسے سے اندازہ کر لیں کہ یہ اسپیس ٹائم کس قدر پیچیدہ ہے۔ آپ جتنا علم الفلکیات میں چھلانگ لگائیں اتنا ہی اسمیں ڈوبتے جائیں گے!
 

arifkarim

معطل
آپ نے جسے روح کہا ہے اگر انسان اسے صحیح طور پر محسوس کر لے تو ۔۔۔ وہ اپنے رب کو پہچا ن سکتا ہے۔ لیکن اس کےلئے کچھ قربانیاں دینی پڑیں گی ۔۔۔۔۔ اور ارتقا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مشکلات سے نہ گزرا جا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے خیال میں خدا تک "نہ" پہنچانے والی عادات میں انسان نے اپنے آپکو خود مبتلا کیا ہوا ہے۔ انسان ترک گناہ کر دے، اسکو خدا مل جائے گا!
 

فرہادعلی

محفلین
میرے خیال میں خدا تک "نہ" پہنچانے والی عادات میں انسان نے اپنے آپکو خود مبتلا کیا ہوا ہے۔ انسان ترک گناہ کر دے، اسکو خدا مل جائے گا!

آپ نے ٹھیک کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وجہ یہ ہے کھ ترک گناہ ایک عام آدمی کہ بس کا کام نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کےلئے تو زندگیاں بیت جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اکرم کو غار حرا کی تپسیا کہ بعد جب اس دنیا کی اصلیت معلوم ہو ئی تو
اسی وقت جب جبرآئیل آپ کہ پاس اللہ کا پیغام لے آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح گوتم بدھ کو دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چالیس دن کی تپسیا کہ بعد اس کہ سامنے سب کچھ کھل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہیں‌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:surprise:
 

ابو کاشان

محفلین
تاریک توانائی ایک قیاس قسم کی توانائی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں کہکشاؤں کی حرکات کے مشاہدے کےبعد "اخذ" کی گئی ہے۔ مختلف مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ اور اسکو روکنے والی متضاد قوت کشش ثقل فی الحال اسکا مقابلہ نہیں‌کر سکتی۔ اس نظریہ کو سائنسی طور پر سمجھنے کیلئے تاریک توانائی اور تاریک مادہ جیسی سائنسی اصطلاحیں گھڑ لی گئی ہیں تاکہ کسی طرح اس کائنات کی مکمل کمیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق تاریک توانائی اس کائنات میں 74 فیصد اور تاریک مادہ 22 فیصد کے تناسب سے موجود ہے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں عام نظر آنے والا مادہ محض3،6فیصد ہے۔ اسے سے اندازہ کر لیں کہ یہ اسپیس ٹائم کس قدر پیچیدہ ہے۔ آپ جتنا علم الفلکیات میں چھلانگ لگائیں اتنا ہی اسمیں ڈوبتے جائیں گے!

عارف کریم میرا ایک سوال ہے کہ یہ کائنات جو پھیل رہی ہے یہ کہاں پھیل رہی ہے، ہم تو اس کے اندر ہیں۔ کائنات کے باہر کیا ہے؟ مثلاً ایک غبارہ جب پھولتا ہے تو اس کے اندر تو ہوا ہوتی ہی ہے لیکن اس کے باہر بھی ہوا ہوتی ہے۔ کیا سائنسدان کائنات کے باہر کا بھی کچھ علم رکھتے ہیں۔
 
Top