زیست کی کَل نہیں کوئی سیدھی ! ۔۔۔ غزل اصلاح کے لیے !

السلام علیکم
امید ہے استاد محترم الف عین سر اور دیگر تمام احباب خیریت سے ہوں گے۔ زندگی کی بے جا مصروفیات کی بنا پر ایک عرصے سے اصلاح کے لیے یہاں نہیں آ پایا۔ صد افسوس ۔:arrogant:
آج ہمت کر ہی لی ! :)
ایک غزل اصلاح اور مشووروں کے لیے پیش کر رہا ہوں۔
استاد محترم اور دیگر تمام دوستوں کی شفقتوں کا منتظر رہوں گا۔
جزاک اللہ۔

بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
زیر تھا پر زبر تلاش کیا

خود سا اک بے خبر تلاش کیا

زیست کی کَل نہیں کوئی سیدھی !
جانتا تھا مگر تلاش کیا !

میں نے پرواز دی تخیل کو
چاند پر ایک گھر تلاش کیا !

عکس بہنے لگا تھا پانی میں
تب ہی میں نے بھنور تلاش کیا !

منزلوں پر رُکا تو پَل دو پَل
لیکن آگے سفر تلاش کیا !

بجھتے رشتوں کی راکھ سے میں نے
رابطے کا شرر تلاش کیا !

دل میں، ٹھنڈے دماغ سے اُس کو
میں نے بارِ دگر تلاش کیا !

اُس کی باتوں پہ دیر تک سوچا
اور میں نے صفر تلاش کیا !

رہ گیا دنگ میں نے جب کاشف
"غیر ممکن" اُدھر تلاش کیا !
سیّد کاشف
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مطلع میں ایطا کا سقم بھی ہے اور واضح بھی نہیں
اس کے علاوہ لڑی کے عنوان والے شعر میں ہی غلطی محسوس کی۔ کَل مونث ہے، تلاش کی کہنا چاہیے ۔ تلاش کیا دکنی اردو کے غلط روزمرہ کے لحاظ سے درست ہو سکتا ہے۔
باقی مجھے تو درست لگی ہے غزل
 
مطلع میں ایطا کا سقم بھی ہے اور واضح بھی نہیں
اس کے علاوہ لڑی کے عنوان والے شعر میں ہی غلطی محسوس کی۔ کَل مونث ہے، تلاش کی کہنا چاہیے ۔ تلاش کیا دکنی اردو کے غلط روزمرہ کے لحاظ سے درست ہو سکتا ہے۔
باقی مجھے تو درست لگی ہے غزل
جزاک الله استاد محترم
کَل کے لیے مصرع اولیٰ میں لفظ " سیدھی" استعمال کیا ہے سر۔۔۔ " سیدھا" لفظ نہیں ۔۔۔ مصرع ثانی میں "کیا" خود شاعر کے لیے ہے "کَل" کے لیے نہیں ۔۔۔ درست سر؟ :unsure:

مطلع ان شا اللہ درست کرتا ہوں ۔۔۔۔
نوازش۔۔
 
Top