زمانہ ہوں میں

سنو میری باتیں
زمانے کے رس کو نچوڑا ہے میں نے
تو یہ عطر حاصل ہوا ہے مجھے
جسے اپنے خوابوں کی تازہ فضا میں رچا کر
ہوا میں بسا کر ،نیا روپ دے کر
ہر اک سمت پھیلا رہا ہوں
دلوں کے شبستاں
بھری محفلوں اور سنورتی ہوئی بستیوں کو
معطر بنانے کی خاطر
ستاروں کے تخت رواں سے اتر کر
میں دھرتی پہ آیا ہوا ہوں،مرے پاس آؤ
تمہیں گنگناتی ہوئی ندیوں اور
کہیں خامشی سے بھرے جنگلوں میں
چلو ٹھنڈے میٹھے ابلتے ہوئے پانیوں کے
وہ چشمے دکھاؤں
جو صدیوں سے روحوں کے ظلمات میں گم
بلاتے ہیں تم کو
جنہیں دیکھنے کی تمنا میں آنکھوں کے در کھل گئے ہیں
کہیں جس کی ہے گرد یہ کہکشاں
کہیں انگنت منظروں سے بھرا آسماں
جہاں اڑ رہا ہوں میں چاروں طرف
یہ سب کچھ کبھی میرے سر پہ
کبھی میرے قدموں میں ہے
تمہیں کچھ خبر ہے
ہوائیں ہیں میری فضائیں ہیں میری
بکھر جاؤں گا میں فضاؤں میں اک دن
کہ بہزاد میں ہوں شہاب ِ محبت
زمانے کی خوشبو ہے باتوں میں میری
زمانہ ہوں میں
بہزاد حسن شہاب
 

الف عین

لائبریرین
آخری تین سطروں کو چھوڑ کر بڑی اچھی نظم ہے، مکمل کو سامنے رکھا جائے تو اچھا شاعرانہ تعارف ہے اپنا، مگر نا مکمل۔ بہر حال خوش آمدید تو کہہ ہی دوں۔
 
آخری تین سطروں کو چھوڑ کر بڑی اچھی نظم ہے، مکمل کو سامنے رکھا جائے تو اچھا شاعرانہ تعارف ہے اپنا، مگر نا مکمل۔ بہر حال خوش آمدید تو کہہ ہی دوں۔
بزرگوار الف عین صاحب اس محبت بھرے پیغام کے لئے آپکا بہت شکریہ، میں ایک پیشہ ورسپاہی بندہ ہوں اور فنون شاعری سے کلی ناواقف اردو ادب سے پڑھنے کی حد تک لگاؤ تھا ، دوستوں کو دیکھ کر کچھ لکھنے کی ترغیب ہوئی تو بس کچھ تک بندی کر لی، کچھ اردو ادب، فنون شاعری اور بحور کی کتابوں اور یہاں مختلف ویب سائٹس پر شاعرحضرات کو پڑھ کر سیکھا اور باقی بہت کچھ آپ جیسے بزرگوں کی تنقید اور آراء سے سیکھوں گا۔ دعا کیجئے کہ کبھی کچھ ایسا لکھ پاؤں کہ آپ جیسے دانشور ادبی حضرات کو پسند آ جائے
 
دوستو میں نے اپنے بزرگوں کی خواہش کے مطابق پہلی نظم کے بعد ہی اپنا تخلص شہید بدل کرشہاب اختیار کیا ہے اور برزگوں کا حکم ماننا ہی اچھی بات ہے
 
Top