زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا-محسن بھوپالی

Saraah

محفلین
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا

عمر مصروف کوئی لمحہ فرصت ہو عطا
میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا

آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا

کیا اسے جبر مشیت کی عنایت سمجھوں
جو عمل میرا مقدر نہیں ہونے پاتا

چشم پُر آب سمو لیتی ہے آلام کی گرد
آئینہ دل کا مکدر نہیں ہونے پاتا

چادر عجز گھٹا دیتی ہے قامت میرا
میں کبھی اپنے برابر نہیں ہونے پاتا

فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے محسن
ہر سخن گو تو سخن ور نہیں ہونے پاتا

محسن بھوپالی
 

Saraah

محفلین
کیا اسے جبر مشیت کی عنایت سمجھوں
جو عمل میرا مقدر نہیں ہونے پاتا

واہ بہت خوب!

عمدہ غزل ہے۔

بہت شکریہ

کیا کہنے گڑیا رانی ۔، ماشا اللہ ، بہت خوب انتخاب ہے ، جیتی رہو

شکریہ بھیا جی :battingeyelashes:

" اے توں تے چھا گئی ایں ٹھاہ کرکے "


آپکی بہن جو ہوں ------------ غلطی سے :biggrin:
 
Top