ریاست پاکستان کا قیام کس حد تک درست تھا؟

خرم

محفلین
عبداللہ اور تمام دیگر پاکستانی بھائیو اور بہنو،
پہلی بات کہ عارف اور اختر صاحب کی بات کا اگر آپ کے پاس کوئی عقلی جواب ہے تو دیجئے وگرنہ چُپ رہئے کہ آپ لوگوں کی سستی جذباتیت ہرزہ سرائی کا سبب ہے۔ ہندوستان کی پامال عزتوں کا حوالہ دینے سے پہلے وطن عزیز میں پامال کی جاتی عزتوں کا حساب کیجئے۔ شیعہ سُنی فسادات میں مارے جانے والے ہزاروں انسانوں کا شمار کیجئے۔ صرف سالِ گزشتہ میں کتنے "مسلمان" "اسلام" کے نفاذ کے لئے قتل کر دئے گئے، ذبح کر دئے گئے اس کا ذکر کیجئے۔ پاکستان کی تقریباَ ہر دوکان میں کس ملک کے اداکاروں اور اداکاراؤں کی تصاویر لگی ہوتی ہیں ان کا بیان کیجئے۔ پاکستان میں کون "مسلمان" ہے اس کی تعریف کیجئے؟ ایک طومار ہے طعنوں کا جو اگر شروع ہوا تو بھاگنے کو جا نہ ملے گی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو چھوڑئیے۔ تمام دُنیا کو گولی مارئیے۔ صرف یہ بتائیے کہ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ قیام پاکستان درست تھا؟ اگر آپ کے پاس اس سستی جذباتیت کے سوا کچھ نہیں تو پھر آپ بھیڑ چال میں ہی چلے جارہے ہیں۔ آج زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں تو کل مردہ باد کہہ رہے ہوں گے۔ پہلے جانئے پھر مانیے۔ تو ہے کوئی جس کے پاس اس سوال کا جواب ہو کہ پاکستان کا قیام کیوں درست تھا؟
 

طالوت

محفلین
کیا ہی اچھا ہوتا اگر عارف اور الف عین بھی کسی عقلی دلیل کے ساتھ جلوہ افروز ہوتے ۔۔
جس قسم کی جذباتیت کا اظہار ان کی طرف سے کیا گیا ویسا ہی دوسری جانب سے بھی ۔۔
رہی بات پاکستان کے قیام کی عقلی دلائل کی تو ایک 1947 سے پہلے کی تاریخ موجود ہے ، جو ضرورت محسوس کرتا ہے وہ پڑھ لے ۔۔ کسی ملک کی انتشاری حالت کو اس کے قیام کی غلطی قرار دینا اس ملک و قوم کی توہین ہے ۔۔ پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ کہیں کھو گیا تو کیا قیام غلط تھا یا اس کے باسی اس اعلٰی مقصد کو حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہے ؟ یوں بھی ملک صدیوں میں بنتے و بگڑتے ہیں مگر پاکستان کے قیام پر جنھوں نے اپنی انگلیاں چبانا شروع کیں تھیں وہ اب تک چبا رہے ہیں ۔۔
اور ویسے بھی جنھوں نے یہ شرارہ چھوڑا ہے وہ تو آنے والے نہیں ، اور جنھوں نے اس کا انتظام کیا ہے ان کی سب کو خبر ہے ۔۔ تو دلیل کاہے کی ؟
وسلام
 
میرے خیال میں اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ سوال کنندگان کا سوال بذات خود اپنے اندر ایک اور جوابی سوال لیئے ہوئے ہے وہ یہ کہ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا قیام درست نہیں تھا براہ کرم اس بات پر دلائل کے ساتھ روشنی ڈالیئے۔۔؟ ۔۔آپ اس پر لوجیکلی دلائل دیں کیونکہ پہل آپ کی طرف سے ہوئی ہے ہم آپ کے تمام سوالات کا جواب دیں گے تاکہ صحتمند بحث کو آگے بڑھایا جاسکے ۔


آپ پہلے اسے غلط ثابت کردیں ہم اسے درست ثابت کردیں گے ۔ انشاء اللہ
 

خرم

محفلین
بھائیو کیوں کنارہ کشی کرتے ہو؟ کیا جس ملک میں رہتے ہو، جس سے وفاداری کا دم بھرتے ہو، اس کی پیدائش کو ہی جائز نہیں ثابت کرسکتے؟ کیا اتنی بانجھ ہو گئی پاکستان کی سرزمین؟ طعن و تشنیع سے باہر نکلو۔ اپنا کیس بیان کرو۔ ثابت کرو کہ آج بھی پاکستان اتنا ہی ضروری ہے جتنا آج سے اکسٹھ برس قبل تھا۔ اگر ثابت نہیں کرسکتے تو پھر آپ سب کو اس نعمت عظمٰی سے فیضیابی کا کوئی حق نہیں۔ صد افسوس
 
براہ کرم میرے سوال کا جواب دے دیجئے

آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا قیام درست نہیں تھا ۔ اور کیس بیان کرنا اس پر فرض ہوتا ہے جو مدعی ہے ۔ اور اس کیس کے مدعی آپ ہیں کہ درست نہیں تھا لہذا آپ پر پہلے استغاثہ بیان کرنا لازم ہے تاکہ کیس کے حق میں دلائل دیئے جائیں
 

arifkarim

معطل
آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا قیام درست نہیں تھا براہ کرم اس بات پر دلائل کے ساتھ روشنی ڈالیئے۔۔؟

ہم نسلاً، اول دن سے ہندوستانی ہیں۔ ہماری زبان، تہذیب و کلچر بہت حد تک یکساں ہے۔ بر صغیر میں اسلام کے ظہور کے بعد یہاں کے بعض ہندو مسلمان ہو گئے اور یوں تنازعات کی ابتدا ہوئی۔ بعد ازاں سکھ برادری بھی وجود میں آگئی اور تنازعات اور بڑھ گئے۔ مطلب جوں‌جوں اس خطے میں‌نئے مذاہب کا آغاز ہوتا گیا، مسائل میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ بر صغیر پر صدیوں سے غیر قوموں کا تسلط جاری رہا ہے۔ کبھی غزنوی، کبھی مغل، کبھی انگریز۔ آجکل بھی مغربی طاقتیں اپنے فیصلے ’’ہمارے‘‘ نام نہاد حکمرانوں سے کرواتی ہیں۔ حقیقت میں نہ تو ہم پہلے خود مختار تھے اور نہ اب ہیں۔ ۱۸۵۷ ءکی جنگ آزادی میں آخری بار ہم، یعنی، ہندو، سکھ، مسلمان، بدھ مت ایک بیرونی دشمن ’’انگریز‘‘ کے خلاف متحد ہو کر لڑے تھے۔ پس ثابت ہوا کہ جب دشمن سب کا ایک ہی ہو تو بندہ پرانی دشمنیاں بُھلا کر ایک ہو جاتا ہے۔ ۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان کا قیام ۱۰۰ فیصد غلط تھا یا ۱۰۰ فیصد درست تھا۔ جبھی تو تھریڈ کا عنوان ہے کہ قیام پاکستان ’’کس حد تک درست تھا‘‘! اسلئے میری گزارش ہے کہ اس دھاگے کو سیاسیاست، جذباتیات سے بالا تر ہو کر ایک تاریخی آئینے میں دیکھیں۔ بجائے ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کے!
 

خرم

محفلین
فیصل آپ سے تو ایک سوال پوچھا گیا ہے؟ اگر سوال کرنے والے کو ہی جواب دینا ہے تو پھر سوال پوچھنے کا مقصد؟ عنوان یہ تو نہیں‌کہ پاکستان کا قیام غلط تھا۔ عنوان ہے کہ پاکستان کس لئے؟ آپ بتائیے کس لئے؟ ویسے مدلل جواب کی توقع کم ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
یہاں مختلف امور ، موضوعات اور اختلافِ رائے کا اکثر سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ مختلف مکتبہِ فکر ، نظریات ، عقائد اور سوچوں کا بھی اظہار دیکھنے میں آتا ہے ۔ بہت سے حساس موضوع چھیڑے جاتے ہیں ۔ جن پر بحثوں کے بے انتہا تانے بُنے بھی جاتے ہیں۔ بہت سی معلومات اور ذرائع کا تبادلہ ہوجاتا ہے ۔ مگر جب ہم کسی سے اختلاف کرتے ہیں‌ تو کچھ ایسے ردعمل سامنے آتے ہیں سامنے والی کی شخصیت متنازعہ بن جاتی ہے ۔

دراصل ہم اختلاف کرنے کے شائستہ آداب سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ ہم اختلاف کو مخالفت بنا لیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اختلاف کا مطلب تعصب ہے ، عناد ہے ، نفرت ہے ۔ ہم نے کچھ مذہبی فقرے یا گالیاں ایجاد کی وہ ہوئی ہیں ۔ جب ہم اختلاف کرتے ہیں تو وہ دوسروں کو دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ہم نے اپنے اندر کبھی یہ ذوق پیدا ہونے ہی نہیں دیا کہ ہم دوسرے کی بات کو تحمل سے سنیں ۔ جیسا وہ کہتا ہے ویسا اس کو سمجھیں ۔ کم از کم اس سے سوال کرکے پوچھ لیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اپنے ذہن سے کسی کی بات کا ایک نقشہ تیار کرتے ہیں ۔ پھر اس کو مخالف پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ مخصوص قسم کی باتیں طے کر رکھیں ہیں ۔ جو ہم کہنا شروع کردیتے ہیں ۔ جیسے کسی کو فاسد قرار دینا ، کسی کو کافر قرار دینا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اصل میں ہمارا مزاج بن چکا ہے ۔ آپ اختلافات ختم نہیں کرسکتے ۔ اختلافات تو ہوا اور پانی کی طرح ہماری ضرورت ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ سارے انسانوں کو کسی ایک نکتہ فکر پر متفق کرلیں ۔ انسانی تخلیق میں اختلاف ودیعت کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے جس اصول پر یہ دنیا بنائی ہے اس میں انسان کو اپنے عقل وشعور کے ذریعے اپنے اختلافات کی جانچ پڑتال کرنی ہے ۔ اسی پر سزا و جزا کے قانون کا اطلاق ہونا ہے ۔ اختلافات تو تحقیق کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ ہم اگر اختلاف کو شائستہ اختلاف تک رکھیں تو وہ ہمارے لیئے تہذہبی راہیں کھولے گا ، علم کے ارتقاء کا باعث بنے گا ۔ اگر اس کو عناد بنا لیں ، مخالفت بنا لیں تو سوائے خجالت اور پستی کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

میں یہاں عارف کریم کی بات کا جواب دینے آیا تھا ۔ مگر یہاں اختلافات کی ایسی بھرمار ہوئی کہ عارف کریم کے سوالات کا منظر اس میں اوجھل ہوگیا ۔ مجھے کسی اور طرف لکھنا پڑا ۔ عارف کریم نے اپنا ایک نکتہِ نظر پیش کیا ہے ۔ مجھے ان کے سابقہ نظریات اور عقائد سے اختلاف رہا ہے ۔ مگر یہاں اس نے واقعی ایک ایسا سوال اٹھایا ہے کہ جس کا جواب بھی علمی طریقے سے دینا ضروری ہے ۔ ورنہ خود کو حب الوطن قرار دے کر ان تمام سوالوں کو پش پشت ڈالنا قطعی طور سے بھی دانشمندی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی صحتمندانہ رویہ ہے کہ اپنے ہر اختلافات کو کسی دلیل اور استدال کے بغیر جذبات کی قبر میں دفن کردیں ۔ ایک بار دیکھیں تو عارف کریم کہہ کیا رہا ہے ۔ اگر اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تو اس کی ہر لائن کو کوٹ کرکے اپنا استدال اور دلیل پیش کریں جیسا کہ آبی ٹوکول کرتے ہیں ۔ میرا جواب محفوظ ہے ۔ انشاءاللہ وقت آنے پر دوں گا ۔ اگر کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔
والسلام
 

arifkarim

معطل
فیصل آپ سے تو ایک سوال پوچھا گیا ہے؟ اگر سوال کرنے والے کو ہی جواب دینا ہے تو پھر سوال پوچھنے کا مقصد؟ عنوان یہ تو نہیں‌کہ پاکستان کا قیام غلط تھا۔ عنوان ہے کہ پاکستان کس لئے؟ آپ بتائیے کس لئے؟ ویسے مدلل جواب کی توقع کم ہے۔

خرم بھائی، جواب نہ ملنے پر ہم لوگ الٹا سوال کرنے والے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اصل چکر یہ ہے کہ میرا سوال سب کو مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں۔ اور یہ کام ہم کر نہیں سکتے، اسی لئے جذباتیات اور سیاسیات کا سہارا لیا جا رہا ہے!
 

طالوت

محفلین
غدر میں جب مسلمان حکمرانوں کے انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھا کر ہندوستان کی حکومت سے کلی طور پر محروم ہونا پڑا تو اس وقت ہندوستان کی اکثریتی آبادی جن کا مذہب آریائی (ہندو ازم) تھا ، انھوں نے ایک غلط روش اختیار کی ۔۔ غدر میں ہندوستان کے تمام لوگ مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑے ، مگر شکست کے بعد انھوں نے اس کا سارا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا ، اور خود مظلوم بن کر ان کے دست راست بن گئے ۔۔ 90 سال کی انگریز حکومت کے دوران ہندوؤں نے ہر قسم کی سیاسی ، سماجی ، معاشرتی و اقتصادی مراعات حاصل کیں ۔ اور سازشوں کی مدد سے (جن کا آغاز غدر کے بعد ہوا) مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا ۔۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب برطانیہ کا سورج غروب ہونا شروع ہوا تو ہندوستان میں آزادی کی تحریک زور پکڑ چکی تھی ، جبکہ اس سے کہیں پہلے ہی کانگریس نامی ہندوستانی سیاسی پارٹی کہ جس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی کے منافقانہ طرز عمل کے باعث چند مسلمان رہنما آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ چکے تھے ، تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مفادات کا تحفظ کیا جا سکے ۔۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خلیج اور گہری ہوتی چلی گئی ، جس میں اہم کردار ، "شدھی تحریک" ، بنگال کی تقسیم کو ناکام بنانا کہ اس سے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا تھا اور اس جیسے کئی ایک معاملات جن سے مسلمانوں اور ان کے رہنماؤں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں کو غلام بنا لیں گے ۔۔ اس سارے سلسلے میں انگریزوں نے بھی مسلمانوں کی بھرپور مخالفت کی ، اور بد قسمتی سے مسلمان تعلیم کے میدان میں بھی بہت پیچھے تھے ، جس سے احساس محرومی اور بڑھی اور پاکستان کے قیام کو ضروری خیال کیا جانے لگا ۔۔
قائد اعظم نے فرمایا تھا " ہم پاکستان اسلیے چاہتے ہیں تاکہ ہمیں ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل ہو سکے جہاں ہم اسلام کے ابدی اصولوں پر عمل کر سکیں/آزما سکیں " (درست الفاظ یاد نہیں بہر حال مفہوم یہی ہے)

یہ وہ مختصر وجہیں رہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ کیا گیا ۔۔ تاہم یہ ہماری بدقسمتی کہ ہم اسے تجربہ گاہ تو نہ بنا سکے البتہ مچھلی منڈی ضرور بنا رکھی ہے ۔۔
وسلام
 

ظفری

لائبریرین
براہ کرم میرے سوال کا جواب دے دیجئے

آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کا قیام درست نہیں تھا ۔ اور کیس بیان کرنا اس پر فرض ہوتا ہے جو مدعی ہے ۔ اور اس کیس کے مدعی آپ ہیں کہ درست نہیں تھا لہذا آپ پر پہلے استغاثہ بیان کرنا لازم ہے تاکہ کیس کے حق میں دلائل دیئے جائیں
فیصل بھائی آپ نے اچھا سوال اٹھایا ہے مگر اس طرح سوال سے سوال پیدا ہوتے رہیں گے پہلے ہمیں عارف کریم کی بات کا کوئی ٹھوس جواب دینا ہے ۔ اس پر جو جواب آئے گا اس میں یہ سوال بھی ضم ہوجائے گا جو آپ پوچھ رہے ہیں ۔ پہلے ہم اپنا دفاع تو کریں ۔ پھر دیکھتے ہیں کہ دوسرے ہمارے دلائل اور ثبوت کے سامنے کیا چیز پیش کرتے ہیں ۔
 

زیک

تکنیکی معاون
سوچا تھا کہ اردوویب کے مسائل سے کچھ فرصت ملے گی تو یہاں تفصیل سے لکھوں گا۔ مگر پانچ صفحے پڑھنے کے بعد اب میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
غدر میں جب مسلمان حکمرانوں کے انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھا کر ہندوستان کی حکومت سے کلی طور پر محروم ہونا پڑا تو اس وقت ہندوستان کی اکثریتی آبادی جن کا مذہب آریائی (ہندو ازم) تھا ، انھوں نے ایک غلط روش اختیار کی ۔۔ غدر میں ہندوستان کے تمام لوگ مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑے ، مگر شکست کے بعد انھوں نے اس کا سارا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا ، اور خود مظلوم بن کر ان کے دست راست بن گئے ۔۔ 90 سال کی انگریز حکومت کے دوران ہندوؤں نے ہر قسم کی سیاسی ، سماجی ، معاشرتی و اقتصادی مراعات حاصل کیں ۔ اور سازشوں کی مدد سے (جن کا آغاز غدر کے بعد ہوا) مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا ۔۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب برطانیہ کا سورج غروب ہونا شروع ہوا تو ہندوستان میں آزادی کی تحریک زور پکڑ چکی تھی ، جبکہ اس سے کہیں پہلے ہی کانگریس نامی ہندوستانی سیاسی پارٹی کہ جس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی کے منافقانہ طرز عمل کے باعث چند مسلمان رہنما آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ چکے تھے ، تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مفادات کا تحفظ کیا جا سکے ۔۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خلیج اور گہری ہوتی چلی گئی ، جس میں اہم کردار ، "شدھی تحریک" ، بنگال کی تقسیم کو ناکام بنانا کہ اس سے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا تھا اور اس جیسے کئی ایک معاملات جن سے مسلمانوں اور ان کے رہنماؤں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں کو غلام بنا لیں گے ۔۔ اس سارے سلسلے میں انگریزوں نے بھی مسلمانوں کی بھرپور مخالفت کی ، اور بد قسمتی سے مسلمان تعلیم کے میدان میں بھی بہت پیچھے تھے ، جس سے احساس محرومی اور بڑھی اور پاکستان کے قیام کو ضروری خیال کیا جانے لگا ۔۔
قائد اعظم نے فرمایا تھا " ہم پاکستان اسلیے چاہتے ہیں تاکہ ہمیں ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل ہو سکے جہاں ہم اسلام کے ابدی اصولوں پر عمل کر سکیں/آزما سکیں " (درست الفاظ یاد نہیں بہر حال مفہوم یہی ہے)

یہ وہ مختصر وجہیں رہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ کیا گیا ۔۔ تاہم یہ ہماری بدقسمتی کہ ہم اسے تجربہ گاہ تو نہ بنا سکے البتہ مچھلی منڈی ضرور بنا رکھی ہے ۔۔
وسلام

جو وجوہات آپ نے بیان کیں ہیں اس سے پاکستان کے قیام کی کوئی سند نہیں ملتی ۔۔۔ آپ اتنی دور کیوں جاتے ہیں ۔ قائدِ اعظم کے چودہ نکات اٹھا کر دیکھ لیں ۔ اور اس میں سے پاکستان دریافت کرکے بتایئے ۔ پاکستان تو بہت بعد میں سامنے آیا ۔ خیر ابھی میری طرف سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ میں آپ کی وجوہات پڑھ کر کچھ سطریں لکھنے پر مجبور ہوگیا ۔
والسلام
 

arifkarim

معطل
سوچا تھا کہ اردوویب کے مسائل سے کچھ فرصت ملے گی تو یہاں تفصیل سے لکھوں گا۔ مگر پانچ صفحے پڑھنے کے بعد اب میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں ہے۔

بہتر ہوگا کہ تھریڈ کا جواب تاریخی منظر میں دیا جائے۔ اگر آپ چاہیں تو یہاں سے "جذباتی اور سیاسی" پوسٹس نکال سکتے ہیں!
 

زیک

تکنیکی معاون
بہتر ہوگا کہ تھریڈ کا جواب تاریخی منظر میں دیا جائے۔ اگر آپ چاہیں تو یہاں سے "جذباتی اور سیاسی" پوسٹس نکال سکتے ہیں!

تاریخ ہی کا تو ذکر کرنا تھا۔

"جذباتی اور سیاسی" پوسٹس نکالنے کا کوئ فائدہ نہیں کہ جتنی نکالی جائیں گی اس سے زیادہ مزید پوسٹ ہو جائیں گی۔ بہتر ہے کہ یہاں موجود رہیں تاکہ سند رہے کہ ارکان نے کیا اور کیسے لکھا۔ :p
 

arifkarim

معطل
ہندو ستان کے ہندو و مسلمان کا باہم کلچر:
ایک بار ایک ہندواجمیر شریف گیا۔اس نے تبصرہ کیا کہ ہندو مسلم میں نام کے سوا کوئی فرق نہیں رہا۔کیونکہ بقول اسکے
ہندو بتوں کو اور مسلمان قبروں کہ پوجتے ہیں
ہندو راما کرشنا اور مسلم خواجہ داتا سے مدد مانگتے ہیں
ہندو اپنے مندروں پر اگربتی اور پھول لیجاتے ہیں اور مسلم قبروں ،مزاروں پر
ہندوکے مندر پر پنڈت بیٹھتا ہے اور مزاروں پر مجاور
ہندو سال میں ایک دفعہ یاترا پر اور مسلمان عرس پر جاتے ہیں اور جلوس نکالتے ہیں
ہندو مندر میں بھجن گاتے ہیں اور مسلم مزار پر قوالی ۔

اگر ہم ان میں سے ’’مشرکانہ‘‘ اعمال چھوڑ دیں، تب ہی سہی معنی معنوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان ایک الگ تہذیب کی وجہ سے پاکستان چاہتے تھے۔
 

ساقی۔

محفلین
قیام پاکستان کا مقصد.

حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری

تمام عالمِ اسلام بے بسی وبے کسی کے ایک ایسے دور سے گذر رہا ہے جس پر غور کرنے کے بعد صدمہ ہی صدمہ ہوتا ہے‘ مسلمان عرب میں ہوں یا عجم میں، مشرق میں ہوں کہ مغرب میں‘ ان پر ہر جگہ طاغوتی طاقتوں کی یورش ہے‘ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام عالمِ اسلام کو خدا فراموشی کی سزا مل رہی ہے اور دردناک بات یہ ہے کہ نہ مرض کی صحیح تشخیص ہے نہ علاج کی فکر‘ اور علاج کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ مرض کی صحیح تشخیص ہی نہ ہو۔اس سے بڑھ کر دردناک صورتِ حال یہ ہے کہ مرض کو صحت اور اسبابِ مرض کو نسخہ ٴ شفا سمجھا جارہا ہے‘ ایسے مریض کی حالت بجز تباہی وہلاکت کے اور کیا ہوسکتی ہے؟انا للہ وانا الیہ راجعون۔
گذشتہ ہفتہ انڈونیشیا کے ایک قابلِ قدر عالمِ دین الشیخ حسین بن ابی بکر الحبشی یہاں تشریف لائے‘ موصوف دراصل یمنی الاصل عرب تھے‘ مگر ایک مدت سے انڈونیشیا میں آباد ہیں اور وہاں کی ایک فعال دینی جماعت ”المجلس الاعلیٰ الاسلامی“ کے رئیس وصدر ہیں‘ موصوف سے انڈونیشیا کے جو دردناک حالات معلوم ہوئے‘ سن کر کلیجہ منہ کو آگیا‘ وہاں عیسائی آبادی پانچ فیصد ہے لیکن چھ اہم وزارتیں ان کے پاس ہیں‘ وزیر دفاع ‘ وزیر مال اور وزیر صحت یہ سب عیسائی ہیں۔ (وہاں عیسائیوں کے اثر ورسوخ میں سب سے مؤثر عامل غالباً صدر سوہار تو کی اہلیہ ہے جو عیسائی ہے)مذہبی امور کا وزیر ایک مرزائی معطیٰ بن علی ہے جو لاہور وربوہ کا قادیانیت گزیدہ ہے اور اس کا جنرل سیکرٹری بہروم انکوتی بھی مرزائی ہے‘ انا للہ۔
قادیانی‘ عیسائی اور کمیونسٹ اسلام اور مسلمانوں کی عداوت میں متفق ہیں‘ نوجوانوں کو مادی اور سفلی خواہشات کا لالچ دے کر دھڑا دھڑ عیسائی اور مرزائی بنایا جارہا ہے یا پھر وہ دہریہ ہورہے ہیں‘ مسلمانوں کی یہ حالت اس مملکت میں ہے جو عالمِ اسلام میں اس وقت دنیا کی سب سے بڑی حکومت ہے‘ جس کی آبادی بارہ کروڑ ہے‘ گویا تمام طاغوتی طاقتوں کی پوری ہمت اس پر لگی ہوئی ہے کہ اس عظیم تر اسلامی ملک کو اسپین بنادیا جائے‘ افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان عواقب کا عموماً احساس نہیں اور جن خال خال لوگوں کو احساس ہے ،ان کے پاس اس طاغوتی سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے وسائل نہیں‘ انا للہ۔ افسوس یہ کہ بین الاسلامی سطح پر مسلمانوں کی صحیح مالی تنظیم نہ ہونے سے ان طاغوتی طاقتوں کو زیادہ شکار کا موقع مل جاتا ہے۔ عرب دنیا جہاں مال ودولت کا سیلاب آیا ہوا ہے‘ کاش! وہ اپنا تھوڑا سا رخ ان مسلمانوں کی طرف پھیر لیں تو بہت سی مشکلات حل ہو جائیں‘ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح فہم اور صحیح توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔
مملکتِ پاکستان کی روح
عرصہ دراز تک انگریز کی غلامی کی چکی میں پسنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں پر رحم فرماکر ایک مملکت عطا فرمائی‘ جس کے رجالِ کار کے پیش نظر یہ بات تھی کہ اسے ایک مثالی اسلامی ریاست بناکر اس میں تمام عالم اسلام کی قیادت کی اہلیت پیدا کی جائے‘ لیکن : ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“۔ یہاں کے اربابِ حل وعقد رفتہ رفتہ ایسے راستے پر چل نکلے کہ تمام توقعات ہی ختم ہوگئیں: ”خود غلط بود آنچہ ماپنداشتیم“ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
قیامِ پاکستان کا مقصد
یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر لیا گیا‘ عوام نے اس مقصد کے پیش نظر پاکستان کا نعرہ لگایا اور حق تعالیٰ نے بھی دوبارہ امتحان کے لئے ایک وسیع مملکت عطا فرمائی‘ بلاشبہ پاکستان جغرافیائی حدود کے اعتبار سے صرف ایک ڈھانچہ ہے اور یہ سب کچھ جو اس کا تانا بانا نظر آتا ہے‘ یہ کارخانے‘ یہ زراعتی ترقیات‘ یہ صنعتی کاروبار اور جو کچھ کہ آج کے تمدن نے پیدا کیا ہے پاکستان کے اس ظاہری قالب کا نام ہے جس کی روح دینِ اسلام ہے ،اسلامی نظامِ مملکت ہے‘ اسلامی قانون ہے‘ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ا کی ہدایات کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں کو ڈھالنا ہے۔ الغرض پاکستان نام ہے دو حقیقتوں کے مجموعے کا۔ ایک جسم اور دوسری روح۔ اگر اس کے جسم میں یہ روح کار فرمانہ ہو تو اس بے جان لاشہ کی قدر حق تعالیٰ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے اور بعید نہیں کہ پاکستان کا ایک بڑا حصہ اسی لئے کٹ گیا یا کاٹا گیا کہ جس روح کی توقع تھی وہ اس میں نہ پڑ سکی‘ اس لئے بے جان جسم حق تعالیٰ کی بار گاہ قدس میں قابل قدر نہ رہا۔ اب بھی اگر اس روح کو جلد ڈالنے کی کوشش نہ کی گئی تو شدید خطرہ ہے کہ یہ جسم جس کا سڑنا گلنا شروع ہوچکا ہے‘ اس پر موت طاری نہ ہوجائے۔
”بینات“ میں اس حقیقت کو واشگاف کرنے کے لئے نہ معلوم کتنے صفحات سیاہ کئے گئے ہیں‘ لیکن صد افسوس کہ صدائے برنخاست‘ طوطی کی آواز کتنی ہی خوبصورت اور دل نواز کیوں نہ ہو‘ لیکن نقار خانے میں اسے کون سنتا ہے؟ معاصر روز نامہ ”جنگ“ میں ”یوم آزادی کا مقصد“ ایک قابل قدر آرٹیکل نظر سے گذرا‘ جی چاہا کہ ناظرین ”بینات“ کی خدمت میں اسے پیش کیا جائے‘ تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ آواز صرف ملاّؤں کی نہیں‘ بلکہ سنجیدہ ومتین جدید طبقہ کی یہی رائے ہے جو خواص سے نکل کر عوام تک اور محراب ومنبر سے نکل کر بازار وں تک بھی پہنچ گئی ہے۔
”آج ہم آزادی کی اٹھائیسویں سالگرہ منارہے ہیں‘ بلاشبہ یہ ہمارے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا موقع ہے‘ لیکن یہی دن سال کے باقی دنوں سے اس یات کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے کہ ہم پلٹ کر اپنے ماضی پر نظر ڈالیں‘ آزادی کے مقصد کو اپنے ذہنوں میں تازہ کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے ہم نے اس مقصد کے لئے اب تک کیا کچھ کیا ہے‘ کیونکہ اصل خوشی اور حقیقی مسرت اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک انگریزی اقتداراور ہندو اکثریت کے تسلط سے نجات حاصل کرنے اور پاکستان کے نام سے ایک آزاد مملکت قائم کرنے کا تعلق ہے‘ یقینا اس جد وجہد میں ہم نے ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ء کو کامیابی حاصل کرلی تھی اور اس مبارک ساعت کے آنے پر ہم جس قدر خوشی منائیں‘ کم ہے۔ لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سفر یہیں ختم نہیں ہوگیا تھا‘ ہمارے نصب العین کی صرف یہی ایک آخری حد نہیں تھی جہاں پہنچ کر ملت کا قافلہ رک جاتا ‘ حصولِ پاکستان تو منزل کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم تھا‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ پاکستان ہماری قومی جد وجہد کا مقصد نہیں‘ مقصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھا اور یہ مقصد ایک ایسی مملکت کا قیام تھا جہاں مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے اصولوں کو نافذ کرکے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرسکیں جو ان کی تہذیب اور ان کی ملی اقدار کا پوری طرح آئینہ دار ہو اور جسے وہ دنیا کے سامنے ایک نمونے کے طور پر پیش کرسکیں‘ اس مقصد کومعیار بناکر جب ہم گذشتہ ربع صدی کا جائزہ لیتے ہیں تو جہاں آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمارے چہرے خوشی سے دمک اٹھتے ہیں‘ وہاں ہم دل میں اٹھنے والی ان ٹیسوں کو بھی نہیں دبا سکتے جو حصولِ پاکستان کے اصل مقصد سے غفلت اور اس سے پیدا ہونے والے المناک نتائج کی یاد دلاتی ہیں۔ اس غفلت کا سب سے زیادہ رنج دہ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان کا ایک بازو اس سے کٹ کر علیحدہ ہوگیا اور سات کروڑ مسلمان جن کی اکثریت پاکستان سے محبت کرتی تھی‘ غیروں کے زیر اثر چلی گئی‘ اس عظیم المیے کا صرف یہ پہلو قدرے اطمینان بخش ثابت ہوا کہ اس ٹھوکرنے ہمیں سنبھلنے‘ اپنا احتساب کرکے اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور ان کی اصلاح کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا‘ وہ غلطیاں جن کا تعلق سیاست دانوں کے دور سے تھا اور پھر وہ غلطیاں جو شخصی اقتدار اور افسر شاہی کے طویل دور سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس نئے دور میں جس کا آغاز وزیر اعظم بھٹو کی قیادت سے ہوتا ہے ہم نے اپنی جس سب سے بڑی غلطی کی اصلاح کی وہ یہ تھی کہ آئین سے متعلق طویل جھگڑوں اور بحثوں کو ختم کردیا اور ایک ایسا دستور جلد از جلد مرتب کرلیا جو نظریہ پاکستان اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہے ‘ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ صرف آئین کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا جب تک کہ اس پر پورے خلوص اور دیانت داری کے ساتھ عمل نہ کیا جائے‘ اس آئین کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں موجودہ تمام قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کا ذکر کیا گیا ہے‘ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ آئندہ دس سال کے دوران موجودہ قوانین کی اصلاح کا یہ کام انجام پاجانا چاہئے‘ لیکن اس کام کے ساتھ جب تک ہم عوام خصوصاً نئی نسل کے ذہنوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے اور اس کی اخلاقی تربیت کا کام انجام نہیں دیں گے‘ اسلامی قوانین سے ہم آہنگ معاشرہ وجود میں نہیں آسکے گا‘ اس کے لئے صرف تعلیم وتربیت کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا ہی کافی نہیں ہوگا ‘ بلکہ ہمیں ان منفی کوششوں کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا جو نئی نسلوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور کلچر کے نام پر ان میں اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کے لئے کی جارہی ہیں‘ ان میں فحاشی پھیلانے والا اور عصبیتیں بھڑکانے والا لٹریچر‘ عریاں فلمیں اور ایسی تمام تحریکیں شامل ہیں جن کامقصد عوام کو نظریہ پاکستان سے منحرف کرنا اور پاکستان کی سالمیتکو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے‘ اگر ذہنی تربیت کا کوئی مؤثر کام شروع نہ کیا گیا اور ساتھ ہی ذہنی انتشار اور اخلاقی انارکی پھیلانے والی کوششوں کی سرکوبی نہ کی جاتی رہی توایک ایسے دستور اور قوانین کے باوجود اسلامی معاشرے کی تشکیل کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔
بلاشبہ گذشتہ ۲۸/برس کے دوران پاکستان نے زراعت‘ صنعت اور تجارت کے میدان میں کافی ترقی کی ہے اور غذائی اعتبار سے اس کے خود کفیل ہونے کے آثار بھی بہت نمایاں ہیں‘ زندگی کے ہرشعبے میں کم وبیش ترقی ہوئی ہے اور گذشتہ تین سال کے دوران ترقی کی اس رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور پاکستان نے ۱۹۷۱ء کے المیے کو برداشت کرکے معاشی اور سیاسی طور پر دوبارہ سنبھل کر عالمی برادری میں بڑا وقار بھی حاصل کرلیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پانچ دس سال میں پاکستان معاشی سیاسی اور دفاعی اعتبار سے بہت زیادہ ترقی کر جائے ‘ لیکن ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کے استحکام اور بقاء کا انحصار صرف ان باتوں پر نہیں ہے‘ بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم پاکستانی معاشرے کو کس حد تک اسلام کی بنیادوں پر تعمیر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور کس حد تک نظریہٴ پاکستان کو عملی جامہ پہناتے ہیں‘ اگر ہم نے یہ بنیادی کام انجام نہ دیا تو کوئی ترقی ہمارے کام نہ آسکے گی۔ اس کا تجربہ ہمیں ایوب خان کے دس سالہ ترقیاتی دور سے ہو چکا ہے‘ اس برصغیر میں ہم اپنی آزادی اور انفرادیت کو صرف اسلام کا قلعہ تعمیر کرکے ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں‘ اگر اس حقیقت کو ہم نے نہ سمجھا تو یہ ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی‘ قائد اعظم کی عملی جد وجہد ان کی تمام تقریریں اور اقوال اسی حقیقت کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں‘ آج ۱۴/اگست کا یہ مبارک دن بھی ہمیں اسی حقیقت کی یاد دلاتا ہے‘ اب ہماری سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ ہم اپنے عمل اور اپنی جد وجہد کو کس حد تک اس حقیقت کے مطابق بناتے ہیں“۔؟ (اقتباس روز نامہ جنگ کراچی ۱۵/اگست ۱۹۷۵ء
 

ساقی۔

محفلین
پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟,,

قائد اعظم نے 8/ مارچ 1944ء کو عل گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:”آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لئے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی؟ تقسیم ہند کے مطالبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی اصل وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال۔ درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت کا قیام خود اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے“۔تو یہ سوال کہ پاکستان کیوں ناگزیرتھا جب بھی ہمارے ذہنوں میں آئے ہمیں واضح طور پر، بالکل غیر مبہم طور پر اس کا صرف ایک یہی جواب دینا ہے کہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ اس لئے ہے کہ اسلام دنیا میں فکر و نظر کے کسی بھی انداز کے مقابلے میں کبھی بھی ثانوی یا ذیلی حیثیت اختیار کر ہی نہیں سکتا آزاد فضا میں اپنے نظریہ حیات کے مطابق ایک نظام عدل اجتماعی کے بغیر ہمارے ایمان کے تقاضے ہی پورے نہیں ہوتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آزاد خطہ ٴ ارض کے قیام کا امکان ہمیں نظر آجاتا اورپھر بھی ہم مصلحتاً اس سے کم تر کسی مقصد کے حصول پر مطمئن ہو جاتے؟
اسلام ایک زندہ، متحرک اور توانا نظریہ زندگی ہے اسلام انسان کی سماجی زندگی کے لئے قوانین قدرت کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو اجتماعی امن و فلاح اور شخصی حریت کے استحکام کا ضامن ہے اسلام محض ایک نظریہ نہیں ایک عملی حقیقت ہے گزشتہ چودہ سو سال میں انسان کی فکری، علمی اور تہذیبی تاریخ کو اسلام سے زیادہ فعال اور مثبت انداز میں کسی بھی دوسرے نظریہ زندگی نے متاثر نہیں کیا اورتاثیر کا یہ سرچشمہ ابھی خشک نہیں ہوا بلکہ ایک جوئے رواں کی طرح انسان کے تمام تعمیری اور مثبت رجحانات اور افکار کو اب بھی سیراب کر رہا ہے۔اسلام کی تاریخ اورمسلمانوں کی تاریخ کے درمیان ایک فرق ہے گزشتہ چودہ سو برس میں انسانیت نے جتنا بھی فروغ پایا ہے انسان کو جتنا بھی احترام اور آزادی میسرآئی ہے اور انسانیت کی فلاح کی اتحادکی اور باہمی رواداری کی راہیں جتنی بھی کشادہ ہوئی ہیں ان کی تاریخ ہی حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ ہے انتشار، ضعف اور انحطاط مسلمانوں کی تاریخ میں آیا ہے اسلام کی تاریخ میں نہیں آیا انحطاط کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی ایک اہم وجہ ہے تو ہماری کم علمی اور بے عملی اور اپنی سماجی زندگی میں اسلامی اصولوں کی غیر موثر اور غیر تخلیقی انداز کی تعبیرات اوران کے اطلاق کی کوششیں ہیں جن کی وجہ سے ہماری صدیوں کی تاریخ ہمارے لئے رہنمائی کے بجائے ذہنی اور عملی انتشار کا سبب بن گئی ہے لیکن اس سلسلے میں ایک اور ہم بات بھی ہے جو ہمیں بھولنی نہیں چاہئے۔دراصل دنیا کی دوسری قوموں کے اور ہمارے درمیان ایک بنیادی فرق اس کسوٹی اوراس معیار کا بھی ہے جس پر قومیں اپنی ترقی یا انحطاط کو پرکھتی ہیں دوسری قوموں اور ہمارے درمیان معیار کا یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ ہمارے سامنے جو ایک تاریخی اور حقیقی نمونہ عمل ہے اب وہی ہمارا آئیڈیل بھی ہے دور رسالت مآبﷺ اور خلافت راشدہ کا دور تاریخ کے ایک خاص زمانے کا واقعہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ یہ ہر دور میں انسانوں کے لئے معاشرتی زندگی کی فلاحی تشکیل کا معیاربھی ہے دنیا کی دوسری قوموں کو اپنی تاریخ میں کوئی ایسا آئیڈیل میسر نہیں لہٰذا فکری، علمی، فنی اور تکنیکی ترقی کی راہ میں اٹھنے والا ان کا ہر قدم ان کیلئے ترقی کی علامت ہے ہمارے ساتھ معاملہ اس سے مختلف ہے اگر ہمارے اندر علمی اور فنی خامیاں دور ہو جائیں اور ہم ترقی یافتہ قوموں کے نزدیک بھی پہنچ جائیں تو بھی اپنے معیاراور اپنی ترقی کی پرکھ کیلئے ہمارا معیار اور ہماری کسوٹی دوسروں سے مختلف ہو گی ہم جب بھی اپنی ترقی کو اپنے آئیڈیل کے مقابلے میں لائیں گے ہمیں اپنی کوششوں میں کمی محسوس ہوگی۔آئیئے تھوڑی دیر کے لئے ہم ان کوتاہیوں پر گفتگو نہ کریں جو قیام پاکستان کے بعد ہم سے یہاں سرزد ہوئیں اور یہ دیکھیں کہ پاکستان کے قیام کے عالمی اثرات کیا مرتب ہوئے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت دنیا میں حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی آزاد مملکتوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان انگریزوں فرانسیسیوں اور ولندیزیوں کے زیر اثر زندگی بسرکررہے تھے جو مسلمان مملکتیں آزاد کہی جاتی تھیں وہاں بادشاہتیں قائم تھیں مغرب کے تصور قومیت نے بھی مسلمانوں میں رشتہ اخوت کو بہت حد تک غیر موثر بنا دیا تھا خلافت جو مسلمانوں کی وحدت کی علامت تھی خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں ختم ہو چکی تھی اور وہ قوتیں جنہوں نے اپنے وجود کا مقصد ہی اسلام دشمنی قرار دے لیا ہے بہت مطمئن تھیں کہ مسلمانوں میں نئی زندگی پیدا ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے۔عالم اسلام کی اس کسمپرسی کے دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جداگانہ قومیت کی بنیاد پر اپنے لئے ایک آزاد مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مطالبہ پوری سنجیدگی اختیار کر گیا اس وقت برصغیر میں مسلمانوں کی تعداد نودس کروڑ تھی اتنی بڑی تعداد کے سنجیدہ مطالبے کو نظرا نداز کرنا انگریزوں کے لئے ممکن رہا نہ ہندوؤں کے لئے ۔ انگریزوں نے بہرحال آخری وقت تک یہ کوشش کی کہ پاکستان قائم نہ ہو ان بنیادوں پر قائم نہ ہو جن پر قائم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا یعنی اسلام کے نام پر۔ اسلام کا نام انگریز کی بین الاقوامی حکمت عملی کے لئے شدید معاندانہ ردعمل کا باعث ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی شکست اور زخم خوردگی ان کیلئے باعث مسرت ہوتی ہے اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جب انگریزوں کے جنرل ایلن بی کے لئے بیت المقدس کی فتح پرانعام کی تجویز کی گئی تو خود برطانوی وزیراعظم لائڈ جارج نے اس فتح کو آخری صلیبی جنگ اور سب سے زیادہ فاتحانہ جنگ قرار دیا تھا لہٰذا غلط فہمی میں مبتلا ہونا یا دوسروں کو مبتلا کرنا کہ پاکستان انگریزوں نے مسلمانوں کو تحفہ کے طور پر پیش کر دیا بہت بڑی عاقبت نااندیشی ہے بلکہ بددیانتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انگریز سیاستدانوں کو قیام پاکستان سے چند خطرات لاحق تھے اور اسی لئے وہ ان بنیادوں پراس کا قیام قبول کرنا نہیں چاہتے تھے جن بنیادوں پر اس کے قیام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے انگریزوں کو ہندوستان کی جغرافیائی وحدت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ان کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کا تقاضا ہوتا تو وہ ہندوستان کے ایک نہیں دس ٹکڑے کر دیتے لیکن انہیں اسلام کے نام اور مسلمانوں کے اتحاد کے تصور سے دائمی مخاصمت ہے وہ ان دونوں باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے تفریق بین المسلمین ان کی بین الاقومی سیاست کا مرکزی نکتہ ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے کے بعد اسرائیلی حکومت کے قیام سے ان کے ان منصوبوں کو تقویت پہنچی تھی پاکستان کا قیام ان کے اس عالمی منصوبے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا بلکہ اس کے برعکس تھا۔یہی وجہ ہے کہ 1946 میں انتخابات کے ذریعے بر صغیر کے مسلمانوں کے سب سے واضح اور غیر مبہم فیصلے کے باوجود ماؤنٹ بیٹن جب برصغیر کے آخری وائسرائے بن کرآئے تو حکومت برطانیہ نے انہیں جو سرکاری حکم نامہ دیا تھا اس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ برصغیر کی وحدت برقرار رکھی جائے لیکن جب برطانوی حکومت کو یقین ہو گیا کہ قیام پاکستان کی راہ نہیں روکی جا سکتی تو انہوں نے ایک جانب دستوری حد تک تو یہ بات تسلیم کر لی کہ پاکستان بن جائے لیکن دوسری جانب عملاً کوئی ایسی دشواری نہ چھوڑی جس کا قیام پاکستان کے ساتھ ہی مسلمانوں کو سامنا نہ کرنا پڑے ۔
 

ساقی۔

محفلین
پاکستان کیوں ناگزیر تھا,,,,سعید صدیقی

فاضل ماہر تعلیم تجزیہ نگار محترم پروفیسر حسنین کاظمی صاحب کا مندرجہ بالا عنوان سے 31جولائی کو کالم شائع ہوا ہے آپ نے قائداعظم کے حوالے سے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت کا قیام خود اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے یہی پاکستان کا جذبہ محرکہ تھا اس کی اصل وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال۔ قائداعظم کی جس تقریر کا کاظمی صاحب نے حوالہ دیا ہے وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ میری معلومات کی حد تک ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے قائداعظم کے اعزاز میں 8مارچ 1944 کو لنچ دیا تھا اس میں آپ نے فرمایا۔
Pakistan was not the product of the conduct or misconduct of hindus. It had always been there only they were not conscious of it. Hindus and muslims living in the same town and villager been blended into one nation they were always two seperate entities.
ایک اور موقع پر 10مارچ 1941 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ہی کے طلباء کو خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
In India permanent and perenial majority dominates over a society in minority. we have seen from actual experience that the british system of govt. result in the establishment of complete hindu domination over all others in India. The muslims and other minorites are rendered absolutely powerless without any hope of achieving a share of power under the constitution. (sayings of Quaid-e-Azam, Rizman Ahmed).
مندرجہ بالا بیانات کو اگر غور سے پڑھا جائے تو ان میں قائداعظم نے اسلام کے دائمی فکر و نظر کے ذریعہ مسلمانوں کے فلسفہ حیات کے اعتبار سے انہیں ایک علیحدہ قوم کی حیثیت میں پیش کیا ہے جیساکہ قائداعظم نے بارہا کہا کہ مسلمان اور ہندو تاریخ ثقافت تہذیب ادب کے اعتبار سے دو علیحدہ قومیں ہیں ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن کہلاتا ہے۔ دوسرے خطاب میں تو واضح طور پر فرمایا کہ ہندوستان میں مستقل طور پر ہندوؤں کی عددی اکثریت اقلیت پر غالب رہتی ہے اور برطانیہ کا طرز جہانبازی تو قطعی طور پر ہندوؤں کے غلبے پر دلالت کرتی ہے مسلمان اور دیگر اقلیتیں بالکل بے دست و پا ہو کر رہ گئی ہیں جنہیں مستقبل میں کبھی بھی آئین کی رو سے طاقت میں شرکت کا حق حاصل ہونے کی امید نہیں ہے۔
تقسیم برصغیر یا مطالبہ پاکستان کی اصل وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری یا انگریزوں کی چال نہیں تھی اس امر کا جائزہ لینے کیلئے تاریخ کے اوراق کی روگردانی مناسب ہو سکتی ہے 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جب مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی، ان کو پھانسی کے تختوں پر چڑھایا گیا، ان کی املاک کو نذر آتش کیا گیا، شہزادوں کے سر کاٹ کر بادشاہ کے سامنے پیش کئے گئے۔ نہر سعادت خان موجودہ چاندنی چوک میں پانی کی جگہ مسلمانوں کا خون بہا تو قوم کے بطل جلیل سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی بقا کے لئے جس کیمیا سعادت کا نسخہ تجویز کیا یعنی مسلمان انگریزی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم حاصل کریں۔ اس میں اپنوں کی غداری کے ساتھ اردو ہندی کا تنازع ہندوؤں نے کھڑا کیا۔ اردو فارسی کو دفتری زبان کے طور پر تبدیل کرنے کی مہم چلائی گئی۔ اردو کو کہا گیا یہ قرآن کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس کی جگہ ہندی یا دیوناگری رسم الخط جاری کیا جائے۔ شدھی شنگھٹن کا قضیہ کھڑا کیا گیا سر سید احمد خان نے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے بنارس کے شہر میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر ہندوؤں کی تنگ نظری اور تعصب کا یہی عالم رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہو جائے گا۔ انگریز نے کیونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی لہٰذا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ہندو کی طرف اس کا جھکاؤ آخر وقت تک رہا۔ آج بھی برطانیہ امریکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور آگے کی طرف چلئے تو 1936 کے الیکشن کے نتیجے میں ہندوستان کے پانچ صوبوں یو پی سی پی بمبئی مدارس اور بہار میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ ودیا مندر اسکیم شروع کی گئی۔ اسکولوں میں بندے ماترم کا گیت طلبہ سے گوایا گیا، بندے ماترم کے گیت میں مسلمان حکمرانوں کے مظالم اور تضحیک کا ذکر ہوتا تھا۔ واردھا اسکیم آف ایجوکیشن رائج کی گئی اردو کو مٹانے کی تمام سازشیں جاری رہیں۔
گرام سدھار کی اسکیم کے ذریعے مسلمان زمینداروں کو زمینوں سے بے دخل کیا گیا کسانوں میں ان کی زمین بانٹ دی گئی بہار میں کیونکہ زمیندار زیادہ تر ہندو تھے وہاں یہ قانون نافذ نہیں کیا گیا۔ گاؤکشی پر پابندی لگا دی گئی۔ مسجدوں کے آگے عین نماز اور اذان کے وقت سنکھ بجائے جاتے۔ ہندو مسلم فساد برپا کئے گئے۔ الغرض 3سال بعد جب کانگریس کی حکومت ختم ہوئی تو قائداعظم نے Day of Delivernce یوم نجات منانے کا اعلان کیا۔ کلکتہ میں مسلمانوں کے جلوس پر ہندو بلوائیوں نے حملہ کر دیا۔ اس میں بہت مسلمان مارے گئے جب نوکھالی میں کچھ ہندو مارے گئے تو جھٹ مہاتماجی کے پیٹ میں درد اٹھ آیا۔ گاندھی جی کا تو یہ قول تھا کہ مسلمان یا تو عرب آوروں کی اولاد ہیں یا ہم ہی میں سے تبدیل ہوئے لوگ ہیں ان کی درستی کا ایک ہی علاج ہے یا تو انہیں ان کے آبائی وطن عربستان واپس بھیج دیا جائے یا انہیں شدھی سنگھٹن کے ذریعے واپس ہندو دھرم میں لایا جائے یہ بھی نہ ہو سکے تو انہیں غلام بنا کر رکھا جائے۔ میں تو پلا بڑھا ہی ہندوؤں میں ہوں۔ تحریک پاکستان جب عروج پر تھی تو میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہو کر جب پارلیمینٹ ہاؤس نئی دہلی میں داخل ہوا تو کانگریس کی Quit Inida تحریک میرے سامنے ریل کی پٹڑیاں اکھاڑی گئیں، سگنل توڑ دیئے گئے، ریلوے کلیئرنگ آفس کی 5منزلہ عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ قائداعظم نے کانگریس کی اس تحریک کے سلسلے میں پیشکش کو مسترد کر دیا تھا کہ پہلے مسلمان ہندو مل کر انگریز کو نکال دیں۔ قائداعظم نے اسے شاطرانہ چال بتایا۔ جب 3جون 1947 کو آل انڈیا ریڈیو سے دو آزاد مملکتوں کا اعلان ہو گیا پہلی تقریر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ہوئی بعد میں پنڈت جواہر لال نہرو کی تقریر ہوئی تیسرے نمبر پر قائداعظم نے قوم سے خطاب کیا اور انتقال اقتدار کو پرامن طریق پر اپنے انجام کو لے جانے کی اپیل کی۔ میں تو آل انڈیا ریڈیو پر موجود تھا اسی روز سے ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملے کرنا شروع کر دیئے۔ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ نئی دہلی Sectariate میں Partition کونسل کے اجلاس شروع ہوئے۔ بٹوارہ Assets کی تقسیم شروع ہوئی کل انڈیا کا Reserve چار ارب روپیہ نکلا بڑے مول تول بحث مباحثہ کے بعد 75کروڑ پاکستان کے حصے میں آیا۔
20کروڑ کی پہلی قسط دے کر باقی رقم روک لی ہم جب پاکستان پہنچے تو تنخواہ دینے کو پیسے نہیں تھے جو رقم مال اسباب لے کر چلے تھے راستے میں لوٹ لیا گیا۔
تن ہمہ تار تار شد پنبہ کجا کجا نہم
میرے زخموں میں ٹیس شاید اس لئے زیادہ اٹھتی ہے کہ میری گنہگار آنکھوں نے یہ سارے منظر دیکھے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد سعید کون سے عالم دین ہیں جنہیں میں نے نہیں سنا۔ ان کا احترام ادب تقدس اپنی جگہ قائم ہے وہ وارث الانبیاء ہیں، دین کے معاملے میں انہی سے رجوع کرنا ہوگا لیکن تحریک پاکستان کے دوران اس دین دانش نے جو گل کھلائے اس کا اور ہندو کانگریس کے تعصب اور تنگ نظری کا ذکر اب جب قیامت سر پر سے گزر گئی مولانا ابوالکلام آزاد Indiawins Freedom میں پاکستان کے قیام کا ذمہ دار پنڈت جواہر لال نہرو اور مسٹر ولبھ بھائی پٹیل کو ٹھہراتے ہیں گاندھی جی کو بھی ان کا ہمنوا بتانے سے انہوں نے گریز نہیں کیا۔ الغرض مطالبہ پاکستان یا مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا جذبہ محرکہ ہندو کی تنگ نظری تھی یا نہیں شاید ہی کوئی درد مند دل اس حقیقت کو نظرانداز کر سکے۔ قائداعظم اور زعماء پاکستان اسلام کے داعی تھے اس میں کوئی کلام نہیں وہ سچے مسلمان تھے قائداعظم کی امانت دیانت صداقت کے ان کے بدترین دشمن بھی دل سے قائل تھے راست گوئی راست معاملگی ان کا شعار تھا لیکن وہ بقول اقبال گفتار کے غازی نہیں کردار کے غازی تھے ہماری بدنصیبی کہ ہم نے پاکستان بنے کے بعد تحریک پاکستان کے محرکات کو یکسر گنوا دیا اور ہر برائی کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ناکامی بربادی ہمارا مقدر بن گئی۔
خلیل جبران لبنانی ادیب مفکر نے اقوال زریں میں جو کچھ کہا ہے ہم پر بعینہ صادق آتا ہے وہ کہتا ہے۔
افسوس اس قوم پر جو عقیدے سے مالا مال ہو اور مذہب کی روح سے بیگانہ ہو۔
افسوس اس قوم پر جس کے پاس اپنی تاریخ اور تہذیب کے کھنڈروں کے سوائے فخر کرنے کو کچھ نہ ہو اور جو اس وقت تک بغاوت کرنے پر آمادہ نہ ہو جب تک پھانسی کا پھندا اس کے گردن میں نہ پڑ جائے۔
افسوس اس قوم پر جو ٹکڑیوں میں بٹی ہو اور ہر ٹکڑا خود کو علیحدہ قوم سوچتا ہو۔
 
Top