رہ_حیات پہ کیوں رہبری نہیں ملتی

میاں وقاص نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 18, 2015

  1. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    رہ_حیات پہ کیوں رہبری نہیں ملتی
    یہاں کسی کو بھی منزل کبھی نہیں ملتی

    مرا گمان ابھی اس یقین پر پہنچا
    "یہاں وہاں کبھی آسودگی نہیں ملتی"

    ارے یہ جام تو اوروں کو بھر کے دیتا ہے
    مرے لبوں پہ تجھے تشنگی نہیں ملتی؟

    اسی لیے تو محبت میں وقف کر دی ہے
    کہ ایک بار ہے، پھر زندگی نہیں ملتی

    پھرا تمام ہوں میں یہ جہاں_رنگ و بو
    کوئی نظیر مجھے آپ کی نہیں ملتی

    ترا وجود ہے مشکل پسند اب کافی
    ترے حروف میں وہ سادگی نہیں ملتی

    ترے کلام سے ملتا ہے علم تو واعظ
    مجھے جو چاہیے، وہ آگہی نہیں ملتی

    یہاں ازل سے ہے شفاف موسموں کا نزول
    دلوں کے دیس میں آلودگی نہیں ملتی

    مجھے بھی چاہیے، پچھلے قدم پہ لوٹ آؤں
    ہوس کی دوڑ ہے، یاں برتری نہیں ملتی

    مری حیات کے گوشے بھلا نہیں دیکھے؟
    یہ کون کہتا ہے، یاں بے کلی نہیں ملتی

    فضا میں آج بھی شبنم کا ہے اثر موجود
    گلوں میں آج مگر تازگی نہیں ملتی

    میں اس خیال سے کچھ بھی سعی نہیں کرتا
    جو چیز کل نہ ملی، آج بھی نہیں ملتی

    یہ رتجگوں نے سکھایا سبق مجھے شاہین
    کوئی بھی چیز یہاں عارضی نہیں ملتی

    حافظ اقبال شاہین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,863
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اتنی بہت سی غزلیں ادھر ادھر پوسٹ کر دی ہیں میاں وقاص نے۔ اگر سب ایک ساتھ مجھے بھیج دیتے تو می ایک برقی مجموعہ شائع کر دیتا، اب بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  3. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    سر میں نے پہلے ہی بولا تھا شکایات کے خانے میں ایک صاحب نے بولا کہ ادہر ایسے ہیں ارسال کریں میں نے تو پیشگئ اجازت لے کر ہی ادہر مواد ارسال کیا ہے
     
  4. میاں وقاص

    میاں وقاص محفلین

    مراسلے:
    102
    موڈ:
    Relaxed
    تو آپ مجھے بتاہیں کہ جناب کو کہاں پر غزلیات ارسال کرو تاکہ حافظ اقبال شاہین صاحب کا بھی پسندیدہ کلام میں سابقہ بن سکے
     

اس صفحے کی تشہیر