رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسے۔ بیدل حیدری

شیزان

لائبریرین
رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اُسے​
لگنے دے ایک اور بھی ضربِ شدید اُسے​
​
جی ہاں ! وہ اِک چراغ جو سُورج تھا رات کا​
تاریکیوں نے مِل کے کِیا ہے شہید اُسے​
​
فاقے نہ جُھگیوں سے سڑک پر نکل پڑیں​
آفت میں ڈال دے نہ یہ بحرانِ عید اُسے​
​
فرطِ خُوشی سے وہ کہیں آنکھیں نہ پھوڑ لے​
آرام سے سناؤ سحر کی نوید اُسے​
​
ہر چند اپنے قتل میں شامل وہ خُود بھی تھا​
پھر بھی گواہ مل نہ سکے چشم دید اُسے​
​
بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دِکھا!​
سب گاہکوں سے آنکھ بچا کر خرید اُسے​
​
مدت سے پی نہیں ہے تو پھر فائدہ اُٹھا!​
وہ چل کے آ گیا ہے تو کر لے کشید اُسے​
​
مشکُوک اگر ہے خط کی لکھائی تو کیا ہوا​
جعلی بنا کے بھیج دے تو بھی رسید اُسے​
​
بیدل حیدری​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top