رولان بارتھس کا نظریہ"مصنف کی موت ": تنقیدی محاکمہ Roland Barthes' Theory of "The Death of the Author": A Critical Analysis

جی ان شا اللہ میں یہاں متن داخل کرتا ہوں۔ ویسے یہ مضمون دیے گئے لنک سے پڑھا جاسکتا ہے ، اردو میں ہے۔ جزاک اللہ
اصل میں لنک پر جانا اور پھر اس میں مضمون تلاش کرکے پڑھنا کئی اضافی اقدامات پر مبنی ہے۔ اس موضوع پر اگر کوئی شخص صحیح معنوں میں تحقیق کر رہا ہو اور اس کی خاصی دلچسپی ہو تو وہ تو یہ تردد کر لے گا مگر ایک عام صارف کو اگر متن کی کچھ جھلکیاں یہیں مل جائیں تو کئی لوگوں کی دلچسپی پیدا ہو گی اور دوسرا ویب سائٹ رینک میں اردو کا مواد اگر یہیں موجود ہو تو اس کی رسائی زیادہ لوگوں تک ہو گی۔
 
اصل میں لنک پر جانا اور پھر اس میں مضمون تلاش کرکے پڑھنا کئی اضافی اقدامات پر مبنی ہے۔ اس موضوع پر اگر کوئی شخص صحیح معنوں میں تحقیق کر رہا ہو اور اس کی خاصی دلچسپی ہو تو وہ تو یہ تردد کر لے گا مگر ایک عام صارف کو اگر متن کی کچھ جھلکیاں یہیں مل جائیں تو کئی لوگوں کی دلچسپی پیدا ہو گی اور دوسرا ویب سائٹ رینک میں اردو کا مواد اگر یہیں موجود ہو تو اس کی رسائی زیادہ لوگوں تک ہو گی۔

محب بھائی ارسال کر رہا ہوں، اب یہ معلوم نہیں کہ یہی فائل ایڈیٹر کو بھیجی تھی یا اس میں کچھ تبدیلیاں کر لی تھیں۔ یہاں احباب کو اکثر نئی اور پرانی املا کی وجہ سے دقت ہوتی ہے۔ ۔۔ یہ دقت شاید یہاں بھی رہے ؛ بہرحال آپ کا حکم تھا اس لیے حاضرِ خدمت ہے۔


رولان بارتھس کا نظریہ"مصنف کی موت ": تنقیدی محاکمہ ۔۔۔ محمد خرم یاسین​

Roland Barthes' Theory of "The Death of the Author": A Critical Analysis

12 نومبر 1915 کو فرانس کے شہر چربرگ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے رولان بارتھس نے دنیائے ادب، فلسفہ اور نفسیات کواپنے لسانی نظریات سے بے حد متاثر کیا اور اعلیٰ درجے کے لسانیات دانوں میں شمار ہوئے۔ ان کی پرورش فرانس کے شہر بے اون میں ہوئی، ثانوی تعلیم پیرس سے حاصل کی اور یونیورسٹی آف پیرس سے کلاسیکی ادب اور گرامر و فلسفہ میں ڈگریاں حاصل کیں۔1970 کی دہائی میں ان کے نظریات کی گونج یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں سنائی دی جانے لگی ۔ایک کار حادثے میں زخمی ہونے کے بعد محض چونسٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا البتہ اپنے مختصر عرصہ حیات میں انھوں نے جو نہایت اہم تنقیدی کتب تحریر کیں ان میں "رائٹنگ ڈگری زیرو(Writing Degree Zero (1953))" ، "میتھولوجیز (1957)Mythologies)" ، "کریٹسزم اینڈ ٹروتھ" (Criticism and Truth 1966)، "ایس/زیڈ" (1972 S/Z )، "دی پلیزر آف دی ٹیکسٹ" ( The Pleasure of the Text 1973)، اور "ایمیج میوزک ٹیکسٹ" (Image Music Text 1978) شامل ہیں۔ یہ کتب دنیا بھر کے ادب ، تنقید اور ناقدین کے لیے بہت سے اہم سوالات اٹھاتی ہیں، نئے مباحث کو جنم دیتی ہیں اورفکر کو جلا بخشتی ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیران کا تعارف کرواتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

"پہلا اہم ترین ساختیاتی نقاد۔۔۔ساختیاتی لسانی بصیرتوں کو ادب کی تعبیر و توجیہہ میں برتا اور فرانسیسی ادبی تنقید کا منظر نامہ بدل دیا۔بارت ایک متحرک اور ارتقا پسند ذہن رکھتا تھا۔ اس لیے اس نے موجودیت کے تناظر میں ساختیاتی تنقید اور نشانیات کے اصول و ضع کیے اور بعض ایسے تنقیدی نظریات بھی پیش کیے جو ساختیات سے متعلق اور اس سے ہٹ کر ہیں۔ اس لیے اسے پس ساختیات کے بنیاد گزاروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔اس نے بہ یک وقت ادب، آرٹ ، موسیقی، سینما، فوٹو گرافی اور مقبول عام کلچر پر مضامین لکھے۔" (1)

جب کہ احمد سہیل بھی رولان کے نظریات کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:

"ساختیات کی عملی تنقید کے میدان میں کامیابی سے انکار ممکن نہیں۔ خاص طورپر بارتھ کے ساختیاتی تصورات ساختیات کے اولین ایام سے لے کر ان کی موت کے بعد آج بھی اپنی جگہ مسلمہ ہیں ۔ خاص طورپر" نشانیات "ان کی کتاب میں نظام کے چلن، بیانیہ، ساختیہ، متنیت اور اس کے علاوہ کئی ایسے نادر تصورات ہیں جو کہ بلاشبہ جدید ادبی اور لسانی تنقید میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے۔" (2)

رولان بنیادی طورپر ساختیات(Structuralism) کے بنیاد گزار فرڈینڈ ڈیرساسئیر کے علم ِنشانیات (Semiology) اور کلاڈ لیوی اسٹراس سے متاثرتھے جس کے سبب انھوں نے متن کو مصنف کی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے علامات اور رموز کے پیچیدہ نظام کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی؛ایسا نظام جہاں متعینہ معانی کے بجائے ان کی موجودگی کا تعلق ثقافتی اور تاریخی سیاق سے جڑجاتا ہے۔ ساختیات کے گہرے مطالعے سے انھوں نے اس فکر کے نئے پہلو تلاش کیے اور پس ساختیات کی جانب بڑھے۔اسی سبب ان کی فکر انگیز تحاریر بڑے درجے پر بحث کا موضوع بنیں۔ایسی ہی تحاریر میں سے ان کا ایک اہم مضمون "مصنف کی موت"(Death of The Author) ہے جوان کی کتاب "ایمیج میوزک ٹیکسٹ" (Image Music Text) میں شامل ہے۔ یہ مضمون درحقیقت 1968ء میں ایک جریدے میں شایع ہوا تھا۔ مضمون کا عنوان کچھ عجیب دکھائی دیتا ہے اور فوری توجہ حاصل کرلیتاہے۔ اولاً تو یہ عنوان کسی ناول یا افسانے کا موضوع لگتا ہے یا پھر ان کے تجزیے کا۔ قارئین یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہزاروں برسوں سے مصنف، تحریر اور قاری کی تکون میں سے یک دم ایک ناقدمصنف کو بے دخل کر تے ہوئے قاری اور متن کے براہِ راست رشتے میں مصنف کی موت کا اعلان کردے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظریہ جس سے قبل نطشے "خدا کی موت"(Death of God)کا اعلان کر چکا تھا ، بذات ِ خود متنازعہ فیہ دکھائی دیتا ہے اور مصنف سے انسیت ، عنوان کے خلاف ایک فطری رد عمل پیدا کردیتی ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ناقدین کی رائے لینے سے قبل ایک بار رولان کی اپنی رائے اور وہ وجہ تلاش کی جائے جس کی بنیاد پر وہ اتنا بڑا اعلان کر رہے تھے۔​

رولان بارتھس کے نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت کے دو ادبی تنقیدی نظریات کو سامنے رکھا جائے جن میں سے ایک Intentionalism (مصنف کی اِرادہ پسندی)تھا اور دوسرا Anti-intentionalism (مصنف کی غیر ارادہ پسندی ) ۔ اول الذکر کے نزدیک مصنف ہی متن کا واحد اور حتمی مفسر ہے۔ مصنف کا ارادہ متن کے معنی کو طے کرتا ہے اور قاری کا کام اس ارادے کو سمجھنا ہے۔جب کہ موخر الذکر کے نزدیک مصنف کا ارادہ متن کے معنی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ متن اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے جو مصنف کے ارادے سے آزاد ہے۔دونوں ہی نظریات میں ایک نظریے میں تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ اس میں اعتدال آسکے اور درست اندازمیں ادبی تنقید آگے بڑھے۔بارتھس کے فکری پس منظرکا مطالعہ کیا جائے تو وجودی فکر کے تحت ہر چیز کی اصلیت پر شک ایک معمول کی بات تھی ۔ مصنف کی موت کا تصور روشن خیالی کے دور میں پیدا ہوا، جب فلسفیوں اور مفکروں نے روایتی اقتدار اوراقتدارِ اعلیٰ کے ساتھ ساتھ سچائی کے تصورات کوبھی للکارا تھا ۔ سانت (Sainte-Beuve) کا خیال ہے کہ ایک ادبی کام کو سمجھنے کے لیے، قاری کو مصنف کی زندگی اور اس کی شخصیت کو سمجھنا چاہیے۔ اس کا خیال ہے کہ مصنف کا کام اس کی زندگی کا عکاس ہے اور اسے اس کی زندگی کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔رولان اس نظریے کے مخالف کھڑے تھے۔ چناں چہ ان کے اصل مضمون (فرانسیسی سے انگلش میں ترجمہ شدہ ) کا مطالعہ کیا جائے تو پہلا پیرا گراف قاری کو اپنا ہم نوا بنا لیتا ہے۔ وہ بالزاک کی کہانی سرراسین(Sarrasine) کاحوالہ دیتے ہوئے ایک خواجہ سرا کو عورت کےبہروپ میں دکھاتے ہیں جس کے بارے میں بالزاک لکھتا ہے:​

“In his story Sarrasine Balzac, describing a castrato disguised as a woman, writes the following sentence: 'This was woman herself, with her sudden fears, her irrational whims, her instinctive worries, her impetuous boldness, her fussings, and her delicious sensibility.”(3)​

ترجمہ: یہ بالکل عورت تھی، اچانک خوف، بے بنیاد خواہشوں، فطری فکر مندی، جرات مندانہ جھنجلاہٹوں، بے جا توجہ اور حسین حساسیت کے ساتھ۔​

یہ حوالہ دینے کے بعد رولان سوال اٹھا تے ہیں کہ یہ سب کون لکھ رہا ہے؟ یہ الفاظ کس کے ہیں؟ کیا یہ کہانی کا ہیرو ہے جو عورت کے پردے میں چھپے خواجہ سرا سے بے خبر رہنا چاہتا ہے؟ کیا یہ بالزاک ہے جس کا عورت کے بارے میں ذاتی تجربہ فلسفیانہ ہے ،جو نسوانیت کے بارے میں اپنے "ادبی" خیالات کا اظہار کر رہا ہے؟ کیا یہ عالمی حکمت ہے یا پھر رومانوی نفسیات ؟ اس کا جواب ہم کبھی نہیں جان پائیں گے، کیونکہ تحریر ہر آواز، ہر نقطہ آغاز کو تباہ کر دیتی ہے۔ تحریر تو وہ غیر جانبدار، مخلوط، اور مبہم مقام ہے جہاں ہمارا موضوع پھسل جاتا ہے۔ یہ نفی کا وہ مقام ہےجہاں تمام شناخت مٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہی شناخت جو لکھنے والے جسم کی ہے۔​

"Who is speaking thus? Is it the hero of the story bent on remaining ignorant of the castrato hidden beneath the woman? Is it Balzac the individual, furnished by his personal experience with a philosophy of Woman? Is it Balzac the author professing 'literary' ideas on femininity? Is it universal wisdom? Romantic psychology?"(4)

اس سے اگلے پیرا گراف میں وہ بہت پیچیدہ عبارت میں اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ جب قلم کار کہانی لکھتے ہوئے اسرار و رموز کے ساتھ اپنی نئی سمت تلاش کرلیتا ہے تو وہ اپنی ذات سے ایک طرح سے جدا ہوجاتا ہےاورکہانی خودکو لکھواتی چلی جاتی ہے۔ اس مقام پر مصنف کی موت واقع ہوجاتی ہے کیوں کہ اسے پڑھتے ہوئے قاری اس کہانی سے براہِ راست جا ملتا ہے جو تہذیب و ثقافت کی آئینہ دار اور انسانی تجربات سے بھرپور ہوتی ہے۔ یوں قاری اور تحریر کا براہِ راست تعلق جڑ جاتا ہے جب کہ مصنف کا کردار پس پشت چلا جا تا ہے۔ اگر اس پیرا گراف کی تشریح و توضیح پیش کی جائے تو درج ذیل باتیں سمجھ آتی ہیں:

اول :یہ کہ جب کسی حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے، تو وہ براہِ راست حقیقی دنیا میں عمل سے جڑے ہونے کے سبب علامتی اور زبان کی نمائندہ بن جاتی ہے۔یہ تبدیلی کہانی کو اس کے اصل ذریعہ ("حقیقت") اور مصنف کی انفرادی شناخت سے الگ کر دیتی ہے۔ مصنف، ایک طرح سے ، اپنی ذاتی آواز کھو دیتا ہے اور کہانی کے لیے محض ذریعہ بن جاتا ہے۔

دوم: یہ کہ مصنف کی یہ "موت" اور حقیقت سے علیحدگی تحریر کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔ کہانی اپنی اصل اور مصنف سے آزاد، ایک الگ زندگی اختیار کر لیتی ہے۔ملاحظہ کیجیے:

“No doubt it has always been that way. As soon as a fact is narrated no longer with a view to acting directly on reality but intransitively, that is to say, finally outside of any function other than that of the very practice of the symbol itself, this disconnection occurs, the voice loses its origin, the author enters into his own death, writing begins.”(5)

اسی طرح اس مضمون کی مجموعی فکر کی بات کی جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

  • کسی بھی تحریر کا مطلب یا معنوی بصیرت صرف مصنف ہی طے نہیں کرتا اور نہ ہی یہ مصنف کے مقصد یا ارادے سے طے ہوتاہے،بلکہ یہ قاری کی اپنی سمجھ بوجھ اورفکر سے متعین ہوتا ہے۔ مصنف کے ارادے کو ان کے کام کی حتمی تشریح نہیں سمجھا جانا چاہیے۔مفہوم طے شدہ یا پہلے سے متعین نہیں ہوتا ہے بلکہ متن اور قاری کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کےتعلق کے ذریعے بنتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قارئین متن کی تشریح میں اپنے تجربات، نقطہ نظر اور ثقافتی سیاق و سباق لاتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ممکنہ معانی نکلتے ہیں۔
  • "مصنف کی موت" کا خیال یہ بتاتا ہے کہ ایک بار جب کوئی متن تخلیق کر کے قارئین کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے، تو اس متن کا اختیار اور تشریح مکمل طور پر مصنف کی طرف منسوب نہیں ہونی چاہیے۔ بارتھس کا استدلال ہے کہ متن کے معنی پر حتمی اختیار کے طور پر مصنف کا روایتی نظریہ محدود اور ناقص ہے۔ اس کے بجائے، وہ قاری کی تشریح کی اہمیت اور متن کے اندر موروثی ابہام اور معنی کی کثرت پر زور دیتا ہے۔
  • قاری تحریر سے مطلب اخذ کرنے میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور اپنے تجربات، علم اور اقدار کو تحریر میں شامل کرلیتا ہے ۔ اسی سے اس کی تحریر سے شناسائی اور سمجھ طے ہوپاتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ یہی وہ عمل ہے جس سے تحریر کا مفہوم اور تحریر کا اثر طے ہوپاتا ہے۔
  • تحریر متعینہ معانی و مفاہیم سے جدا ہوتی ہے اور کسی بھی تحریر کی کوئی ایک درست اور بہترین تشریح نہیں ہوتی کیوں کہ مختلف قارئین اس میں اپنی سوچ اور فکر کے مطابق مختلف معانی و مفاہیم اخذ کرتے ہیں(یہ پس ساختیات کی جانب پہلا قدم ہے)۔اس حوالے سے وہ متن کی تنقید میں نقاد کو بھی اہم نہیں گردانتے۔ وہ متن کو ایک پردے کی صورت میں سمجھتے ہیں جس ناقدین پھاڑ ڈالتے ہیں تاکہ اس کا تجزیہ کرسکیں۔ یوں وہ متن کے حصے کرکے اس میں جھانکتے ہوئے درحقیقت اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔
  • مصنف کی موت کا ایک مقصد تحریر اور قاری کی سمجھ کی آزادی ہے۔ یہ قاری کو مصنف کے ارادوں کے جبر سے آزاد کرتی ہے اور اپنا مطلب تلاش کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔یعنی وہ تحریر ادیب اساس "Writerly" کے بجائے قاری اساس "Readerly" کی حمایت کرتے ہیں۔
  • مصنف کی تحریر میں وہ خود بھی کم ہی شامل ہوتاہے کیوں کہ اس کی تحریر میں اس کی وہ تہذیب و ثقافت شامل ہوتی ہے جو کئی صدیوں سے قائم رہنے کے ساتھ اس تک پہنچتی ہے۔
  • تحریر کے مطالعے میں اس کا تاریخی پس منظر اور تاریخیت بے معنی ہوجاتے ہے۔
گویا رولان یہ کہنا چاہتے ہیں کہ متن کی تشریح و توضیح کا تعلق مصنف کی ذات سے زیادہ قاری سے ہے،اس کی معنی آفرینی ہردور میں جاری رہتی ہے جب کہ مصنف کی موت کا مطلب یہ ہے کہ مصنف کی تحریر کے مقاصد اورجذبات قاری کے لیے غیر ضروری ہیں جب کہ اس کی اپنی سمجھ بوجھ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنف زمانے کی موجودہ گفتگو کا صرف ایک حصہ ہے جوپہلے سے موجود علامتوں اور لسانی اور ادبی نظاموں کا ایک کھوجی ہوتا ہے۔ دوسری طرف، وہ صرف موجودہ ضابطوں کے ذریعے واقعات کو بیان کرتا ہےلیکن اس میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ تحریر کا تاریخی پس منظر تسلیم نہیں کرتے بلکہ سوانح حیات وغیرہ کو بھی جز کے بجائے تحریر کے کُل میں دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔ اپنے مضمون ہی میں رولان بارتھس ایک جگہ کلاسیکی تنقید پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے کبھی بھی قاری کی جانب توجہ نہیں دی۔اسے ہمیشہ محض مصنف ہی سےسروکار رہا ہے لیکن اب وہ وقت آچکا ہے کہ قاری کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس ضمن میں درست زاویے پر بات کی جائے:

"contributed to the desacrilization of the image of the Author by ceaselessly recommending the abrupt disappointment of expectations of meaning (the famous surrealist 'jolt'), by entrusting the hand with the task of writing as quickly as possible what the head itself is unaware of (automatic writing), by accepting the principle and the experience of several people writing together. Leaving aside literature itself (such distinctions really becoming invalid), linguistics has recently provided the destruction of the Author with a valuable analytical tool by showing that the whole of the enunciation is an empty process, functioning perfectly without there being any need for it to be filled with the person of the interlocutors. Linguistically, the author is never more than the instance writing, just as / is nothing other than the instance saying /: language knows a 'subject', not a 'person', and this subject, empty outside of the very enunciation which defines it, suffices to make language 'hold together', suffices, that is to say, to exhaust it.(6)

بارتھ کے نظریات کی حمایت اور مخالفت میں دنیا بھرسے لسانی ناقدین نے بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ اس ضمن میں اردو میں نقد و انتقاد کا سلسلہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ جو چند مضامین ملتے ہیں وہ بارتھس کی کل فکر کے جزوی توضیحی مطالعات سے زیادہ نہیں ہیں۔ حقیقت میں بارتھس کے ہر نظریے کو از سرِ نو دیکھنے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے تاکہ پس ساختیات کے اس اولین نمائندے کی فکر کو درست انداز میں سمجھا جاسکے۔ اگر غور کیا جائے تو بارتھس کے مصنف کے حوالے سے نظریات میں یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ ایسے بہت سے اشعار جنھیں قارئین عمر کے کسی بھی حصے میں یاد کر لیتے ہیں، ان میں سے اکثر کے شعرا سے وہ نا واقف ہوتے ہیں۔ وہ اپنی خوشی اور غم کی کیفیات کو شعر کے پردے میں چھپا دیکھتے ہیں تو اسے قبول کر لیتے ہیں اور ان کے لیے شاعر کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب ایسی ادبی تحاریر جن کی کہانی اتنی دلچسپ ہوتی ہے کہ قارئین کی توجہ کھینچ لیتی ہے ، وہ انھیں مصنف سے ایک طرح سے بیگانہ کردیتی ہے اورواقعتاًکہانی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔مقصود حسنی نے بارتھس کی حمایت میں" تحریر خود کو لکھواتی ہے "کی مثال کے ضمن میں آمداور آورد کی مثال پیش کی ہے۔ لکھتے ہیں:

"مصنف چوں کہ محض آلہ کار ہوتا ہے وہ تحریروں کو لکھتا نہیں بلکہ تحریریں خود کو لکھتی ہیں۔ اردو میں اس کو آمد کا نام دیا جاتاہے ۔ آمد سے رماد جو شعر شاعر کی زبان یا قلم سے بے ساختہ فوراً ٹپک پڑے۔ گویا لکھتے وقت لکھنے والے کی مرضی ارادہ یا کوئی سوچا، سمجھا منصوبہ نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے موجود انسانی سماج کا اجتماعی شعور حرکت میں ہوتا ہے ۔ لکھنے، سوچنے یا بولنے والے کا وجود ونقا ہوتا ہے۔ ہاں وہ اسی بات یا معاملے کے اظہار کا ذریعہ ضرور ہوتا ہے۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں ہاتھ، قلم اور دماغ اس لمحے درحقیقت انسانی سماج کا اجتماعی ، شعور ہوتے ہیں۔ "(7)

مقصود حسنی کا بیان پر تاثیر ہے البتہ اس میں چوں کہ یہ بات قابل ِ بحث ہوسکتی ہے کہ جو متن مصنف کے خیال میں یک دم آتا ہے وہ پہلے ہی سے اس کی زندگی کے کسی شعوری یا لاشعوری گوشے میں موجود ہوتا ہے ،ا س لیے مصنف کو کس طرح اس متن سے منہاکیا جاسکتا ہے ؟ دوسری بات یہ کہ ایسا متن اگر ادبی نہ ہو تو اسے کس زمرے میں رکھیں گے ؟ اگر مصنف کی ذات کو اس سے منہا کربھی دیں تو ادب برائے ادب اور زندگی کی بحث بہرحال قائم ہی رہے گی۔ مزید یہ کہ اگر یہ آورد ہو تو تب بھی اسے منہا کرنا بعید از امکان ہی رہتا ہے کیوں کہ وہ بذاتِ خود مصنف کی ذات ہی کا حصہ ہوتا ہے۔ مصنف کی ذمہ داری، اس کا کردار، اختیار اور موجودگی کو یکسر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کیوں کہ مصنف اپنے مطالعات، مشاہدات، تجربات اور احساسات سے باہر جا کر نہیں لکھ سکتا۔ وہ تمام تر لغت جو وہ تہذیب و ثقافت سے لیتا ہے، اس میں اس کی ذات ، ذاتی پسند و نا پسند اور تعصبات کا بھی حصہ ہوتا ہے ۔ اس لیے اسے یکسر نظر انداز کردینا تو ممکن ہی نہیں رہتا۔

گو کہ رولان بارتھس کے نظریے نے ادبی تنقید پر گہرا اثر ڈالا ہے؛ اس نے قاری کے کردار کو بڑھایا اور اسے متن کے معنی کی تشکیل میں فعال کردار دیاہے۔اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ شاعری ہو یا الہامی کتب، دونوں کے حوالے سے نئی توضیحات سامنے آتی رہتی ہیں اور مختلف ادوار کے قارئین ان کی نئی تعبیرات کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بارتھس کے نظریات پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس کا مصنف نا معلوم ہو، اپنی دلچسپی کے باعث داد و تحسین حاصل کر بھی لے تو سوال باقی رہتا ہے کہ مصنف سے جزوی طورپر بیگانہ ہونے کے باوجود ، کہانی کے اختتام پر تعریف کس کی ہوتی ہے؟ مصنف کی یا کہانی کی ؟ اگرکہانی کی تو اس کے پلاٹ کی یاکرداروں کی ؟ اور یہ تعریف درحقیقت کس کی تعریف ہے؟ ان کرداروں کا خالق کون ہے ؟ کیا ایک ادب پارے کی تخلیق میں مصنف کے صرف ہونے والے خونِ جگر کو فراموش کیا جاسکتا ہے ؟ کیا اس کی صناعی کے ایک ایک گوشے سے مصنف کی فکر، رجحانات، مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اور احساسات نمایاں نہیں ہوتے ؟ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب پارے کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس کے مصنف ، ادب پارے کے پس منظر، سماجی حسیت اور احساس و جذبات کے رشتے کو نظرانداز کیا جاسکتاہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ادب پارے کے نفسیاتی تجزیے میں مصنف کے نفسیاتی شعور ، تحت الشعور اور لا شعور سے اغماض برتا جائے ؟کیا اس ضمن میں بارتھ نفسیات ، بشریات اور ادب و سماج کے گہرے رشتے میں رخنہ نہیں پیدا کر رہے ؟

دوسری جانب ایک اور سوال اسلوب اور تخلیقیت پر اٹھتا ہے کہ اگر متن ایک کل ہے جس کو اجزا میں تقسیم کرنا یا مصنف سے بیگانہ ہونا ہی اس کے لیے باعثِ توقیر ہے تواسلوب ،انفرادیت ،ڈکشن، ادبی رجحانات اور دیگر تخلیقی پہلوؤں سے تہی دامنی کن مسائل کا شاخسانہ ثابت ہوگی ؟ کیا مصنف کی حیثیت کو محض ایک آلہ کارکے طورپر سمجھا جائے گا اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر متن تحریر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس مثلاً چیٹ جی پی ٹی، پرپلیکسٹی، گوگل بارڈ جمنی وغیرہ ) جہاں قاری ہی مصنف ہے اور مخصوص کمانڈز کے تحت متن تخلیق یاحاصل کر رہا ہے جب کہ اصل مصنف موجود ہی نہیں ہے ، تو کیا یہ تکون ٹوٹ نہیں جاتی اور اگر ٹوٹ جاتی ہے تو کیا رولان بارتھس کے نظریات کا وجود باقی رہتا ہے ؟یقیناً اس پر نیا ڈسکورس قائم ہونے کی اشد ضرور ت ہے اور یہ ضرورت محض اردو ادب تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے لسانی ماہرین کو مصنوعی ذہانت کی موجودگی میں اس نظریے کو از سرِ نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک اہم سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کہ کیا بارتھس کے نظریات الہامی کتب کے بارے میں قابلِ قبول ہیں ؟یقیناً نہیں، کیوں کہ وہ محض ادبی افسانوی کتب کی تحریر کی بات کرتے ہیں جب کہ الہامی کتب کوئی داستان نہیں ہیں، کلام اللہ ہیں ۔یہ انسانی تحریر نہیں ہیں اور نہ ہی محض تہذیبی و ثقافتی عوامل کے تحت تخلیق کی گئی ہیں ان میں سائنسی ،ریاضیاتی ، نفسیاتی، تاریخی، معاشی، معاشرتی ، الٰہیاتی ایسے بہت سے میدانِ فکر موجود ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی ذات ، ارادے و احکامات اور اس کے عملی نمونے کے طورپر انبیا کرام کے طرزِ عمل کو سمجھنے بنا، کیا الہامی متن کو سمجھنا ممکن ہے ؟ یہاں بھی اگرچہ بارتھس کی یہ بات اس حد تک درست ہے کہ ہر دور میں قارئین متون کی نئی توضیحات و تشریحات کرتے ہیں جس سے ان کے لیے تفہیم آسان ہوتی ہے لیکن کلی طورپر یہ نظریہ یہاں ناکامی سے دوچار نظر آتا ہے۔

رولان بارتھس کے نظریے کی روشنی میں تیسری قسم کے جو سوالات جنم لیتے ہیں ان میں، چونکہ بارتھس متن کے تاریخی پس منظر اور مصنف کی ذات سے الگ ہو کر پڑھنے کی بات کرتے ہیں،تو ایسے متون پر کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی جہاں مصنف کی ذات کے حوالے کو سامنے رکھے بنا پڑھنے سے تحریر سے کسی قسم کا کوئی تاثر قائم نہیں رہ پاتا۔ میر تقی میر، غالب ، علامہ محمد اقبال اور دیگر سینکڑوں شعرا کے کلام کا بڑا حصہ ایسا ضرور ہے جسے ان کی شاعری کے پس منظر ، ذاتی مسائل اور معاملات کو سمجھے بنا پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہے۔ میر تقی میر اور ناصر کاظمی کو لیجیے، دہلی اور لاہور کی تباہی کی جو داستان ان کی شاعری میں سنائی دیتی ہے، کیا ان کے معاصر حالات کو اس حوالے سے نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟اسی طرح غالب اور میر کی زندگی کے ذاتی مسائل کیا ان کی شاعری میں پوری طرح نہیں جھلکتے ؟کیا انھیں مکمل طورپر نظر انداز کیا جاسکتا ہے ؟ اور اگر ایسا کیا جائے تو کیا ان کی شاعری کی معنویت اور خوبصورتی باقی رہتی ہے؟سوائے آفاقی سچائیوں پر مبنی اشعار کے،اس سوال کا جواب یقینا ً نفی میں ہے۔ داستان "باغ و بہار" میں جس طرح سے اس وقت کے کھانے، رسوم و رواج ، لباس اور پہناوے الغرض ساری تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کی گئی ہے، کیا اسے جانے بنا داستان سے پورا لطف اٹھایا جاسکتا ہے؟ کیا آج کا قاری ، جو اس پس منظر سے بالکل نا واقف ہے، وہ اسے درست انداز میں سمجھ بھی سکتا ہے؟ بارتھس کے نظریات کی روشنی میں یہ سمجھنا بھی مشکل ٹھہرتا ہے کہ علامہ محمد اقبال، جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، حبیب جالب ، ساغر صدیقی، ساحر لدھیانوی کی شاعری میں انقلاب کے جوش اور نعرے کو تاریخی مطالعہ فراموش کرکے کس طرح سمجھا جائے ؟ ۔فیض احمد فیض یا حسرت موہانی ہی کے زندانی ادب پر موقوف نہیں، دنیا بھر کے زندانی ادب کو پس منظر کے بنا سمجھنا خاصا مشکل ہے۔اس وقت کے عصری منظر نامے کو ترک کرکے اس کلام سے وہ سوز نہیں لیا جاسکتا جو پس منظر کو مد نظر رکھ کر لیا جاتا ہے۔

ادبِ مہجراورحادثاتی ادب کی بات کی جائے جس میں تقسیم اور ہجرت سے انسان کی جنگی تباہ کاریاں اور قدرتی آفات تک شامل ہیں ، جو کچھ تخلیق کیا گیا ، وہ دنیائے ادب کا سرمایہ ہے۔ اس سے زیادہ پر تاثیر ادب دنیا کے کسی بھی خطے میں تخلیق ہی نہیں ہوپایا۔ کیا اس ادب کو پس منظری مطالعے کے بنا بہتر انداز میں سمجھا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب بھی یقینا ً نفی ہی میں ہوگا۔ ایک نظر قرۃ العین حیدر کے"آگ کا دریا "،"آخرِ شب کے ہم سفر، "کارِ جہاں دراز ہے"، "چاندنی بیگم"؛عبداللہ حسین کے "اداس نسلیں "عزیز احمد کے "ایسی پستی ایسی بلندی"، شمس الرحمٰن فاروقی کے "کئی چاند تھے سرِ آسمان "، سید محمد اشرف کے "آخری سواریاں "پر ڈالیے ۔ کیا ان میں موجود تہذیبی نوحہ گری، تہذیبی وثقافتی پس منظر، تقسیم، ہجرت ، مابعد نوآبادیات اور اس سے جنم لیتے ہزاروں مسائل کو نظر انداز کیاجاسکتا ہے؟ کیا ایسا کرنے سے ادب پارے کی تاثیر اورجذباتی ہم آہنگی برقرار رہ پاتی ہے ؟ کیا درست انداز میں اس وقت کے روز مرہ، امثال، صنائع بدائع کو سمجھا جاسکتا ہے جو اجتماعی لاشعور میں پنپ رہاتھا ؟ اس لیے اس ضمن میں پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ رولان بارتھ کے مصنف کی موت کے حوالے سے نظریہ ، جو ایک مخصوص ماحول میں پلا بڑھا تھا، بلا شبہ فکر کو جلا بخشنے والا نظریہ ہے اور کئی قسم کے مباحث کوجنم دیتا ہے ، لیکن عملاً مکمل طورپر قابلِ قبول نہیں ہے۔ نفسیات سےادب اور بشریات تک اور زندانی ادب سے حادثاتی ادب تک ، کوئی بھی دبستانِ فکر مصنف کو اس بے دردی سے متن سے نکال باہر پھینکنے پر راضی نہیں ہے جس بےرحمی سے رولان اس کی بات کرتے ہیں۔ بال خصوص آج جب کہ مصنوعی ذہانت ایک قاری کو کمانڈ دینے کے جواب میں خود تحریر مہیا کر رہی ہے تو رولان بارتھ کے نظریات کو ازسرِ نو دیکھنے اور نیا ڈسکورس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔


حوالہ جات:


 
متن نجانے خود ہی کیوں موٹا اور باریک ہوگیا ہے۔ مجھے ابھی تک اردو محفل کی فارمیٹنگ نہیں کرنی آئی ۔معذرت
 
آپ نے درست فرمایا۔ ہمارے ناقدین کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ مغرب سے مستعار خیالات کو من و عن قبول کرتے ہیں اور اپنی بڑائی جتانے کے لیے تو ان کا استعمال کرتے ہیں، ان پر اپنی سمجھ اور تہذیب و ثقافت کے مطابق تنقید نہیں کرتے۔ تہذیب وثقافت کا نام اس لیے لے رہا ہوں کہ یہ چیزوں کو بنانے اور سمجھنے کے لیے ایک طرح سے فریم آف ریفرنس ہوتا ہے ۔
آپ نے جس جانب اشارہ کیا ہے اس پر جولیا کریسٹیوا نے ٰٰبین المتنیت ٰ کے ضمن میں کام کیا ہے۔ اس پر ان شا اللہ میں ایک مضمون جلد تحریر کروں گا ، جزوی طورپر ایک مضمون میں اس پر تبصرہ و تنقید کی ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
متن نجانے خود ہی کیوں موٹا اور باریک ہوگیا ہے۔ مجھے ابھی تک اردو محفل کی فارمیٹنگ نہیں کرنی آئی ۔معذرت
یہ شاید ورڈ سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے، اور ورڈ اپنی سٹائل سمیت کاپی کرتا ہے۔ جلی حروف والا مواد شاید کسی ہیڈنگ سٹائل کا ممکن ہے جو یہاں بھی بڑا ہو گیا
 
یہ شاید ورڈ سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہے، اور ورڈ اپنی سٹائل سمیت کاپی کرتا ہے۔ جلی حروف والا مواد شاید کسی ہیڈنگ سٹائل کا ممکن ہے جو یہاں بھی بڑا ہو گیا
جی بالکل ایسا ہی ہے۔ممنون ہوں مضمون آپ کی نظر سے گزرا۔ جزاک اللہ
 
سب سے پہلے تو بہت شکریہ محمد خرم یاسین

اگر یہاں تحریر کا متن پیش نہ کیا جاتا تو نہ تو اتنے لوگوں کی رائے آتی اور نہ بہت سے ایسے لوگوں کو پڑھنے کا موقع ملتا جو رائے دیے بغیر صرف پڑھ کر گزر جائیں گے۔

میں نے بھی مکمل تو نہیں پڑھا مگر یہ جملے پسند آئے۔ اگر ہو سکے تو لمبی تحریر کو متعدد حصوں میں بانٹ کر پوسٹ کر دیا کریں اس سے پڑھنے اور تبصرہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔
 
ادبِ مہجراورحادثاتی ادب کی بات کی جائے جس میں تقسیم اور ہجرت سے انسان کی جنگی تباہ کاریاں اور قدرتی آفات تک شامل ہیں ، جو کچھ تخلیق کیا گیا ، وہ دنیائے ادب کا سرمایہ ہے۔
ادبِ مہجر کی اصطلاح پہلی دفعہ پڑھی ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہ ہجرت سے جڑے ادب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
باقی چیزیں ایک طرف، ترکیب افصح ہے۔ افصح کا لفظ تازہ تازہ غالب کے خطوط میں پڑھا اور پھر ابھی ابھی مبادیات فصاحت کے مضمون سے بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی استعمال میں اعتماد کا فقدان ہے۔ :)

 
ادبِ مہجر کی اصطلاح پہلی دفعہ پڑھی ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہ ہجرت سے جڑے ادب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
باقی چیزیں ایک طرف، ترکیب افصح ہے۔ افصح کا لفظ تازہ تازہ غالب کے خطوط میں پڑھا اور پھر ابھی ابھی مبادیات فصاحت کے مضمون سے بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی استعمال میں اعتماد کا فقدان ہے۔ :)
یہ عربی زبان میں تو خاصی معروف اصطلاح ہے اردو میں بھی مستعمل ہے۔ ہجرت کے تناظر میں تحریر کیا جانے والا ادب ۔ جزاك الله
 
متن نجانے خود ہی کیوں موٹا اور باریک ہوگیا ہے۔ مجھے ابھی تک اردو محفل کی فارمیٹنگ نہیں کرنی آئی ۔معذرت
میں نے آپ کا یہ مضمون ، آپ کے دیگر علمی مضامین کی طرح ببچشمِ شوق دیکھا اوربنظرِ غائر پڑھا۔ تنقیدجیسی خشک صنفِ ادب کا مطالعہ اور پھر اِس میں نت نئے سنگلاخ نظریات کا وجوداور بعض اوقات اجنبی اصطلاحات کی گھاٹیاں قاری کی طبیعت اُچاٹ کردینے کے لیے کافی ہیں مگر آپ نے اپنے دلچسپ معلومات افزا ،توضیحی اور تنقیحی اندازِ تحریر سے اِن مشکل مقامات کو گزرنے والوں کے لیے جس طرح آسان بنادیا ہے ، اس کےسبب آپ کی لکھی ہوئی عبارتیں مسلسل اچھے اشعار کی طرح قابلِ داد و تحسین اور لائقِ شاباش و مبارکباد ہیں۔
فارمیٹنگ کی بعض بصری ناہمواریوں کو سیدھاکرنا مجھے آتا ہے(کسی حد تک) اور کیونکہ آپ کے مضامین اخذ و اکتساب کے نقطہ ٔ نظر سے بھی بہت اہم ہیں ، اِس لیے اِن پر اِس پہلو سے کسی بھی درجہ کی خدمت کا انجام دینا فروغِ علم میں بقدرِ بساط واستطاعت حصہ ڈالنا ہے ۔وقت ملا تو ضرور یہ خدمت انجام دوں گا، ان شاء اللہ العزیز الحکیم۔
 
آخری تدوین:
رولان بارتھس کا نظریہ’’ مصنف کی موت‘‘کا تنقیدی محاکمہ
محمد خُر ّم یاسین
تعارف:
12 نومبر 1915 کو فرانس کے شہر چربرگ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے رولان بارتھس نے دنیائے ادب، فلسفہ اور نفسیات کواپنے لسانی نظریات سے بے حد متاثر کیا اور اعلیٰ درجے کے لسانیات دانوں میں شمار ہوئے۔ ان کی پرورش فرانس کے شہر بے اون میں ہوئی، ثانوی تعلیم پیرس سے حاصل کی اور یونیورسٹی آف پیرس سے کلاسیکی ادب اور گرامر و فلسفہ میں ڈگریاں حاصل کیں۔1970 کی دہائی میں ان کے نظریات کی گونج یورپ اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں سنائی دی جانے لگی ۔ایک کار حادثے میں زخمی ہونے کے بعد محض چونسٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا ۔
تصانیف:
اپنے مختصر عرصہ حیات میں انھوں نے جو نہایت اہم تنقیدی کتب تحریر کیں ان میں "رائٹنگ ڈگری زیرو(Writing Degree Zero (1953))" ، "میتھولوجیز (1957)Mythologies)" ، "کریٹسزم اینڈ ٹروتھ" (Criticism and Truth 1966)، "ایس/زیڈ" (1972 S/Z )، "دی پلیزر آف دی ٹیکسٹ" ( The Pleasure of the Text 1973)، اور "ایمیج میوزک ٹیکسٹ" (Image Music Text 197) شامل ہیں۔ یہ کتب دنیا بھر کے ادب ، تنقید اور ناقدین کے لیے بہت سے اہم سوالات اٹھاتی ہیں، نئے مباحث کو جنم دیتی ہیں اورفکر کو جلا بخشتی ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیران تصانیف کے ضمن میں تحریر کرتے ہیں:"پہلا اہم ترین ساختیاتی نقادجس نےساختیاتی لسانی بصیرتوں کو ادب کی تعبیر و توجیہہ میں برتا اور فرانسیسی ادبی تنقید کا منظر نامہ بدل دیا۔بارتھ ایک متحرک اور ارتقا پسند ذہن رکھتا تھا۔ اس لیے اس نے موجودیت کے تناظر میں ساختیاتی تنقید اور نشانیات کے اصول و ضع کیے اور بعض ایسے تنقیدی نظریات بھی پیش کیے جو ساختیات سے متعلق اور اس سے ہٹ کر ہیں۔ اس لیے اسے پس ساختیات کے بنیاد گزاروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔اس نے بہ یک وقت ادب، آرٹ ، موسیقی، سینما، فوٹو گرافی اور مقبول عام کلچر پر مضامین لکھے۔" (1)
بارتھ کے تنقیدی نظریات کی جہتیں اور اثرات:
احمد سہیل رولان کے نظریات کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
"ساختیات کی عملی تنقید کے میدان میں کامیابی سے انکار ممکن نہیں۔ خاص طورپر بارتھ کے ساختیاتی تصورات ساختیات کے اولین ایام سے لے کر ان کی موت کے بعد آج بھی اپنی جگہ مسلمہ ہیں ۔ خاص طورپر" نشانیات "ان کی کتاب میں نظام کے چلن، بیانیہ، ساختیہ، متنیت اور اس کے علاوہ کئی ایسے نادر تصورات ہیں جو کہ بلاشبہ جدید ادبی اور لسانی تنقید میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے۔" (2)
رولان بنیادی طورپر ساختیات(Structuralism) کے بنیاد گزار فرڈینڈ ڈیرساسئیر کے علم ِنشانیات (Semiology) اور کلاڈ لیوی اسٹراس سے متاثرتھے جس کے سبب انھوں نے متن کو مصنف کی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے علامات اور رموز کے پیچیدہ نظام کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی؛ایسا نظام جہاں متعینہ معانی کے بجائے ان کی موجودگی کا تعلق ثقافتی اور تاریخی سیاق سے جڑجاتا ہے۔ ساختیات کے گہرے مطالعے سے انھوں نے اس فکر کے نئے پہلو تلاش کیے اور پس ساختیات کی جانب بڑھے۔اسی سبب ان کی فکر انگیز تحاریر بڑے درجے پر بحث کا موضوع بنیں۔ایسی ہی تحاریر میں سے ان کا ایک اہم مضمون "مصنف کی موت"(Death of The Author) ہے جوان کی کتاب "ایمیج میوزک ٹیکسٹ" (Image Music Text) میں شامل ہے۔ یہ مضمون درحقیقت 1968ء میں ایک جریدے میں شایع ہوا تھا۔ مضمون کا عنوان کچھ عجیب دکھائی دیتا ہے اور فوری توجہ حاصل کرلیتاہے۔ اولاً تو یہ عنوان کسی ناول یا افسانے کا موضوع لگتا ہے یا پھر ان کے تجزیے کا۔ قارئین یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہزاروں برسوں سے مصنف، تحریر اور قاری کی تکون میں سے یک دم ایک ناقدمصنف کو بے دخل کر تے ہوئے قاری اور متن کے براہِ راست رشتے میں مصنف کی موت کا اعلان کردے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظریہ جس سے قبل نطشے "خدا کی موت"(Death of God)کا اعلان کر چکا تھا ، بذات ِ خود متنازعہ فیہ دکھائی دیتا ہے اور مصنف سے انسیت ، عنوان کے خلاف ایک فطری رد عمل پیدا کردیتی ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ناقدین کی رائے لینے سے قبل ایک بار رولان کی اپنی رائے اور وہ وجہ تلاش کی جائے جس کی بنیاد پر وہ اتنا بڑا اعلان کر رہے تھے۔
رولان بارتھس کے نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت کے دو ادبی تنقیدی نظریات کو سامنے رکھا جائے جن میں سے ایک Intentionalism (مصنف کی اِرادہ پسندی)تھا اور دوسرا Anti-intentionalism (مصنف کی غیر ارادہ پسندی ) ۔ اول الذکر کے نزدیک مصنف ہی متن کا واحد اور حتمی مفسر ہے۔ مصنف کا ارادہ متن کے معنی کو طے کرتا ہے اور قاری کا کام اس ارادے کو سمجھنا ہے۔جب کہ موخر الذکر کے نزدیک مصنف کا ارادہ متن کے معنی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ متن اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے جو مصنف کے ارادے سے آزاد ہے۔دونوں ہی نظریات میں ایک نظریے میں تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ اس میں اعتدال آسکے اور درست اندازمیں ادبی تنقید آگے بڑھے۔بارتھس کے فکری پس منظرکا مطالعہ کیا جائے تو وجودی فکر کے تحت ہر چیز کی اصلیت پر شک ایک معمول کی بات تھی ۔ مصنف کی موت کا تصور روشن خیالی کے دور میں پیدا ہوا، جب فلسفیوں اور مفکروں نے روایتی اقتدار اوراقتدارِ اعلیٰ کے ساتھ ساتھ سچائی کے تصورات کوبھی للکارا تھا ۔ سانت (Sainte-Beuve) کا خیال ہے کہ ایک ادبی کام کو سمجھنے کے لیے، قاری کو مصنف کی زندگی اور اس کی شخصیت کو سمجھنا چاہیے۔ اس کا خیال ہے کہ مصنف کا کام اس کی زندگی کا عکاس ہے اور اسے اس کی زندگی کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔رولان اس نظریے کے مخالف کھڑے تھے۔ چناں چہ ان کے اصل مضمون (فرانسیسی سے انگلش میں ترجمہ شدہ ) کا مطالعہ کیا جائے تو پہلا پیرا گراف قاری کو اپنا ہم نوا بنا لیتا ہے۔ وہ بالزاک کی کہانی سرراسین(Sarrasine) کاحوالہ دیتے ہوئے ایک خواجہ سرا کو عورت کےبہروپ میں دکھاتے ہیں جس کے بارے میں بالزاک لکھتا ہے:​
ترجمہ: یہ بالکل عورت تھی، اچانک خوف، بے بنیاد خواہشوں، فطری فکر مندی، جرات مندانہ جھنجلاہٹوں، بے جا توجہ اور حسین حساسیت کے ساتھ۔یہ حوالہ دینے کے بعد رولان سوال اٹھا تے ہیں کہ یہ سب کون لکھ رہا ہے؟ یہ الفاظ کس کے ہیں؟ کیا یہ کہانی کا ہیرو ہے جو عورت کے پردے میں چھپے خواجہ سرا سے بے خبر رہنا چاہتا ہے؟ کیا یہ بالزاک ہے جس کا عورت کے بارے میں ذاتی تجربہ فلسفیانہ ہے ،جو نسوانیت کے بارے میں اپنے "ادبی" خیالات کا اظہار کر رہا ہے؟ کیا یہ عالمی حکمت ہے یا پھر رومانوی نفسیات ؟ اس کا جواب ہم کبھی نہیں جان پائیں گے، کیونکہ تحریر ہر آواز، ہر نقطہ آغاز کو تباہ کر دیتی ہے۔ تحریر تو وہ غیر جانبدار، مخلوط، اور مبہم مقام ہے جہاں ہمارا موضوع پھسل جاتا ہے۔ یہ نفی کا وہ مقام ہےجہاں تمام شناخت مٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہی شناخت جو لکھنے والے جسم کی ہے۔​
 
آخری تدوین:
میں نے آپ کا یہ مضمون ، آپ کے دیگر علمی مضامین کی طرح ببچشمِ شوق دیکھا اوربنظرِ غائر پڑھا۔ تنقیدجیسی خشک صنفِ ادب کا مطالعہ اور پھر اِس میں نت نئے سنگلاخ نظریات کا وجوداور بعض اوقات اجنبی اصطلاحات کی گھاٹیاں قاری کی طبیعت اُچاٹ کردینے کے لیے کافی ہیں مگر آپ نے اپنے دلچسپ معلومات افزا ،توضیحی اور تنقیحی اندازِ تحریر سے اِن مشکل مقامات کو گزرنے والوں کے لیے جس طرح آسان بنادیا ہے ، اس کےسبب آپ کی لکھی ہوئی عبارتیں مسلسل اچھے اشعار کی طرح قابلِ داد و تحسین اور لائقِ شاباش و مبارکباد ہیں۔
فارمیٹنگ کی بعض بصری ناہمواریوں کو سیدھاکرنا مجھے آتا ہے(کسی حد تک) اور کیونکہ آپ کے مضامین اخذ و اکتساب کے نقطہ ٔ نظر سے بھی بہت اہم ہیں ، اِس لیے اِن پر اِس پہلو سے کسی بھی درجہ کی خدمت کا انجام دینا فروغِ علم میں بقدرِ بساط واستطاعت حصہ ڈالنا ہے ۔وقت ملا تو ضرور یہ خدمت انجام دوں گا، ان شاء اللہ العزیز الحکیم۔
محترم شکیل صاحب! آداب۔ ذرہ نوازی کا بے حد شکریہ۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس دور میں آپ ایسے بہترین قارئین میسر ہیں۔ شاد و آباد رہیں۔ آمین۔ جزاک اللہ خیرا۔ ان شا اللہ جون کے آخر میں مصنوعی ذہانت اور اردو ادب کے مسائل و امکانات پر بہت وقیع مضمون پیش کروں گا۔ یہ مضمون آج سے چار ماہ قبل اشاعت کے لیے بھیجا ہوا ہے اور اس پر ایک سال کی محنت لگی ہے۔ دعا کی درخواست ہے۔جزاک اللہ
 
Top