روشن صبح

سیما علی

لائبریرین
سیما علی کیا یہ وہی کیس ہے جس کا آپنے یہاں ذکر کیا تھا؟
بالکل یہ وہی کیس ہے اور حبیب بینک کا الگ کیس ہے نمبر یاد نہیں ہم فائل دیکھ کے بتاتے ہیں کچھ نا کلریکل کی تو پینشن چار سو روپے ہے جس پر ثاقب نثار صاحب نے ریمارکس دیے تھے کہ میں خوشحال بی بی اس کیسے کہوں کے وہ چار سو روپے میں خوش حال رہیں مگر اللّہ ان کو ہدایت دے جو عدالتوں میں بیٹھے ہیں۔۔۔
 
بی بی سی اردو کا معیار بہت ہی خراب ہے۔ کتنے ہی محفلین کی پیدائش سے پہلے سے یہ ڈاکٹر امریکا میں ہیں۔ پاکستان میں کبھی میڈیسن پریکٹس نہیں کی۔
میری یہ سمجھ ہے کہ ایسا صرف بی بی سی اردو پہ نہیں ہوتا۔ یہ معاشرتی رواج ہے۔ آپ، آپ کے بچے اور آپ کی اگلی نسلیں بھلے کتنی ہی امریکی کیوں نا ہو جائیں تب بھی ''پاکستانی نژاد، پاکستان بورن پیرنٹس، امیگرنٹ" کا سابقہ کسی خبر کی اشاعت یا ارد گرد موجود 'خالص' امریکی نسل کے قلم اور زبان پر رواں رہے گا۔

اگلی کچھ دہائیوں میں 'شاید' یہ روش متروک ہو جائے۔ پر کون جیے گا تیری۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
 

زیک

تکنیکی معاون
میری یہ سمجھ ہے کہ ایسا صرف بی بی سی اردو پہ نہیں ہوتا۔ یہ معاشرتی رواج ہے۔ آپ، آپ کے بچے اور آپ کی اگلی نسلیں بھلے کتنی ہی امریکی کیوں نا ہو جائیں تب بھی ''پاکستانی نژاد، پاکستان بورن پیرنٹس، امیگرنٹ" کا سابقہ کسی خبر کی اشاعت یا ارد گرد موجود 'خالص' امریکی نسل کے قلم اور زبان پر رواں رہے گا۔

اگلی کچھ دہائیوں میں 'شاید' یہ روش متروک ہو جائے۔ پر کون جیے گا تیری۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
پاکستانی نژاد ٹھیک ہے۔ صرف پاکستانی پر اعتراض تھا۔

بی بی سی اردو کے مضمون کا موازنہ امریکی اخبارات میں اس سے متعلق متعدد مضامین سے کریں (ڈاکٹر کا نام گوگل نیوز)۔ آپ کو احساس ہو گا کہ کسی سکول کے بچے نے ترجمے کی اسائمنٹ سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے
 
پاکستانی نژاد ٹھیک ہے۔ صرف پاکستانی پر اعتراض تھا۔

بی بی سی اردو کے مضمون کا موازنہ امریکی اخبارات میں اس سے متعلق متعدد مضامین سے کریں (ڈاکٹر کا نام گوگل نیوز)۔ آپ کو احساس ہو گا کہ کسی سکول کے بچے نے ترجمے کی اسائمنٹ سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے
اگر وہ ایسا نا کرتے تو ہم یہاں بات کیسے کر پاتے۔ شکریہ بی بی سی اردو۔
 

سیما علی

لائبریرین
سعید! میں کوفہ میں بھی محفوظ رہا اور تم مدینہ میں مار دئیے گئے
حکیم عبدالحمید ساحب کےاس فقرے میں، مجھے ذاتی طور پر لفظ مدینے سے خوشی ہے کہ پاکستان کو مدینہ قرار دیا ب شک تشبیہ ہی دی ہے ویسے بھی لفظی معنی میں پاکستان اور مدینہ طیبہ مترادف ہیں
اپنے ملک کی تمام برُائیوں کے باوجود یہ فقرہ ہمیں بھی ایسی ہی تقویت دیتا ہے کہ ہمارے ملک کو اُس پاک ترین قطعہ سے تشبیہ دی جاتی ہے اور وہ بھی باکردار حکیم عبد الحمید صاحب جو اس صدی کی عظیم ہستی جناب حکیم محمد سعید کے بھائی ہیں ۔۔۔۔۔۔
 

جاسمن

مدیر
چوک اعظم کے رہائشی نوجوان کا بڑا کارنامہ

خالد کا تعلق لیہ چوک اعظم کے نواحی گاؤں چک نمبر 334 ٹی ڈی اے سے ہے، خالد کا تیار کردہ منی ٹریکٹر ایک بڑے ٹریکٹر کی طرح کھیتوں میں چلتا ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ اسے ڈیزل یا پیٹرول کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بیٹری سے چلتا ہے۔

mini-tractor-1.jpg
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
پنجاب کا ان پڑھ نوجوان یوٹیوب سے لاکھوں روپے کیسے کماتا ہے ؟
8 جون 2021

22 سالہ ان پڑھ نوجوان اسامہ پنجاب کے شہر چوک اعظم کا رہائشی ہے۔ وہ اپنی خداداد صلاحتیوں سے کام لے کے بجلی کے کھلونے بنا کر لاکھوں روپے کمارہا ہے۔ اسامہ نے اس صلاحیت کو دوسروں کو سکھانے کیلئے اپنا یوٹیوب چینل بنا دیا۔

وہ ایسی چیزیں بناتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں، جھولے ہوں یا چارہ بنانے کی الیکٹریکل مشین، اسامہ نے اپنے فن سے سب کو حیران کردیا۔

اس کی اس کاوش کو دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جارہا ہے اور صارفین اس کی دل کھول کر پذیرائی بھی کرتے ہیں۔ اسامہ اپنے الیکٹرک کھلونوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے یوٹیوب سے لاکھوں روپے کماتا ہے۔
اسامہ کا کہنا تھا کہ میں جب بھی کوئی چیز دیکھتا تھا تو پہلے اس کی کاپی بنالیا کرتا تھا جس کے بعد اسے بجلی سے بنالیا کرتا تھا۔

Urdu News - ARY News
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
کراچی کی ہونہار بچی زرمین شیخ

954128_1216482_student_magazine.jpg

زرمین شیخ ، آغا خان سیکنڈری اسکول میں ہشتم جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کا شمار اسکول کی ہونہار طالبات میں ہوتا ہے۔ زرمین نے ہر سال اچھے نمبروں سے امتحان پاس کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ نصابی سرگرمیوں کے علاوہ غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ بین المدارس تقریری مقابلوں اور ڈراموں میں حصہ لیا اور ہر مرتبہ اول انعام جیتا۔ اب وہ شاعری بھی کرتی ہیں۔ چند ماہ قبل اسکول کے زیر اہتمام آن لائن ’’ارتھ ڈے‘‘ کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر زرمین شیخ نے زمین کے ساتھ ہونے والےناروا سلوک کو اپنی نظم ’’میں زمین ہوں ، تمہاری ماں ہوں‘‘میں بیان کیا، جس پر انہیں اول انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔

زرمین شیخ کی نظم کے چند بند ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں،

میں زمین ہوں، ماں ہوں تمہاری
مجھے تباہ کیوں کرتے ہو تم
ہیں میرے رفیق،آفاق و قمر
اور کھلتے ہیں مجھ پرگلستان و شجر
شب کونکلتے ہیں چمکتے ستارے
میرے گرد رہتے ہیں رنگین سیارے
میری فضاؤں میں اڑتے ہو
پھر اڑا کے دھوئیں مجھے کھوکھلا کیوں کرتے ہو
میرے دشمن یہ نوع انسان
میرے چہرے پر جن کی ظلمتوں کے نشان
میں تمہارے نسلوں کی ہوں پاسبان
میرے سینے پہ صدیوں کے نشان
مجھے گھائل کرکے کہاں جاؤگے
یادرکھو!ایک دن سانس لینے کو ترسو گے
سجدہ توبہ کرکے آسودہ حال ہوجاؤ
رب کے آگے قربان ہوجاؤ
میں زمین ہو ماں ہوں تمہاری
مجھے تباہ کیوں کرتے ہو تم

کراچی کی ہونہار بچی زرمین شیخ
 
مدیر کی آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
پاکستانی کمپنی نے معذور افراد کے لیے مشینی بازو تیار کرلیا - ایکسپریس اردو
9 ستمبر 2021
کراچی: پاکستان میں پہلی بار پیدائشی معذور یا کسی حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی روبوٹک آرم (مشینی بازو) تیار کرلیا گیا۔

ایکسپریس کے مطابق سینسر کے ذریعے دماغ کی مدد سے چلنے والا یہ مصنوعی ہاتھ حرکت بھی کرسکتا ہے اور وزن بھی اٹھا سکتا ہے، روبوٹک آرم کے ذریعے معذور افراد عام افراد کی طرح اپنے روزمرہ کے کام باآسانی کرسکتے ہیں۔

اس حوالے سے جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ ’’صحت کی دیکھ بھال میں ٹیکنالوجی کی فعالیت‘‘ کے موضوع پر مبنی کامسٹیک آئی سی سی بی ایس میں بین الاقوامی نمائش ہوئی جس میں پاکستان کی ایک نجی کمپنی ’بایونکس‘ نے تیار کیے جانے والے اس بازو کو متعارف کرایا۔


اس بازو میں کئی سینسر کے علاوہ بیٹری نصب ہے جو مکمل چارجنگ پر بازو کو مسلسل 8 گھنٹے متحرک رکھتی ہے۔ بازو ساڑھے تین کلو وزن اٹھاسکتا ہے جس کی کلائی گھوم سکتی ہیں اور انگلیاں متحرک ہوتی ہیں۔

بایونکس نے مصنوعی ہاتھ کے تین ماڈل بنائے ہیں ان میں بلیک ایکس کا رنگ سیاہ ہے، انسانی جلد کی رنگت میں زندگی 2.0 ماڈل بنایا گیاہے اور سپر ہیرو ورژن میں بچے بازو کو اپنی مرضی سے بنواسکتے ہیں تاہم اس کی قیمت ساڑھے تین لاکھ روپے تک ہے۔ ایسا ہی ایک بازو شہری معاذ زاہد کو بھی لگایا گیا ہے۔

معاذ نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں ڈیڑھ سال قبل ایک حادثے سے متاثر ہوگیا تھا جس میں میرا سیدھا ہاتھ ضائع ہوگیا تھا، ایک ہاتھ سے معذور ہونے کے بعد اپنے روز مرہ کے کام نہیں کر پارہا تھا۔ دل بہت اداس تھا، میں زندگی میں کچھ کرنا چاہتا تھا جب اس ٹیکنالوجی کا پتا چلا تو فوری طور پر کمپنی سے رجوع کیا اور روبوٹک آرم لگوایا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت میں اب اپنے روز مرہ کے کام آسانی سے کرلیتا ہوں، گاڑی چلا لیتا ہوں، گٹار بجا لیاتا ہوں، دانت برش کرسکتا ہوں، چائے پی سکتا ہوں اور بہت کچھ کرسکتا ہوں۔‘



انہوں نے بتایا کہ روبوٹک آرم کا استعمال انتہائی آسان ہے، اس ٹیکنالوجی کے بعد ان کے دل سے احساس محرومی کا جذبہ بھی ختم ہوا ہے اور اب زندگی حسین لگنے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو ہاتھ سے محروم ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، خوشی ہے کہ اب پاکستان بھی دوسرے ممالک کی طرح ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہا ہے۔



کمپنی حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت 100 سے زائد افراد بایونکس کے روبوٹک آرم سے مستفید ہورہے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کام باآسانی کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر معذور افراد کے دل سے احساس محرومی کو ختم کرنے کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اس موقع پر بایونکس سے وابستہ ماہر نے بتایا کہ ان کی کمپنی دنیا میں سب سے کم عمر بچے میں روبوٹ بازو نصب کرچکی ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے بایونکس کی ویب سائٹ www.bioniks.org اور3562103-0300 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top