روز انہدام جنت البقیع

اکمل زیدی

محفلین
آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔


جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں


کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں،رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ،بید لرزاں کی طرح کانپے لگا، دل یوں ہو گیا جس طرح کنوئیں میں خالی ڈول تھرتھراتا ہے ۔دائیں طرف بنت رسولﷺ ۔امام حسنؑ ، امام زین العابدینؑ ، امام باقرؑ ، امام جعفرصادقؑ ۔بچے ماں کی گود میں میں ہیں اور جو کربلا میں رہ گئے تھے انکی جدائی کا حزن ماں کی قبر سے محسوس ہو رہا ہے،شوہر نجف اشرف میں اور باپ وہ سامنے کہ بیچ میں چند مکان حائل ہیں، دنیا والوں نے مرنے کے بعد بھی دیواریں کھینچ دی ہیں، گنبد خضریٰ کو اس رخ سے دیکھئے سوگوار معلوم ہو رہا اور ویرانی کو ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔میں ساکت وصامت کھڑا رہا ،ہوش گم ہو گئے ، کیا جواب دیں گے جب رسول اللہ ﷺسوال کریں ۔ تم نے میری اولاد اور خاندان سے میرے بعد کیا سلوک کیا ۔ بنت رسول کی قبر پر میں بے دست وپا کھڑا تھا، محویت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہوش رہے نہ حواس، آہ نارسا منجمد ہو چکی یا آنسوؤں کی طغیانی رک گئی


(ملک عباس نے کہا آغا صاحب فاتحہ پڑھیے)


میں پوری طرح ہل چکا تھا کس لئے؟ کیا انہیں ہمارے ہاتھوں کی احتیاج ہے، ہم کیا ہماری دعائے مغفرت کیا ؟ ہم تو خود انکے محتاج ہیں ،ہماری مغفرتیں انکی بدولت ہوں گی فاطمہ تو اب بھی کربلا میں ہے، تیرے باپ کا کلمہ پڑھنے والوں نے تجھے اب تک ستایا ،تیری کہانی زخموں کی کہانی ہے ۔ تیرے ابا کی امت نے تیری اولاد کو ہمیشہ ستایا ہے، آج چودہ صدیاں ہونے کو ہیں تیری اولاد قبروں میں ستائی جا رہی ہے ۔ آل رسول شہید ہوگئی جب تک زندہ رہے معاندوں کی تلواریں نیام سے باہر رہیں ، وہ رحلت کر گئے تو انکے قلم تلوار ہو گئے ۔آخر ہچکی بندھ گئی آنسووں کی بوندا باندی موسلا دھار ہوگئی میں دھاڑیں مار مار کے رونے لگا ۔


(مدینہ یونیورسٹی کے طالبعلم سے مکالمہ )


میں آبدیدہ تھا میں نے کہا ان عربوں کو کیا ہو گیا ؟ ان مزارات کی بے حرمتی انکے نزدیک قرآن سنت ہے ؟ کیا انہیں روحوں کے اس سفینے کی عظمت کا اندازہ نہیں ؟


جواب :- آل سعود کی فرماں روائی سے پہلے بدعت ، گمراہی ، اور شرک انتہاکو پہنچ چکے تھے ۔


جواب الجواب :- منطق کے ڈھیر الگ کیجیے ،سوال اتنا ہے اُس بدعت اور اس شدت میں کیا رشتہ ہے، گمراہی کو روکنے کی آڑ میں بے حرمتی جائز ہے ؟ کیا عشق کا نام عربوں کی لغت میں شرک ہے ؟ یا انکے ہاں سرے سے یہ لفظ ہی موجود نہیں ،ان کے دل ابھی تک بنو امیہ ہیں ؟ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم وطنو !تم نے جنت البقیع میں ہل پھروا کر ہمارے دل کے شیشے توڑ دیئے ہیں اور اب ان میں کوئی صدا باقی نہیں رہ گئ ہے !

 

سید رافع

محفلین
آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔


جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں


کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں،رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ،بید لرزاں کی طرح کانپے لگا، دل یوں ہو گیا جس طرح کنوئیں میں خالی ڈول تھرتھراتا ہے ۔دائیں طرف بنت رسولﷺ ۔امام حسنؑ ، امام زین العابدینؑ ، امام باقرؑ ، امام جعفرصادقؑ ۔بچے ماں کی گود میں میں ہیں اور جو کربلا میں رہ گئے تھے انکی جدائی کا حزن ماں کی قبر سے محسوس ہو رہا ہے،شوہر نجف اشرف میں اور باپ وہ سامنے کہ بیچ میں چند مکان حائل ہیں، دنیا والوں نے مرنے کے بعد بھی دیواریں کھینچ دی ہیں، گنبد خضریٰ کو اس رخ سے دیکھئے سوگوار معلوم ہو رہا اور ویرانی کو ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔میں ساکت وصامت کھڑا رہا ،ہوش گم ہو گئے ، کیا جواب دیں گے جب رسول اللہ ﷺسوال کریں ۔ تم نے میری اولاد اور خاندان سے میرے بعد کیا سلوک کیا ۔ بنت رسول کی قبر پر میں بے دست وپا کھڑا تھا، محویت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہوش رہے نہ حواس، آہ نارسا منجمد ہو چکی یا آنسوؤں کی طغیانی رک گئی


(ملک عباس نے کہا آغا صاحب فاتحہ پڑھیے)


میں پوری طرح ہل چکا تھا کس لئے؟ کیا انہیں ہمارے ہاتھوں کی احتیاج ہے، ہم کیا ہماری دعائے مغفرت کیا ؟ ہم تو خود انکے محتاج ہیں ،ہماری مغفرتیں انکی بدولت ہوں گی فاطمہ تو اب بھی کربلا میں ہے، تیرے باپ کا کلمہ پڑھنے والوں نے تجھے اب تک ستایا ،تیری کہانی زخموں کی کہانی ہے ۔ تیرے ابا کی امت نے تیری اولاد کو ہمیشہ ستایا ہے، آج چودہ صدیاں ہونے کو ہیں تیری اولاد قبروں میں ستائی جا رہی ہے ۔ آل رسول شہید ہوگئی جب تک زندہ رہے معاندوں کی تلواریں نیام سے باہر رہیں ، وہ رحلت کر گئے تو انکے قلم تلوار ہو گئے ۔آخر ہچکی بندھ گئی آنسووں کی بوندا باندی موسلا دھار ہوگئی میں دھاڑیں مار مار کے رونے لگا ۔


(مدینہ یونیورسٹی کے طالبعلم سے مکالمہ )


میں آبدیدہ تھا میں نے کہا ان عربوں کو کیا ہو گیا ؟ ان مزارات کی بے حرمتی انکے نزدیک قرآن سنت ہے ؟ کیا انہیں روحوں کے اس سفینے کی عظمت کا اندازہ نہیں ؟


جواب :- آل سعود کی فرماں روائی سے پہلے بدعت ، گمراہی ، اور شرک انتہاکو پہنچ چکے تھے ۔


جواب الجواب :- منطق کے ڈھیر الگ کیجیے ،سوال اتنا ہے اُس بدعت اور اس شدت میں کیا رشتہ ہے، گمراہی کو روکنے کی آڑ میں بے حرمتی جائز ہے ؟ کیا عشق کا نام عربوں کی لغت میں شرک ہے ؟ یا انکے ہاں سرے سے یہ لفظ ہی موجود نہیں ،ان کے دل ابھی تک بنو امیہ ہیں ؟ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم وطنو !تم نے جنت البقیع میں ہل پھروا کر ہمارے دل کے شیشے توڑ دیئے ہیں اور اب ان میں کوئی صدا باقی نہیں رہ گئ ہے !

امت کے دکھوں میں سے ایک دکھ۔ صدا سلامت رہیں اس کی یاد دھانی کرانے والے۔
 

فاخر رضا

محفلین
محل شاہوں کے ہیں روشن
تیری تربت بے دیا ہے
تیری تربت کو مقدر
سلسلہ در سلسلہ ہے
تیرگی ظلمت اندھیرا
ہائے زہرا زہرا
 

سیما علی

لائبریرین
جیوں تو لے کے جیوں تیری دولتِ نسبت
مروں تو لے کے مروں تیری چاہ یا زہرا علیہ السلام

آمین
 
Top