فراز رنجش ہی سہی ۔۔۔ احمد فراز

جہانزیب

محفلین
آج ميرا دل کافی اداس ہے اور ايسے ميں اوپر سے اداس سی شاعری پڑھ کر اور زيادہ طبيعت بوجھل ہے ديکھ ليں رات کے ٣ بجے اور نيند کا نام و نشان نہيں ہے تو اس وقت ميرے دل کی آواز کسی کی ياد ميں :wink:

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے ليے آ
آ پھر سے مُجھے چھوڑ کے جانے کے ليے آ

پہلے سے مراسم نا سہی پھر بھی کبھی تو
رسمِ راہِ دنيا ہی نبھانے کے ليے آ

کس کس کو بتائيں گے جدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے ليے آ

کچھ تو ميرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تو مجھ کو منانے کے ليے آ

ايک عمر سے ہوں لذتِ گِريہ سے بھی محروم
اے راحتِ جان مجھ کو رُلانے کے ليے آ

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہيں اميديں
يہ آخری شمعيں بھی بُجھانے کے ليے آ
 

فرخ منظور

لائبریرین
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تَو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کیلئے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تَو زمانے کے لئے آ

اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جتانے کے لیے آ

جیسے تمہیں آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی کسی روز نہ جانے کے لیے آ

(کلام: احمد فرازؔ)

گلوکار: استاد مہدی حسن خان صاحب

 
Top