رحمت خدا کی بن کے رمضان آ گیا-----برائے اصلاح

الف عین
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
رحمت خدا کی بن کے رمضان آ گیا
سایہ سا رحمتوں کا ہے ہم پر جو چھا گیا
-------------
جاگا خدا کا خوف ہمارے دلوں میں ہے
چھوٹی ہے جاں گناہ سے ایمان آ گیا
-------------
اترا کلامِ حق بھی تو رمضان میں ہی تھا
لے کر ہدایتیں ہے یہ قرآن آ گیا
----------
سمجھو خدا کی ذات کو موقع ملا ہے یہ
رمضان لے کے یہ ہی تو وجدان آ گیا
------------
بہتر ہزار ماہ سے اس میں ہے رات وہ
ایسی ہی رات لے کے ہے رمضان آ گیا
-------------
سب کچھ ملے گا اس میں جو مانگو گے دوستو
میرے خدا کا یہ بھی ہے اعلان آ گیا
----------------
ارشد تو مانگتا ہے خدا سے اُسے ہی بس
کیسا خدا کا بندہ ہے نادان آ گیا
------یا---
سوچے گا رب بھی یہ ہی ہے نادان آ گیا
-------یا
سوچے گا رب بھی کیسا ہے نادان آ گیا
 

الف عین

لائبریرین
ردیف قافیہ؟
پہلا مصرع ہی وزن سے خارج ہے مفاعیل کی جگہ فعلان تقطیع ہوتا ہے
آخری دو اشعار میں ردیف بے معنی ہو گئی ہے
وجدان آنا محاورہ نہیں
بھرتی کے الفاظ بہت ہیں، یہ ہی، وہ ہی بجائے یہی وہی غلط ہیں
کچھ اشعار میں ایک ہی لفظ دہرایا گیا ہے
انہیں دیکھ لیں، بار بار ایک ہی مفہوم کے اشعار کہنے سے بچیں
 
الف عین
----------------
ایک بار پھر پیشِ خدمت
------------
رحمت خدا کی بن کے ہے رمضان آ گیا
اک رحمتوں کا سایہ سا ہم پر ہے چھا گیا
-------------
جاگا خدا کا خوف ہمارے دلوں میں ہے
چھوٹی ہے جاں گناہ سے ایمان آ گیا
-------------
رمضان میں خدا نے اتارا کلامِ حق
ساری ہدایتیں لئے قرآن آ گیا
----------
قربت خدا کی اس میں ہی ہوتی نصیب ہے
رمضان لے کے یہ ہی تو ہے شان آ گیا
------------
بہتر ہزار ماہ سے اس میں جو رات ہے
وہ ہی تو رات لے کے ہے رمضان آ گیا
-------------
سب کچھ ملے گا اس میں جو مانگو گے دوستو
میرے خدا کا یہ بھی ہے اعلان آ گیا
----------------
ارشد تو مانگتا ہے خدا سے اُسے ہی بس
کیسا خدا کا بندہ ہے نادان آ گیا
------یا---
سوچے گا رب بھی یہ ہی ،ہے نادان آ گیا
-------یا
سوچے گا رب بھی کیسا ہے نادان آ گیا
 
Top