ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا

میر انیس

لائبریرین
کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ یہ جملہ کس کے منہ سے نکل سکتا تھا سوائے مولاَ کائنات کہ جو پیدا ہوئے تو خانہ کعبہ میں آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے آنحضرت(ص) کا چہرہ دیکھا سب سے پہلی غذا آنحضرت کا پاک و پاکیزہ لعاب دہن بنی۔جب حجرت کی رات آنحضرت(ص) کے بستر پر سوئے تو کوئی تمیز نہ کرسکا کہ علی(ع) سورہے ہیں یا نبی(ص) سورہے ہیں کیونکہ نور کی جو شعاعیں آپ(ص) کہ جسم سے پھوٹ تی تھیں ویسی ہی اُس دن لوگوں نے حضرت علی(ع) کے جسم سے پھوٹتی دیکھیں۔جسکی شجاعت دیکھنی ہو تو بدر،احد ،خیبر و خندق کا معرکہ دیکھو اور جبرائیل(ع)کی پکار لافتح الہ علی لا سیف اِلٰی ذوالفقار یاد کرو۔جنکو آنحضرت (ص) کلِ ایمان کہ کر عمر بن عبدوود کہ مقابلے میں بھیجیں جنکی سخاوت دیکھنی ہو تو آیاتِ ہل اتٰی کا شانِ نزول دیکھو جو 3 روٹیاں سائل کو دے تو 30 آیات نازل جوسائل کو ایک وقت کہ کھانے کے سوال میں ستر اونٹ بخش دیں۔جنکو رسول اللہ(ص) باب العلم کہیں۔جو ممبر پر بیٹھ کر سلونی سلونی کا دعویٰ کریں کہ پوچھو جو چاہے پوچھو میں زمین کے راستوں سے بھی زیادہ آسمان کے راستوں سے واقف ہوں۔جو کہے کہ میں موت سے نہیں ڈرتا چاہے میں موت پر جا پڑوں یا موت مجھ پر آن پڑے۔جو اپنے قاتل کو بھی شربت کا گلاس پیش کرے اور اسکے ساتھ بھی انصاف کی آرزو رکھتا ہو صرف اور صرف وہی اپنے آخری وقت کہ آنے پر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ آج میں کامیاب ہوگیا۔
اللہ کے نور کی سیپ میں پرورش پایا ہوا یہ سچا موتی جب سیپ سے نکلا تو پوری کائینات کو اپنے علم اور حکمت سے پر نور کرگیا جسکے علم اور حکمت کے زخیرے نہج البلاغہ میں آج بھی موجود ہیں اور آج بھی لوگ انسے فائدے اٹھارہے ہیں۔جنکا جب ظہور ہوا تو ایسی فضیلت والی جگہ پر کہ جسکے آگے رہتی دنیا تک سارے مسلمان اپنی جبیں جھکاتے رہیں گے۔ اور جب اس دنیا سے گئے تو ساری فضیلتیں انکے گرد جمع ہوگئیں ۔
دنوں میں افضل ترین دن جمعہ کا دن۔مہینوں میں افضل ترین مہینہ رمضان مبارک راتوں میں افضل ترین راتیں شبَ قدر کی راتیں۔عمارتوں میں افضل ترین عمارت اللہ کا گھر یعنی مسجد ۔مسجد میں افضل ترین مقام محرابِ مسجد۔عبادتوں میں افضل ترین عبادت نماز۔نماز کا افضل ترین رکن سجدہ۔جب یہ ساری فضیلتیں اکھٹی ہوگئیں تو اللہ نے مولا علی(ع) ملاقات کا شرف بخشا اور مولا علی(ع) نے جواب میں کہا کہ ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا
 

میر انیس

لائبریرین
آپ دونوں حضرات کا بہت بہت شکریہ ۔ کم از کم ڈھائی سال بعد ہی سہی اس دھاگے پر تبصرہ تو کیا اور اسکو پھر سے زندہ کردیا
 

مہ جبین

محفلین
ہوئے کعبے میں پیدا ، اور شہادت پائی مسجد میں
خدا کے گھر کا وہ مالک، بشر یوں بھی ہیں اور یوں بھی


حبِّ علی نہیں ہے تو جینا حرام ہے
یہ مئے وہ مئے ہے جس کو نہ پینا حرام ہے
بے خوف کہہ رہا ہوں کہ بے حبِّ اہلِ بیت
بیکار اضطرابِ سجود و قیام ہے

میر انیس بھائی جیسے شہید زندہ ہیں ایسے ہی انکا ذکر بھی زندہ رہتا ہے ، یہ اور بات کہ یہ صفحہ کچھ وقت کے لئے نیچے چلا جائے لیکن اسکو زندہ کرنے کا لفظ میرا خیال ہے کہ مناسب نہیں ہے ۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کوئی اور اس سے متفق نہ ہو تو برائے مہربانی بحث برائے بحث نہ کریں شکریہ
 

میر انیس

لائبریرین
ہوئے کعبے میں پیدا ، اور شہادت پائی مسجد میں
خدا کے گھر کا وہ مالک، بشر یوں بھی ہیں اور یوں بھی


حبِّ علی نہیں ہے تو جینا حرام ہے
یہ مئے وہ مئے ہے جس کو نہ پینا حرام ہے
بے خوف کہہ رہا ہوں کہ بے حبِّ اہلِ بیت
بیکار اضطرابِ سجود و قیام ہے
بے شک بالکل بجا فرمایا آپ نے
میر انیس بھائی جیسے شہید زندہ ہیں ایسے ہی انکا ذکر بھی زندہ رہتا ہے ، یہ اور بات کہ یہ صفحہ کچھ وقت کے لئے نیچے چلا جائے لیکن اسکو زندہ کرنے کا لفظ میرا خیال ہے کہ مناسب نہیں ہے ۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کوئی اور اس سے متفق نہ ہو تو برائے مہربانی بحث برائے بحث نہ کریں شکریہ

نہیں نہیں بحث کی کیا بات ہے جو بات صحیح ہے وہ صحیح ہے ۔ اور واقعی میں نے غلط لکھا تھا۔ آپ کی تصحیح کا شکریہ۔
 

محمد امین

لائبریرین
اللہ نے مولا علی(ع) ملاقات کا شرف بخشا اور مولا علی(ع) نے جواب میں کہا کہ ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا

اچھی تحریر ہے انیس بھائی مگر میری کم علمی سے صرفِ نظر کر دیجیے گا، مجھے اس واقعے کا علم نہیں، اگر اس بارے میں کچھ اور وضاحت کرسکیں تو عین نوازش ہوگی۔
 

میر انیس

لائبریرین
اچھی تحریر ہے انیس بھائی مگر میری کم علمی سے صرفِ نظر کر دیجیے گا، مجھے اس واقعے کا علم نہیں، اگر اس بارے میں کچھ اور وضاحت کرسکیں تو عین نوازش ہوگی۔
امین جب حضرت علی(ع) کے قاتل نے نمازِ فجر میں سجدے کے دوران ضرب لگائی تھی تو بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا تھا( فزتُ بربِ الکعبہ) کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوگیا یہ جملہ بھی آپ کے بیشمار خطبوں کی طرح ایک بہت بڑا فلسفہ ہے ۔
 
یہاں میں ایک چھوٹی سی تصحیح کر دوں تاریخی اعتبار سے سب سے پہلے یہ کلمات حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ سے کہنا ثابت ہے۔ حضرت حرام بن ملحان، جو کہ حضرت ام سلیم بنت ملحان(والدہ ماجدہ خادم رسول اللہ ﷺ حضرت انس بن مالک ) کے بھائی تھے، غزوہ بئر معونہ ۴ ہجری کے موقع نبی اکرم کے ان ستر صحابیوں میں سے ایک تھے جن کو رعل، ذکوان، عصیصہ وغیرہ قبائل نے شہید کر دیا تھا۔ جب انکو نیزہ مارا گیا تو انہوں نے بے اختیار کہا فزت و رب الکعبہ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ صحیح بخاری شریف میں یہ واقعہ جلد دوئم میں تین بار بیان کیا گیا ہے نیز سیرت و تاریخ اسلام کی تقریبا ہر اہم کتاب میں یوں ہی درج ہے۔
 

میر انیس

لائبریرین
یہاں میں ایک چھوٹی سی تصحیح کر دوں تاریخی اعتبار سے سب سے پہلے یہ کلمات حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ سے کہنا ثابت ہے۔ حضرت حرام بن ملحان، جو کہ حضرت ام سلیم بنت ملحان(والدہ ماجدہ خادم رسول اللہ ﷺ حضرت انس بن مالک ) کے بھائی تھے، غزوہ بئر معونہ ۴ ہجری کے موقع نبی اکرم کے ان ستر صحابیوں میں سے ایک تھے جن کو رعل، ذکوان، عصیصہ وغیرہ قبائل نے شہید کر دیا تھا۔ جب انکو نیزہ مارا گیا تو انہوں نے بے اختیار کہا فزت و رب الکعبہ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ صحیح بخاری شریف میں یہ واقعہ جلد دوئم میں تین بار بیان کیا گیا ہے نیز سیرت و تاریخ اسلام کی تقریبا ہر اہم کتاب میں یوں ہی درج ہے۔
آپ کی تصحیح میرے لئے قابلِ قبول نہیں ہے۔ بات ایک جملے تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر مولا علی علیہ السلام نےکوئی بھی جملہ ارشاد فرمایاہے تو اسکا ایک پورا فلسفہ ہوتا ہے۔اگر آپ انکی پوری زندگی دیکھیں کعبہ میں پیدا ہونے سے رمضان میں شہادت تک تو آپ انکو جگہ جگہ کامیاب ہی ہوتا دیکھیں گے ۔ میدانِ جنگ میں نیزہ لگنا اور بات ہے اور پوری زندگی اسطرح گزارنا کہ آپ نے خود فرمایا کہ میں نے آنحضرت(ص) کا اتباع اسطرح کیا جیسے ایک اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کا کرتا ہےمیں دراصل پوری تفصیل میں نہیں جانا چاہرہا تھا اور نہ ہی اب جانا چاہرہا ہوں میں اس دھاگے کو جو ابھی تک بہت کامیابی سے جاری ہے اسکو اختلافی بحث میں پڑ کر مقفل نہیں کرانا چاہتا۔ اگر آپ کو مزید معلومات اس سلسلے میں چاہئیں تو آپ علمِ رجال کے مستند اساتذہ سے رجوع کریں۔ پر مہربانی کرکے یہاں کوئی اختلافی بات نہ کریں کہ کوئی آپ کو ایسا جواب دے جس سے ہر مذہبی دھاگے کی طرح اس میں بھی بحث کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو اور قفل پر ختم ہو۔ ہاں اگر آپ اسکی تصحیح کرنا ہی چاہتے ہیں تو نیا دھاگہ کھول سکتے ہیں ۔
 
جناب انیس صاحب آپ بات کو غلط رخ پر لے گئے۔ حضرت علی کسی ایک فرقے کی جاگیر نہیں ہیں جو آپ اتنی حاکمیت بھرے انداز سے ان کے بارے میں کوئی حکم صادر فرمائیں۔اور نہ ہی یہ دھاگہ ہی آپ کی ذاتی جاگیر ہے۔ ایک بات جو تاریخی طور پر ثابت ہے سو ثابت ہے اس میں نہ کسی جھگڑے کی ضرورت ہے نہ کسی نئے دھاگے کی۔میں نے حضرت علی کی کوئی تنقیض نہیں کی جو بات کسی تنازعہ تک پہنچے، بقیہ آپ کو تو کوئی پابند نہیں کر رہا جو باب فضائل و فضیلت آپ بیان کرنا چاہیں کرتے رہیئے۔
یہاں میرا مقصد کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرنا نہیں صرف ایک انفارمیشن لوگوں تک پہچانی تھی سو پہنچا دی۔ اب جو جس بات کو درست سمجھے سو سمجھے۔ وما علینا الا البلاغ المبین
 

میر انیس

لائبریرین
جناب انیس صاحب آپ بات کو غلط رخ پر لے گئے۔ حضرت علی کسی ایک فرقے کی جاگیر نہیں ہیں جو آپ اتنی حاکمیت بھرے انداز سے ان کے بارے میں کوئی حکم صادر فرمائیں۔اور نہ ہی یہ دھاگہ ہی آپ کی ذاتی جاگیر ہے۔ ایک بات جو تاریخی طور پر ثابت ہے سو ثابت ہے اس میں نہ کسی جھگڑے کی ضرورت ہے نہ کسی نئے دھاگے کی۔میں نے حضرت علی کی کوئی تنقیض نہیں کی جو بات کسی تنازعہ تک پہنچے، بقیہ آپ کو تو کوئی پابند نہیں کر رہا جو باب فضائل و فضیلت آپ بیان کرنا چاہیں کرتے رہیئے۔
یہاں میرا مقصد کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرنا نہیں صرف ایک انفارمیشن لوگوں تک پہچانی تھی سو پہنچا دی۔ اب جو جس بات کو درست سمجھے سو سمجھے۔ وما علینا الا البلاغ المبین
میں یہی بات تو کر رہا تھا جہاں تک آپ پہنچ گئے مجھکو پتہ تھا کہ بات فرقہ تک پہنچ جائے گی ۔ میرے پورے مراسلے میں کوئی مجھکو بتا دے کہ میں نے کہاں کسی ایک مخصوص فرقے کی بات کی۔ میں نے کس جگہ یہ کہا ہے کہ حضرت علی (ع) میری یا میرے فرقہ کی جاگیر ہیں ۔ میں تو سب سے کہتا ہی یہ ہوں کہ آنحضرت (ص) کے بعد ایک مولا علی (ع) ہی واحد فرد ہیں جن کو ہر مسلمان اپنا رہبرمانتا ہے کوئی چوتھا خلیفہ مانتا ہے تو کوئی پہلا امام۔ تنازعہ اور کس طرح کھڑا کیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے اگر میں ان سب روایتوں کواپنے مسلک کے حساب سے ضعیف قرار دوں گا اور پھر ثابت کروں گا کہ روایتیں اور وہ بھی سب روایتیں جس میں خانہ کعبہ میں حضرت علی (ع) کے علاوہ بھی ایک اور صاحب پیدا ہوئے تھے یا یہ کہ سرے سے حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے ہی نہیں تھے کیوں امام بخاری نے اپنی صحیح میں شامل کی ہیں تو ایک طوفان آجائے گا۔ یہ کیسی انفارمیشن ہے جس سے جھگڑا کھڑا ہوجائے جس کو آپ تو صحیح سمجھ کر دوسروں تک پہنچارہے ہیں پر ظاہر ہے دوسرا جو اسکو صحیح نہیں سمجھ رہا وہ تو اختلاف کرے گا اور اسکو غلط بھی ثابت کرے گا اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ دھاگہ بھی مقفل ہوجائے گا۔ مجھے صرف ڈر ہے تو اسی سے اور اسلئے ہی میں نے کہا تھا کہ یہاں نہیں اگر آپ کو یہ سب بتانا ہی ہے تو ایک نیا دھاگہ کھول لیں جس سے آپ یہ سمجھے کہ میں اس دھاگے کو یا حضرت علی کو اپنی جاگیر سمجھ رہا ہوں ۔ دوسرے آپ کا حضرت علی (ع) کے یہ سارے فضائل جو میں نے لکھے ان میں ریٹنگ میں پسند یا ناپسند کا اظہار کئے بغیر ایک اختلافی بات کرنا بھی مجھ کو شک میں ڈال رہا تھا جس کا اظہار میں نے کیا ۔ اب اتنا تفصیل سے سمجھانے پر بھی آپ نہ سمجھیں تو میرا قصور نہیں
 

muhajir

محفلین
میر انیس۔۔۔ توبہ ہے آ پ سے گفتگو کرنا۔۔۔۔
گو آپ نے کہیں یہ لکھا نہیں، لیکن آپ کو طرز کلام واضح طور پر بتا رہا ہے کہ آپ دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ پھر مزید تفصیل دینے کا فائدہ؟
 

میر انیس

لائبریرین
میر انیس۔۔۔ توبہ ہے آ پ سے گفتگو کرنا۔۔۔ ۔
گو آپ نے کہیں یہ لکھا نہیں، لیکن آپ کو طرز کلام واضح طور پر بتا رہا ہے کہ آپ دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ پھر مزید تفصیل دینے کا فائدہ؟
جی آپ نے بالکل صحیح کہا میں اس سلسلے میں کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔ کیونکہ پھر آپ بھی میری بات ماننے کو تیار نہیں ہونگے اور بحث بڑھتی چلی جائے گی ۔ ہاں اگر محمد وارث بھائی اور ساجد اجازت دیں مجھ کو اور وعدہ کریں کہ یہ دھاگہ مقفل نہیں ہوگا تو میں آپ کی سب باتیں سننے اور انکا جواب دینے کو تیار ہوں۔ آپ یہاں نئے آئے ہیں اسلئے آپ کو یہاں کے مزاج کا نہیں معلوم اسلئے میں آپ کے الفاظ (توبہ ہے آپ سے گفتگو کرنا) کو خاص رعایت دے رہا ہوں۔
میں ایک بات آپ کو تفصیل سے بتا بھی چکا ہوں اور یہ بھی کہ چکا ہوں کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ لوگوں تک کوئی معلومات پہنچائیں تو نیا دھاگہ کھول لیں وہاں آپ جو بھی لکھیں کس نے روکا ہے۔ پھر آپ کا یہ طرز عمل میری سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر ہم اس دھاگے کو بھی بحث برائے بحث کی نظر کردیں گے تو میرا جو مقصد ہے اس دھاگے کا یعنی شانِ مولا علی (ع) بیان کرنا وہ فوت ہوجائے گا۔
 

سید ذیشان

محفلین
میں یہی بات تو کر رہا تھا جہاں تک آپ پہنچ گئے مجھکو پتہ تھا کہ بات فرقہ تک پہنچ جائے گی ۔ میرے پورے مراسلے میں کوئی مجھکو بتا دے کہ میں نے کہاں کسی ایک مخصوص فرقے کی بات کی۔ میں نے کس جگہ یہ کہا ہے کہ حضرت علی (ع) میری یا میرے فرقہ کی جاگیر ہیں ۔ میں تو سب سے کہتا ہی یہ ہوں کہ آنحضرت (ص) کے بعد ایک مولا علی (ع) ہی واحد فرد ہیں جن کو ہر مسلمان اپنا رہبرمانتا ہے کوئی چوتھا خلیفہ مانتا ہے تو کوئی پہلا امام۔ تنازعہ اور کس طرح کھڑا کیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے اگر میں ان سب روایتوں کواپنے مسلک کے حساب سے ضعیف قرار دوں گا اور پھر ثابت کروں گا کہ روایتیں اور وہ بھی سب روایتیں جس میں خانہ کعبہ میں حضرت علی (ع) کے علاوہ بھی ایک اور صاحب پیدا ہوئے تھے یا یہ کہ سرے سے حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے ہی نہیں تھے کیوں امام بخاری نے اپنی صحیح میں شامل کی ہیں تو ایک طوفان آجائے گا۔ یہ کیسی انفارمیشن ہے جس سے جھگڑا کھڑا ہوجائے جس کو آپ تو صحیح سمجھ کر دوسروں تک پہنچارہے ہیں پر ظاہر ہے دوسرا جو اسکو صحیح نہیں سمجھ رہا وہ تو اختلاف کرے گا اور اسکو غلط بھی ثابت کرے گا اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ دھاگہ بھی مقفل ہوجائے گا۔ مجھے صرف ڈر ہے تو اسی سے اور اسلئے ہی میں نے کہا تھا کہ یہاں نہیں اگر آپ کو یہ سب بتانا ہی ہے تو ایک نیا دھاگہ کھول لیں جس سے آپ یہ سمجھے کہ میں اس دھاگے کو یا حضرت علی کو اپنی جاگیر سمجھ رہا ہوں ۔ دوسرے آپ کا حضرت علی (ع) کے یہ سارے فضائل جو میں نے لکھے ان میں ریٹنگ میں پسند یا ناپسند کا اظہار کئے بغیر ایک اختلافی بات کرنا بھی مجھ کو شک میں ڈال رہا تھا جس کا اظہار میں نے کیا ۔ اب اتنا تفصیل سے سمجھانے پر بھی آپ نہ سمجھیں تو میرا قصور نہیں
امام علی کی شخصیت کو اس طرح کی باتوں کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کعبہ میں پیدا ہوئے یا پھر جو جملے انہوں نے کہے وہ کسی اور نے کہے یا نہیں۔ اگر کوئی ان سے اختلاف کرتا ہے تو کرتا رہے۔ جو بات ان کو نمایاں کرتی ہے وہ ان کی شخصیت ہے، ان کے کہے ہوئے کئی خطبے جن میں توحید کا ایسا بیان ہے کہ آپ پڑھیں تو عش عش کر اٹھیں۔ ایسے رموز سے پردے اٹھائے گئے ہیں کہ وہ آج بھی relevant ہیں۔ روحانیت کے ایسے اسباق ہیں کہ جن پر عمل کر کے ہم کہاں سے کہاں پہنچ جائیں۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے اور اس کے علاوہ ساری باتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
 

میر انیس

لائبریرین
ممتاز عالم دین مفتی محمد زمان نوری سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بات ہے شبِ ہجرت آنحضرت (ص) نے مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کو ہی کیوں چنا تو مفتی صاحب نےارشاد فرمایا کہ
جو باصلاحیت رہبر و رہنما ہوتے ہیں وہ اپنے متلقین میں یہ دیکھتے ہیں کہ کس شخص میں کیا صلاحیت موجود ہے کونسا شاگرد کونسا مرید کس صلاحیتوں کا حامل ہے کس کام کو صحیح طور سے کر سکے گا تو پھر آقا علیہ اسلام تو معلم کائینات ہیں اور پھر حضور علیہ السلام نے کچھ سیکھا ہے تو رب سے سیکھا ہے اور اگر پڑھا ہے تو رب سے پڑھا ہے دنیا میں کوئی آپ کا استاد اور معلم نہیں ہے اسی لئے آپ کا ایک لقب امی بھی ہے۔تو جب آقا علیہ السلام نے ملاحظہ فرمایا صحابہ کی طرف تو دیکھا کہ کس شخص میں یہ کیفیت مربوط ہے کہ وہ میرے جانے پر میرے بستر پر آرام کرلے گا اور اس بات سے خائف نہیں ہوگا کہ کفار ننگی تلواریں لئے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں تو آپ نے مولا علی کرم اللہ وجہُ کو منتخب فرمایا اس انتخاب کی جو وجہ علمائے اکرام نے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ آج مولا علی کرم اللہ وجہُ کا آنحضرت کے بستر پر لیٹنا کوئی پہلی دفعہ نہ تھا مولا علی علیہ السلام کی ایک عادت رہی بچپن سے آنحضرت کے بسترِ مبارک پر لیٹنے کی مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ کوئی یہ سمجھے کہ رسول اللہ (ص) بستر سے اُٹھتے تھے تو علی (لیٹ جایا کرتے تھے بلکہ بالخصوص تین سال کا عرصہ جو آپ کے خاندان کا شعب ابی طالب میں سوشل بائیکاٹ ہوا اس تین سال کے عرصے میں جب رسول اللہ (ص)اپنے بستر پر جب آرام فرمارہے ہوتے رات میں جب سب سو جاتے تو حضرت ابو طالب جاگتے رہتے اور یہ دیکھتے کہ سب سوجائیں رسول اللہ (ص) اپنے بستر پر حضرت علی (ع)اپنے بستر پر آرام کر رہے ہیں تو حضرت ابوطالب یہ خیال کرتے کہ مبادا کوئی دشمن یا کوئی جاسوس یہ جاسوسی کرتے کہ مُحمد (ص) فلاں بستر پر ہیں اور انکو کوئی تکلیف نہ پہنچادے تو آپ مولا علی (ع)کو آپ کے بستر پر لٹا دیا کرتے تھے اور مولا علی (ع) کے بستر پر آںحضرت (ص)تاکہ کہ اگر کوئی(ص)کو نشانہ بنانےآ ئے تو اپ(ص) محفوظ رہیں اگر میرا بیٹا نقصان اٹھائے تو کوئی بات نہیں ۔ یہ بھی محبتِ رسول صلٰی اللہ علیہ و آلہِ وسلم تھی بعض دفعہ کچھ لوگ یہ کلام کرتے ہیں کہ یہ توبھتیجےکی محبت تھی جو حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے کی جان بچانے کیلئے کہ انکے دشمن بہت تھے اپنے بیٹوں کو آپ(ص) کے بستر پر اور آپ(ص) کو انکے بستر پر لٹا دیا کرتے تھے لیکن یہ یاد رکھیں کہ بھتیجے کی محبت میں بیٹا قربان نہیں کیا جاتا یہ محمد بن عبداللہ کی محبت نہیں تھی بلکہ مُحمد رسول اللہ(ص) کی محبت تھی۔ تو یہ ایک بچپن کی عادت تھی ایسے حالات میں رسول اللہ (ص)کہ بستر پر لیٹنے کی کہ اگر رسول اللہ (ص)پر حملہ ہوگا تو یہ دراصل علی بن ابی طالب (ع) پر حملہ ہوجائے گا یعنی ایک ٹریننگ تھی جو حضرت ابو طالب نے بچپن میں ہی دیدی تھی اسی لئے اس رات بھی کھلے دل کے ساتھ بغیر کسی خوف و خطر کے آپ رسول اللہ (ص) کے بستر پر لیٹ گئے ہاں صرف اتنا ضرور پوچھا اپنے اطمینان کیلئے کہ آقا میرے یہاں لیٹنے سے آپ کی جان تو بچ جائے گی جب آنحضرت (ص) نے جواب مثبت میں دیا تو مولا علی(ع) نے فرمایا پھر اب علی کو کوئی فکر نہیں کہ موت علی پر آپڑے یا علی موت پر جا پڑے۔ بلکہ بات کو میں آگے بڑھاؤں گا کہ بعد میں کسی نے پوچھا اے علی کیا ہجرت کی رات آپ کا خوف نہیں آیا یا ڈر نہیں لگا کہ لوگ باہتلواریں بھالے لئے کھڑے ہیں خنجر لئے ہوئے ہیں کسی بھی وقت وہ اندر آسکتے ہیں اور قتل کرسکتے ہیں اس رات وہ بستر موت کا بستر تھا جو بظاہر نظر آرہا تھا لیکن مولا علی کرم اللہ وجہ آپ (ص) کی صحبت قربت نسبت اور آپ(ص) کے ارشاد پر مضبوطیِ عقیدہ اسکو مولا علی کریم بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم میں اپنی پوری زندگی میں جیسا بے فکر ہوکر بے خوف ہوکر اس رات سویا ہوں اتنی پر سُکون نیند پوری زندگی میں کبھی نہیں آئی کیونکہ ہمیشہ یہ رہتا کہ کیا پتہ کب موت کا فرشتہ آجائے اور روح قبض کرلے اور کہیں غفلت میں نہ موت آجائے لیکن اس رات چونکہ آقا کریم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اے علی یہ لوگوں کی امانتیں ہیں یہ لو ان سب کو واپس کرو جن جن کی ہیں اور صبح تم بھی ہجرت کرکے میرے پاس پہنچ جانا تو جب آقا کریم نے یہ جملہ ادا کردیا کہ تم بھی مجھ سے آکر ملنا تو اب اتنا اعتماد یقین ہے کہ میں حضور سے ملے بغیر مر نہیں سکتا کوئی مجھ کو تکلیف پہنچا نہیں سکتا دنیا میں تو کوئی کیا ہوگا ملک الموت علیہ السلام بھی اب میری روح حضور سے ملے بغیر قبض نہیں کرسکتے اسی لئے بہت اطمینان کی نیند آئی



قمر کیا شمس کیا ارض و سماء نے بات رکھی ہے
مُحمد کی مُحمد کے خدا نے بات رکھی ہے
شبِ ہجرت رسول اللہ کے بستر پہ خود سو کر
پیمبر کی علیِ مرتضٰی نے بات رکھی ہے
 

دوست

محفلین
میر انیس صاحب میں کسی کو براہ راست کم ہی مخاطب کیا کرتا ہوں۔لیکن اتنا کہوں گا کہ آپ کا طرز تخاطب غیر ضروری طور پر تلخ ہے۔ سائیں محبت تلخی نہیں سکھاتی۔ واحد تو رب کریم کی ذات ہے نا سائیں، کہ جس کا ہمسر کوئی نہیں۔ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اللہ کے بندے ہیں، صحابی رسول ﷺ ہیں جی۔ اور میں یہ ہزار فیصد شرط لگا رہا ہوں کہ بات اس پوسٹ کے جواب میں بھی وہی ہو گی کہ شاکر فرقہ بندی بڑھا رہا ہے۔ :)
 

الف نظامی

لائبریرین
مقامِ علی
زین الفقرا فقیرِ بے باک علی
دروازہ علمِ شہِ لولاک علی
ہوتی ہے سمندر کی طرح موج بھی پاک
معصوم محمد ہیں تو ہیں پاک علی​
در مدح سیدنا علی المرتضی
اس کوچے میں کب کسے گُذر ملتا ہے
ہر گام پہ اک سیلِ خطر ملتا ہے
جب دانشِ دنیوی کے بجھتے ہیں چراغ
تب جا کے کہیں علی کا در ملتا ہے​
آرزوئے خاکِ نجف
اُس محور و مرکزِ سلف سے اٹھوں
قَنبر والی غلام صف سے اٹھوں
موت آئے کہیں ، دفن کہیں ہُوں ، لیکن
کہتی ہے مودت کہ نجف سے اٹھوں​
درجاتِ مہرِ علی
لکھ لیجیے لوحِ دل پہ با خطِ جلی
یہ بات ، جو کہہ گئے زمانے کے ولی
مل جاتی ہے انساں کو فلاحِ دارین
گر حُبِ نبی کے ساتھ ہو مہرِ علی​
سَلُونِی
ایسا نہ ہو ، محروم کہیں ہو بیٹھو
میرے ہونے سے ہاتھ ہی دھو بیٹھو
جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو مجھ سے
اِس سے پہلے کہ مجھ کو تم کھو بیٹھو​
سلونی قبل ان تفقدونی (قول علی المرتضی)
مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں نہ رہوں​
 

میر انیس

لائبریرین
شاکر اگر میری باتیں اپ کو تلخ لگی ہوں تو میں معافی چاہتا ہوں۔ اگر آپ نے میرے مراسلے پہلے بھی پڑہیں ہوں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ میں کبھی تلخ نہیں ہوتا جواب دینے سے پہلے میں آپ کو اور تمام اہلِ محفل کو مولائے کائینات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت ِ با سعادت کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
552932_372753572786688_489673802_n.jpg


294962_288147274614364_1204913255_n.jpg
 

میر انیس

لائبریرین
اب میرے دوست میں آتا ہوں جواب کی طرف۔ میرے بھائی عربی لغت کے حساب سے واحد صرف اللہ کے لئے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ حسابی طور پر بھی ایک کی جگہ واحد استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے ہم کہیہں اللہ ایک ہے تو اب ہم ایک کو اللہ کے علاوہ بھی کہیں بھی کسی چیز کے اگر وہ ایک ہو تو استعمال کرسکتے ہیں ۔ آپ نے بہت سے اشتہار پڑہیں ہوں گے جہاں دیکھا ہوگا کہ اپنی طرز کا واحد ادارہ ۔ اللہ بے شک اپنی ذات میں اور اپنی سٍات میں ایک ہے یا واحد ہے اسکا ایک نام بھی واحد ہے پر اسکا یہ مطلب نہیں کہ اب ہم کسی کیلئے بھی واحد استعمال نہیں کرسکتے۔ بہت سے مرتبے ایسے ہیں جس میں ایک کوئی بھی شخصیت یکتا ہوتی ہے جیسے حضور (ص) اس دنیا کی واحد شخصیت ہیں تمام جن و انس اور فرشتوں میں جو اللہ کے اتنے قریب گئے کہ صرف ایک کمان کا فاصلہ رہ گیا۔ حضرت یونُس علیہ السلام واحد نبی ہیں جو مچھلی کے پیٹ میں کافی عرصے تک رہے تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام واحد نبی ہیں جو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام واحد نبی ہیں جن کے لئے آگ کو گلزار بنادیا گیا۔ اس طرح ایک ہزار مثالیں دی جاسکتی ہیں اب اس میں اللہ کی وحدانیت پر حرف کہاں سے آگیا۔ اب آپ اگر اپنے جملے کو ہی اگر ملاحظہ کریں تو آپ کے علم میں تو یہ بات ہوگی کہ سائیں کا لفظ بھی خاص کر شاہ صاحب نے اللہ کے لئے استعمال کیا ہے پر ہم اللہ کے بندوں کو بھی عزت دینے کیلئے استعمال کرلیتے ہیں جیسے آپ نے مجھ ناچیز کیلئے بھی یہ لفظ استعمال کرلیا ہے۔
اور میں یہ ہزار فیصد شرط لگا رہا ہوں کہ بات اس پوسٹ کے جواب میں بھی وہی ہو گی کہ شاکر فرقہ بندی بڑھا رہا ہے۔ :)
کاش آپ ہزار فیصد کی جگہ ہزار روپے کی ہی شرط لگالیتے تو میں جیت گیا ہوتا کیوں کہ میں نے فرقہ بندی کا الزام آپ پر نہیں لگایا ۔ وہ بھی میں دیکھ کر ہی لگاتا ہوں:cool:۔۔
اگر آپ اور باقی سب جن کو میں تھوڑا سا تلخ لگا ہوں وہ میری بات کو سمجھیں تو میں نے جگہ جگہ اس بات پر ہی ذور دیا ہے کہ ایسی باتیں نہ کی جائیں کہ پھر کوئی مخالف آکر بحث برائے بحث شروع کردے کہ دھاگے کا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے ۔ آپ تو پرانے محفلین ہیں آپ نے کیا یہ کبھی نہیں دیکھا کہ یہاں ہر دھاگہ اپنے مقصد سے ہٹ جاتا ہے یا ہٹا دیا جاتا ہے اور انجام قفل ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے بجائے اپنے اپنے نظریات لوگ لے کر جاتے ہیں اور بجائے دوسرے کا موقف سننے کے چاہتے ہیں کہ زبردستی اپنے نظریات اس پر ٹھوس دیں جو کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے بھئی اگر آپ کا ایک الگ نظریہ ہے تو آپ اسکا اظہار یا تو اتنی شائستگی سے اور اپنے پن کے ساتھ کریں کہ دوسرے کو برا نہ لگے یا اسکے لئےالگ سے کوئی دھاگا کھول لیں ۔ یہاں بہت سے ایسے دھاگے تھے جن سے مجھکو اختلاف تھا ان میں شروع میں یا تو میں بولا ہی نہیں اور اگر میں بولا تو تب بولا جب میں نے دیکھا کہ اب یہ دھاگہ اپنی اصل کھو بیٹھا ہے اور ویسے بھی ایسا زیادہ تر سیاسی دھاگوں میں ہی ہوا جیسے جناح پور اور نئے صوبوں والی بات پر میں بولا تھا حالانکہ وہ خود مجھ کو بھی بعد میں بہت عجیب لگا تھا۔ میں یہ مانتا ہوں شروع میں مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں پر آہستہ آہستہ میرا مزاج بدل گیا اب میری ساری توجہ اتحاد بین المسلمین پر ہے نہ صرف نیٹ پر بلکہ عام زندگی میں بھی یہ الگ بات کچھ لوگ اس نعرے کو ہی ناقابل عمل سمجھتے ہیں۔ اور یہ اس وقت تک واقعی ناقابل عمل ہے جب تک کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں سنتے اور ایک دوسرے کے موقف کو برداشت نہیں کرتے ۔
 
Top