رات کو خواب ہو گئ ، دن کو خیال ہو گئ-صابر ظفر

رات کو خواب ہو گئ ، دن کو خیال ہو گئ
اپنے لیے تو زندگی ، ایک سوال ہو گئ

ڈال کے خاک چاک پر ، چل دیا ایسے کوزہ گر
جیسے نمود خشک و تر ، رو بہ زوال ہو گئ

پھول نے پھول کو چھوا ، جشن وصال تو ہوا
یعنی کوئی نباہ کی رسم بحال ہو گئ

تجھ کو کہاں سے کھوجتا ، جسم زمین پہ بوجھ تھا
آخر اس تکان سے ، روح نڈھال ہو گئ

کون تھا ایسا ہمسفر ، کون بچھڑ گیا ظفر
موج نشاط رہ گزر ، وقف ملال ہو گئ


صابر ظفر
 
Top