رات ڈھلتے ہی تری یاد ستانے آئی--------برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
--------------
رات ڈھلتے ہی تری یاد ستانے آئی
پھر مری نیند کو آنکھوں سے بھگانے آئی
----------
بھول جاؤں نہ کہیں پیار کے وعدے اپنے
عہد میرا ہی مجھے یاد دلانے آئی
---------
دن تو گزرا تھا تری یاد میں کھوئے کھوئے
کس پہر نیند مجھے رات نہ جانے آئی
----------
سوکھ جائیں نہ کہیں اشک مری آنکھوں سے
پھر تری یاد مجھے آج رلانے آئی
------------
بھول جاؤں نہ ترے پیار میں بیتے لمحے
ان چراغوں کو مرے دل میں جلانے آئی
------------
سامنے غیر کے محفل سے اٹھایا اس نے
تب ہمیشہ کے لئے عقل ٹھکانے آئی
------------
بعد مدّت کے تری یاد ہے آئی دل میں
اک تعلّق تھا کبھی ہم سے ،جتانے آئی
------
دل کو تسکین کہاں یاد میں تیری ارشد
اس اداسی کو تری یاد مٹانے آئی
---------------
 
آخری تدوین:
واہ ! بہت خوب! اچھی غزل ہے ارشد چوہدری صاحب!
آپ کے کلام میں وقت کے ساتھ بہت بہتری آگئی ہے ۔ استادِ محترم کی محنت رنگ لاتی نظر آرہی ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !
مطلع کے بارے میں ایک مشورہ یہ ہے کہ نیند بھگانا غیر شاعرانہ سی بات ہے ۔ نیند چُرانے کی بات کیجئے تو بہتر ہوگا ۔ :)
امید ہے کہ باقی اشعار کی اصلاح حسبِ معمول اعجاز بھائی فرمائیں گے ۔
 
بہت بہت شکریہ محترم بھائی ،آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر ،میں نے نیند اڑانے کے متعلّق بھی سوچا تھا۔آپ کا مشورہ زیادہ بہتر ہے
 

الف عین

لائبریرین
رات ڈھلتے ہی تری یاد ستانے آئی
پھر مری نیند کو آنکھوں سے بھگانے آئی
---------- نیند کو... بھگ'انے کے لئے درست ہو سکتا ہے لیکن چرانے استعمال کرنے سے 'جو' بے معنی ہو جاتا ہے
... وہ آنکھوں سے چرانے آئی

بھول جاؤں نہ کہیں پیار کے وعدے اپنے
عہد میرا ہی مجھے یاد دلانے آئی
--------- کون؟ واضح کرو

دن تو گزرا تھا تری یاد میں کھوئے کھوئے
کس پہر نیند مجھے رات نہ جانے آئی
---------- واہ، استادانہ شعر کہا ہے ارشد بھائی، ردیف قافیہ زبردست استعمال کیا ہے

سوکھ جائیں نہ کہیں اشک مری آنکھوں سے
پھر تری یاد مجھے آج رلانے آئی
------------ درست

بھول جاؤں نہ ترے پیار میں بیتے لمحے
ان چراغوں کو مرے دل میں جلانے آئی
------------ وہی سوال کہ کون؟

سامنے غیر کے محفل سے اٹھایا اس نے
تب ہمیشہ کے لئے عقل ٹھکانے آئی
------------ ٹھیک

بعد مدّت کے تری یاد ہے آئی دل میں
اک تعلّق تھا کبھی ہم سے ،جتانے آئی
------ ہے آئی؟ اچھا نہیں، 'پھر آئی' کہیں نا!

دل کو تسکین کہاں یاد میں تیری ارشد
اس اداسی کو تری یاد مٹانے آئی
------------- یاد دونوں مصرعوں میں اچھا نہیں
چین کس طرح سے دل کو مرے اتا/ملتا ارشد
ایک تجویز
 
الف عین
(اصلاح شدہ کچھ اشعار )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ڈھلتے ہی تری یاد ستانے آئی
نیند کو میری وہ آنکھوں سے چرانے آئی
-----------
بھول جاؤں نہ کہیں پیار کے وعدے اپنے
پھر تری یاد مجھے یاد دلانے آئی
-------
ہے خبر مجھ کو رقیبوں سے ہے ملنا تیرا
مجھ کو دنیا ہی تری باتیں بتانے آئی
--------یا
اک سہیلی جو تری بات بتانے آئی
-----------
بعد مدّت کے تری یاد ہے آئی دل میں
پھر شکستہ سے تعلّق کو بنانے آئی
------------
 

الف عین

لائبریرین
پہلے دونوں اشعار درست ہو گئے۔ تیسرا واضح نہیں، اسے نکال ہی دو، یہ کس شعر کا اصلاح شدہ روپ ہے؟
آخری شعر میں اعتراض 'ہے آئی' پر کیا تھا جو اب بھی قائم ہے، اس کا متبادل 'پھر آئی' تجویز دے چکا تھا جسے نہ جانے کیوں قبول نہیں کیا! اور دوسرے غیر رواں مصرع کی گرہ لگا دی
 
Top