ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے

شاہد شاہنواز نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 15, 2019

  1. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    اس "غزل" میں بحر کون سی ہے، یہ معلوم نہیں ۔۔۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس بحر کا پہلے کوئی وجود تھا بھی ۔۔۔ کہ نہیں!

    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے
    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے


    دل کی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے


    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے


    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے


    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید ہم کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں باقی، یہ دنیا بے کار نہیں ہے


    الف عین
    فلسفی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بحر ہندی ہے غالبا۔ مجھے تو یہ بحر بہت پسند ہے۔ ترنم میں پڑھیں تو بہت لطف دیتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    بحر تو ہندی ہی ہے یا جس کو میر کی بحر کہا جاتا ہے
    اگر غزل کی اصلاح کی بات کی جائے تو دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں 'دل آدم' درست ترکیب نہیں ہو گی۔ 'دلِ آدم' کا محل ہے جس کے ساتھ مصرع بحر میں نہیں رہے گا
    اسی طرح تیسرے شعر کا پہلا مصرع بھی بحر سے خارج ہو جاتا ہے
    جس جاانب بھی جاتے ہیں ہم سر پر پتھر پڑتے ہیں۔ ایک صورت ہو سکتی ہے
    چوتھا شعر مفہوم کے اعتبار سے نامکمل لگ رہا ہے، خاص طور پر دوسرا مصرع سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہنا چاہتے ہیں
    آخری شعر
    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے
    میرا خیال ہے کہ زیادہ بہتر ہو گا البتہ ابھی بھی دو لخت محسوس ہو رہا ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,279
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    عظیم بھائی کیا اس کی بحر (رجز مثمن سالم) نہیں ہے(مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن) نہیں ہے مگر بہت سے الفاظ اس میں فٹ نہیں بیٹھے
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نہیں، فعل فعولن فعلن فعلن اور انہیں دونوں سیٹس کے دو بار رپیٹ ہونے سے بحر ہندی کے افاعیل بنتے ہیں لیکن آخر میں فعلن ہے، فعل نہیں۔ بحر ہندی مکمل نہیں
     
    آخری تدوین: ‏جون 16, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے
    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے
    ... واضح نہیں ہوا، کہنا دشوار والا ٹکڑا ابلاغ میں مانع ہے

    دل کی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے
    ... آدم بیزار درست ترکیب ہے، عظیم سمجھ نہیں سکے
    دل دونوں مصرعوں میں رپیٹ ہو رہا ہے، اگر پہلا مصرع؛'اپنی' سے شروع ہو تو مطلب وہی نکلتا ہے؟

    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے
    درست ہے، عظیم بھی آخر میں فعل سمجھ رہے ہیں۔

    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے
    ..
    درست ہی لگ رہا ہے مجھے

    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید ہم کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں باقی، یہ دنیا بے کار نہیں ہے
    عظیم کی اصلاح خوب ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    عظیم
    کچھ الفاظ کا ہیر پھیر ہم اس طرح کرتے ہیں کہ شعر میں نقائص رہ جاتے ہیں ۔۔ یہی کر لیتے ہیں:
    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں

    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے
    ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے
    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے


    اپنی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے

    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے

    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے

    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے

    پہلا شعر تبدیل کرنا ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ کچھ اشعار بڑھانا چاہتا ہوں ۔۔۔ کچھ وقت کے بعد حاضر ہوتا ہوں ۔۔۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 17, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، ایک سی اب رفتار نہیں ہے
    ۔۔۔ یا ۔۔۔
    ساتھ سفر کرتے ہیں لیکن ایک سی اب رفتار نہیں ہے

    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے
    اپنی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے
    سب تو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم یہ ڈھونڈ رہے ہیں
    کون سا ہاتھ بچا ہے آخر جس میں اب ہتھیار نہیں ہے

    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے
    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے
    خود جو کچھ کرتے ہیں اس کا دنیا سے شکوہ کیسے ہو؟
    سب کے ساتھ برابر چلنا اپنا بھی معیار نہیں ہے

    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے
    سونے والے جاگ تو اٹھے پھر بھی گم صم سے لگتے ہیں
    آنکھیں بند نہیں ہیں لیکن ذہن بھی کچھ بیدار نہیں ہے
    سب کی آنکھوں میں آنسو ہیں، یا تو مرض ہے یا مشکل ہے!
    کس کو سب آسان ملا ہے، کون یہاں بیمار نہیں ہے؟
    آج تو ہیں کچھ رنگ نرالے ،آپ سے کچھ ڈر سا لگتا ہے
    خون نہیں اترا آنکھوں میں، ہاتھوں میں تلوار نہیں ہے؟
    برائے توجہ محترم ۔۔۔

    الف عین
    عظیم
    فلسفی
     
  10. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، ایک سی اب رفتار نہیں ہے
    ۔۔۔ یا ۔۔۔
    ساتھ سفر کرتے ہیں لیکن ایک سی اب رفتار نہیں ہے

    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔پہلے دونوں مصرعوں کا تعلق دوسرے مصرع سے ٹھیک نہیں بن پایا۔ میرے خیال میں کچھ ربط اس طرح بن سکتا ہے۔ البتہ رفتار قافیہ کی جگہ اگر کچھ اور آ جائے تو شعر مکمل درست ہو جائے گا
    ساتھ ہیں لیکن دل نہیں ملتے، پہلے سی رفتار نہیں ہے
    یا دوسرے مصرع میں رفتار کے ساتھ ربط کے لیے کوئی ایسا لفظ آ سکے

    اپنی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے
    ۔۔یہ شعر درست ہو گیا ہے

    سب تو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم یہ ڈھونڈ رہے ہیں
    کون سا ہاتھ بچا ہے آخر جس میں اب ہتھیار نہیں ہے
    ۔۔۔۔'سب تو' کا ابلاغ نہیں ہو پا رہا۔ کسی اور طرح سے کہنے کی ضرورت ہے
    مثلاً ساتھ اگرچہ سب ہی کھڑے ہیں
    مگر ابھی بھی اس بات کی وضاحت محسوس ہوتی ہے کہ کس حساب سے کھڑے ہیں، کیا آپ کے حق میں یا یوں ہی ارد گرد کھڑے ہیں۔ شاید دوست یا ساتھی وغیرہ جیسے الفاظ لانے کی ضرورت ہے

    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے
    ۔۔۔اس شعر کے بارے میں بابا (الف عین) فرما چکے ہیں کہ یہ شعر درست ہے

    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے
    ۔۔۔ایضاً

    خود جو کچھ کرتے ہیں اس کا دنیا سے شکوہ کیسے ہو؟
    سب کے ساتھ برابر چلنا اپنا بھی معیار نہیں ہے
    ۔۔۔شعر درست لگ رہا ہے۔ صرف مجھے یہ محسوس ہوا کہ 'دنیا' میں الف گر رہا ہے جو اچھا نہیں لگ رہا
    شاید
    خود جو کچھ کرتے ہیں اس کا دنیا سے شکوہ کیسا؟
    بہتر رہے

    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے
    ۔۔۔یہ بھی بہتر ہو چکا ہے

    سونے والے جاگ تو اٹھے پھر بھی گم صم سے لگتے ہیں
    آنکھیں بند نہیں ہیں لیکن ذہن بھی کچھ بیدار نہیں ہے
    ۔۔۔درست محسوس ہو رہا ہے

    سب کی آنکھوں میں آنسو ہیں، یا تو مرض ہے یا مشکل ہے!
    کس کو سب آسان ملا ہے، کون یہاں بیمار نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔یہ شعر شاید بیمار قافیہ استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ صرف مرض کہنا کافی نہیں ہو گا۔ 'کوئی مرض' کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
    بیمار بھی میرا خیال ہے کہ سب نہیں ہوتے!

    آج تو ہیں کچھ رنگ نرالے ،آپ سے کچھ ڈر سا لگتا ہے
    خون نہیں اترا آنکھوں میں، ہاتھوں میں تلوار نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔یہ شعر اچھا ہے
    'خون نہیں' کو ن کی تکرار دور کرنے کے لیے
    خون سا آنکھوں میں نہیں اترا،
    یا اس طرح کا کچھ اور
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دنیا والا شعر درست ہے، الف نہیں گرتا، آٹھ رکنی میں تقطیع کر کے دیکھو عظیم
     
  12. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    جی بابا
    اس بحر کو سمجھنے میں واقعی مجھے مشکل پیش آئی ہے
     
  13. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، الفت کا اقرار نہیں ہے
    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے


    ۔۔۔


    سب تو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم یہ ڈھونڈ رہے ہیں
    کون سا ہاتھ بچا ہے آخر جس میں اب ہتھیار نہیں ہے
    ۔۔۔۔'سب تو' کا ابلاغ نہیں ہو پا رہا۔ کسی اور طرح سے کہنے کی ضرورت ہے
    مثلاً ساتھ اگرچہ سب ہی کھڑے ہیں
    مگر ابھی بھی اس بات کی وضاحت محسوس ہوتی ہے کہ کس حساب سے کھڑے ہیں، کیا آپ کے حق میں یا یوں ہی ارد گرد کھڑے ہیں۔ شاید دوست یا ساتھی وغیرہ جیسے الفاظ لانے کی ضرورت ہے
    ۔۔۔حذف

    خود جو کچھ کرتے ہیں اس کا دنیا سے شکوہ کیسے ہو؟
    سب کے ساتھ برابر چلنا اپنا بھی معیار نہیں ہے
    ۔۔۔ اور

    سونے والے جاگ تو اٹھے پھر بھی گم صم سے لگتے ہیں
    آنکھیں بند نہیں ہیں لیکن ذہن بھی کچھ بیدار نہیں ہے
    ۔۔۔درست محسوس ہو رہا ہے
    رکھ سکتے ہیں۔۔۔

    سب کی آنکھوں میں آنسو ہیں، یا تو مرض ہے یا مشکل ہے!
    کس کو سب آسان ملا ہے، کون یہاں بیمار نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔یہ شعر شاید بیمار قافیہ استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ صرف مرض کہنا کافی نہیں ہو گا۔ 'کوئی مرض' کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
    بیمار بھی میرا خیال ہے کہ سب نہیں ہوتے!
    متفق! ۔۔ حذف۔۔۔

    آج تو ہیں کچھ رنگ نرالے ،آپ سے کچھ ڈر سا لگتا ہے
    خون نہیں اترا آنکھوں میں ، ہاتھوں میں تلوار نہیں ہے؟
    ۔۔۔۔یہ شعر اچھا ہے

    'خون نہیں' کو ن کی تکرار دور کرنے کے لیے
    خون سا آنکھوں میں نہیں اترا،
    یا اس طرح کا کچھ اور
    ۔۔۔۔ خون سا آنکھوں میں نہیں اترا ۔۔۔ بہتر ہے ۔۔۔ سا کا الف ساقط ہو رہا ہے لیکن یہ عیب نہیں لگتا!
     
  14. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
  15. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,628
    مطلع میں ابھی بھی بات نہیں بن پائی
    دوسرا مصرع ٹھیک ہے لیکن پہلا کچھ اس کا ساتھ نہیں دے پا رہا
    خون سا.... اگر کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے تو 'خون بھی آنکھوں.... کی آپشن بھی موجود ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    اب تک کی صورتحال کچھ یوں ہے:

    سچ کہنا ہے لیکن اپنا یہ طرزِ گفتار نہیں ہے

    ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے

    اپنی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
    ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے

    ہم جس جانب بھی جاتے ہیں، سر پر پتھر ہی پڑتے ہیں
    جس رستے کا رخ کرتے ہیں وہ رستہ ہموار نہیں ہے

    لوگ تو سمجھاتے ہیں لیکن راہ کی الجھن ہم نہیں سمجھے
    ہم دیکھیں جب آنکھیں کھولیں، رستہ ہے، دیوار نہیں ہے

    خود جو کچھ کرتے ہیں اس کا دنیا سے شکوہ کیسے ہو؟
    سب کے ساتھ برابر چلنا اپنا بھی معیار نہیں ہے

    اس عالم کا گورکھ دھندا شاید کچھ کچھ جان چکے ہیں
    ہم میں ہی کچھ عیب ہیں ورنہ یہ دنیا بے کار نہیں ہے

    سونے والے جاگ تو اٹھے پھر بھی گم صم سے لگتے ہیں
    آنکھیں بند نہیں ہیں لیکن ذہن بھی کچھ بیدار نہیں ہے

    آج تو ہیں کچھ رنگ نرالے ،آپ سے کچھ ڈر سا لگتا ہے
    خون سا آنکھوں میں نہیں اترا، ہاتھوں میں تلوار نہیں ہے؟
     

اس صفحے کی تشہیر