دیکھیے کیا معجزہ ہوتا رہا

نوید ناظم

محفلین
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیے کیا معجزہ ہوتا رہا
آپ کا وعدہ وفا ہوتا رہا

وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا

یہ بھی دیکھو نا کہ پر کاٹے گئے
یوں تو ہر پنچھی رِہا ہوتا رہا

جو اُگا اک بار دل میں غم کا پیڑ
اس کا سایہ پھر گھنا ہوتا رہا

شَیخ سے پوچھیں انھیں معلوم ہے
رات میخانے میں کیا ہوتا رہا

ایسی بھی کیا نا شناسائی تھی جو
عمر بھر وہ آشنا ہوتا رہا

زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا

کر دیا مجبور اُس کو وقت نے
ہاں وہ جو کل تک خدا ہوتا رہا

مجھ کو سچ کہنے کی عادت تھی نوید
مجھ سے ہر کوئی خفا ہوتا رہا
 

الف عین

لائبریرین
۔دیکھیے کیا معجزہ ہوتا رہا
آپ کا وعدہ وفا ہوتا رہا
۔۔درس

وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا
۔ میں سمجھ نہین سکا واضح کریں

یہ بھی دیکھو نا کہ پر کاٹے گئے
یوں تو ہر پنچھی رِہا ہوتا رہا
÷÷پہلے مصرع یوں ہو تو؟
یہ بھی تو دیکھو کہ ۔۔۔
میرے خیال میں بہتر اندازِ بیان ہو گا۔
دوسرے مصرع میں ہندی کے پنچھی کی جگہ پرندہ لا سکو تو بہتر۔

جو اُگا اک بار دل میں غم کا پیڑ
اس کا سایہ پھر گھنا ہوتا رہا
÷÷ٹھیک

شَیخ سے پوچھیں انھیں معلوم ہے
رات میخانے میں کیا ہوتا رہا
۔۔درست

ایسی بھی کیا نا شناسائی تھی جو
عمر بھر وہ آشنا ہوتا رہا
۔۔یہ بھی اوپر سے نکل گیا۔

زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا
÷÷دیا ہونا محاورہ نہیں۔

کر دیا مجبور اُس کو وقت نے
ہاں وہ جو کل تک خدا ہوتا رہا

مجھ کو سچ کہنے کی عادت تھی نوید
مجھ سے ہر کوئی خفا ہوتا رہا
۔۔دونوں درست
 

نوید ناظم

محفلین
۔دیکھیے کیا معجزہ ہوتا رہا
آپ کا وعدہ وفا ہوتا رہا
۔۔درس

وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا
۔ میں سمجھ نہین سکا واضح کریں

یہ بھی دیکھو نا کہ پر کاٹے گئے
یوں تو ہر پنچھی رِہا ہوتا رہا
÷÷پہلے مصرع یوں ہو تو؟
یہ بھی تو دیکھو کہ ۔۔۔
میرے خیال میں بہتر اندازِ بیان ہو گا۔
دوسرے مصرع میں ہندی کے پنچھی کی جگہ پرندہ لا سکو تو بہتر۔

جو اُگا اک بار دل میں غم کا پیڑ
اس کا سایہ پھر گھنا ہوتا رہا
÷÷ٹھیک

شَیخ سے پوچھیں انھیں معلوم ہے
رات میخانے میں کیا ہوتا رہا
۔۔درست

ایسی بھی کیا نا شناسائی تھی جو
عمر بھر وہ آشنا ہوتا رہا
۔۔یہ بھی اوپر سے نکل گیا۔

زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا
÷÷دیا ہونا محاورہ نہیں۔

کر دیا مجبور اُس کو وقت نے
ہاں وہ جو کل تک خدا ہوتا رہا

مجھ کو سچ کہنے کی عادت تھی نوید
مجھ سے ہر کوئی خفا ہوتا رہا
۔۔دونوں درست
بہت شکریہ سر،

یہ بھی دیکھو نا کہ پر کاٹے گئے
یوں تو ہر پنچھی رِہا ہوتا رہا
÷÷پہلے مصرع یوں ہو تو؟
یہ بھی تو دیکھو کہ ۔۔۔
میرے خیال میں بہتر اندازِ بیان ہو گا۔
دوسرے مصرع میں ہندی کے پنچھی کی جگہ پرندہ لا سکو تو بہتر ہے
ٹھیک سر۔


وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا
۔ میں سمجھ نہین سکا واضح کریں

زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا
÷÷دیا ہونا محاورہ نہیں۔
سر طے شدہ محاورے کا غلط استعمال تو ایک الگ غلطی ہے مگر جیسے بتایا گیا کہ دیا ہونا محاورہ نہیں، اسی طرح زندگی کا آندھی ہونا بھی محارہ نہیں، مگر یہ الفاظ تقابلی صورت میں شعر کے اندر استعمال ہوئے، جیسا کہ نثر میں کہا جائے شہر کوڑھی ہوتا رہا اور میں بھی آئینہ ہوتا رہا۔۔۔۔۔ کوڑھی کے مقابل آئینہ اور آندھی کے مقابل دیا یا پھر پچھلی غزل میں بنجر زمین کے مقابل چشمہ ہونا تھا۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو شعر کا دامن تنگ ہو جائے گا، خاص طور پر اس مقتدی کے لیے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
سر طے شدہ محاورے کا غلط استعمال تو ایک الگ غلطی ہے مگر جیسے بتایا گیا کہ دیا ہونا محاورہ نہیں، اسی طرح زندگی کا آندھی ہونا بھی محارہ نہیں، مگر یہ الفاظ تقابلی صورت میں شعر کے اندر استعمال ہوئے، جیسا کہ نثر میں کہا جائے شہر کوڑھی ہوتا رہا اور میں بھی آئینہ ہوتا رہا۔۔۔۔۔ کوڑھی کے مقابل آئینہ اور آندھی کے مقابل دیا یا پھر پچھلی غزل میں بنجر زمین کے مقابل چشمہ ہونا تھا۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو شعر کا دامن تنگ ہو جائے گا، خاص طور پر اس مقتدی کے لیے۔

بہت خوب! اچھی غزل ہے ! کئی اشعار اچھے ہیں ۔ نوید بھائی ، بہت داد آپ کیلئے!

نوید ناظم بھائی آپ نے ااستادِ محترم کے نام اپنے جوابی مراسلے میں ایک بہت اچھا نکتہ اٹھایا ہے ۔ یہ سوال مختلف صورتوں میں اکثر ذہنوں میں اٹھتا رہتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اصلاحِ سخن کے فورم میں اس موضوع کئی دفعہ پہلے بھی بات ہوچکی ہے ۔ چنانچہ اس فورم سے اکتساب کرنے والوں کے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پچھلے اوراق کو بھی مسلسل کھنگالتے رہیں ۔ میں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی گوہر ضرور ہاتھ آئے گا ۔
آمدم برسِر مطلب، شعر ایک طلسمی دنیا ہے ۔ اس دنیائے عجائب میں ہر بات ممکن ہے ۔ نباتات و جمادات بول سکتے ہیں ، آسمان و زمین گنگنا سکتے ہیں ، دل سمندر ہوسکتا ہے اور سمندر کا جگر چیرا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ وغیر۔ اور اسی کو ’’شاعرانہ پیرایۂ اظہار‘‘ کہا جاتا ہے ۔ بات کہنے کا یہی شاعرانہ ا نداز شعر کے دو مصرعوں کو نثر کے دو صفحات سے زیادہ موثر اور علیٰ و ارفع بناتا ہے ۔ تو پھرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شاعرانہ انداز آخر ہے کیا بلا ؟ اس بات کا جواب اختصار سے دینا تو ممکن نہیں اور اور نہ اس وقت اس کی ضرورت ہے ۔ لیکن اس وقت میں آپ کی توجہ چند وسائل کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے شاعر اپنے کلام میں کسی ناممکن کوممکن بنادیتا ہے ۔ یعنی خلافِ واقعہ بات کو حقیقت کردکھاتا ہے ۔ تشبیہ ، کنایہ ، استعارہ ، علامت ، تضاد وغیرہ یہ وہ چند اوزار ہیں کہ جو اس کام میں شاعر کی مدد کرتے ہیں ۔
آپ کسی چیز کو کسی بھی چیز سے تشبیہ دے سکتے ۔ شرط یہ ہے کہ کوئی مناسب اور معقول وجہِ تشبیہ موجود ہو ۔ ورنہ تشبیہ بھونڈی صورت اختیار کرلے گی اور درجۂ شعریت سے گر جائے گی ۔ محبو ب کے لبوں کو پھول ، گلاب ، برگِ گلاب ایسی نازک چیزوں ہی سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ لیکن اگر کلام میں کسی کی تلخ گوئی اور طنز و تشنیع کا ذکر ہورہا ہو اور یوں کہا جائے ’’ لفظ سینے میں ہوگئے پیوست ۔۔۔۔۔تیر لب کی کمان سے نکلے ‘‘ تو معقول ہوگا ۔ ( اس مراسلے میں تمام مثالیں محض بات سمجھانے کے لئے گھڑ رہا ہوں ۔ انہیں وزن ، عروض اور کسی اور حوالے سے نہ پرکھا جائے ) ۔

استعارہ شعر کی جان ہوتی ہے ۔ استعارہ تشبیہ سے ایک درجہ آگے کی بات ہے ۔ یہاں مشبہ بہ کا ذکر کئے بغیر کسی ایک چیز کو اس کی خصوصیات کی بنا پردوسری چیز کے مانند تصور کرلیا جاتا ہے ۔ (عموماً جب کوئی تشبیہ شعر وا دب میں کثرت اور تواتر کے ساتھ استعمال ہونے لگےتو وہ استعارے کا درجہ بھی اختیار کرجاتی ہے ) ۔ مثلاً اشکوں کو ستارے کہہ دیا جاتا ہے یا غم کو آگ وغیرہ وغیرہ ۔
جدید غزل میں علامت کا استعمال انتہائی حد تک عام ہے اور اسے سمجھنے کے لئے اس کا فہم بہت ضروری ہے ۔ علامت بھی تشبیہ اور استعارے کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے ۔ استعارے اور علامت میں باریک سا فرق ہے ۔کسی چیز کی نمایاں اور منفرد خصوصیات کی بنا پر اسے کسی دوسری شے کا مظہر قرار دیا جانا علامت ہے ۔ مثلاً زندگی مستقل آگے چلنے اور ایک جگہ جا کر ختم ہوجانے والی چیز کا نام ہے چنانچہ زندگی کے لئےسفر کی علامت استعمال کرنا عام بات ہے۔ کسی شاعر کا ایک شعر دیکھئے:
کٹی ہے عمر کسی آبدوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا
یہ شعر علامات سے بھرپور ہے ۔ سفر زندگی کی علامت ہے ۔ آبدوز ایک محدود سی زندگی اور محدود سے منظر نامےکی علامت ہے ۔ کچھ نہیں دیکھا کس چیز کی علامت ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔
اس طرح چراغ یا دیا جل کر روشنی دینے کا استعارہ یا علامت بن چکا ہے ۔ آئینہ حقیقت دیکھنے یا دکھانے کی علامت بن گیا ہے کہ یہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب استعارے اور علامت کو صحیح طرح استعمال نہ کیا جائے ۔ علامت یا استعارے کو درست الفاظ کے ساتھ اور درست سیاق و باق میں پیش نہ کیا جائے تو ابلاغ نہیں ہوتا بلکہ بات الجھ جاتی ہے۔ ایک بات تو یہ بھی ہے کہ جس چیز کو شاعر استعارہ یا علامت سمجھ رہا ہے وہ محض اس کے ذہن ہی کی پیداوار ہے یا قاری بھی اس سے واقف ہے ۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ تشبیہ اور استعارے کی مدد سے چونکہ ایک خلافِ واقعہ بات کو واقعہ بنایا جارہا ہوتا ہے اس لئے مناسب پیرائے کا استعمال اور الفاظ کی ترتیب انتہائی اہم ہے ۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد :):):) اب آئیے آپ کے اصل سوال کی طرف۔ آپ کا شعر یوں ہے۔
زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا
یہاں آپ نے زندگی کی تیزی اور مشکلات کو آندھی سے تشبیہ دی۔ ٹھیک بات ہے ۔ لیکن دوسرا مصرع بات الجھا گیا ۔ شاید آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ( اگرچہ) میری زندگی روز بروزآندھی کی طرح (تیز اور مشکل تر) ہوتی گئی لیکن میں ( اپنی کوشش اور جدو جہد سے ) دیئے کی طرح (جلتا رہا اور روشنی دیتا ) رہا ۔ ۔ لیکن آپ نے کہا کہ میں دیا ہوتا رہا ۔ اس کا کیا مطلب؟؟ ہونے اور بننے میں بڑا فرق ہے ۔ ہونا ایک غیر اختیاری فعل ہے ۔ جبکہ بننا ایک کوشش اور جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے ۔ اگر آپ یہ کہیں کہ’’ ایک میں تھا کہ دیا بنتا رہا ‘‘ تو پھر بھی کسی حد تک قاری تک ابلاغ ہوجائے گا ۔
وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا
اس شعر میں بھی ہونا اور بننا کے فرق کو محسوس کیجئے ۔ یاد رکھئے کہ ہر لفظ کا مطلب اس کے سیاق و سباق میں ہوتا ہے ۔ اس شعر کا مدعا یہ ہے کہ وقت لوگوں کو داغدار کرتا رہا اور میں آئینہ بن بن کر انہیں حقیقت دکھاتا رہا ۔ سو یہاں آئنہ ہونا نہیں بلکہ بننا کا محل ہے ۔
اس غزل میں جو ردیف ہوتا رہا کی استعمال ہوئی ہے اس کے ساتھ ہر فعل نہیں نبھ سکتا ۔ بعض فعل یا کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو بس ایک ہی بار واقع ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہونا بند ہوجاتے ہیں ۔ مثلا یہ شعر:
کر دیا مجبور اُس کو وقت نے
ہاں وہ جو کل تک خدا ہوتا رہا
اسے یوں ہونا چاہئے : کردیا مجبور اس کو وقت نے ،وہ جو کل تک خدا تھا یا خدا بنا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ کوئی شخص خدا ہوجائے تو پھر بس۔ خدا ہوتا رہنا چہ معنی؟!
نوید بھائی ، میری ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا ۔ آپ میں شعر ی صلاحیت ہے ۔ لیکن مجھے مطالعے کی کمی لگتی ہے ۔ زبان سیکھنا ازحد ضروری ہے اور بغیر کلاسیک پڑھے نہیں آتی۔ میرا مشورہ آپ کے لئے بھی وہی ہے جو دوسرے نئے قلمکاروں کو دیتا ہوں اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں کہ پڑھئے ، پڑھئے اور خوب پڑھئے ۔ لکھنے کو عمر پڑی ہے ۔ دوسری بات یہ کہ معیار اور مقدار کے پہلو پر بھی غور کیجئے ۔

پھر پچھلی غزل میں بنجر زمین کے مقابل چشمہ ہونا تھا۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو شعر کا دامن تنگ ہو جائے گا، خاص طور پر اس مقتدی کے لیے۔
نوید بھائی ،اس شعر پر میرے تبصرے کو پھر غور سے پڑھ لیجئے گا ۔
وہ ایڑی مار دے بنجر زمیں پر
مجھے کہنا اگر چشمہ نہ کر دے​
میں نےلکھا تھا کہ محض چشمہ کرنا غلط ہے ۔ اگر یوں کہیں کہ صحرا کو چشمہ کردیا یا پتھر کو چشمہ کردیا تو پھر نبھ جائے گا ۔ اگر آ پ اس شعر کو یوں کہیں ( وزن سے قطع نظر):
وہ ایڑی مار دے ، مجھے کہنا
اگر بنجر زمیں کوچشمہ نہ کر دے
تو یہ درست ہوگا ۔ قابلِ قبول ہوگا ۔

اب آخر میں ایک پاپ کوئز ۔ اقبال کا یہ شعر دیکھئے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
یہ شعر بظاہر دولخت نظر آتا ہے ۔ اب مجھے یہ بتائیے کہ عشق اور ستاروں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟! اس شعر کی تشریح کیا ہے ؟! نوید بھائی یہ آ پ کا ہوم ورک ہے ۔ایک ہفتے میں اسائنمنٹ جمع کروادیجئے ۔ ورنہ ۔۔۔ :):):)
 

نوید ناظم

محفلین
بہت خوب! اچھی غزل ہے ! کئی اشعار اچھے ہیں ۔ نوید بھائی ، بہت داد آپ کیلئے!

نوید ناظم بھائی آپ نے ااستادِ محترم کے نام اپنے جوابی مراسلے میں ایک بہت اچھا نکتہ اٹھایا ہے ۔ یہ سوال مختلف صورتوں میں اکثر ذہنوں میں اٹھتا رہتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اصلاحِ سخن کے فورم میں اس موضوع کئی دفعہ پہلے بھی بات ہوچکی ہے ۔ چنانچہ اس فورم سے اکتساب کرنے والوں کے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پچھلے اوراق کو بھی مسلسل کھنگالتے رہیں ۔ میں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی گوہر ضرور ہاتھ آئے گا ۔
آمدم برسِر مطلب، شعر ایک طلسمی دنیا ہے ۔ اس دنیائے عجائب میں ہر بات ممکن ہے ۔ نباتات و جمادات بول سکتے ہیں ، آسمان و زمین گنگنا سکتے ہیں ، دل سمندر ہوسکتا ہے اور سمندر کا جگر چیرا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ وغیر۔ اور اسی کو ’’شاعرانہ پیرایۂ اظہار‘‘ کہا جاتا ہے ۔ بات کہنے کا یہی شاعرانہ ا نداز شعر کے دو مصرعوں کو نثر کے دو صفحات سے زیادہ موثر اور علیٰ و ارفع بناتا ہے ۔ تو پھرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شاعرانہ انداز آخر ہے کیا بلا ؟ اس بات کا جواب اختصار سے دینا تو ممکن نہیں اور اور نہ اس وقت اس کی ضرورت ہے ۔ لیکن اس وقت میں آپ کی توجہ چند وسائل کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے شاعر اپنے کلام میں کسی ناممکن کوممکن بنادیتا ہے ۔ یعنی خلافِ واقعہ بات کو حقیقت کردکھاتا ہے ۔ تشبیہ ، کنایہ ، استعارہ ، علامت ، تضاد وغیرہ یہ وہ چند اوزار ہیں کہ جو اس کام میں شاعر کی مدد کرتے ہیں ۔
آپ کسی چیز کو کسی بھی چیز سے تشبیہ دے سکتے ۔ شرط یہ ہے کہ کوئی مناسب اور معقول وجہِ تشبیہ موجود ہو ۔ ورنہ تشبیہ بھونڈی صورت اختیار کرلے گی اور درجۂ شعریت سے گر جائے گی ۔ محبو ب کے لبوں کو پھول ، گلاب ، برگِ گلاب ایسی نازک چیزوں ہی سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ لیکن اگر کلام میں کسی کی تلخ گوئی اور طنز و تشنیع کا ذکر ہورہا ہو اور یوں کہا جائے ’’ لفظ سینے میں ہوگئے پیوست ۔۔۔۔۔تیر لب کی کمان سے نکلے ‘‘ تو معقول ہوگا ۔ ( اس مراسلے میں تمام مثالیں محض بات سمجھانے کے لئے گھڑ رہا ہوں ۔ انہیں وزن ، عروض اور کسی اور حوالے سے نہ پرکھا جائے ) ۔

استعارہ شعر کی جان ہوتی ہے ۔ استعارہ تشبیہ سے ایک درجہ آگے کی بات ہے ۔ یہاں مشبہ بہ کا ذکر کئے بغیر کسی ایک چیز کو اس کی خصوصیات کی بنا پردوسری چیز کے مانند تصور کرلیا جاتا ہے ۔ (عموماً جب کوئی تشبیہ شعر وا دب میں کثرت اور تواتر کے ساتھ استعمال ہونے لگےتو وہ استعارے کا درجہ بھی اختیار کرجاتی ہے ) ۔ مثلاً اشکوں کو ستارے کہہ دیا جاتا ہے یا غم کو آگ وغیرہ وغیرہ ۔
جدید غزل میں علامت کا استعمال انتہائی حد تک عام ہے اور اسے سمجھنے کے لئے اس کا فہم بہت ضروری ہے ۔ علامت بھی تشبیہ اور استعارے کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے ۔ استعارے اور علامت میں باریک سا فرق ہے ۔کسی چیز کی نمایاں اور منفرد خصوصیات کی بنا پر اسے کسی دوسری شے کا مظہر قرار دیا جانا علامت ہے ۔ مثلاً زندگی مستقل آگے چلنے اور ایک جگہ جا کر ختم ہوجانے والی چیز کا نام ہے چنانچہ زندگی کے لئےسفر کی علامت استعمال کرنا عام بات ہے۔ کسی شاعر کا ایک شعر دیکھئے:
کٹی ہے عمر کسی آبدوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا
یہ شعر علامات سے بھرپور ہے ۔ سفر زندگی کی علامت ہے ۔ آبدوز ایک محدود سی زندگی اور محدود سے منظر نامےکی علامت ہے ۔ کچھ نہیں دیکھا کس چیز کی علامت ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔
اس طرح چراغ یا دیا جل کر روشنی دینے کا استعارہ یا علامت بن چکا ہے ۔ آئینہ حقیقت دیکھنے یا دکھانے کی علامت بن گیا ہے کہ یہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں کہ جب استعارے اور علامت کو صحیح طرح استعمال نہ کیا جائے ۔ علامت یا استعارے کو درست الفاظ کے ساتھ اور درست سیاق و باق میں پیش نہ کیا جائے تو ابلاغ نہیں ہوتا بلکہ بات الجھ جاتی ہے۔ ایک بات تو یہ بھی ہے کہ جس چیز کو شاعر استعارہ یا علامت سمجھ رہا ہے وہ محض اس کے ذہن ہی کی پیداوار ہے یا قاری بھی اس سے واقف ہے ۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ تشبیہ اور استعارے کی مدد سے چونکہ ایک خلافِ واقعہ بات کو واقعہ بنایا جارہا ہوتا ہے اس لئے مناسب پیرائے کا استعمال اور الفاظ کی ترتیب انتہائی اہم ہے ۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد :):):) اب آئیے آپ کے اصل سوال کی طرف۔ آپ کا شعر یوں ہے۔
زندگی آندھی میں ڈھلتی ہی گئی
اور اک میں جو دِیا ہوتا رہا
یہاں آپ نے زندگی کی تیزی اور مشکلات کو آندھی سے تشبیہ دی۔ ٹھیک بات ہے ۔ لیکن دوسرا مصرع بات الجھا گیا ۔ شاید آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ( اگرچہ) میری زندگی روز بروزآندھی کی طرح (تیز اور مشکل تر) ہوتی گئی لیکن میں ( اپنی کوشش اور جدو جہد سے ) دیئے کی طرح (جلتا رہا اور روشنی دیتا ) رہا ۔ ۔ لیکن آپ نے کہا کہ میں دیا ہوتا رہا ۔ اس کا کیا مطلب؟؟ ہونے اور بننے میں بڑا فرق ہے ۔ ہونا ایک غیر اختیاری فعل ہے ۔ جبکہ بننا ایک کوشش اور جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے ۔ اگر آپ یہ کہیں کہ’’ ایک میں تھا کہ دیا بنتا رہا ‘‘ تو پھر بھی کسی حد تک قاری تک ابلاغ ہوجائے گا ۔
وقت نے کوڑھی بنایا شہر کو
اور میں بھی آئنہ ہوتا رہا
اس شعر میں بھی ہونا اور بننا کے فرق کو محسوس کیجئے ۔ یاد رکھئے کہ ہر لفظ کا مطلب اس کے سیاق و سباق میں ہوتا ہے ۔ اس شعر کا مدعا یہ ہے کہ وقت لوگوں کو داغدار کرتا رہا اور میں آئینہ بن بن کر انہیں حقیقت دکھاتا رہا ۔ سو یہاں آئنہ ہونا نہیں بلکہ بننا کا محل ہے ۔
اس غزل میں جو ردیف ہوتا رہا کی استعمال ہوئی ہے اس کے ساتھ ہر فعل نہیں نبھ سکتا ۔ بعض فعل یا کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو بس ایک ہی بار واقع ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہونا بند ہوجاتے ہیں ۔ مثلا یہ شعر:
کر دیا مجبور اُس کو وقت نے
ہاں وہ جو کل تک خدا ہوتا رہا
اسے یوں ہونا چاہئے : کردیا مجبور اس کو وقت نے ،وہ جو کل تک خدا تھا یا خدا بنا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ کوئی شخص خدا ہوجائے تو پھر بس۔ خدا ہوتا رہنا چہ معنی؟!
نوید بھائی ، میری ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا ۔ آپ میں شعر ی صلاحیت ہے ۔ لیکن مجھے مطالعے کی کمی لگتی ہے ۔ زبان سیکھنا ازحد ضروری ہے اور بغیر کلاسیک پڑھے نہیں آتی۔ میرا مشورہ آپ کے لئے بھی وہی ہے جو دوسرے نئے قلمکاروں کو دیتا ہوں اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں کہ پڑھئے ، پڑھئے اور خوب پڑھئے ۔ لکھنے کو عمر پڑی ہے ۔ دوسری بات یہ کہ معیار اور مقدار کے پہلو پر بھی غور کیجئے ۔


نوید بھائی ،اس شعر پر میرے تبصرے کو پھر غور سے پڑھ لیجئے گا ۔
وہ ایڑی مار دے بنجر زمیں پر
مجھے کہنا اگر چشمہ نہ کر دے​
میں نےلکھا تھا کہ محض چشمہ کرنا غلط ہے ۔ اگر یوں کہیں کہ صحرا کو چشمہ کردیا یا پتھر کو چشمہ کردیا تو پھر نبھ جائے گا ۔ اگر آ پ اس شعر کو یوں کہیں ( وزن سے قطع نظر):
وہ ایڑی مار دے ، مجھے کہنا
اگر بنجر زمیں کوچشمہ نہ کر دے
تو یہ درست ہوگا ۔ قابلِ قبول ہوگا ۔

اب آخر میں ایک پاپ کوئز ۔ اقبال کا یہ شعر دیکھئے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
یہ شعر بظاہر دولخت نظر آتا ہے ۔ اب مجھے یہ بتائیے کہ عشق اور ستاروں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟! اس شعر کی تشریح کیا ہے ؟! نوید بھائی یہ آ پ کا ہوم ورک ہے ۔ایک ہفتے میں اسائنمنٹ جمع کروادیجئے ۔ ورنہ ۔۔۔ :):):)
بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے تفصیلی تبصرے سے نوازا۔۔۔
آپ کی خوبصورت باتوں سے ذہن میں کئی سوال جنم لے رہے ہیں مگر مجھے خدشہ ہے کہ انھیں بحث ہی نہ سمجھ لیا جائے، ظاہرہے کہ آپ کا علم معتبر ہے اس لیے میری کوشش ہو گی کہ جو کہا گیا اُس پر عمل کرنے کی کوشش کروں۔
ظہیر بھائی شعر کی تشریح کرنا اس طالب علم کے لیے ایسا ہی ہے جیسے شیر کے منہ سے نوالا چھیننا۔ کیوں کہ شاید یہ بھی شعر کی خاصیت ہو کہ اس کی کئی جہتیں ہوتی ہیں۔ ستاروں سے آگے جہاں کا مطلب شاید کچھ ایسا ہو کہ انسان جس کو منزل سمجھ رہا ہے اس سے آگے ابھی کئی منزلیں اور ہیں اور عشق کے امتحاں سے مراد ہو سکتا ہے کہ اس سفر میں ابھی اور آزمائشیں بھی پڑی ہیں جیسے واصف صاحب نے فرمایا تھا کہ۔۔۔
'' چلے ہو ساتھ تو ہمت نہ ہارنا واصف
کہ منزلوں کا تصور مِرے سفر میں نہیں''
باقی ابھی سیکھنے کا مرحلہ ہے تو اس میں تعداد کا اہم کردار ہے، جتنا زیادہ سیکھ سکوں اتنا کم ہے۔ امید ہے اگر آپ اسی طرح سخاوت فرماتے رہے تو اس غریب کے دن بھی اچھے ہو ہی جائیں گے کبھی۔ اللہ پاک سلامت رکھے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے تفصیلی تبصرے سے نوازا۔۔۔
آپ کی خوبصورت باتوں سے ذہن میں کئی سوال جنم لے رہے ہیں مگر مجھے خدشہ ہے کہ انھیں بحث ہی نہ سمجھ لیا جائے، ظاہرہے کہ آپ کا علم معتبر ہے اس لیے میری کوشش ہو گی کہ جو کہا گیا اُس پر عمل کرنے کی کوشش کروں۔
ظہیر بھائی شعر کی تشریح کرنا اس طالب علم کے لیے ایسا ہی ہے جیسے شیر کے منہ سے نوالا چھیننا۔ کیوں کہ شاید یہ بھی شعر کی خاصیت ہو کہ اس کی کئی جہتیں ہوتی ہیں۔ ستاروں سے آگے جہاں کا مطلب شاید کچھ ایسا ہو کہ انسان جس کو منزل سمجھ رہا ہے اس سے آگے ابھی کئی منزلیں اور ہیں اور عشق کے امتحاں سے مراد ہو سکتا ہے کہ اس سفر میں ابھی اور آزمائشیں بھی پڑی ہیں جیسے واصف صاحب نے فرمایا تھا کہ۔۔۔
'' چلے ہو ساتھ تو ہمت نہ ہارنا واصف
کہ منزلوں کا تصور مِرے سفر میں نہیں''
باقی ابھی سیکھنے کا مرحلہ ہے تو اس میں تعداد کا اہم کردار ہے، جتنا زیادہ سیکھ سکوں اتنا کم ہے۔ امید ہے اگر آپ اسی طرح سخاوت فرماتے رہے تو اس غریب کے دن بھی اچھے ہو ہی جائیں گے کبھی۔ اللہ پاک سلامت رکھے۔

نوید بھائی ، تشریح بالکل ٹھیک ہے ۔ اس کے لئے دس میں سے دس نمبر آپ کے اور دو نمبر خوش خطی کے مستزاد! :)
لیکن آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ یہ دونوں مصرعے کہ بظاہر دولخت نظر آتے ہیں ان میں کیا ربط ہے ؟ عشق کے امتحانوں اور ستاروں کا آپس میں بھلا کیا تعلق ہے ؟! :):):)
یا پھر یہ شعر کہتے وقت اقبال حقہ پی رہے تھے؟! :)
 

نوید ناظم

محفلین
نوید بھائی ، تشریح بالکل ٹھیک ہے ۔ اس کے لئے دس میں سے دس نمبر آپ کے اور دو نمبر خوش خطی کے مستزاد! :)
لیکن آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ یہ دونوں مصرعے کہ بظاہر دولخت نظر آتے ہیں ان میں کیا ربط ہے ؟ عشق کے امتحانوں اور ستاروں کا آپس میں بھلا کیا تعلق ہے ؟! :):):)
یا پھر یہ شعر کہتے وقت اقبال حقہ پی رہے تھے؟! :)
سر یہاں رعایتی نمبروں کی ضرورت ہے، ربط کی بابت آپ ہی لطف فرمائیں نا ہم پر۔۔۔۔:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
سر یہاں رعایتی نمبروں کی ضرورت ہے، ربط کی بابت آپ ہی لطف فرمائیں نا ہم پر۔۔۔۔:)

نوید بھائی، چونکہ بات استعارے اور علامت کے ضمن میں ہورہی تھی اس لئے میں نےاقبال کے اس شعر کو ایک نکتہ بیان کرنے کے لئے بطور مثال استعمال کیا تھا ۔ اگر یہ شعر میرا یا آپ کا ہوتا تو اس کے دولخت ہونے میں کسی کو ذرہ برابر شبہ بھی نہ ہوتا ۔ دونوں مصرعوں کا آپس میں کوئی ربط نہیں ہے ۔ کہیں کوئی اشارہ کنایہ یا ایسا کوئی تلازمہ موجود نہیں کہ عشق اور اسکے امتحانوں کا ربط ستاروں سے ملایا جاسکے ۔ لیکن چونکہ یہ شعر اقبال کا ہے اس لئے یہ دو لخت نہیں ۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اقبال نے اپنے فلسفے اور فکر کی مدد سے اپنا ایک علیحدہ اور منفرد شعری نظام تخلیق کیا ہے ۔اس شعری نظام کے اپنے استعارے اور علامات ہیں ۔ خودی کا تصور ، شاہین کی علامت ، مردِ مومن کی علامت ، وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں ۔ اسی طرح اقبال کی شاعری میں عشق کا تصور بھی اس عشق سے بہت مختلف ہے کہ جو عام اردو شاعری میں پایا جاتا ہے ۔ سو اقبال کے مذکورہ شعر کو اقبال ہی کے شعری نظام کے اندر رہتے ہوئے سمجھنا پڑے گا ۔ چنانچہ اس شعر کا یہ مطلب نکالا جائے گا کہ اس شعر کا مخاطب ’’انسان ‘‘ ہے ۔ انسان جو کہ چاند ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور کائنات کو تسخیر کرنے کے مشن پر نکلا ہوا ہے اس کے لئے ستاروں سے آگے بھی اور بہت کچھ ہے ۔مختصر یہ کہ ان بظاہر دو لخت مصرعوں سے یہ مطلب اس وقت تک نہیں نکالا جاسکتا تب تک کہ اقبال کے شعری فلسفے سے آگاہی نہ ہو ۔ اور یہ بات ایک استثناء کا درجہ رکھتی ہے ۔ اقبال کے علاوہ اردو شاعری میں شاید ہی اور کوئی شاعر ایسا ہو کہ جس نے اس نوع کا اپنا ایک علیحدہ نظامِ علامات و استعارات تخلیق کیا ہو ۔
اسی غزل میں اگلا شعر شاید یوں ہے : (قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر ۔۔ چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں) ۔ یہ شعر بھی علامات سے بھرپور ہے ۔

نوید بھائی ، ہمارے لئے اس میں سبق یہ ہے کہ ہم اور آپ جب علامات و استعارات استعمال کریں گے تو ہمیں اس بات کا پورا پورا خیال رکھنا پڑے گا کہ شعر کے اندر ایسے تلازمات موجود ہوں جو قاری تک شعری خیال کا ابلاغ کرسکیں ۔ یہ ایک بیکار سی بات تھی جو علامت اور استعارے پر گفتگو کرتے ہوئے درمیان میں آگئی ۔ اور میں نے تفنن طبع کے طور پر اسے شاملِ بحث کردیا ۔ بہرحال ۔ :):):)
 

نوید ناظم

محفلین
نوید بھائی، چونکہ بات استعارے اور علامت کے ضمن میں ہورہی تھی اس لئے میں نےاقبال کے اس شعر کو ایک نکتہ بیان کرنے کے لئے بطور مثال استعمال کیا تھا ۔ اگر یہ شعر میرا یا آپ کا ہوتا تو اس کے دولخت ہونے میں کسی کو ذرہ برابر شبہ بھی نہ ہوتا ۔ دونوں مصرعوں کا آپس میں کوئی ربط نہیں ہے ۔ کہیں کوئی اشارہ کنایہ یا ایسا کوئی تلازمہ موجود نہیں کہ عشق اور اسکے امتحانوں کا ربط ستاروں سے ملایا جاسکے ۔ لیکن چونکہ یہ شعر اقبال کا ہے اس لئے یہ دو لخت نہیں ۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اقبال نے اپنے فلسفے اور فکر کی مدد سے اپنا ایک علیحدہ اور منفرد شعری نظام تخلیق کیا ہے ۔اس شعری نظام کے اپنے استعارے اور علامات ہیں ۔ خودی کا تصور ، شاہین کی علامت ، مردِ مومن کی علامت ، وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں ۔ اسی طرح اقبال کی شاعری میں عشق کا تصور بھی اس عشق سے بہت مختلف ہے کہ جو عام اردو شاعری میں پایا جاتا ہے ۔ سو اقبال کے مذکورہ شعر کو اقبال ہی کے شعری نظام کے اندر رہتے ہوئے سمجھنا پڑے گا ۔ چنانچہ اس شعر کا یہ مطلب نکالا جائے گا کہ اس شعر کا مخاطب ’’انسان ‘‘ ہے ۔ انسان جو کہ چاند ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور کائنات کو تسخیر کرنے کے مشن پر نکلا ہوا ہے اس کے لئے ستاروں سے آگے بھی اور بہت کچھ ہے ۔مختصر یہ کہ ان بظاہر دو لخت مصرعوں سے یہ مطلب اس وقت تک نہیں نکالا جاسکتا تب تک کہ اقبال کے شعری فلسفے سے آگاہی نہ ہو ۔ اور یہ بات ایک استثناء کا درجہ رکھتی ہے ۔ اقبال کے علاوہ اردو شاعری میں شاید ہی اور کوئی شاعر ایسا ہو کہ جس نے اس نوع کا اپنا ایک علیحدہ نظامِ علامات و استعارات تخلیق کیا ہو ۔
اسی غزل میں اگلا شعر شاید یوں ہے : (قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر ۔۔ چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں) ۔ یہ شعر بھی علامات سے بھرپور ہے ۔

نوید بھائی ، ہمارے لئے اس میں سبق یہ ہے کہ ہم اور آپ جب علامات و استعارات استعمال کریں گے تو ہمیں اس بات کا پورا پورا خیال رکھنا پڑے گا کہ شعر کے اندر ایسے تلازمات موجود ہوں جو قاری تک شعری خیال کا ابلاغ کرسکیں ۔ یہ ایک بیکار سی بات تھی جو علامت اور استعارے پر گفتگو کرتے ہوئے درمیان میں آگئی ۔ اور میں نے تفنن طبع کے طور پر اسے شاملِ بحث کردیا ۔ بہرحال ۔ :):):)
ماشاءاللہ بہت خوب! آپ کی اس گفتگو سے سیکھنے کو ملا، کوشش یہی ہو گی کہ جو نکتے بیان ہوئے ہیں' اشعار کہتے ہوئے اپنی بساط تئیں انھیں ملحوظِ خاطررکھوں۔ آپ کا یوں شفقت فرمانا میرے لیے اور دوسرے سیکھنے والوں کے لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دعا ہے اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔
 
Top