دیکھا نہیں کسی میں جیسا جمال تیرا---برائے اصلاح

الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن
------------
دیکھا نہیں کسی میں جیسا جمال تیرا
کیسے میں بھول جاؤں دل سے خیال تیرا
-------------
دل دے دیا ہے تجھ کو اس کا خیال رکھنا
--------یا
دل پاس اب ہے تیرے اس کا خیال رکھنا
ایسے اسے سمجھنا جیسے ہے مال تیرا
-------------
چاندی کی ہو رقابی ، اس میں سیاہ موتی
ایسے چمک رہا ہے چہرے پہ خال تیرا
-------------
اپنا مجھے بنایا تیری ہے مہربانی
میں دیکھتا ہوں اس میں سارا کمال تیرا
------------
میری اگر خطا تھی مجھ کو پتہ تو ہوتا
نازل ہوا ہے مجھ پر کیوں یہ جلال تیرا
--------------
اپنا خیال رکھنا پڑنے نہ ماند پائے
رکھے خدا سلامت ہر دم جمال تیرا
------------
کر کے یوں پیار مجھ سے پچھتا رہے ہو شائد
مجھ پر بہت ہے بھاری ایسے ملال تیرا
---------------------
ارشد سدا تعلّق مضبوط رب سے رکھنا
وہ جانتا ہے ہر دم جو بھی ہو حال تیرا
------------------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
دیکھا نہیں کسی میں جیسا جمال تیرا
کیسے میں بھول جاؤں دل سے خیال تیرا
------------- جیسا جمال تیرا؟ محاورہ کے خلاف ہے، مطلع دوبارہ کہیں

دل دے دیا ہے تجھ کو اس کا خیال رکھنا
--------یا
دل پاس اب ہے تیرے اس کا خیال رکھنا
ایسے اسے سمجھنا جیسے ہے مال تیرا
------------- یہ بھی مزاحیہ لگ رہا ہے

چاندی کی ہو رقابی ، اس میں سیاہ موتی
ایسے چمک رہا ہے چہرے پہ خال تیرا
------------- عقابی کوئی لفظ نہیں، رکابی ہو تو درست ہے
ایسے چمک رہا ہے بہتر ہے یا 'کچھ یوں چمک رہا ہے'؟

اپنا مجھے بنایا تیری ہے مہربانی
میں دیکھتا ہوں اس میں سارا کمال تیرا
------------ 'ہے تیری مہربانی' زیادہ رواں لگتا ہے

میری اگر خطا تھی مجھ کو پتہ تو ہوتا
نازل ہوا ہے مجھ پر کیوں یہ جلال تیرا
-------------- پہلا مصرع رواں نہیں
میری خطا جو ہوتی، مجھ کو تو علم ہوتا
بہتر ہو گا

اپنا خیال رکھنا پڑنے نہ ماند پائے
رکھے خدا سلامت ہر دم جمال تیرا
------------ یہ بھی پہلا مصرع روانی چاہتا ہے
.. یہ ماند پڑ نہ جانے... شاید بہتر ہو

کر کے یوں پیار مجھ سے پچھتا رہے ہو شائد
مجھ پر بہت ہے بھاری ایسے ملال تیرا
--------------------- شتر گربہ

ارشد سدا تعلّق مضبوط رب سے رکھنا
وہ جانتا ہے ہر دم جو بھی ہو حال تیرا
... مضبوط رب! الفاظ بدلو
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
دیکھا نہیں کسی میں جیسا جمال تیرا
کیسے میں بھول جاؤں دل سے خیال تیرا
------------- جیسا جمال تیرا؟ محاورہ کے خلاف ہے، مطلع دوبارہ کہیں
ارشد چوہدری بھائی ایک حقیر سا مشورہ ہے

دیکھا ہے جب سے میں نے حسن و جمال تیرا
ہر آن مجھ پہ طاری خواب و خیال تیرا
 
الف عین
------------
اصلاح کے بعد دوبارا
--------------
دیکھا ہے جب سے میں حسن و جمال تیرا
رہتا ہے میرے دل میں ہر دم خیال تیرا
-------یا
جاتا نہیں ہے میرے دل سے خیال تیرا
--------------
چاندی کی ہو رکابی اس میں سیاہ موتی
کچھ یوں چمک رہا ہے چہرے پہ خال تیرا
-----------
میری خطا جو ہوتی ، مجھ کو تو علم ہوتا
نازل ہوا ہے مجھ پر کیوں یہ جلال تیرا
------------
یہ ماند پڑ نہ جائے ، اس کا خیال رکھنا
رکھے خدا سلامت ہر دم جمال تیرا
---------------
اپنا مجھے بنایا ہے تیری مہربانی
میرا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کمال تیرا
--------------
تُو پیار کر کے مجھ سے پچھتا رہا ہے شائد
مجھ پر بہت ہے بھاری رنج و ملال تیرا
--------------
ارشد ترا تعلّق رب سے کبھی نہ ٹوٹے
ہر دم نظر میں اس کی رہتا ہے حال تیرا
-------------
 
آخری تدوین:
Top