دیکھا جو اس نے پیار سے اچھا لگا مجھے

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
----------
دیکھا جو اس نے پیار سے اچھا لگا مجھے
ایسی ادا کے بعد ہی اپنا لگا مجھے
---------
میری نظر میں آپ ہی سب سے حسین ہیں
ویسا کہا ہے یار سے جیسا لگا مجھے
----------
دنیا کسی کے پیار میں جنّت سے کم نہیں
دیکھا ہے جب سے آپ کو ایسا لگا مجھے
--------
وہ دلربا تو چاند سے بڑھ کر حسین ہے
دیکھا کبھی جو چان کو دھندلا لگا مجھے
--------
بچھڑا جو مجھ سے یار تو دل ڈوب سا گیا
مرنے کے میں قریب ہوں ایسا لگا مجھے
--------
ہر بات اس کا خوب ہے اوروں سے مختلف
پرکھا تو ہر لحاط سے یکتا لگا مجھے
------------
آتی نہیں جو نیند تو سوؤں میں کس طرح
ارشد کے انتظار کا چسکا لگا مجھے
-----------
 
مطلع:۔۔













۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھی بس یہی ادا کہ وہ اپنا لگا مجھے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری نظر میں آپ ہی سب سے حسین ہیں ہیں۔۔۔۔۔
جگ میں کوئی بھی اور نہ ایسا لگا مجھے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں ‘‘ نہیں۔۔۔۔۔۔
شاعر کا یہ خیال ہی سچا لگا مجھے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 
آخری تدوین:
ہر بات اس کا خوب ہے اوروں سے مختلف
پرکھا تو ہر لحاط سے یکتا لگا مجھے
ہر بات اُس کی خوب ہے ہر بات لاجواب
ہر بات میں وہ ایک ہی یکتا لگا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود میرے اپنے اندازِ بیان میں رعایتِ لفظی کا عمل دخل زیادہ ہے نسبتاً سنجیدگی اور واقعہ نگاری کے
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
مطلع واقعی "تھی بس یہی ادا " کے ساتھ بہت بہتر ہو گیا ہے

میری نظر میں آپ ہی سب سے حسین ہیں
ویسا کہا ہے یار سے جیسا لگا مجھے
----------
اس کے دوسرے مصرع کا ایک متبادل یہ بھی ہو سکتا ہے
// دنیا میں کوئی اور نہ اچھا لگا مجھے


دنیا کسی کے پیار میں جنّت سے کم نہیں
دیکھا ہے جب سے آپ کو ایسا لگا مجھے
جیسا بھائی شکیل نے کہا، پہلا مصرع کوماز میں رکھنا ضروری ہے
باقی مجھے ٹھیک لگتا ہے


وہ دلربا تو چاند سے بڑھ کر حسین ہے
دیکھا کبھی جو چان کو دھندلا لگا مجھے
چاند سے "بھی" بڑھ کر حسین ہے
کا محل معلوم ہوتا ہے، دوسرا مصرع شکیل احمد خان23 کا مجوزہ بہترین لگتا ہے


بچھڑا جو مجھ سے یار تو دل ڈوب سا گیا
مرنے کے میں قریب ہوں ایسا لگا مجھے
--------
مرنے کے ہوں قریب میں ایسا...

ہر بات اس کا خوب ہے اوروں سے مختلف
پرکھا تو ہر لحاط سے یکتا لگا مجھے
------------
درست لگتا ہے مجھے تو سوائے بات کو مذکر کہنے کے، ہاں، اوروں سے مختلف کا ٹکڑا واقعی تبدیلی کا متقاضی ہے کہ اچھا نہیں لگ رہا
پہلے میں بھائی شکیل کا تجویز کردہ مصرع رکھ لیں اور دوسرا اپنے والا تو ایک اچھا شعر ہو جاتا ہے میرے خیال میں
یا یوں ہو کہ پہلے کو دوبارہ کہا جائے، ہر بات اس کی خوب ہے تک ٹھیک ہے، آگے کچھ اور لایا جائے، مثلا ہر کام/چیز لاجواب


آتی نہیں جو نیند تو سوؤں میں کس طرح
ارشد کے انتظار کا چسکا لگا مجھے
آتی نہیں ہے نیند... بہتر ہو گا
صرف چسکا مجھے فٹ بیٹھتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا۔ 'ایسا چسکا لگا' جیسے الفاظ ہونے چاہیے تھے
 
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-----------
اصلاح
-----------
دیکھا جو اس نے پیار سے اچھا لگا مجھے
تھی بس یہی ادا کہ وہ اپنا لگا مجھے
---------
میری نظر میں آپ ہی سب سے حسین ہیں
دنیا میں کوئی اور نہ ایسا لگا مجھے
----------
"دنیا کسی کے پیار میں جنّت سے کم نہیں"
دیکھا ہے جب سے آپ کو ایسا لگا مجھے
--------یا
شاعر کا یہ خیال ہی اچھا لگا مجھے
-------------
وہ دلربا تو چاند سے بڑھ کر حسین ہے
یہ آسماں کا چاند تو دھندلا لگا مجھے
--------
بچھڑا جو مجھ سے یار تو دل ڈوب سا گیا
میں مر گیا فراق میں ایسا لگا مجھے
--------
ہر بات اس کی خوب ہے ہر بات لاجواب
پرکھا تو ہر لحاط سے یکتا لگا مجھے
------------
آتی نہیں ہے نیند تو سوؤں میں کس طرح
ارشد کہے یہ روگ ہے کیسا لگا مجھے
-----------
 

عظیم

محفلین
دیکھا جو اس نے پیار سے اچھا لگا مجھے
تھی بس یہی ادا کہ وہ اپنا لگا مجھے
---------
دوبارہ دیکھنے پر دوسرے مصرع کی روانی کچھ اچھی نہیں لگ رہی
// کیسی تھی یہ ادا کہ وہ اپنا..
میرا خیال ہے کہ بہتر رہے گا
میری نظر میں آپ ہی سب سے حسین ہیں
دنیا میں کوئی اور نہ ایسا لگا مجھے
----------
ایسا میرے نزدیک ٹھیک نہیں یہاں، 'اچھا' ہی بہتر محسوس ہوتا ہے
"دنیا کسی کے پیار میں جنّت سے کم نہیں"
دیکھا ہے جب سے آپ کو ایسا لگا مجھے
--------یا
شاعر کا یہ خیال ہی اچھا لگا مجھے
-------------
پہلا متبادل اچھا ہے
وہ دلربا تو چاند سے بڑھ کر حسین ہے
یہ آسماں کا چاند تو دھندلا لگا مجھے
--------
کچھ ربط کی کمی سی ہو جیسے، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا شعر
//وہ دل ربا ہے چاند سے بڑھ کر بھی خوب رو
اس طرح میرا خیال ہے کہ شعر درست رہے گا
بچھڑا جو مجھ سے یار تو دل ڈوب سا گیا
میں مر گیا فراق میں ایسا لگا مجھے
--------
درست
ہر بات اس کی خوب ہے ہر بات لاجواب
پرکھا تو ہر لحاط سے یکتا لگا مجھے
------------
یہاں بھی کچھ ربط کی کمی محسوس ہو رہی ہے، پرکھا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کیوں پرکھنے کی ضرورت پیش آئی یا کیوں پرکھا گیا، پہلے میں کچھ تبدیلی کی جائے یا دوسرا مصرع ہی کوئی دوسرا کہا جائے تو کچھ شعر کو سکے
آتی نہیں ہے نیند تو سوؤں میں کس طرح
ارشد کہے یہ روگ ہے کیسا لگا مجھے
-----------
//ارشد کہے کہ روگ یہ کیسا لگا مجھے
مگر پھر بھی 'کہے' پسند نہیں آ رہا اور پہلے مصرع سے کوئ مناسب تعلق پیدا نہیں ہوتا، چل سکتا ہے یا قابل قبول کہہ لیں
 
Top