دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

ظفری

لائبریرین
پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح

کلیم عثمانی

ویرانہ
 
پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح

کلیم عثمانی

ویرانہ
شکوہ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
غالب

شکوہ
 

صاد الف

محفلین
ہم گئے تھے اس سے کرنے شکوۂ درد فراق
مسکرا کر اس نے دیکھا سب گلہ جاتا رہا
جوش ملیح آبادی

فراق
 

صاد الف

محفلین
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
فانی بدایونی

کفن
 
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
فانی بدایونی

کفن
کرو کج جبیں پہ سر کفن میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
فیض احمد فیض

گماں
 

ظفری

لائبریرین
کرو کج جبیں پہ سر کفن میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
فیض احمد فیض

گماں
گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا
جھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کا

ممنون نظام الدین

سبب
 

صاد الف

محفلین
عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام
ہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں
شہر یار

دانائی
 
عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام
ہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں
شہر یار

دانائی
بڑی دانائی سے انداز عیاری بلتے ہیں
بدلتے موسموں جو وفا داری بدلتے ہیں
گرانی ہو کہ ارزانی انہیں تو مل ہی جاتے ہیں
ضرورت جب بھی ہوتی ہے وہ درباری بدلتے ہیں

انداز
 

صاد الف

محفلین
تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ
تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ
عباس تابش

سناٹا
 
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
شاہد ذکی

حالات
پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے
ہم بھی ہیں وہی مسئلہ جاں بھی وہی ہے
اے وقت کہیں اور نظر ڈال یہ کیا ہے
مدت کے وہی ہاتھ گریباں بھی وہی ہے

وقت
 

صاد الف

محفلین
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
گلزار

شاخ
 

سیما علی

لائبریرین
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے
گلزار

شاخ


وُہ گل بہ شاخِ نظر ہو یا آس کا ثمر ہو
جِسے بھی آنا ہے پاس اپنے شتاب آئے

کھِنچا کھنچا سا لگے وُہ سانسوں میں بسنے والا
برس ہوئے ہیں ہمِیں پہ اِک یہ عتاب آئے
ماجد صدیقی

شتاب
 
Top